پیر قلم کی چھاپ

پیر انتظار حسین مصور — آفیشل بلاگ و کالمز

Historic Marble Inscription of Hazrat Baba Haji Sher Dewan Shaheed



Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed Dewan Chawli Mashaikh Shrine Plaque






 Distortion of History and Genealogical Fabrications: A Research Rebuttal to The News International Report

By: Peer Intizar Hussain Musawir

Journalism and historical analysis are not merely exercises in prose; they are sacred responsibilities built upon truth, impartiality, and verified documentation. When media platforms publish surface-level information, genealogical fabrications, and folklore in place of documented history, it becomes the intellectual duty of researchers to uphold the truth.

A report published in The News International titled "Urs of Baba Dewan continues" presents claims regarding the life, martyrdom, and lineage of the saint Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed (R.A.)—popularly known as Dewan Chawli Mashaikh—that disregard primary historical sources and legal records. For public awareness and historical accuracy, the following facts are presented.

1. The Status of a Great Tabi'i and His Historical Era

Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed (R.A.) is among the earliest Islamic scholars and saints of the Indian subcontinent, holding the honored rank of a Tabi'i. Authenticated historical traditions and family archives place his lifespan between 30 AH and 131 AH. He lived during the era of the Sahaba (R.A.), studied in Madinah Munawwarah, and brought the spiritual teachings of Islam to this region. Conflating his ancient era with much later historical periods represents a fundamental flaw in research.

2. Hashemite and Abbasid Lineage

Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed (R.A.) traces his direct ancestry to Hazrat Abbas ibn Abd al-Muttalib (R.A.), the uncle of Prophet Muhammad (PBUH). His Hashemite-Abbasid lineage is recorded in ancient manuscripts. Attempting to modify or interweave his lineage based on unverified local tales holds no weight against documented genealogical records.

3. Historical Facts of Martyrdom vs. Folklore

The claims regarding the date and circumstances of his martyrdom rely on fabricated folklore. Primary historical sources confirm that the authentic date of his martyrdom is 27th of Ramadan. Later local legends cannot replace historical veracity.

4. The 1034 AH Inscription, Persian Couplets, and the Term "Makhdoom"

The antiquity of the sanctuary at Dewan Sahib (Burewala) and the hereditary rights of the Owaisiah Hashemi family are backed by undeniable historical and judicial evidence. The primary proof is the Persian inscription dated 1034 AH (Jahangiri Era) installed at the shrine:

"Chun shud az Hazrat-e-Makhdoom Chawli Mashaikh bara-e-buniad nihada..." "Sanah Alif See Chahar Hijrat Guzashtah Bood..."

Who is the "Makhdoom"? In classical mystical and administrative terminology, "Makhdoom" (the revered master) refers directly to Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Dewan (Dewan Chawli Mashaikh) himself, whose sanctuary served as a spiritual fortress. The hereditary custodianship (Sajjada Nashini) of this sanctuary has legally and historically remained with the Owaisiah Hashemi family, supported by:

  • Tawareekh-e-Multan (1884): Munshi Hukam Chand's historical record documenting the sanctuary's ancient origins.
  • Judicial and Revenue Decrees (1890 & 1949): Formal rulings by British and Pakistani courts confirming the hereditary rights of the Owaisiah Hashemi custodians.

5. A Sanctuary for Great Sufi Saints

For centuries, this sanctuary has been a major spiritual center. Figures such as Hazrat Baba Fariduddin Ganj Shakar (R.A.) and Hazrat Lal Shahbaz Qalandar (R.A.) visited and observed spiritual retreats (I'tikaf) at this shrine, proving its early standing in Islamic history.

Conclusion

Researching historical and spiritual personalities requires reliance on primary inscriptions, judicial archives, and verified family lineages rather than unverified narratives. Media outlets must uphold historical integrity to ensure accurate information reaches global readers.

