گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar

Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Crisis




گندم کی کٹائی: میلوں سے ویرانیوں تک کا سفر

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


ماضی کی یادیں اور وہ سنہری بیساکھ

وہ بھی کیا دن تھے جب بیساکھ کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب کی دھرتی سونا اگلنے لگتی تھی۔ گندم کی سنہری بالیاں جب ہوا کے دوش پر لہراتیں تو کسان کے چہرے پر تھکن کے بجائے مسرت کی لہر دوڑ جاتی۔ کٹائی کا آغاز محض ایک زرعی مشغلہ نہیں بلکہ ایک جشن ہوتا تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے جاتے، درانتیوں کی سنہری چمک میں پسینے کی بوندیں موتیوں کی طرح چمکتیں اور ہر طرف ایک میلے کا سماں ہوتا۔ شام کو جب کسان ٹولیوں کی صورت میں گھروں کو لوٹتے تو فضا لوک گیتوں اور ہنسی مذاق سے معطر ہوتی۔ وہ خوشحالی کا دور تھا جب دھرتی ماں اپنے بیٹوں کو کبھی مایوس نہیں کرتی تھی اور کسان کا گھر اناج سے بھرتے ہی گاؤں بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہوتی تھیں۔

جدید دور اور اجڑے ہوئے میلے

مگر آج منظر بالکل بدل چکا ہے۔ وہی بیساکھ ہے، وہی سنہری گندم ہے، مگر کسان کے چہرے سے وہ پرانی رونق اور اطمینان غائب ہے۔ اب کٹائی کے موسم میں ڈھول کی تھاپ نہیں بلکہ باردانے کی فکر، منڈیوں کی بے رخی اور سرکاری نرخوں کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ وہ میلے جو خوشحالی کی علامت تھے، اب کسانوں کے احتجاجی کیمپوں میں بدل چکے ہیں۔ آج کا کسان فصل کاٹنے سے پہلے یہ سوچ کر لرز جاتا ہے کہ کیا اس کی لاگت بھی پوری ہو پائے گی یا نہیں؟ مشینری نے کام تو آسان کر دیا، مگر اس مشینی دور نے وہ انسانی اپنائیت اور وہ اجتماعی خوشی چھین لی ہے جو کبھی دیہاتوں کا خاصہ تھی۔

بجلی کے بل: کسان کا معاشی قتلِ عام

موجودہ صورتحال پر نظر دوڑائیں تو کسان کی کمر توڑنے میں بجلی کے بھاری بلوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب وہ دور لد گیا جب ڈیزل کی فکر ہوتی تھی، آج کا کسان بجلی کے میٹر کی گھومتی سوئی دیکھ کر ہلکان ہوتا ہے۔ ٹیوب ویل چلانا اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے؛ فصل کو پانی دینے کی قیمت ان بھاری بھرکم بلوں کی صورت میں چکانی پڑتی ہے جو کسان کی کل کمائی سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ فی یونٹ قیمت میں بے تحاشہ اضافہ اور اوپر سے نت نئے ٹیکسوں نے زراعت کو ایک گھاٹے کا سودا بنا دیا ہے۔ کسان رات بھر جاگ کر پانی لگاتا ہے، مگر مہینے کے آخر میں آنے والا بل اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ مہنگی کھاد اور بیج تو اپنی جگہ، مگر بجلی کے ان ظالمانہ بلوں نے کسان کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔

پالیسی سازوں کی بے حسی اور مافیا کا راج

حقیقت یہ ہے کہ جب صلہ ملنے کا وقت آتا ہے تو پالیسی سازوں کی بے حسی آڑے آ جاتی ہے۔ کبھی گندم کی درآمد کا بہانہ بنا کر مقامی کسان کا استحصال کیا جاتا ہے تو کبھی سرکاری خریداری مراکز پر باردانے کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا جاتا ہے۔ مڈل مین اور ذخیرہ اندوز مافیا کسان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوڑیوں کے دام فصل خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسان سارا سال محنت کرتا ہے، خون پسینہ ایک کرتا ہے، لیکن جب فصل منڈی پہنچتی ہے تو اسے لاگت سے بھی کم دام پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک فصل کا نقصان نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب اور معیشت کا زوال ہے۔

حل اور مستقبل کی راہ

پاکستان کی بقا زراعت میں ہے اور زراعت کی بقا کسان کی خوشحالی میں۔ اگر ہم نے ماضی کی ان رونقوں اور میلوں کو واپس لانا ہے، تو حکومت کو بجلی کے بلوں میں کسان کو خصوصی رعایت دینی ہوگی اور زرعی ٹیوب ویلز کے لیے فکسڈ ریٹ یا سولرائزیشن جیسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب تک کسان کو سستی بجلی اور فصل کا منصفانہ ریٹ نہیں ملے گا، یہ دھرتی سونا نہیں اگل سکے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کسان کی بے بسی کو خوشحالی میں بدلیں تاکہ وہ ایک بار پھر ڈھول کی تھاپ پر خوشی سے جھوم اٹھے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب تک کھیتوں میں میلے نہیں سجیں گے، ملک کی معیشت میں بھی بہار نہیں آئے گی۔

مخلص رشتے اور گہری دوستی: دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں

 Mukhlis Rishtay aur Gehri Dosti: Diwan Peer Fatah Sher, Syed Naseem Shah aur Main

مخلص رشتے اور گہری دوستی: دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں

تحریر: پیر انتظار حسین مصور



ایک یادگار نشست: پیر انتظار حسین مصور، دیوان پیر فتح شیر اور سید نسیم شاہ


دنیا میں رشتے تو بہت ہوتے ہیں لیکن کچھ رشتے خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر مخلص اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں انسان کو بہت سے مسافر ملتے ہیں، مگر کچھ ایسے ہم سفر میسر آ جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے دکھ سکھ کے ساتھی بنتے ہیں بلکہ آپ کی زندگی کا فخر بن جاتے ہیں۔ میرے لیے ایسی ہی دو ہستیاں دیوان پیر فتح شیر اور سید نسیم شاہ ہیں، جن کے ساتھ میری وابستگی محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک قلبی جوڑ ہے۔

دیوان پیر فتح شیر کی شخصیت میرے لیے دوہرے اعزاز کی حامل ہے۔ وہ جہاں میرے قریبی اور عزیز رشتہ دار ہیں، وہیں صحافت کے میدان میں بھی ان کا ایک خاص مقام اور وقار ہے۔ ایک نڈر صحافی کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی گفتگو میں جہاں خاندانی شرافت جھلکتی ہے، وہیں ان کا قلم معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ دیوان پیر فتح شیر جیسے باکردار اور سلجھے ہوئے انسان میرے عزیز بھی ہیں اور میرے بہترین دوست بھی۔

اس مثلث کا تیسرا اور نہایت اہم ستون سید نسیم شاہ ہیں۔ سید صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں دیکھ کر شرافت اور نیکی کی یاد آتی ہے۔ وہ ہمارے بہت ہی پیارے، نہایت نیک سیرت دوست اور بھائیوں کی طرح ہیں۔ ان کا وجود ہماری محفلوں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ ان کی طبیعت میں موجود حلیمی، عاجزی اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ انہیں ہم سب کی نظر میں ممتاز کرتا ہے۔ ایک سچے دوست اور مخلص بھائی کی تمام خوبیاں ان کی ذات میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

ہم تینوں—دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں (پیر انتظار حسین مصور)—صرف دوست ہی نہیں بلکہ ایک ایسی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جہاں خلوص، احترام اور بھائی چارے کا راج ہے۔ ہماری محفلیں علم، ادب، صحافت اور روحانیت کے تذکروں سے آباد رہتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔

آج کے اس دور میں جہاں مطلبی رشتوں کی بھرمار ہے، وہاں دیوان پیر فتح شیر کی فہم و فراست اور سید نسیم شاہ کی نیکی و مخلصی میرے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری یہ مثالی دوستی اور بھائی چارے کا یہ سفر یونہی قائم و دائم رہے اور ہم ایک دوسرے کے لیے خیر اور برکت کا باعث بنتے رہیں۔ آمین۔

© 2026 Peer Intzar Hussain Musawar | All Rights Reserved

پیر انتظار حسین مصور: کالمز اور ادبی کاوشوں کا مجموعہ

تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور 


میں ایک ادنیٰ سا لکھاری ہوں جو تاریخی، روحانی اور ادبی موضوعات پر قلم اٹھاتا ہوں۔ میرے قلم کا سفر محض حروف کی ترتیب نہیں، بلکہ تحقیق و بصیرت کا ایک تسلسل ہے۔

1. ہم سب (Hum Sub):
https://humsub.com.pk/n/author/peer-intizar-hussein-muswar/

2. سلام اردو (Salam Urdu):
https://salamurdu.com/author/peer-intizar-hussain/

3. ڈیلی اردو کالمز (Daily Urdu Columns):
https://dailyurducolumns.com/peer-intizar-hussain-musawir/1

4. ذاتی بلاگ (Blog):
https://intizar-column.blogspot.com/?m=1

حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ: برصغیر کے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کا تاریخی سفر




حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ: برصغیر کے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کا تاریخی سفر

عرب کی وہ مقدس سرزمین، جہاں سے ہدایت کے آفتاب طلوع ہوئے اور جہاں کی مٹی میں ہاشمی وراثت کی خوشبو بسی ہے۔ اسی سرزمینِ پاک کے ایک عظیم گھرانے میں، جہاں نبوی فیضان کا تسلسل جاری تھا، حضرت عونؓ جیسی برگزیدہ شخصیت کے گھر ایک ایسا فرزندِ ارجمند پیدا ہوا جن کا نام ابوالفضل رکھا گیا۔ یہ بچہ اپنی ولادت سے قبل ہی ہدایت کا ایک مینار بن چکا تھا، جس کے کانوں میں ماں کے بطن ہی سے تلاوتِ کلامِ پاک کی مترنم آوازیں گونجتی رہیں۔

بیعتِ امام حسنؓ اور پینجے کا فیضان

ابھی آپ کی عمر صرف چھ برس تھی کہ وقت کے امام، حضرت امام حسن علیہ السلام کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ایک ایسی روحانی منتقلی تھی جس نے آپ کے سینے کو علومِ لدنی کا گنجینہ بنا دیا۔ آج بھی دربارِ شریف کے مزارِ اقدس پر نصب وہ "پینجہ"، جو غازی عباس علمدارؓ کی وفا کی علامت ہے، آپ کے تابعیِ رسولﷺ ہونے کی خاموش مگر طاقتور گواہی دیتا ہے۔

دیدارِ نبویﷺ، اسہِ مبارک اور اویسیہ سلسلے کا آغاز

آپ کی زندگی کا سب سے پراسرار باب تب کھلا جب آپ نے حضرت اویس قرنیؓ کے مزار پر طویل چلہ کشی کی۔ وہیں آپ کی روحانی ریاضت پر حضرت اویس قرنیؓ کی جانب سے آپ کو ایک "مصلے" کی صورت میں سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا "اسہِ مبارک" (عصائے مبارک) عطا ہوا۔ یہ مصلہ اور اسہِ مبارک وہ عظیم روحانی سند تھے جہاں سے "سلسلہ اویسیہ" کا آغاز ہوا۔ اسی چلہ کشی کے دوران آپ کو خود سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ کو ہند میں تبلیغِ اسلام کا حکم ملا۔

شہادت اور مائی گنگن برس کی لازوال وفا

نمازِ فجر کا وقت تھا، کائنات ابھی جاگ ہی رہی تھی کہ ظالموں نے آپ کو شہید کر دیا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب آپ کی ہمشیرہ، امّ فاطمہ عرف مائی ہانی (جنہیں تاریخ میں 'مائی گنگن برس' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے)، اپنے بھائی کے عشق میں اس قدر سرشار تھیں کہ بھائی کی شہادت کے صدمے اور محبت کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی لمحے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ آج آپ کا مزار بھی اپنے بھائی کے قدموں میں دربار کے اندر ہی موجود ہے۔

روحانی تسلسل اور ہمارا ورثہ

آج اس روحانی ورثے کی نگرانی سجادہ نشین دیوان پیر میاں غلام اویس مصطفیٰ اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی کر رہے ہیں۔ ان کے زیرِ نگرانی قائم مدرسہ، جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے، میرے لیے علم کا اصل مرکز رہا ہے۔ میں کسی یونیورسٹی کا ڈگری ہولڈر نہیں، بلکہ اسی مدرسے کا ادنیٰ طالبِ علم ہوں، جہاں میں نے جو کچھ سیکھا، آج میری وہی پہچان ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

  • س: حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا سلسلہ نسب کیا ہے؟ ج: آپ کا سلسلہ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ تک جاتا ہے۔
  • س: دیوان چاولی مشائخ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟ ج: آپ برصغیر کے عظیم تابعی بزرگ ہیں جن سے سلسلہ اویسیہ کا آغاز ہوا۔
  • س: مائی گنگن برس کون تھیں؟ ج: آپ شہیدِ ملت کی ہمشیرہ تھیں جو اپنی بھائی سے محبت کی وجہ سے شہادت کے وقت ہی وفات پا گئی تھیں۔

شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا | پیر قلم کی چھاپ



جب قلم کی پکار ایوانوں تک پہنچی: شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (ایک ادنیٰ لکھاری)

(ڈیجیٹل پنجاب: وژن سے عملی اقدام تک)

کچھ عرصہ قبل، میں نے بطور ایک ادنیٰ لکھاری اسی بلاگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسی تحریر رقم کی تھی جس نے بہت سے دلوں کو تڑپا دیا تھا۔ اس کالم کا عنوان تھا "آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ"۔ وہ محض ایک کالم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی بیوہ کا نوحہ تھا جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، مگر نظام کی بے حسی نے اسے جیتے جی مار دیا تھا۔

میں نے بیان کیا تھا کہ کیسے ایک کرپٹ پٹواری نے دیوروں سے مل کر 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "قلم کی ایک جنبش" سے اس بیوہ کا رشتہ ہی ختم کر دیا اور اسے اپنی ہی وراثت میں "لاوارث" بنا دیا گیا۔ میں نے ایک ادنیٰ لکھاری کی حیثیت سے دو ٹوک الفاظ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر ریاست واقعی عوام کی ہمدرد ہے، تو اسے محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے ان بوسیدہ رجسٹروں کو بند الماریوں سے نکال کر ڈیجیٹلائز کرنا ہوگا۔

آج مجھے یہ لکھتے ہوئے دلی مسرت اور اطمینان ہو رہا ہے کہ اس ادنیٰ لکھاری کی آواز صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوئی۔ حکومتِ پنجاب نے اس سنگین مسئلے کی حساسیت کو سمجھا اور حال ہی میں شجرہ نسب اور وراثت کے ریکارڈ کی آن لائن فراہمی کا ایک تاریخی نظام متعارف کروا دیا ہے۔

اس تمام تر انتظامی تبدیلی کے پیچھے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت اور ان کا 'ڈیجیٹل پنجاب' کا وژن کارفرما ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف فائلوں پر دستخط نہیں کرتیں، بلکہ ان کے پاس معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لیے ایک حساس دل بھی ہے۔ ان کے اس ایک فیصلے نے ہزاروں "شناخت کے ڈاکوؤں" کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں۔

یہ کامیابی میرے قلم کی وہ "پیر قلم کی چھاپ" ہے جس پر مجھے ناز ہے۔ میں مریم نواز شریف صاحبہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ادنیٰ صحافی کی آواز کو اہمیت دی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ اب پنجاب کے ہر غریب کا شجرہ محفوظ ہے اور اس کی پہچان پر پہرا دینے والا ڈیجیٹل نظام آ چکا ہے۔

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تعارف: ایک ادنیٰ لکھاری جو "ہم سب" اور اپنے بلاگ پر عوامی مسائل اور حقائق کو زبان دیتا ہے۔

رابطہ: 03006488317


سلسلہ: پیر قلم کی چھاپ | بلاگ: intizar-column.blogspot.com

رمضان المبارک: توبہ، تقویٰ اور فیضانِ ہاشمی | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور اور صاحبزادہ پیر طارق اویس ہاشمی، دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کے سامنے





رمضان المبارک: توبہ، تقویٰ اور فیضانِ ہاشمی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں زمین پر انوار و تجلیات کی بارش ہوتی ہے اور مومن کا دل اللہ کی یاد سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اس مبارک مہینے کی آمد پر جب ہم اپنے اردگرد روحانی ماحول کا جائزہ لیتے ہیں، تو خانقاہی نظام اور اہل اللہ کی صحبت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

اس حوالے سے جب میں اپنے محترم کزن اور علمی و روحانی شخصیت صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی (برادرِ خورد سجادہ نشین دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ) کی گفتگو سنتا ہوں، تو دل معرفتِ الٰہی سے سرشار ہو جاتا ہے۔ دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کی نسبتوں کا تذکرہ ہو اور خانوادہِ اہل بیتؑ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔

سلسلہِ نسب اور نسبتِ حَسنی

حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا تعلق اس پاکباز لڑی سے ہے جو روحانی طور پر براہِ راست امامِ عالی مقام سیدنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دستِ بیعت اور نقشِ قدم پر ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں ان بزرگوں کی اولاد میں پیدا فرمایا جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ ہمارے بزرگوں کی یہ نسبت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین صرف رسومات کا نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا نام ہے۔

فرمانِ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام:
"بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے عبادت گزار ایسے ہیں جنہیں عبادت سے سوائے بیداری اور تھکن کے کچھ نہیں ملتا۔"

اس قول کی روشنی میں پیر طارق اویس ہاشمی صاحب اکثر یہ فرماتے ہیں کہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ روح کا ہونا چاہیے۔ غیبت، حسد اور کینہ سے پاک دل ہی دراصل رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا ہے۔

کریمِ اہل بیتؑ کی سخاوت کا درس

رمضان سخاوت کا مہینہ ہے اور ہمارے جدِ امجد حضرت امام حسن علیہ السلام "کریمِ اہل بیت" کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپؑ کا فرمان ہے:
"بہترین نیکی یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کی ضرورت کو اس

سفید خون اور سسکتی غیرت: معاشرتی بے حسی کا نوحہ

Safaid Khoon aur Sisakti Ghairat by Peer Intizar Hussain Musawar


سفید خون اور سسکتی غیرت: معاشرتی بے حسی کا نوحہ

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


آج کا دور "نفسی نفسی" کا وہ عالم دکھا رہا ہے جہاں انسانی رشتے اپنی مٹھاس کھو چکے ہیں اور انسان، انسان کا دشمن بن چکا ہے۔ وہ بھائی جو کبھی ایک دوسرے کی ڈھال ہوا کرتے تھے، جن کے درمیان خون کا تقدس دیوار بن کر کھڑا رہتا تھا، آج وہی بھائی جائیداد کے چند ٹکڑوں اور انا کی جھوٹی بھینٹ چڑھ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ لیکن افسوس کہ بات صرف بھائی چارے کی دشمنی تک محدود نہیں رہی، اب تو گھروں کے تقدس اور رشتوں کی پاکیزگی بھی اس معاشرتی زوال کی زد میں آ چکی ہے۔

رشتوں کا زوال اور لرزہ خیز حقیقت

حالیہ دنوں میں رونما ہونے والا وہ لرزہ خیز واقعہ، جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک ماں، جس کے قدموں تلے رب نے جنت رکھی تھی، اس نے اپنے دیور کے ساتھ ناجائز تعلقات کی پردہ پوشی کے لیے اپنی ہی معصوم کلی جیسی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں ہے، بلکہ اس ممتا کا جنازہ ہے جو کبھی کائنات کی سب سے محفوظ پناہ گاہ مانی جاتی تھی۔ جب ہوس اور شیطانیت خون کے مقدس رشتوں پر غالب آ جائے، تو زمین پر ایسے ہی انسانیت سوز واقعات جنم لیتے ہیں۔

ثقافتی یلغار اور میڈیا کا کردار

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اخلاقیات اس نہج پر کیسے پہنچیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ وہ "ثقافتی یلغار" ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام پر شب خون مارا ہے۔ سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال اور خاص طور پر انڈیا کی وہ ویب سیریز، جن کا واحد مقصد فحاشی اور بے حیائی کو "جدیدیت" کا نام دے کر عام کرنا ہے، ہمارے گھروں میں زہر گھول رہی ہیں۔

ان ویب سیریز میں رشتوں کی پامالی، ناجائز تعلقات کو گلیمرائز کرنا اور حیا سوز مناظر نے ہماری نئی نسل اور کمزور ایمان والے افراد کی سوچ کو مسخ کر دیا ہے۔ آج گھر گھر میں وہ "انڈین گند" نظر آ رہا ہے جسے ہم نے ترقی سمجھ کر سینے سے لگا لیا تھا، مگر اب وہی گند ہماری غیرت اور حیا کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

وقت کی پکار

وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی سمت درست کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت، میڈیا کے استعمال پر نظرِ ثانی اور اسلامی اقدار کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی اور اس فحاشی و بے حسی کے خلاف بند نہ باندھا، تو یاد رکھیے کہ یہ "سفید ہوتا خون" ہماری پوری تہذیب کو بہا لے جائے گا اور پیچھے صرف پچھتاوے اور بے نشان قبریں ہی رہ جائیں گی۔


نام: پیر انتظار حسین مصور

حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ: برصغیر کے عظیم تابعی اور دربارِ عالیہ کے حقیقی دستاویزی حقائق | تحقیق: پیر انتظار حسین

 

مزارِ اقدس پر موجود تاریخی کتبہ جس پر تاریخِ شہادت 131 ہجری درج ہے"




برصغیر کے عظیم تابعی: حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ اور تاریخی حقائق

تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تاریخ کے اوراق جب حقائق کی روشنی میں پلٹے جاتے ہیں تو وہ سچائیاں سامنے آتی ہیں جو وقت کی گرد میں چھپ گئی تھیں۔ برصغیر کی روحانی تاریخ کا سب سے قدیم اور معتبر نام حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ (اسمِ گرامی: اسد محمد ابوالفضل) ہے، جنہیں "دیوان چاولی مشائخ" کے لقب سے شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ آپ محض ایک مبلغ نہیں بلکہ اس دھرتی کے وہ عظیم "تابعی رسول" ہیں جن کا روحانی تعلق براہِ راست خلافتِ راشدہ کے مرکز سے جڑا ہوا ہے۔

وارثینِ دربار اور درویشانہ اخلاق

کسی بھی روحانی آستانے کی پہچان اس کے اصل وارثین سے ہوتی ہے۔ دربارِ عالیہ کا نظام اور اس کی سجادہ نشینی صدیوں سے ان کے اصل وارثین اور مسند نشین دیوان پیر غلام مصطفیٰ اویس اور دیوان پیر طارق اویس کے مبارک ہاتھوں میں ہے۔ یہ وہ درویش منش لوگ ہیں جنہیں کسی دنیاوی جاہ و جلال یا گروہ بندی سے کوئی سروکار نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خاندان نے ہمیشہ مخالفت کے جواب میں بھی دعا ہی دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز دور سے لے کر آج تک، جس نے بھی ان کے خلاف سازش کی، وہ خود ہی رسوا ہوا جبکہ یہ آستانہ آج بھی فیض کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تاریخی و دستاویزی حقائق

قدیم قلمی بیاض اور خاندانی ریکارڈ کے مطابق بابا صاحب کی ولادت 30 ہجری میں ہوئی۔ آپ نے محض 6 سال کی عمر میں حضرت امام حسنؓ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی، جو آپ کے "تابعی" ہونے کی مستند ترین دلیل ہے۔ جہاں تک آپ کی شہادت (131ھ) کا تعلق ہے، تو بعض جگہوں پر مہی پال راجاؤں سے اس کا انتساب ملتا ہے، مگر تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ راجہ مہی پال اول بابا صاحب کی شہادت کے 334 سال بعد تخت نشین ہوا۔ یہ ایک علمی نکتہ ہے جو بابا صاحب کی قدامت اور ان کے تابعی مقام کو واضح کرتا ہے۔

عصا مبارک: زمین میں پیوست ایک معجزاتی حقیقت

اس آستانے کی روحانی عظمت کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت وہ عصا مبارک ہے جو حضرت اویس قرنیؒ کی جانب سے بابا صاحب کو عطا ہوا۔ ایک عینی شاہد اور محقق کے طور پر میں نے بچپن سے اب تک اس مقدس عصا کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین میں پیوست ہے اور جس کی ظاہری ہیئت ایک مصلے کی مانند ہے۔ اس پر چڑھی چاندی کی پوشاک زائرین کی اس لامتناہی عقیدت کا اظہار ہے جو صدیوں سے اس خاندان اور آستانے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

1858ء کا عدالتی فیصلہ: وراثتی مہر

قانونی نقطہ نظر سے 14 جولائی 1858ء کا عدالتی فیصلہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اس دربار کی تولیت اور سجادہ نشینی کا حق صرف موجودہ وارثین (اویسیہ خاندان) کے پاس ہے۔ یہ فیصلہ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تمام دعووں کو علمی طور پر رد کرتا ہے جن کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا آستانہ برصغیر کی روحانی تاریخ کا وہ معتبر باب ہے جس کا فیض آج بھی ان کے اصل وارثین کے زیرِ سایہ جاری و ساری ہے۔ سچ وہی ہے جو قدیم بیاض اور تاریخی فائلوں میں محفوظ ہے۔

"رمضان کی آمد اور ضمیروں کا قحط" لکھ دیں۔



رمضان کی آمد اور ضمیروں کا قحط

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ فضاؤں میں تسبیح و مناجات کی گونج ہوگی، مساجد آباد ہوں گی اور نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جائے گا۔ روایات کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سرکش شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنے معاشرے کے معاشی حقائق اور بازاروں کی بے حسی کو دیکھتا ہوں، تو ایک سوال دل میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے کہ "اگر بڑا شیطان قید ہو گیا ہے، تو اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے یہ انسانی روپ میں چیلے چپاٹے کب قید ہوں گے؟"

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

"تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔" (سورۃ المطففین: ۱)

آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم روزہ تو رکھتے ہیں لیکن جھوٹ، ہیرا پھیری اور دوسروں کا حق مارنا نہیں چھوڑتے۔ کیا ہم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ صرف بھوکا پیاسا رہنے سے رب راضی ہو جائے گا؟ حقوق العباد اور دوسروں کے مال پر ناحق قبضے کے حوالے سے ربِ کائنات کا حکم واضح ہے:

"اور تم ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔" (سورۃ البقرہ: ۱۸۸)

ہمیں اس تلخ حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ عبادت صرف ظاہری رسومات کا نام نہیں ہے۔ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، ناپ تول میں ڈنڈی مارتے ہیں اور جھوٹ بول کر مال بیچتے ہیں، تو ایسی عبادات کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

"جس نے (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔" (صحیح بخاری: ۱۹۰۳)

رہی بات ایسی عبادات کی جو قبول نہیں ہوتیں، تو حدیثِ نبوی ﷺ کے مفہوم کے مطابق وہ شخص "مفلس" ہے جو قیامت کے دن نمازیں اور روزے تو لائے گا مگر کسی کا حق مارا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کی نیکیاں حق داروں کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کے پاس کچھ نہ بچے گا۔ مفسرین کے مطابق ایسی ریاکارانہ اور ظالمانہ زندگی کے ساتھ کی گئی عبادات کا انجام رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔

افسوس صد افسوس کہ جیسے ہی ہلالِ رمضان نظر آتا ہے، اس ملک کے "مسلمان تاجر" کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ جو پھل اور اشیائے ضرورت کل تک سستی تھیں، وہ اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ جس مہینے میں دسترخوان وسیع ہونے چاہیے تھے، وہاں سفید پوش طبقے کے لیے افطار کا سامان کرنا ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔

حکمران ہوں یا تاجر، سب کو سوچنا ہوگا کہ یہ مہینہ خود کو بدلنے کا ہے، قیمتیں بدلنے کا نہیں۔ کاش ہم صرف رمضان کے روزے ہی نہ رکھیں، بلکہ اپنے ضمیروں کو بھی بیدار کریں تاکہ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے اور کوئی باپ مہنگائی کے ہاتھوں اپنی غیرت کا جنازہ نہ نکالے۔

دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل: مظلوم شوہروں کی داستان! | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

"قانون کی گرفت سے پہلے، بیگم کے آرڈر کی گرفت: اتوار کی 'بمشقت قید' کا ایک منظر۔"



 کالم کا عنوان: دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

آج کل ٹی وی چینلز کے ٹکرز ہوں یا سوشل میڈیا کی دیواریں، ہر طرف ایک ہی نوید سنائی دے رہی ہے کہ "عورتوں کے تحفظ کا نیا اور کڑا قانون آ گیا"۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کسی مرد نے بیگم کو طلاق کی دھمکی دی، اسے ہراساں کیا یا کسی بھی قسم کا ذہنی دباؤ ڈالا، تو تین سال کے لیے جیل کا مفت ہاسٹل اس کا منتظر ہوگا۔ صاحب، خواتین کے حقوق اور قانون سر آنکھوں پر! لیکن ذرا اس "سنڈے" والے اس مظلوم کا بھی تو سوچیں جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ہی گھر میں 'بمشقت قیدِ تنہائی' کاٹ رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مرد کے لیے تو قانون کی سو دفعات موجود ہیں، لیکن اس "رن مرید" طبقے کا کیا ہوگا جس کی صبح بیگم کی ڈانٹ سے اور رات برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ سے ہوتی ہے؟ وہ بیچارہ شوہر جو شادی سے پہلے دفتر کا "ٹائیگر" ہوا کرتا تھا اور جس کی ایک آواز پر چپراسی تھر تھر کانپتے تھے، اب اتوار کے دن ہاتھ میں وائپر اور سرف کی بالٹی پکڑے کسی "ہوم میڈ" سے کم نظر نہیں آتا۔ جس مرد کی اپنی قمیض کا بٹن ٹوٹ جائے تو وہ پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتا تھا، اب وہی مرد بیگم کے دوپٹوں کو 'نیل' لگا کر صحن میں پھیلاتا ہوا پایا جاتا ہے۔

ستم ظریفی کی حد تو دیکھیے، اب تو "پیکا ایکٹ" (PECA) کی تلوار بھی شوہروں کے سر پر لٹک رہی ہے۔ اگر بیچارے شوہر نے غلطی سے فیس بک پر اپنی مظلومیت کا رونا رو دیا یا بیگم کو واٹس ایپ پر یہ لکھ دیا کہ "آج سالن میں نمک زیادہ ہے"، تو فوراً سائبر ہراسمنٹ اور ذہنی تشدد کی دفعات حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اب تو موبائل فون شوہر کے لیے رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک "ڈیجیٹل ہتھکڑی" بن چکا ہے، جہاں ہر میسج بھیجنے سے پہلے اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ جملہ اسے تین سال کے لیے "سسرال" (جیل) نہ پہنچا دے۔

وہ بیگم جو شادی کے دوسرے ہفتے ہی شوہر کے کان میں 'الگ گھر' کا منتر پھونکتی ہے اور اسے اس کے بوڑھے ماں باپ سے ایسے الگ کرتی ہے جیسے دودھ سے مکھی، اس کے لیے کوئی "پیکا" یا "ویمن ایکٹ" کیوں نہیں؟ ماں باپ سے جدائی کا یہ "سلو پوائزن" کسی جرم کے زمرے میں کیوں نہیں آتا؟ وہ بوڑھے والدین جنہوں نے تپتی دھوپ میں خون پسینہ ایک کر کے بیٹے کو جوان کیا، انہیں ایک "دھمکی" کے بغیر ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، مگر اس پر کوئی انسانی حقوق والا شور نہیں مچاتا۔

آج کے دور کا شوہر وہ قیدی ہے جو اتوار کے دن اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتا۔ صبح نو بجے ہی بیگم کا ایک 'آرڈر' آتا ہے اور صاحبِ بہادر روبوٹ کی طرح کچن اور واشنگ مشین کے درمیان شٹل کاک بن جاتے ہیں۔ محلے بھر کے مردوں کی غیرت کا جنازہ اس وقت نکلتا ہے جب گلی سے گزرتے ہوئے ہر دوسرے گھر سے "رگڑائی اور دھلائی" کی آوازیں آتی ہیں—اور یقین جانیے، یہ آوازیں کپڑوں کی نہیں، شوہروں کی دبی ہوئی چیخوں کی ہوتی ہے۔

حکومتِ وقت سے دست بستہ گزارش ہے کہ جہاں اتنی دفعات بنائی ہیں، وہاں ایک "رن مرید پروٹیکشن بل" بھی لایا جائے۔ جس میں یہ شقیں لازمی شامل ہوں کہ اتوار کے دن شوہر سے زبردستی کپڑے دھلوانا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا جائے اور شوہر کو اس کے سگے ماں باپ سے دور رہنے پر مجبور کرنے والی بیگم کو بھی قانونی کٹہرے میں لایا جائے۔

صاحبو! اگر طلاق کی دھمکی پر تین سال قید ہے، تو بیگم کی طرف سے ملنے والی اس "روزانہ کی مشقت" پر بھی کچھ تو جرمانہ ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ملک کے سارے شادی شدہ مرد تھانے کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہوں گے اور ڈیوٹی آفیسر سے التجا کریں گے: "حوالدار صاحب! خدا کے لیے ہمیں کسی بھی جھوٹے کیس میں اندر کر دیں، کم از کم جیل میں اتوار کو بیگم کے لان کے دوپٹے تو نہیں دھونے پڑیں گے!"

خصوصی نوٹ (Disclaimer):

"یہ تحریر خالصتاً طنز و مزاح کے پیرائے میں لکھی گئی ہے جس کا مقصد معاشرتی رویوں اور حالیہ قانونی تبدیلیوں پر ایک شگفتہ تبصرہ کرنا ہے۔ اس کالم کے ذریعے کسی مخصوص فرد، خاندان یا ادارے کی دل آزاری یا تضحیک مقصود نہیں ہے۔ تحریر میں بیان کردہ خیالات مصنف کی اپنی مشاہداتی اور ادبی رائے پر مبنی ہیں، جنہیں سنجیدہ قانونی بحث کے بجائے محض ایک سماجی آئینے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔"


ولادتِ امام حسینؑ اور غازی عباسؑ: تاریخ، فضائل اور پیغامِ وفا | پیر قلم کی چھاپ

Shrines of Imam Hussain and Hazrat Abbas Alamdar in Karbala - Bain ul Haramain



 وارثِ انبیاء اور معراجِ وفا

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم کی چھاپ)

تاریخِ انسانی میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی ولادت محض ایک خاندان کی خوشی نہیں بلکہ کائنات کے مقدر کا فیصلہ ہوتی ہے۔ تین اور چار شعبان کے یہ مبارک ایام وہ سنگِ میل ہیں جہاں سے شاہراہِ حق کی تجدید ہوئی۔ 3 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ کی فضاؤں میں جب جبرائیلِ امیںؑ بارگاہِ رسالت ﷺ میں تہنیت و مبارک باد لے کر اترے، تو وہ محض ایک نواسے کی آمد نہیں تھی، بلکہ "سید الشہداء" اور "جنت کے نوجوانوں کے سردار" کا ظہور تھا۔

مولودِ مسعود اور رسولِ پاک ﷺ کی بشارت

مستند روایات گواہ ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے آپؑ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی۔ یہ کائنات کا وہ منفرد مولود تھا جس کی ولادت پر جہاں عالمِ بالا مسرور تھا، وہیں قدرت نے رسولِ خدا ﷺ پر یہ راز بھی عیاں کر دیا تھا کہ یہی وہ بچہ ہے جو کربلا کے تپتے صحرا میں دینِ الٰہی کی بقا کا ضامن بنے گا۔ امام حسینؑ کی شان یہ ہے کہ آپؑ صرف ایک امام نہیں بلکہ "وارثِ انبیاء" ہیں۔ آپؑ کی ولادت نے رہتی دنیا تک یہ اصول طے کر دیا کہ طاغوت چاہے کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو، حسینیؑ سوچ کا حامل شخص کبھی باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا۔

غازی عباسؑ: وفا کے نصاب کا پہلا باب

پھر 4 شعبان 26 ہجری کا وہ سعید دن آتا ہے جب شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے گھر اس بہادر فرزند کی آمد ہوئی جسے دنیا غازی عباسؑ کے نام سے پکارتی ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب مولا علیؑ نے مولودِ مسعود کے بازو چومے تو دراصل آپؑ دنیا کو "وفا کے نصاب" سے آگاہ کر رہے تھے۔ حضرت عباسؑ کی عظمت صرف ان کی شجاعت میں نہیں، بلکہ ان کی اس "بصیرتِ نافذہ" میں پوشیدہ ہے جس کا ذکر ائمہ اہل بیتؑ نے نہایت بلند الفاظ میں فرمایا ہے کہ عباسؑ گہری بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے۔

امان نامہ کی ٹھوکر اور بصیرتِ نافذہ

کربلا کی تپتی دوپہر میں جب یزیدی فوج نے انہیں "امان نامہ" پیش کر کے لالچ دینا چاہا، تو غازی عباسؑ نے اسے ٹھکرا کر یہ ثابت کر دیا کہ وفا کا تعلق خون کے رشتوں سے زیادہ "حق کی اطاعت" سے ہوتا ہے۔ آپؑ کی شان یہ ہے کہ آپؑ کو "باب الحوائج" کا منصب عطا ہوا، یعنی وہ در جہاں سے کوئی سائل تہی داماں نہیں لوٹتا۔ حضرت عباسؑ نے علم بلند کر کے کائنات کو بتایا کہ پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ غیرت، وفا اور جانثاری کا وہ استعارہ ہے جو کٹ تو سکتا ہے مگر سرنگوں نہیں ہو سکتا۔

آج کا دور اور حسینیؑ کردار کی ضرورت

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان مقدس ہستیوں کی زندگی سے صرف جذباتی تعلق نہ رکھیں بلکہ ان کے تاریخی اور انقلابی کردار کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ امام حسینؑ کی شجاعت ہمیں مصلحتوں کے بت توڑ کر ظالم کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتی ہے اور غازی عباسؑ کی وفا ہمیں بتاتی ہے کہ جب حق کا ساتھ دینے کا وقت آئے تو بازو قلم کرانا تو گوارا ہے مگر پرچمِ حق کو گرنے دینا گوارا نہیں۔ آج کے اس پرفتن دور میں، جہاں ضمیروں کی بولیاں لگ رہی ہیں، حسینؑ اور عباسؑ کی سیرت ہی وہ واحد مشعلِ راہ ہے جو ہمیں ذلت کی تاریکیوں سے نکال کر عزت اور خودداری کی شاہراہ پر لا سکتی ہے۔