حق اور سچ کی فتح: جب تحقیق نے تاریخ کا چہرہ روشن کر دیا | تحریر: رانا شہباز

حق اور سچ کی فتح: جب تحقیق نے تاریخ کا چہرہ روشن کر دیا

تحریر: رانا شہباز

تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کی مقروض رہتی ہے جو بغیر کسی ذاتی مفاد اور مادی وسائل کے، صرف اپنے قلم کی حرمت اور سچائی کی خاطر علمی جنگ لڑتے ہیں۔ سچ کے پاس نہ تو کسی بڑے میڈیا ہاؤس کی پشت پناہی ہوتی ہے اور نہ ہی سرمائے کی طاقت، لیکن اس کے پاس ایک ایسی علمی شمع ہوتی ہے جو اندھیروں کی گرد کو چھانٹ کر حقیقت کو عیاں کر دیتی ہے۔

برصغیر کی قدیم ترین صوفیانہ تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور مقدس باب، یعنی حضرت بابا حاجی شیر دیوانؒ کے مزارِ اقدس کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی علمی المیہ پیش آیا تھا۔ سال 2006ء میں ایک بااثر انگریزی اخبار میں بغیر کسی تحقیق و تصدیق کے ایک من گھڑت اور افسانوی کہانی شائع کی گئی۔ وقت کے ساتھ اس غیر تحقیقی رپورٹ کو بنیاد بنا کر دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا "ویکیپیڈیا" نے بھی اس تاریخی مغالطے کو اپنے صفحے پر جگہ دے دی۔ اس طرح ایک عظیم تابعی اور صوفی باصفا کی تاریخ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

لیکن تاریخ کے اس موڑ پر ہمارے فاضل دوست اور معروف محقق و کالم نگار پیر انتظار حسین مصور نے اپنے قلم سے سچائی کا پرچم بلند کیا۔ انہوں نے کسی مادی مفاد اور نام ونمود سے ہٹ کر، خالص علمی و تاریخی بنیادوں پر اس مغالطے کا رد کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

ویکیپیڈیا پر تاریخی سچائی کا یہ اعتراف کیسے ممکن ہوا؟ اس کے چند اہم علمی نکات قابلِ ذکر ہیں:

  1. لوک کہانیوں کا علمی و عقلی رد:
    پیر انتظار حسین مصور نے اپنی مدلل تحقیق سے ثابت کیا کہ 131 ہجری (اموی دور) کے مزارِ اقدس اور بعد کے ادوار کی راجہ مہیپال والی فرضی کہانی کے مابین شدید تاریخی تضاد ہے۔ یہ ایک ایسی فاش غلطی تھی جسے کوئی بھی سنجیدہ مورخ قبول نہیں کر سکتا تھا۔
  2. شجرہ نسب اور تاریخی کتبے کی گواہی:
    انہوں نے آستانہ عالیہ کے پاس محفوظ قدیم شجرہ نسب اور دربارِ عالیہ پر موجود 131 ہجری کے تاریخی کتبے کے ٹھوس شواہد پیش کیے۔ انہوں نے اپنے تحقیقی مقالوں، بلاگز اور صحافتی کالموں کے ذریعے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کی کہ بابا حاجی شیر دیوانؒ ایک ہاشمی تابعی تھے، جن کا نسب مبارک حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے جا ملتا ہے۔
  3. ویکیپیڈیا کا اعتراف اور ترمیم:
    جب یہ بین الاقوامی معیار کے ثبوت اور تحقیقی دلائل سامنے آئے، تو ویکیپیڈیا کے ایڈیٹرز اور عالمی محققین کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا۔ ویکیپیڈیا نے اس من گھڑت افسانوی روایت کو مرکزی تاریخ سے خارج کر کے محض ایک بعد میں گھڑی گئی لوک کہانی کے طور پر ایک طرف کر دیا، جبکہ اصل ہاشمی نسب اور تاریخی حقائق کو بنیادی متن کے طور پر شامل کیا۔
  4. عالمی سطح پر اندراج:
    آج اگر دنیا بھر سے کوئی بھی شخص انگریزی ویکیپیڈیا پر حضرت بابا حاجی شیر دیوانؒ کی تاریخ تلاش کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے ہاشمی نسب کا سچ پڑھنے کو ملتا ہے، اور نیچے بطورِ مرجع و محقق پیر انتظار حسین مصور کا نام اور ان کی تحقیق چمکتی دکھائی دیتی ہے۔