پیر قلم کی چھاپ: انسان اور اس کا وقار—کردار اور خودداری کی اہمیت

"ایک عاجز مسافر، جو قلم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کا خواہاں ہے۔"
پیر قلم کی چھاپ: انسان اور اس کا وقار تحریر: پیر انتظار حسین مصور کائنات کی تمام مخلوقات میں انسان کو جو فضیلت عطا کی گئی ہے، اس کی اصل بنیاد "وقار" ہے۔ وقار وہ پوشیدہ ردا ہے جو انسان کو ہجوم میں بھی ممتاز رکھتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے مادی دور میں ہم نے وقار کا معیار بدل دیا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ شاید مہنگی گاڑی، برانڈڈ لباس اور بڑے عہدے وقار کی علامت ہیں، حالانکہ وقار تو اس خاموش استقامت کا نام ہے جو انسان کے کردار سے جھلکتی ہے۔ میں ایک عاجز سا انسان ہوں اور اپنے گرد و پیش کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہی پاتا ہوں کہ وقار دکھاوے میں نہیں بلکہ سادگی اور سچائی میں چھپا ہوتا ہے۔ وقار اور خودداری کا رشتہ انسان کا وقار اس کی خودداری سے جڑا ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ سر جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا، وہی اصل وقار والا ہے۔ جب انسان اپنی ضرورتوں کے لیے اپنا ضمیر بیچنا شروع کر دیتا ہے یا چند سکوں کے عوض دوسروں کی خوشامد کو اپنا وطیرہ بنا لیتا ہے، تو وہ اپنے انسانی وقار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ وقار کا مطلب اکڑنا نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی حدود کا وہ تحفظ ہے جہاں کوئی آپ کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہ پہنچا سکے۔ ایک غریب انسان بھی اگر خوددار ہے، تو وہ کائنات کا سب سے زیادہ باوقار شخص ہے۔ عہدے فانی، وقار لازوال تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے جاہ و جلال والے لوگ آئے اور مٹی میں مل گئے، مگر وقار آج بھی ان کا زندہ ہے جنہوں نے کڑے حالات میں بھی سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وقار اس کاریگر کا بھی ہے جو محنت کی حلال کمائی کھاتا ہے اور وقار اس سفید پوش کا بھی ہے جو فاقے تو کاٹ لیتا ہے مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ وقار دراصل آپ کے "نہیں" کہنے کی طاقت میں چھپا ہے— جب دنیا آپ کو غلط کام پر اکسا رہی ہو اور آپ اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں۔ یہ وہ دولت ہے جسے کوئی چور چرا نہیں سکتا اور کوئی بادشاہ چھین نہیں سکتا۔ معاشرتی رویے اور انسانی حرمت آج ہمارے معاشرے میں وقار کی پامالی عام ہو چکی ہے۔ ہم دوسروں کی تذلیل کر کے خود کو بڑا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے! جو دوسروں کے وقار کا خیال نہیں رکھتا، وہ کبھی خود صاحبِ وقار نہیں بن سکتا۔ جب ہم کسی کی مجبوری کا مذاق اڑاتے ہیں یا کسی کے عیبوں کو اچھالتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی انسانیت کے وقار کو داغدار کر رہے ہوتے ہیں۔ انسانی حرمت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے پردہ پوش بنیں، نہ کہ تماشائی۔ ایک عاجز انسان ہونے کے ناطے میں یہی کہوں گا کہ دوسروں کو عزت دینا ہی اصل میں اپنی عزت کروانا ہے۔ وقار کی بحالی کا راستہ انسان کو اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ: عزت عہدوں سے مانگی نہیں جاتی، بلکہ کردار سے کمائی جاتی ہے۔ وقار خاموشی اور متانت میں ہے، لایعنی بحث اور شور و غل میں نہیں۔ اصل وقار دوسروں کی خدمت اور ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ حاصلِ کلام انسان کا جسم مٹی کا ہے اور مٹی میں ہی مل جائے گا، مگر اس کا وقار اور اس کے اعلیٰ اخلاق کی خوشبو زمانوں تک باقی رہتی ہے۔ اپنے قد کو اونچا کرنے کے بجائے اپنے کردار کو اونچا کیجیے، کیونکہ جب کردار بلند ہوتا ہے تو وقار خود بخود قدم چومتا ہے۔ سکون اور وقار دونوں ہی رب کی وہ نعمتیں ہیں جو صرف اسے ملتی ہیں جو عاجزی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا پاس رکھتا ہے۔ تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور سماجی کارکن

: "تاریخ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمدؒ اور شجرہِ دیوان کی حقیقت | تحریر پیر انتظار حسین مصور شاہ"

 

"تاریخ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمد اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی"

ساداتِ ہاشمیہ کا علمی ورثہ اور 'شجرۂ دیوان' کی تاریخی حقیقت

تحریر: پیر انتظار حسین مصور شاہ

شعبان المعظم کا مہینہ اپنی تمام تر روحانی تجلیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے، جو اہل ایمان کو رمضان المبارک کے عظیم الشان استقبال کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کی نسبت آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہے، اور اسی نسبت سے یہ وقت اپنے اسلاف کی تاریخ، علمی ورثے کی حفاظت اور نسبِ مطہر کی معرفت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

گزشتہ روز اسی حوالے سے میری ایک طویل علمی و روحانی نشست اپنے عزیز کزن صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی صاحب کے ساتھ ہوئی، جو ساداتِ ہاشمیہ کے اس درخشاں سلسلے کے چشم و چراغ ہیں جس کی جڑیں براہِ راست خاندانِ رسالت ﷺ سے پیوست ہیں۔

اس نشست کا بنیادی محور صاحبزادہ صاحب کی زیرِ تکمیل تصنیف "شجرۂ دیوان" تھا۔ یہ کتاب محض ایک تالیف نہیں بلکہ علم و عرفان اور سیادت کی اس میراث کی ایک جامع تاریخی دستاویز ہے جو صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ان تاریخی حقائق کو روشن کرتی ہے جو گردِ ایام کی وجہ سے اوجھل ہو چکے تھے، اور ان عناصر کے لیے ایک مدلل علمی جواب ہے جو خود کو ناحق اس عظیم روحانی آستانے (دربارِ عالیہ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمدؒ) سے منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی صاحب نے اپنی تحقیق کے ذریعے ان لوگوں کی علمی گرفت کی ہے جو تاریخ کو مسخ کر کے خود کو دربارِ عالیہ کا حصہ بتاتے ہیں۔ "شجرۂ دیوان" میں خاص طور پر ان تاریخی مغالطوں کی تصحیح کی گئی ہے جو قوم ڈھڈی، ویسر، کمبوہ اور تجوانہ کے حوالے سے معاشرے میں پھیلائے گئے۔ یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ نسب میں تحریف کرنا علمی و اخلاقی خیانت ہے، اور حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

اس شجرۂ مطہرہ کی عظمت کا اندازہ صاحبزادہ صاحب کے نسب نامہ پدری سے لگایا جا سکتا ہے، جو بابا حاجی شیر دیوان شہیدؒ سے ہوتا ہوا سیدنا ابوالفضل عباس بن عبدالمطلب اور ہاشم بن عبد مناف تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح آپ کا نسب نامہ والده ماجدہ (اُمّ فاطمہ) اور اہلیہ محترمہ (اُمّ صفیہ) کی جانب سے بھی ساداتِ ہاشمیہ اور قریشی خاندانوں کے معتبر سلسلوں سے جڑا ہوا ہے، جو آپ کی جلالتِ قدر کا بین ثبوت ہے۔

بحیثیتِ خاندان کے ایک فرد، میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں سجادہ نشین دیوان پیر غلام اویس مصطفیٰ صاحب کی سرپرستی اور صاحبزادہ پیر طارق اویس کی علمی مساعی سے یہ خاندان نہ صرف روحانی فیض بانٹ رہا ہے، بلکہ اپنے اسلاف کے نظریات کی بھی بھرپور حفاظت کر رہا ہے۔ صاحبزادہ صاحب کی شخصیت اسلافِ کرام کی زندہ تصویر ہے، جن کی علمی و روحانی رہبری آنے والی نسلوں کے لیے نورِ ہدایت کا کام کرے گی۔

دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس علمی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ساداتِ ہاشمیہ کا یہ سایۂ عاطفت ہم پر ہمیشہ قائم رہے۔ آمین یا ربَّ العالمین!

آن لائن شجرہ نسب کی فراہمی اور بیوہ کی زمین پر ڈاکا: ہم سب کی آواز

 

آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ

شجرہ نسب کی آن لائن فراہمی: "ہم سب" کی تڑپ اور کٹی ہوئی جڑوں کا درد!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور و صحافی برادری

"ہم سب" کے قارئین اور اہل قلم! آج میرا قلم لہو رو رہا ہے۔ آج میں کسی خشک اعداد و شمار پر بات نہیں کروں گا بلکہ ان آنسوؤں کا ذکر کروں گا جو ہر اس شخص کی آنکھ سے بہتے ہیں جس کی جڑیں کاٹ دی جاتی ہیں، جس کی پہچان پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ گوگل کی ایک سرچ پر "آن لائن شجرہ" لکھنے والوں کو کیا معلوم کہ اس کے پیچھے کتنی دردناک کہانیاں چھپی ہیں؟

وہ سچی کہانی جو دل کاٹتی ہے: ایک بیوہ کی چیخ

یہ چند سال پہلے کی بات ہے، ایک غریب بستی کی ایک سیدھی سادی بیوہ، جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، اس کی زندگی یک دم اجڑ گئی۔ اس کے لالچی دیوروں نے پٹواری کے ساتھ مل کر ایک ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جس نے اس عورت کو زندہ درگور کر دیا۔ انہوں نے محافظ خانے کے دھول بھرے ریکارڈ میں 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "خانہ پری" کر دی۔ صرف اس لیے کہ دیور کا نام مرحوم شوہر سے ملتا جلتا تھا، جعلی گواہیاں کروائیں اور ایک فرضی رشتہ جوڑ کر بیوہ کو اس کے خاندان کی وراثت سے ہی خارج کر دیا۔

وہ بیوہ، جس کے ہاتھ غربت کی وجہ سے پہلے ہی خالی تھے، اب اس کے پاس اپنے وجود کا ثبوت بھی نہیں رہا تھا۔ اس کی چیخیں کچہری کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتیں۔ وہ کہتی تھی، "میرا شوہر ان کا بھائی تھا، میری ساس ان کی ماں تھی، میرا شجرہ کیوں بدل دیا؟" لیکن پٹواری کے رجسٹر میں قلم کی ایک لکیر نے اسے "لاوارث" بنا دیا تھا۔ اس عورت نے سالوں دربدر ٹھوکریں کھائیں، اپنے بچوں کے لیے روتی رہی، مگر کوئی اس کا درد سمجھنے کو تیار نہ تھا۔ یہ کہانی صرف ایک بیوہ کی نہیں، ایسے ہزاروں خاندان ہیں جن کی جڑیں کاٹ کر انہیں بے نشان کر دیا جاتا ہے۔

کٹی ہوئی جڑوں کا درد اور نسلوں کا نقصان

جب کسی انسان کا شجرہ نسب بدل دیا جاتا ہے تو اسے صرف زمین سے محروم نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کی تاریخ، اس کی قوم، اس کے اجداد کا احترام، سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔ وہ نسلیں جو اپنے آباؤ اجداد کے نام پر فخر کر سکتی تھیں، انہیں ایک جھوٹے کاغذ کے ٹکڑے کی وجہ سے اپنا ماضی دھندلا نظر آتا ہے۔ یہ کٹی ہوئی جڑوں کا درد نسلوں تک سرایت کرتا ہے۔ کیا ہم اس بے حسی کو مزید برداشت کرتے رہیں گے؟

ہم سب کا مطالبہ، ہم سب کی تڑپ

ہم تمام قلمکار، صحافی، اور "ہم سب" کے پلیٹ فارم سے یہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

فوری ڈیجیٹلائزیشن: محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے شجرہ نسب کو فی الفور مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے۔ یہ ریکارڈ عوام کا ہے، اسے بند الماریوں سے نکالو!

پہچان کا تحفظ: ہر شہری کو آن لائن یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کا مصدقہ شجرہ نسب کسی بھی وقت دیکھ سکے، تاکہ کوئی اس کی پہچان چھین نہ سکے۔

شفافیت اور احتساب: ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے پٹواری کلچر میں پائی جانے والی بدعنوانی اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کیا جائے، اور کسی کی جڑیں کاٹنے والے کو سخت ترین سزا دی جائے۔

میں، پیر انتظار حسین مصور، اپنی صحافی برادری کے ساتھ مل کر یہ عہد کرتا ہوں کہ ہم اس وقت تک اپنی قلم کی کاٹ جاری رکھیں گے جب تک اس ملک کا ہر یتیم، ہر بیوہ، اور ہر مظلوم اپنی جڑوں اور اپنی پہچان کو محفوظ نہیں کر لیتا۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایک قوم کی تڑپ اور ہر اس انسان کا درد ہے جس کی پہچان چھینی گئی۔

رابطہ: پیر انتظار حسین مصور

فون نمبر: 03006488317

پردیس کی نیلامی اور ڈالروں کی خیرات: امریکی ہجرت کا نیا اور دردناک موڑ

پیر انتظار حسین مصور کا کالم: امریکہ میں تارکینِ وطن کا بحران



 ہیڈ لائن: پردیس کی نیلامی اور ڈالروں کی خیرات: امریکی ہجرت کا نیا اور دردناک موڑ

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

۱. خوابوں کی سرزمین یا جذبوں کا قبرستان؟

امریکہ، جسے کبھی خوابوں کی سرزمین کہا جاتا تھا، اب وہاں بسنے والے لاکھوں مسافروں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ پردیس کی مٹی میں ایسی کشش ہوتی ہے جو انسان کو اپنی جڑوں سے اکھاڑ کر سات سمندر پار تو لے جاتی ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان چمکتے ڈالروں کی قیمت وہاں بسنے والے مسافر اپنی روح بیچ کر چکا رہے ہیں۔

۲. ایک قاری کی داستانِ غم

حالیہ دنوں میں میرے بلاگ کو امریکہ سے بے پناہ پڑھا گیا، اور اسی دوران وہاں مقیم ایک قاری نے جب اپنی بپتا سنائی تو میرا قلم لرز اٹھا۔ اس نے بتایا کہ کیسے اس کی جوانی کی امنگیں وہاں کی برف باری میں منجمد ہو گئیں اور اب، جب جسم تھک چکا ہے اور بال سفید ہو رہے ہیں، تو وہاں کی حکومت ایک نیا 'انسانیت سوز ڈرامہ' رچا رہی ہے۔

۳. ڈالروں کا لالچ: زخموں پر نمک پاشی

سنا ہے اب وہاں تارکینِ وطن کو نکالنے کے لیے 'پیسوں کا بیوپار' شروع ہو چکا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے؟ برسوں جن ہاتھوں نے امریکہ کی عمارتیں تعمیر کیں، جنھوں نے ان کی سڑکوں کا کوڑا اٹھایا اور ان کی معیشت کو اپنے خون سے سینچا، آج انہی ہاتھوں میں چند ڈالروں کی 'خیرات' تھما کر کہا جا رہا ہے کہ "اپنا بوریا بستر گول کرو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ"۔

۴. کیا یہ ڈالروں کی پیشکش ہے یا جنازہ؟

یہ ڈالروں کی پیشکش نہیں، یہ ایک مزدور کی محنت کا جنازہ ہے، یہ ان جذبوں کی نیلامی ہے جو ایک پردیسی اپنے سینے میں دفن کر کے لایا تھا۔ کیا کوئی ڈالر اس تنہائی کا ازالہ کر سکتا ہے جو اس نے اجنبیوں کے شہر میں کاٹی؟ وہ جو ماں کی میت پر نہیں پہنچ سکا، وہ جو بیٹی کی رخصتی پر ویڈیو کال پر سسکیاں لیتا رہا، آج اسے کہا جا رہا ہے کہ تمہاری ان تمام قربانیوں کی قیمت چند ہزار ڈالر ہے؟

۵. حکمرانوں کی چال اور مسافر کی ہمت

یہ جو پیسے دے کر نکالنے کی پالیسی ہے، یہ دراصل ایک نفسیاتی جال ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسافر خود تھک ہار کر اپنی شکست تسلیم کر لے۔ لیکن یاد رکھو! پردیسی صرف پیسہ کمانے نہیں جاتا، وہ اپنے پیچھے پورے خاندان کی امیدیں لے کر جاتا ہے۔

اختتامیہ:

اے وطن سے دور بسنے والے مسافرو! تمہارا درد میرا درد ہے۔ تمہاری یہ ہمت ہی تمہاری پہچان ہے، ورنہ ڈالروں کی اس منڈی میں تو ضمیر بکتے ہیں، غیرت مند مسافروں کے جذبے نہیں۔

بجلی کا بل، چینی کا بحران اور سسکتا ہوا غریب: بکھرتی معیشت کے تلخ حقائق

بڑھتی مہنگائی، بجلی کے بھاری بل اور آٹے چینی کے بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر - تحریر پیر انتظار حسین مصور"



 بجلی کا بل، چینی کا بحران اور سسکتا ہوا غریب: بکھرتی معیشت کے تلخ حقائق

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پچھلے دنوں جب میں نے "پچاس کا نوٹ، ٹوٹتا ہوا خواب اور بکھرتی معیشت" کے عنوان سے اپنے دل کی بھڑاس نکالی، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ دکھ اس مٹی کے ہر باسی کا ہے۔ اس تحریر کو ملنے والی بے پناہ پذیرائی اور لوگوں کی دلچسپی نے یہ ثابت کر دیا کہ آج کا عام آدمی لفظوں کی جادوگری کا پیاسا نہیں، بلکہ وہ اپنے دکھوں کی سچی زبان تلاش کر رہا ہے۔

بجلی کا بل: ایک ہیبت ناک سایہ

سچ تو یہ ہے کہ اب غریب کے گھر میں چراغ نہیں جلتے، بلکہ "بجلی کے بل" کی صورت میں ایک ہیبت ناک سایہ ہر ماہ اس کی دہلیز پر دستک دیتا ہے۔ وہ بجلی جو کبھی زندگی کی علامت تھی، اب ایک عذاب بن کر غریب کی جیب پر شب خون مار رہی ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، "مصور صاحب! آپ تو لفظوں سے گلدستے بناتے ہیں، اس مہنگائی کی آگ کو کوئی ٹھنڈا سا عنوان کیوں نہیں دیتے؟" مگر میں سوچتا ہوں کہ جب چولہے ٹھنڈے ہو جائیں اور بچوں کی آنکھوں میں حسرتیں رقص کرنے لگیں، تو لفظوں کی خوشبو کس کا پیٹ بھرے گی؟

آٹا اور چینی: مل مالکان کی من مانی

ستم بالائے ستم یہ کہ ابھی ہم بجلی کے بلوں کے صدمے سے سنبھلے نہ تھے کہ آٹے اور چینی کی قلت نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ عجیب تماشہ ہے، جیسے ہی مل مالکان نے ریٹ بڑھانے کا اشارہ دیا، دیکھتے ہی دیکھتے فی کلو چینی پر 10 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ آٹا جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اب وہ بھی غریب کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان اور سونے کی چمک تو بڑے لوگوں کے قصے ہیں، یہاں تو دو وقت کی روٹی اور چینی کے چند دانوں کے لیے غریب کا دم نکل رہا ہے۔ اب غریب جائے تو کہاں جائے؟ کیا وہ بجلی کا بل بھرے یا اپنے بچوں کے لیے آٹا اور چینی خریدے؟

سولر پینل: ایک مجبور خواب

آج کے دور میں معیشت کا گورکھ دھندا سمجھنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی۔ لوگ اب مایوسی کے عالم میں انٹرنیٹ پر سولر پینلز کی قیمتیں تلاش کر رہے ہیں تاکہ سورج کی تپش کو اپنے بچوں کے سکون میں بدل سکیں۔ لیکن اس دیہاڑی دار کا کیا ہوگا جس کی کل کائنات وہ "پچاس کا نوٹ" ہے جس کی اوقات اب کاغذ کے ایک ردی ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہی؟ معیشت کے اس بگڑتے رنگ نے ہمارے معاشرے سے نرمی اور لہجوں سے مٹھاس چھین لی ہے۔

درویشانہ مشورہ اور اختتام

میں کوئی بہت بڑا ادیب یا دانشور نہیں، بس ایک عام سا طالب علم ہوں جو معاشرے کی تپش کو اپنے لفظوں میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں سیکھ رہا ہوں کہ کیسے ان بکھرتے خوابوں کو مالا میں پونا ہے اور کیسے اس سخت ہوتی دنیا میں اپنی درویشی کو بچا کر رکھنا ہے۔

حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ جب عوام کو "روٹی" اور "بجلی کے بل" میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ جائے، تو وہاں سے معاشرتی بگاڑ شروع ہوتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں وہ دن دکھائے جب غریب کی تھالی میں سکون کی روٹی لوٹا دی جائے۔

سچ کا حصار: حاصل پور کا روحانی سفر اور درویشی کی اصل پہچان | پیر انتظار حسین مصور

میراثِ فقر: جہاں مادی جائیدادیں نہیں، بلکہ کردار کی خوشبو اور سچائی کی وراثت زندہ ہے۔"
۔ 📜 سچ کا حصار: حاصل پور کا وہ پراسرار سفر اور ابدی وراثت تحریر: پیر انتظار حسین مصور وہ شام مجھے کبھی نہیں بھولے گی جب ہیڈ اسلام کی لہروں کو پار کرتے ہوئے ہم حاصل پور کی حدود میں داخل ہوئے۔ ملک اسلام اپنی ہارویسٹر کے وزٹ کے لیے بہت پرجوش تھا، اس کے ذہن میں زمینداروں سے ملاقاتیں اور مشین کا کام تھا، مگر میرے لیے قدرت نے وہاں ایک الگ ہی سبق لکھ رکھا تھا۔ ہمارا وہاں جانا صرف ایک کاروباری دورہ تھا، لیکن وہ سفر میری زندگی کا سب سے بڑا روحانی موڑ بن گیا۔ 🕌 پہلا باب: ایک انجانا خوف اور وہ پراسرار بزرگ کھیتوں کے قریب گاڑی رکتے ہی ہم نیچے اترے۔ گرد و غبار میں اٹی ہارویسٹر دور کھڑی اپنا کام کر رہی تھی۔ اچانک پاس کے چند گھروں سے ایک ضعیف العمر بزرگ تیزی سے میری طرف بڑھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی تڑپ تھی، جیسے وہ کسی بچھڑے ہوئے کو ڈھونڈ رہے ہوں۔ انہوں نے میرا راستہ روکا اور بھاری آواز میں پوچھا: "تیرا نام کیا ہے؟" میں نے کہا: "پیر انتظار حسین مصور"۔ ان کے چہرے پر ایک لرزش آئی۔ انہوں نے اگلا سوال کیا: "اپنے باپ کا نام بتا؟" جیسے ہی میں نے اپنے والد محترم پیر محمد عارف شاہ کا نام لیا، وہ بزرگ وہیں دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ ملک اسلام کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی جگہ پر لوگ اس طرح رو رہے ہیں، تو اس نے فوراً گاڑی کا انجن سٹارٹ کیا اور میرے کان میں سرگوشی کی: "شاہ جی! یہاں سے نکلیں، مجھے لگتا ہے آپ کے بزرگوں کا یہاں کوئی پرانا دشمنی والا مسئلہ رہا ہے، آج ہمیں یہاں مار پڑے گی!" وہ خوفزدہ تھا کہ شاید ماضی کا کوئی حساب آج چکانا پڑے گا۔ ✨ دوسرا باب: عقیدت کا سیلاب لیکن اگلا لمحہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ وہ بزرگ روتے ہوئے اپنے گھر کی طرف بھاگے اور بلند آواز میں پکارا: "اوئے باہر آؤ سب! دیکھو کون آیا ہے! وہ شہزادہ آ گیا ہے!" ان کے گھر والے دوڑے آئے اور وہ عزت و احترام دیا جس کا میں نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ ہمیں اس قدیم پلنگ پر بٹھایا گیا جو میرے دادا حضور کا تھا۔ وہاں کوئی لمبی چوڑی جائیدادیں نہیں تھیں، بس میرے بزرگوں کے استعمال کی چند بڑی چارپائیاں، کچھ پرانے برتن اور وہ بسترے تھے جو اب ان کے لیے تبرک بن چکے تھے۔ ان بزرگ نے بتایا کہ آپ کے دادا حضرت میاں رحیم بخش شاہ نے اپنی زندگی اس مٹی میں قرآن پڑھاتے گزار دی۔ ان کی کل کائنات یہ چند برتن اور بسترے ہی تھے، مگر ان کی وصیت یہ تھی کہ: "میری قبر کچی رکھنا، میرا مزار نہ بنانا، بس میری قبر پر تلاوت ہوتی رہے"۔ ⚖️ تیسرا باب: فخر اور شرمندگی کا مقام وہاں دسترخوان سجا، دیسی مرغ، مکھن اور لسی پیش کی گئی۔ ملک اسلام جو اب تک گاڑی سٹارٹ کیے ڈر رہا تھا، اب خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اسے سمجھ آگیا تھا کہ اصل پیر مریدی کیا ہوتی ہے۔ اس وقت مجھے ایک ساتھ دو احساسات نے گھیرا: فخر: کہ میرا تعلق ان درویشوں سے ہے جن کے نام پر آج بھی لوگ آنکھیں بچھاتے ہیں۔ شرمندگی: کہ ہم لوگ کہاں بھٹک رہے ہیں۔ دنیا کے پیچھے بھاگنے والے ہم لوگ کیا جمع کر رہے ہیں؟ لوگ پلاٹ اور بینک بیلنس جمع کرتے ہیں، مگر میرے بزرگوں نے صرف سچائی اور آخرت جمع کی تھی۔ ان کی وراثت وہ زمینیں نہیں تھیں جن پر قبضے ہوتے ہیں، بلکہ ان کی وراثت وہ قرآن کی تلاوت تھی جو سامنے کچی قبر پر ایک گمنام شاگرد کر رہا تھا۔ 🎯 حاصلِ کلام مجھے محسوس ہوا کہ ہم کتنے چھوٹے ہیں اور وہ کتنے عظیم تھے۔ وہ مٹی کے نیچے ہو کر بھی دلوں پر راج کر رہے ہیں، اور ہم مٹی کے اوپر ہو کر بھی بے سکون ہیں۔ ملک اسلام نے اس دن ہارویسٹر کا کام تو دیکھ لیا، مگر اس نے سچائی کی وہ مشین بھی دیکھ لی جو انسانی روح سے میل صاف کر دیتی ہے۔ اس سفر نے مجھے میری اصل پہچان اور خودداری کا وہ سبق دیا جو کسی اسکول یا کالج میں نہیں مل سکتا تھا۔