پیر انتظار حسین مصور نے ثابت کر دیا ہے کہ سچی تحقیق اور علمی دیانت داری کبھی سرمائے کی محتاج نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے ادارے عارضی سرخیاں تو خرید سکتے ہیں، لیکن تاریخ کے اوراق میں معتبر اور سچا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔

پیر انتظار حسین مصور کی یہ تاریخی خدمت نہ صرف ان کا علمی قد کاٹھ نمایاں کرتی ہے، بلکہ آنے والے مورخین اور محققین کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ ہے۔ ہم ان کی اس بے لوث علمی کاوش کو سلام پیش کرتے ہیں!

بشکریہ: روزنامہ سچ بات (اشاعت: 17 ستمبر 2026ء، جلد 3، شمارہ 348)

Naye Subay Ya Nizam Ki Bunyadi Surgery? - نئے صوبے یا نظام کی بنیادی سرجری؟

پیر انتظار حسین مصور



  • Naye Subay Ya Nizam Ki Bunyadi Surgery? - نئے صوبے یا نظام کی بنیادی سرجری؟

پیر انتظار حسین مصور

جب بھی ملک میں معاشی بحران شدید تر ہوتا ہے، عوام کا رنج و غصہ حد سے بڑھنے لگتا ہے یا حکمران طبقات اپنی ناکامیوں اور نااہلی پر پردہ ڈالنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو ایوانوں کے بند کمروں سے اچانک "نئے صوبوں" کی تشکیل، جغرافیائی تقسیم اور آئینی ریفرنڈم کے شوشے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ سیاسی افق پر ایک ایسا مصنوعی شور برپا کیا جاتا ہے گو یا نئے اضلاع یا صوبوں کی سرحدیں کھینچتے ہی عوام کے تمام دُکھ، محرومیاں اور معاشی مسائل جادو کی چھڑی سے ختم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر باریک بینی سے تاریخ اور موجودہ سیاسی ساخت کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال خود بخود ابھرتا ہے کہ کیا اصل مسئلہ جغرافیائی حدود کی وسعت کا ہے یا اس گلے سڑے انتظامی نظام کا جس نے عام شہری کو اپنے ہی ملک میں بے بس اور غلام بنا رکھا ہے؟

ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ دلفریب بیانیہ بیچا جاتا رہا ہے کہ انتظامی اکائیاں چھوٹی ہوں گی تو اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچیں گے اور مسائل لمحوں میں حل ہو جائیں گے۔ یہ منطق سننے میں تو بہت دلکش اور خواب ناک لگتی ہے، لیکن پاکستان کی تلخ اور عملی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ضلع، ڈویژن یا انتظامی ڈھانچا قائم کیا گیا، اس سے کسی دہاڑی دار مزدور کی قسمت بدلی اور نہ ہی کسی کسان کی محرومی کا مداوا ہوا۔ اس مشق کے نتیجے میں صرف افسرشاہی کی نئی فوج ظفر موج تیار ہوئی اور سیاسی اشرافیہ کے لیے نئی سیٹوں اور مراعات کا انتظام ہوا۔ نئے کمشنر، نئے ڈی سی، نئی پرتعیش گاڑیاں، اربوں روپے کے نئے سرکاری دفاتر اور وزراء کی نئی فوج کے تو بجٹ فوراً منظور ہو جاتے ہیں، لیکن اسی نئے صوبے یا ضلعے کی تحصیلوں میں قائم سرکاری ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین ملتی ہے نہ سکولوں میں بچوں کے لیے پینے کا صاف پانی میسر ہوتا ہے۔

اصل المیہ جغرافیائی سرحدوں کا چھوٹا یا بڑا ہونا نہیں، بلکہ اختیارات کا مرکزیت پر مبنی اور موروثی ہونا ہے۔ جب تک اختیارات، مالیاتی بجٹ اور فیصلے حقیقی معنوں میں لوکل گورنمنٹ، مقامی پنچائیت اور یونین کونسل کی سطح پر منتقل نہیں ہوتے، تب تک چاہے آپ چار صوبوں کے چالیس صوبے بنا دیں، عام آدمی کے حالات زندگی میں ایک انچ کا فرق بھی نہیں آئے گا۔ اگر لاہور، ملتان، کراچی یا پشاور کے ایوانوں میں بیٹھا حکمران اپنے علاقے کے کسان اور مزدور کی درد مندانہ آواز سننے کو تیار نہیں، تو نیا صوبائی دارالحکومت بننے کے بعد وہاں کے نئے چمکتے ہوئے ایوان میں بیٹھنے والا شاہی طبقہ بھی وہی پرانا جابرانہ رویہ دہرائے گا۔