منصب کی درویشی: مہر مظہر عباس گھمنانہ سے ایک یادگار نشست

انسانیت کی خدمت اور منصب کی درویشی: ایک خاص ملاقات۔


منصب کی درویشی: مہر مظہر عباس گھمنانہ سے ایک یادگار نشست

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

جاوید محمود خان سے مہر گھمنانہ تک کا سفر

میں نے ہمیشہ اپنی خودداری کو متاعِ جاں سمجھا ہے، اسی لیے مصلحت کے بجائے سچائی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ گزشتہ روز بیت المال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور میرے دیرینہ دوست مہر مظہر عباس گھمنانہ سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ یہ نشست مجھے سابق چیف سیکرٹری جاوید محمود خان صاحب کے اس عہدِ زریں کی یاد دلا گئی جب سرکاری کرسی صرف حکم چلانے کے لیے نہیں بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کے لیے ہوتی تھی۔

اپنی جیب سے ضیافت اور درویشی

اس ملاقات کا سب سے متاثر کن پہلو وہ لمحہ تھا جب مہر صاحب نے چائے اور بسکٹ منگوائے۔ انہوں نے کسی سرکاری بجٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس ضیافت کا اہتمام کیا۔ یہ ایک چھوٹی سی بات لگتی ہے، لیکن اس میں دیانت اور خلوص کا سمندر پوشیدہ ہے۔ جو شخص اپنے دوست کی خاطر سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں بنتا، وہ ریاست کی امانت کا کتنا بڑا پاسبان ہوگا۔

سائل کی پکار اور ادھوری گفتگو کا قرینہ

ہماری گفتگو کے دوران مہر صاحب کا فون مسلسل بجتا رہا۔ وہ ہر کال کو پوری توجہ سے سنتے اور پھر نہایت عاجزی سے مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہتے: "پیر صاحب، معذرت! یہ کال سننا بہت ضروری ہے، کسی مجبور کی فریاد ہو سکتی ہے۔" ہماری بات وہیں سے ٹوٹتی اور پھر وہیں سے شروع ہوتی، لیکن ان کا یہ رویہ بتا رہا تھا کہ ان کے نزدیک کسی سائل کا دکھ میری گفتگو سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

مسیحائی: غریب کی دہلیز اور لاکھوں کا علاج

اسی نشست میں مجھے اس معذور شخص کے بارے میں پتا چلا جس کی زندگی کا کل اثاثہ صرف ایک بھینس تھی اور جو ایک حادثے میں اپنا آدھا جسم کٹوا بیٹھا تھا۔ مہر مظہر صاحب نے دفتری تکلفات کو بالائے طاق رکھا اور خود اس کی دہلیز پر جا کر اس کے علاج کی فائل تیار کی۔ لاکھوں روپے کے علاج کا وہ بوجھ جو اس غریب کے لیے موت کی خبر تھا، مہر صاحب کی ذاتی تگ و دو سے زندگی کی نوید بن گیا۔

تعلیم کا نگہبان اور حقدار کا حق

بات صرف علاج تک نہیں، بلکہ مہر صاحب ان طالبات کے لیے بھی ایک مضبوط سہارا ہیں جو سمسٹر کی فیسوں کی وجہ سے پریشان حال تھیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی حقدار بیٹی کا تعلیمی سفر پیسوں کی کمی کی وجہ سے نہ رکے۔ وہ نہ صرف حکومتی وسائل ان تک پہنچاتے ہیں بلکہ انہیں ان کا جائز حق دلا کر دم لیتے ہیں۔

قلم کی حرمت اور سچائی کا مشن

میرا بلاگر اور میری آنے والی کتاب ایسے ہی جیتے جاگتے اور سچے کرداروں کی گواہی دیتے رہیں گے۔ مہر مظہر عباس گھمنانہ جیسے لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت میں سچائی ہو تو محدود وسائل میں بھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ ہم نے اپنے پلیٹ فارم پر وہی معیاری مواد لانا ہے جو معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہو۔


پچاس کا نوٹ، ٹوٹتا ہوا خواب اور بکھرتی معیشت: ہم کہاں سے کہاں آ گئے؟

 

"پاکستان کا قدیم پچاس روپے کا نوٹ جس پر اردو اور بنگالی تحریر درج ہے"


پچاس کا نوٹ، ٹوٹتا ہوا خواب اور بکھرتی معیشت

ایک تصویر اور یادوں کا ہجوم

آج جب فیس بک کی دیوار پر پچاس روپے کا وہ قدیم نوٹ دیکھا جس پر اردو کے ساتھ بنگالی حروف درج تھے، تو دل ایک عجیب سی کیفیت میں گھر گیا۔ یہ محض پرانی کرنسی کی تصویر نہیں ہے، بلکہ یہ اس دور کا نوحہ ہے جب ہم متحد تھے، جب ہمارا روپیہ دنیا میں اپنی پہچان رکھتا تھا اور جب مشرقی پاکستان (ہمارا بھائی ملک بنگلہ دیش) ہماری طاقت کا ایک بازو تھا۔ اس نوٹ کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے وہ سنہرا دور کیسے کھو دیا اور آج ہم کس دوراہے پر کھڑے ہیں؟

خوشحالی کا وہ سنہرا دور اور روپے کی طاقت

اس دور میں پاکستان کی معیشت ایشیا کے لیے ایک مثال تھی۔ امریکی ڈالر کی قیمت محض چند روپے تھی اور عام آدمی کی جیب میں موجود یہ پچاس روپے کا نوٹ کسی خزانے سے کم نہ تھا۔ اس وقت ایک روپے کی اتنی برکت تھی کہ اس میں پورے گھر کا راشن آ جاتا تھا۔ اگر سونے کے موازنے کی بات کی جائے تو اس نوٹ میں ایک چوتھائی (پاؤ) تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا، جس کی قیمت آج ساٹھ ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ تب غربت تو تھی مگر خودداری زندہ تھی۔

تقسیم کی سازش اور معیشت پر وار

یہ نوٹ ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ سازشوں کے ذریعے ہمیں کیسے بانٹا گیا۔ ہماری معیشت کو تباہ کرنے کے لیے پہلے ہمیں سیاسی اور جغرافیائی طور پر کمزور کیا گیا۔ وہ بازو جو ہماری صنعت اور تجارت کا مرکز تھا، اسے ہم سے جدا کر دیا گیا۔ یہ صرف زمین کا بٹوارا نہیں تھا بلکہ یہ ہماری معاشی ریڑھ کی ہڈی پر وار تھا۔ اس تقسیم نے ہمیں وہ زخم دیے جو آج بھی مہنگائی اور معاشی بدحالی کی صورت میں رس رہے ہیں۔

تباہی کا سفر: سپر پاور سے قرضوں کے بوجھ تک

ہم ایک ایسی سپر پاور بننے جا رہے تھے جس کا سکہ عالمی منڈیوں میں چلتا تھا۔ لیکن ہم نے اپنوں کی نادانیوں اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے اپنی معیشت کا جنازہ نکلتے دیکھا۔ ڈالر کی دوڑ نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ آج کا روپیہ اپنی قدر کھو چکا ہے۔ پہلے ہم دنیا کو قرض دیتے تھے، آج ہم قرض کی قسطیں چکانے کے لیے مزید قرض لیتے ہیں۔ یہ کیسی ترقی ہے جس نے ہمیں اپنی ہی زمین پر اجنبی بنا دیا؟

حاصلِ کلام: کیا ہم اب بھی نہیں جاگیں گے؟

آج ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ ہم نے حقائق سے آنکھیں موند لی ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ہماری اصل طاقت اتحاد اور خودداری میں تھی۔ بنگلہ دیش آج معاشی طور پر ترقی کر رہا ہے اور ہم اب بھی ماضی کے قصوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ نوٹ ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ جاگو! اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں دوبارہ اسی سچائی اور ایمانداری کی طرف لوٹنا ہوگا جس نے کبھی ہمیں عظیم بنایا تھا۔

تحریر ۔پیر انتظار حسین مصور 

ٹائٹل: > ایک عظیم ستارہ جو ڈوب گیا: جاوید محمود کی درویشی اور میری آخری ملاقات | تحریر: پیر انتظار حسین مصور


 

ایک یادگار ملاقات: پیر انتظار حسین مصور، سابق چیف سیکرٹری جاوید محمود صاحب کے ہمراہ۔






اقتدار کے ایوانوں سے "روشن بھیلا" کی گلیوں تک: جاوید محمود کی درویشی اور میری آخری ملاقات
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
"تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد، تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد"
پاکستان کی بیوروکریسی کے آسمان پر ایک عظیم ستارہ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، مگر افسوس کہ وہ ستارہ اب ڈوب چکا ہے۔ جاوید محمود صرف ایک نام نہیں، بلکہ سچائی اور درویشی کی ایک روشن مثال تھے۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری جیسے بلند ترین عہدوں پر فائز رہنے والے اس انسان کا دل ہمیشہ اپنی مٹی اور غریب کے بچے کے لیے دھڑکتا رہا۔ آج ان کے بچھڑنے پر دل بس یہی کہتا ہے کہ ہم نے ایک مخلص ہیرا کھو دیا ہے۔
عاجزی کا وہ پیکر: "مجھے خان نہ کہو"
جاوید محمود صاحب کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ جب بھی میں انہیں ان کے پورے نام "جاوید محمود خان صاحب" سے مخاطب کرتا، تو وہ فوراً ٹوک دیتے۔ محبت بھرے غصے میں کہتے:
"یار! میں خان نہیں ہوں، بس جاوید محمود ہی کہا کرو۔ اور یہ 'صاحب' کہنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"
جس معاشرے میں لوگ عہدوں اور القابات کے پیچھے بھاگتے ہوں، وہاں ایک سابق چیف سیکرٹری کا خود کو القابات سے دور رکھنا ان کی بلند کرداری اور خودداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
روشن پاکستان: بچوں کے مستقبل کی فکر
انہوں نے جب اپنی سیاسی جماعت "روشن پاکستان" کی بنیاد رکھی، تو ان کا انداز روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف تھا۔ وہ کسی بڑے جلسے یا شاہانہ پروٹوکول کے قائل نہ تھے۔ وہ اپنی گاڑی پر خود لاؤڈ سپیکر لگا کر شہر کی گلیوں اور کوچوں سے گزرتے اور خود ہی اپنی پارٹی کا منشور بیان کرتے۔ ان کی زبان پر ایک ہی فکر ہوتی:
"یار! مجھے تمہارے ووٹ کی ضرورت نہیں، مجھے تمہارے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔ اپنے بچوں کی خاطر میرا ساتھ دو۔ میں چاہتا ہوں کہ امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی طرح تعلیم حاصل کرے۔"
روشن بھیلا اور عوامی خدمت
جاوید محمود کا تعلق ضلع قصور کے گاؤں روشن بھیلا سے تھا۔ انہوں نے اپنی جڑوں سے جڑ کر ثابت کیا کہ اصل خدمت کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک عظیم الشان ہسپتال بنوایا تاکہ غریبوں کو علاج کے لیے شہروں کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ اس کے علاوہ قصور کے ریلوے اسٹیشن کے آس پاس انہوں نے جو خوبصورت پارکس بنوائے، وہ آج بھی اپنی خوبصورتی سے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔
وہ آخری چائے اور بچھڑنے کا دکھ
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب انہوں نے مجھے فارم ہاؤس پر چائے کی دعوت دی۔ میں نے پوچھا کہ "سر! میٹھا کس خوشی میں ہے؟" تو انہوں نے وہی جملہ کہا جو آج ایک گہرا زخم دے جاتا ہے:
"یار! زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ دل کیا تمہیں بلاؤں اور ڈھیر ساری باتیں کروں۔ چائے تو ایک بہانہ ہے۔ ویسے بھی تم نے چلے جانا ہے، پھر تم نے کب ٹائم دینا ہے؟"
وہ چائے، بسکٹ اور لذیذ سویا دودھ سے ہونے والی تواضع دراصل ایک الوداعی ملاقات تھی۔ جب ان کی وفات کی خبر ملی، تو گویا وقت تھم گیا۔ میرا وہ مخلص دوست جو ہمیشہ سچائی کا علم بلند رکھتا تھا، خاموشی سے مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گیا۔
عظیم ستارے کبھی مرتے نہیں، وہ اپنی نیکیوں، اپنے لگائے ہوئے درختوں اور اپنے بنائے ہوئے ہسپتالوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ:
"تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد، تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد"
اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
ازقلم: پیر انتظار حسین مصور