ہمارے پالیسی ساز عوام کو انتظامی سرجری کے نام پر محض ایک نیا سیاسی دھوکا دیتے ہیں۔ ایک طرف کسان اپنی فصل کا مناسب دام نہ ملنے پر خون کے آنسو رو رہا ہے، مزدور کی دیہاڑی مہنگائی کے تناسب سے آدھی رہ گئی ہے، اور عام شہری قانون کی نام نہاد مساوات کے نیچے پستا جا رہا ہے؛ تو دوسری طرف انہیں نئے صوبے کے نقشے اور صوبائیت کے نام پر باہم دست و گریباں کرنے کی نفرت انگیز سیاست کی جا رہی ہے۔ یہ وہی قدیم طریقہ کار ہے جس میں اصل اور بنیاد سوالوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انہیں مصنوعی اور فروعی بحثوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔

جنوب یا شمال کے دیہی علاقوں پر نظر ڈالی جائے تو غریب انسان کا بنیادی مسئلہ صوبائی دارالحکومت کی مسافت نہیں، بلکہ تھانے کی سطح پر بکنے والا انصاف اور کچہری کا وہ فرسودہ نظام ہے جو غریب کی ہڈیاں تک نچوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اگر ضلع کی سطح پر بیٹھا بیوروکریٹ یا قاضی عام شہری کی فریاد سننے کو تیار نہیں تو سیکرٹریٹ چند سو کلومیٹر قریب لانے سے انصاف سستا یا آسان نہیں ہو جائے گا۔ جب تک بیوروکریسی کے فرعونانہ رویے اور بدعنوان نچلے انتظامی ڈھانچے کی سرجری نہیں ہوتی، عام شہری کے لیے نیا صوبہ محض نئے افسروں کی شاہانہ تنخواہوں اور مراعات کا اضافی بوجھ ثابت ہوگا۔

اس کے علاوہ نئے صوبوں کی تشکیل پر اٹھنے والے اربوں کھربوں روپے کے اخراجات کا حساب کون دے گا؟ وہ ملک جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی قسطیں چکانے کے لیے عام آدمی کے روٹی کپڑے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا رہا ہو، وہاں نئے ایوانوں، نئی اسمبلیوں، گورنر ہاؤسز اور بیوروکریٹک بلاکس کی تعمیر قومی وسائل پر ایک بڑا ڈاکہ ہے۔ یہ رقم اگر ہسپتالوں میں ادویات، زرعی اصلاحات، ٹیوب ویلوں کے لیے سستی بجلی اور کسان کو کھاد و بیج پر سبسیڈی دینے کے لیے استعمال کی جائے تو عوام کو فوری، حقیقی اور پائیدار ریلیف مل سکتا ہے۔

ہمارے نظام کی اصلاح تب تک ممکن نہیں جب تک ہم پیداواری طبقے یعنی کسان اور مزدور کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتے۔ نئے جغرافیائی نقشے بنا کر اقتدار کی بانٹ تو کی جا سکتی ہے، لیکن اس سے منڈی کے آڑھیتی کا ظلم ختم ہوگا نہ ہی اسکولوں اور ہسپتالوں کا خستہ حال ڈھانچہ بدلے گا۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامی ڈھانچے کو اوپر سے نیچے منتقل کیا جائے نہ کہ اوپر ایک اور شاہی پرت چڑھا دی جائے۔