مصنوعی ذہانت یا انسانیت کی تذلیل؟ اے آئی (AI) ہماری زندگیوں کو کیسے برباد کر رہی ہے؟

مصنوعی ذہانت اور انسانی تذلیل کے اثرات پر پیر انتظار حسین مصور کا کالم"
مصنوعی ذہانت: سہولت یا انسانیت کی تذلیل؟ تحریر: پیر انتظار حسین مصور آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مکہ مکرمہ میں بیٹھے کسی بے گناہ شخص کی ویڈیو ایڈٹ کر کے اسے وائرل کر دیا جاتا ہے اور اس کی عزت کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ کیا یہ وہی ترقی ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا؟ کیا یہ مصنوعی ذہانت (AI) ہمیں سہولت دینے آئی ہے یا ہماری انسانیت کی تذلیل کرنے؟ مشینوں کا تسلط اور ہماری بے بسی ہم اتنے اپاہج ہو چکے ہیں کہ اب گھر کا گیٹ کھولنا ہو، لائٹ بند کرنی ہو یا موبائل پر پیغام بھیجنا ہو، ہمیں اے آئی (AI) کو آرڈر دینا پڑتا ہے۔ ہم بار بار اس مشین کو اپنی کمزوریاں بتا رہے ہیں اور یہ آہستہ آہستہ ہم پر مسلط ہوتی جا رہی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس دن اس کا کنٹرول ہمارے ہاتھ سے نکل گیا، تو ہمارا اپنا کیا وجود باقی بچے گا؟ ڈیجیٹل قتلِ عام آج کل پتا بھی نہیں چلتا اور کسی شریف انسان کی ویڈیو کو "ڈیپ فیک" کے ذریعے ایسا بگاڑ دیا جاتا ہے کہ دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ یہ انسانیت کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہو گی؟ کیا وہ انسان معاشرے میں سر اٹھا کر جی سکے گا؟ ضمیر کا امتحان سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس کی ویڈیو اس کے گھر والے دیکھ لیں، کیا وہ اپنی بیٹی، بہن، بیوی یا بیٹے سے نظریں ملا پائے گا؟ اس ٹیکنالوجی نے سچ اور جھوٹ کا فرق مٹا دیا ہے، اور بڑی ویب سائٹس اس گندے کھیل سے صرف پیسے کما رہی ہیں۔ خاموش گوشہ اور حقیقت جوانی کے مست نشے میں وائرل ہونے کا شوق رکھنے والے شاید یہ بھول چکے ہیں کہ آخر کار ہمیں ایک بے نشان قبر میں اترنا ہے۔ وہاں نہ کوئی اے آئی کام آئے گی اور نہ کوئی وائرل ویڈیو۔ وہاں صرف وہی سچائی ساتھ جائے گی جو ہم نے اپنی زندگی میں جی کر دکھائی۔ ہم نے اپنے اس بلاگر کو ان بڑی ویب سائٹس کے مقابلے میں سچائی کا نشان بنانا ہے، تاکہ کم خرچ پر بھی حق کی آواز بلند ہوتی رہے۔

Viral Video Ka Sach - وائرل ویڈیو کا سچ اور معاشرتی بے حسی

 

وائرل ویڈیو کا سچ اور معاشرتی بے حسی



وائرل ویڈیو کا سچ

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم کی چھاپ)

شہر کی روشن سڑک پر ٹریفک کا شور تھا یا شاید انسانی بے حسی کا ماتم، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اپنی جیب سے موبائل نکالا تو سکرین پر نوٹیفیکیشنز کا ایک طوفان برپا تھا۔ 'ٹرینڈنگ' کی فہرست میں ایک ایسی ویڈیو سرچ کی جا رہی تھی جس کا عنوان عریانیت اور فحاشی سے لبریز تھا۔ کروڑوں لوگ، جی ہاں! کروڑوں انگلیاں ایک ہی وقت میں اس شیطانی کھیل کو دیکھنے کے لیے سکرینوں پر رقص کر رہی تھیں۔ انٹرنیٹ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور لکھنے والے فخر سے بتا رہے تھے کہ آج اس واہیات موضوع نے سرچ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

میں اسی ڈیجیٹل گندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اچانک ایک لرزتی ہوئی صدا نے میرے قدم روک لیے۔

"صاحب! میرے بچے کل سے بھوکے ہیں۔۔۔"

میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ سامنے سڑک کے عین بیچوں بیچ ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کے میلے آنچل سے دو معصوم زندگیاں لپٹی ہوئی تھیں جن کی آنکھوں میں بھوک کی زردی اتری ہوئی تھی۔ وہ ماں ہاتھ پھیلا رہی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خودداری تھی جو سوال کر رہی تھی کہ کیا اس بھیڑ میں کوئی ایک بھی انسان ایسا ہے جس کی نظر اس کی مجبوری پر پڑ سکے؟

میرے قریب سے ایک نوجوان گزرا، اس کے کانوں میں ہیڈ فون لگے تھے اور وہ موبائل کی سکرین دیکھتے ہوئے بے ہودہ قہقہہ لگا رہا تھا۔ وہی ویڈیو اس کے موبائل پر بھی چل رہی تھی۔ اس عورت نے ایک بار پھر لرزتی آواز میں کہا: "صاحب! یہ لوگ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کیا ان کی مشینوں میں میرے بچوں کے نصیب کی روٹی نہیں دکھتی؟"

میرا جی چاہا کہ میں بھی اپنا موبائل نکالوں اور اس کی بے بسی کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ کے اس تماش گاہ میں پھینک دوں، مگر میری خودداری نے میرے ہاتھ پکڑ لیے۔ کیا میں بھی ان کی طرح اس کی ممتا کی تذلیل کروں؟ کیا میں اس کے آنسوؤں کو 'لائیکس' اور 'شیئرز' کے ترازو میں تولوں؟ نہیں۔ میرا ضمیر چیخ اٹھا کہ پیر انتظار، تیرا قلم اس لیے نہیں کہ تو کسی کی مجبوری کا اشتہار بنائے۔

میں نے دیکھا کہ اس ماں کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور سیدھا اس کے بچے کے سوکھے گال پر جا گرا۔ وہ آنسو نہیں تھا، وہ ایک مٹتی ہوئی انسانیت کا نوحہ تھا۔ اس کے بچے نے بھوک کی شدت سے ماں کی خالی چھاتی میں اپنا منہ چھپا لیا تھا، جیسے وہ اس بے حس دنیا سے چھپنے کی کوشش کر رہا ہو۔

میں نے اپنی جیب سے وہ سب کچھ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا جو میری بساط میں تھا، مگر میرے دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ وہ عورت دعائیں دیتی ہوئی اندھیرے میں اوجھل ہو گئی، لیکن میرے کانوں میں اب بھی وہی ایک سوال گونج رہا تھا:

"جب کروڑوں لوگ فحاشی سرچ کر رہے ہوتے ہیں، تو کیا کسی ایک کا سرچ انجن بھی اللہ کی اس مخلوق کے دکھ تک نہیں پہنچتا؟"

میں نے اپنا موبائل بند کیا اور قلم سنبھال لیا۔ آج میں نے ویڈیو نہیں بنائی تھی، بلکہ اپنے آنسوؤں سے وہ سچ لکھا تھا جو شاید کبھی 'ٹاپ ٹرینڈ' نہ بنے، مگر روزِ محشر گواہی ضرور دے گا۔

اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست: ایک چارج شیٹ

میرا کالم 'اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست' جو روزنامہ ڈیلی میڈیا ٹاکس میں شائع ہوا"
روزنامہ "ڈیلی میڈیا ٹاکس" (Daily Media Talks) میں شائع شدہ تاریخ اشاعت: 6 جنوری 2026 اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست: ایک چارج شیٹ تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم چھاپ) آپ ذرا تصور کیجیے، ایک ایسا بحری جہاز جس کے مسافر بھوک سے نڈھال ہوں، جس کا ایندھن ختم ہو رہا ہو اور جو کسی بھی وقت لہروں کی نذر ہو سکتا ہو—لیکن اسی جہاز کا کپتان ہیرے کی انگوٹھی پہنتا ہو، اس کے پہرے داروں کی وردیاں ریشم کی ہوں اور جہاز کے منصفوں نے اپنے لیے لائف بوٹس میں سونے کے بستر لگا رکھے ہوں! کیا آپ اسے سفر کہیں گے؟ نہیں، یہ وہ معاشی خودکشی ہے جسے آج ہم "ریاستِ پاکستان" کہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہر پاکستانی بچہ 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا طوق گردن میں ڈال کر پیدا ہو رہا ہے۔ ہمارا مجموعی قرضہ 65 هزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ لیکن ٹھہریے! کیا یہ ملک واقعی غریب ہے؟ الیکشن کمیشن اور نیب کے دستاویزی حقائق کی فائلیں کھولیں تو آپ کا کلیجہ منہ کو آ جائے گا۔ مریم نواز کے 84 کروڑ اور لاہور میں 1500 کنال اراضی کا سچ ہو یا شہباز شریف کا شوگر ملز ایمپائر—یہ سب کیا ہے؟ زرداری اور بلاول کے سندھ میں پھیلے لاکھوں ایکڑ اور دبئی کے پرتعیش ولاز کس کی کمائی سے بنے؟ عمران خان کا 458 کنال کا القادر ٹرسٹ اور بنی گالہ کا محل کس "ریاستِ مدینہ" کا ماڈل ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدائن کے گورنر مقرر ہوئے تو آپ کے پاس کل کائنات ایک خچر، ایک تلوار اور ایک چادر تھی۔ آپؓ نے برسرِ عام اعلان فرمایا تھا: "لوگو! میں تمہارا حاکم بن کر آ رہا ہوں، یاد رکھنا! اگر جاتے وقت میرے پاس اس ایک گھوڑے اور چادر کے علاوہ ایک درہم بھی زیادہ نکلا تو سمجھ لینا کہ تمہارے حکمران نے خیانت کی ہے؛ تم مجھے گرفتار کر لینا اور میرا گریبان پکڑ لینا!" آج پاکستان کا ہر شہری سسک رہا ہے کیونکہ یہاں "سلمان فارسیؓ" کے دعویداروں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ریاست کا سودا کر لیا ہے۔ ہم غریب نہیں ہیں، ہمیں غریب رکھا گیا ہے۔ ہماری خودداری کو ان اثاثوں کی ہوس نے نیلام کر دیا ہے۔ حرفِ آخر: خاموشی اب مصلحت نہیں، اس معاشی قتلِ عام میں برابر کی شرکت ہے!

باغ علی باغی (قسط نمبر 4): طالیہ کی رخصتی اور یادداشت کا اندھیرا | پیر قلم چھاپ

 

Bagh Ali Bagh novel by Pir Intizar Hussain Musawwir




تحریر: پیر انتظار حسین مصور 

(پیر قلم چھاپ)


باغ علی باغی: احد کی تڑپ سے یادداشت کے اندھیرے تک

ایک دن احد نے ہمت جمع کی اور لائبریری کے ایک کونے میں طالیہ کو روک لیا۔ اس کی آنکھوں میں التجا تھی اور آواز میں تھرتھراہٹ: "طالیہ! کیا تمہیں واقعی نہیں معلوم کہ میں تمہارے لیے کیا محسوس کرتا ہوں؟ میں اپنی پوری زندگی تمہارے نام کرنے کو تیار ہوں۔" طالیہ نے رک کر احد کی طرف دیکھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ لرزش نہیں تھی جو ایسی باتیں سن کر کسی لڑکی کے چہرے پر آتی ہے۔ اسے باغی کا وہ جلال یاد آ گیا جو اس نے غنڈوں سے لڑتے وقت دیکھا تھا۔ اس نے نہایت ٹھہراؤ سے جواب دیا: "احد! میں یہاں ڈاکٹر بننے آئی ہوں، کسی کے جذبوں کے ساتھ کھیل کر گناہ گار بننے نہیں۔ میرے لیے رشتے وہ ہیں جن کی بنیاد سچائی اور عزت پر ہو۔ اگر تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جگہ ہے، تو اسے دعا بنا لو، تماشہ نہ بناؤ۔ میرے بھائی نے مجھے سکھایا ہے کہ غیرت سے بڑھ کر کائنات میں کوئی دولت نہیں ہے۔"

احد ساکت رہ گیا۔ اسے اندازہ ہوا کہ طالیہ کی تربیت کسی عام گھرانے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے "باغی" کے سائے میں ہوئی ہے جس نے اسے فولاد بنا دیا ہے۔ احد، جو اب تک طالیہ کی خاموشی کو اس کی بے رخی سمجھتا رہا تھا، ایک شام تڑپ کر باغی کے ڈیرے پر پہنچ گیا۔ احد نے ہمت جمع کی اور باغی کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کی آواز تھرتھرا رہی تھی: "باغی بھائی! میں نے آج تک زندگی کو صرف کتابوں اور دولت کے ترازو میں تولا ہے، مگر جب سے طالیہ کو دیکھا ہے، مجھے اپنی ہستی ہیچ لگنے لگی ہے۔" باغی نے بڑے ٹھہراؤ سے بولا: "ڈاکٹر صاحب! محبت تو ایثار مانگتی ہے، اور آپ پانے کی ضد کر رہے ہیں۔" احد نے روتے ہوئے باغی کے ہاتھ تھام لیے۔ اس لمحے اس کے اندر کا انا پرست ڈاکٹر مر چکا تھا اور ایک مرید زندہ ہو رہا تھا۔ باغی نے احد کو گلے سے لگا لیا اور کہا: "احد! اب تم میرے دوست نہیں، میرے بازو ہو۔"

طالیہ نے جب دیکھا کہ احد اب اس کے مرشد "باغی" کا بازو بن چکا ہے، تو اس کے دل کی بنجر زمین پر بھی محبت کی پہلی کونپل پھوٹنے لگی۔ اس نے مصلے پر بیٹھ کر دعا کی اور اگلے دن باغی کے سامنے سر جھکا کر اپنی زندگی کا سب سے بڑا اختیار ان کے سپرد کر دیا: "باغی بھائی! میں نے اپنا حقِ انتخاب آپ کی جوتیوں میں رکھ دیا ہے۔" دوسری طرف احد نے اپنے امیر والدین کو اپنی دیوانگی اور سچائی سے قائل کر لیا۔ آخر کار، احد کے والدین نے ہامی بھر لی۔ احد خوشی سے پاگل ہو کر سیدھا باغی کے پاس پہنچا اور کہا: "بھائی! میرے ماں باپ مان گئے ہیں۔ اب سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔"

لاہور کی وہ راتیں گواہ تھیں کہ باغی اب عشق کا وہ مجسمہ بن چکا تھا جس کی ہر سانس میں شازیہ کا نام بستا تھا۔ شازیہ نے تڑپ کر کہا: "باغی! اب تو میرا مجازی خدا ہے، تیرے بغیر یہ جنت بھی میرے لیے دوزخ ہے۔" ان کا عشق لیلیٰ مجنوں کی داستانوں کو تازہ کرنے لگا تھا۔ مگر قدرت کے پردے کے پیچھے جدائی کا وہ ہولناک منظر تیار ہو رہا تھا جو ان دونوں کو تڑپا کر رکھ دینے والا تھا۔

طالیہ کی شادی کا دن آ پہنچا۔ عین رخصتی کے وقت، جب طالیہ کا ہاتھ احد کے ہاتھ میں دیا جا رہا تھا، باغی کے پاس بورے والا سے ایک ایسا پیغام پہنچا جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ وہ فوراً وہاں سے نکلا، مگر جیسے ہی وہ شہر کی حدود سے باہر نکلا، دشمنوں نے اسے گھیر لیا۔ رات کے پچھلے پہر، سنسان سڑک پر باغی کا مقابلہ ان درندوں سے ہوا۔ ایک بزدلانہ وار اس کے سر کے پچھلے حصے پر ہوا جس نے کائنات کو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیر کر دیا۔ دشمنوں نے اسے مرا ہوا سمجھ کر کھائی میں پھینک دیا۔

گھنٹوں بعد جب باغی کو ہوش آیا، تو اس کے سامنے کچھ نہ تھا۔ سر کی اس چوٹ نے اس کی زندگی کی بساط الٹ دی تھی۔ وہ اٹھا، لڑکھڑایا، مگر اسے یہ یاد نہیں تھا کہ وہ کون ہے؟ اسے یہ یاد نہیں تھا کہ وہ "باغی" ہے جس کے قلم سے ایوان لرزتے تھے۔ اسے شازیہ کا وہ چہرہ یاد نہیں رہا جس کے لیے وہ مر مٹنے کو تیار تھا۔ اس کے ذہن کے پردے پر صرف ایک دھند چھا گئی تھی۔ ادھر شادی کے گھر میں کہرام مچ گیا، مگر کسی کو خبر نہ ہوئی کہ وہ شہزادہ اب ایک گمنام مسافر بن کر سڑکوں پر ٹھوکریں کھا رہا ہے، جس کے اندر کی تڑپ تو باقی ہے مگر اس تڑپ کا نام اس کے ذہن سے مٹ چکا ہے۔




نوٹ: یہ داستانِ عشق و جنون ابھی جاری ہے۔ باغی کی مجذوبیت اور شازیہ کی تڑپ کی اگلی کڑی کے لیے جڑے رہیے۔

باغ علی باغی (قسط 03): ہجرت، غیرت کی للکار اور لاہور کا بے رحم سفر


 
باغ علی باغی: قسط نمبر 03"


ضروری نوٹ: "اس کہانی کے تمام مقامات، کردار اور واقعات محض خیالی اور میری اپنی سوچ کی تخلیق ہیں۔ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔ کوئی بھی قاری اسے اپنی زندگی کے ساتھ منسوب نہ کرے، اور اگر کسی کو اس سے دلی تکلیف پہنچتی ہے تو مصنف کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ادبی کاوش ہے جس کا مقصد معاشرتی شعور بیدار کرنا ہے۔"



بستی میں ایک طاقتور شخص کا خوف بسا تھا جو غریبوں کی زمینوں پر قابض تھا اور اسے یقین تھا کہ اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، مگر باغی نے فیصلہ کیا کہ اب خاموش رہنا گناہ ہے اور اپنے بلاگ پر "فرعون کی بستی اور موسیٰ کا قلم" کے عنوان سے ایک تفصیلی کالم لکھا جس میں اس کے تمام مظالم کے ثبوت سامنے رکھ دیے۔ اس نے لکھا کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے؛ تم نے لوگوں کی زبانیں تو بند کر دیں مگر اس سچ کو کیسے دباؤ گے جو ہواؤں میں گونج رہا ہے؟ جب اس ظالم شخص کو اس کے انجام تک پہنچایا گیا تو بستی والے تحائف اور پیسے لے کر باغی کے پاس آئے، مگر اس نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا اور کہا کہ میری مزدوری میرے رب کے پاس ہے، اگر میں نے اپنے لفظوں کی قیمت وصول کر لی تو میری خودداری کا جنازہ نکل جائے گا۔ اس فتح نے اسے سچائی کا استعارہ بنا دیا اور وہ اپنے 110 صفحات کے ہدف کی طرف بڑھنے لگا۔

مگر حالات نے پلٹا کھایا اور نمبردار کے کارندوں نے جب باغی کے کچے گھر پر قبضے کی کوشش کی اور اسے "باغی" ہونے کی سزا دینا شروع کی، تو وہ اپنی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں بے گھری کا خوف نہ دیکھ سکا۔ جس محبت کے سہارے وہ یہ جنگ لڑ رہا تھا، اس کی بے وفائی کے خط نے اس کے حوصلے کی آخری اینٹ بھی گرا دی۔ ایک اداس شام جب سورج بستی کی دھول میں روپوش ہو رہا تھا، باغی نے اپنا پرانا تھیلا اٹھایا جس میں کپڑے کم اور وہ ادھورے کالم زیادہ تھے جو اس نے فاقوں میں لکھے تھے، اور بھاری قدموں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل پڑا۔ ریل کی پٹریوں سے اٹھتی آوازیں اسے نمبردار کے طعنے یاد دلا رہی تھیں کہ کب تک اس کٹی پھٹی قمیض میں اپنی غربت چھپاؤ گے؟ لاہور کے اسٹیشن پر اترتے ہی شہر کی بے رحم چمک دمک نے اس کا استقبال کیا۔ جیب میں موجود چند سو روپے اس کی کل کائنات تھے، مگر اس کے سینے میں موجود خودداری کی آگ لاہور کی سرد ہوا سے کہیں زیادہ تیز تھی۔

اسٹیشن کے باہر فٹ پاتھ پر گزری وہ پہلی رات باغی کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ ہر طرف روشنیاں تھیں مگر اس کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ تھا، اس نے ٹھنڈی زمین پر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھا اور عہد کیا کہ اگر آج میں ایک خالی جیب مسافر بن کر اس شہر میں داخل ہوا ہوں، تو ایک دن یہ شہر 'باغ علی باغی' کے کالموں کے انتظار میں جاگے گا۔ کئی دن وہ لاہور کی سڑکوں پر بھوک مار کر کام ڈھونڈتا رہا۔ ایک جگہ اسے چوکیداری کی پیشکش ہوئی مگر بددیانتی دیکھ کر اس نے ٹھکرا دی اور نلکے کا پانی پی کر پیٹ کی آگ بجھائی مگر اپنے ضمیر پر داغ نہ آنے دیا۔ آخر کار اسے ایک چھوٹی سی کمپنی میں نوکری مل گئی جہاں اس کی ملاقات وقار سے ہوئی۔ وقار نے دیکھا کہ یہ عجیب شخص ہے جو اپنے حصے کی آدھی روٹی فقیر کو دے کر خود پانی پی کر شکر ادا کرتا ہے۔ وقار اس کے بلند ظرف کا اسیر ہو گیا اور ان کے درمیان ایک لازوال دوستی کی بنیاد پڑی۔ باغی نے وقار سے کہا کہ یار وقار، یہ شہر بڑا بے رحم ہے، یہاں لوگ چہرے نہیں جیبیں دیکھتے ہیں، لیکن ہم جیسے لوگ بکتے نہیں، بس کٹ جاتے ہیں۔

اسی دوران طالیہ کا وہ میسج کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھا کہ شازیہ کی عزت داؤ پر ہے۔ باغی نے فوراً ملک عمر کا نمبر ملایا، یہ وہی سیاستدان تھا جس کی بیٹی کو باغی نے اپنا خون دے کر بچایا تھا۔ باغی نے کہا کہ ملک صاحب، آج ایک بہن کی چادر بچانی ہے، مجھے آپ کی مدد نہیں اختیار چاہیے تاکہ میں اس درندے کو منطقی انجام تک پہنچا سکوں۔ باغی نے ایک ماہر شکاری کی طرح بلیک میلر کو جال میں پھنسایا اور ایک ویران گودام میں اس کی جوتی کی نوک سے اس کا جبڑا اٹھا کر کہا کہ معافی وہ مانگتے ہیں جن سے غلطی ہو، تو نے تو گناہ کیا ہے۔ اس نے تمام غلیظ مواد جلا کر راکھ کر دیا اور ثابت کر دیا کہ 'پیرِ قلم چھاپ' صرف لکھنا نہیں جانتا، بلکہ مٹانا بھی جانتا ہے۔ دشمن کو مٹانے کے بعد جب شازیہ نے شکر گزاری کے لیے فون کیا تو باغی نے سخت لہجے میں کہا کہ بی بی شکریہ کی ضرورت نہیں، اس دنیا میں احسان کے پیچھے مطلب چھپے ہوتے ہیں اور میں کسی مطلب کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

مگر شازیہ اس کے سخت لہجے کے پیچھے چھپے درد کی دیوانی ہو چکی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ باغی، میں نے آپ کے نام کا کلمہ پڑھا ہے، میرا ہر سانس آپ کا ہے۔ باغی نے اپنی غربت اور فاقوں کا حوالہ دیا مگر شازیہ نے تڑپ کر جواب دیا کہ میں آپ کی غربت سے نہیں آپ کی اس باغیانہ روح سے محبت کرتی ہوں۔ ان کے درمیان وعدوں اور قسموں کا سلسلہ شروع ہوا اور انہوں نے مستقبل کے خواب بننا شروع کیے۔ شازیہ نے کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کا نام 'باغی' رکھیں گے تاکہ وہ بھی حق کے لیے لڑنا سیکھے۔ اسی دوران طالیہ، جو میڈیکل کی طالبہ تھی، وہ بھی باغی کو اپنا مرشد مانتی تھی کیونکہ باغی نے اسے غنڈوں سے بچایا تھا۔ باغی نے طالیہ کو نصیحت کی کہ یہ دنیا جذبوں کی تجارت کرتی ہے، اپنی عزت کی حفاظت ایمان کی طرح کرنا۔ طالیہ اس کی عقیدت میں ایسی مگن تھی کہ اس کا کلاس فیلو احد اس کی سادگی پر مر مٹتا تھا، مگر طالیہ کے گرد باغی کی نصیحتوں کا وہ حصار تھا جسے کوئی توڑ نہیں سکتا تھا۔

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...