ملک کو اس وقت سرحدوں کی نئی پیوند کاری کی نہیں، بلکہ اس ظالمانہ اور طبقاتی نظام کی بنیادی سرجری کی اشد ضرورت ہے جو غریب کا خون نچوڑ کر اشرافیہ کی مراعات کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر نیت واقعی عوام کو سکھ پہنچانے کی ہو تو نئے صوبوں کے عربوں روپے کے اخراجات اٹھانے کے بجائے موجودہ بلدیاتی نظام کو آئینی اور مالیاتی طور پر بااختیار بنایا جائے، تھانہ اور کچہری کلچر کو جدید اصلاحات کے ذریعے پاک کیا جائے، اور قومی بجٹ کا رخ سرکاری پروٹوکولز کے بجائے عام آدمی کی صحت، تعلیم اور زراعت کی طرف موڑا جائے۔

اگر ہم نے نظام کی بنیادی اصلاح کے بغیر صرف نئے جغرافیائی نقشے بناتے رہنے پر اکتفا کیا، تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کسی کینسر کے مریض کا علاج زخم پر صرف پٹی بدل کر کیا جا رہا ہو۔ سرحدیں بدلنے سے تاریخ بدلتی ہے نہ عوام کی تقدیر؛ تقدیر تب بدلتی ہے جب انصاف اور قومی وسائل پر غریب کا مساوی اور بلا شرکت غیرے حق تسلیم کیا جائے۔

الفاظ کا مقبرہ اور سچ کا قلم: تاریخ کے موڑ پر ضمیر کی گواہی

"پیر قلم کی چھاپ — حرفِ حق اور ضمیر کی گواہی"

 



الفاظ کا مقبرہ، سچ کا قلم اور ضمیر کی گواہی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

معاشرے جب زوال کی آخری حدوں کو چھونے لگتے ہیں، تو سب سے پہلے الفاظ اپنے معنی کھو دیتے ہیں۔ حرفِ صداقت کو نفع اور نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگتا ہے اور قلم کی حرمت کا سودا بازارِ مصلحت میں چند ٹکے کے مفاد کی خاطر کر دیا جاتا ہے۔ ایسے عہدِ تاریک میں، جہاں چاروں طرف خاموشی کا خوف یا جھوٹ کا شور ہو، ایک سچا لفظ لکھ دینا صرف تحریر نہیں رہتا، بلکہ تاریخ کے راستے پر رکھا گیا وہ چراغ بن جاتا ہے جس کی روشنی آنے والی نسلوں کو راہ دکھاتی ہے۔

تاريخ کبھی ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلے کیے، نہ ہی ان کے نام سنہرے حروف میں لکھے جاتے ہیں جنہوں نے وقتی شہرت یا فائدے کے لیے سچ پر پردہ ڈالا۔ تاریخ ہمیشہ ان سرکشوں، فکر پروروں اور قلم کے پاسبانوں کی شاہد رہی ہے جنہوں نے حالات کے جبر کے سامنے گردن جھکانے سے انکار کر دیا۔ ان کا ہتھیار کوئی تلوار یا نیزہ نہیں تھا، بلکہ ایک سادہ سا قلم اور کاغذ کا ٹکڑا تھا، مگر اس کاغذ پر لکھے گئے الفاظ نے زمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

"جب تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہاری تحریر پر کتنے لوگوں نے داد دی، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ جب پورا شہر خاموش تھا، تب تم نے کیا لکھا؟"

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، یہاں ہر شخص بول رہا ہے مگر بات کوئی نہیں سنتا۔ ہر طرف لفظوں کی نمائش ہے، لیکن روح غائب ہے۔ لوگوں نے لکھنا سیکھ لیا ہے، لیکن سچ کو محسوس کرنا بھول گئے ہیں۔ ایسے میں ایک بلاگر یا کاتب کی ذمہ داری محض چند خبروں کا تجزیہ کرنا یا کچھ دلفریب جملے بننا نہیں ہے، بلکہ اپنا حسابِ ضمیر پیش کرنا ہے۔

قلم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ عظیم سلطنتیں مٹ گئیں، بڑے بڑے جابر حکمران خاک میں مل گئے اور ان کے تاج و تختر تاریکی میں غائب ہو گئے، مگر صدیوں پہلے لکھی گئی چند سطور آج بھی ویسی ہی تابندہ ہیں۔ ان کا ایک ایک حرف وقت کی گرد سے محفوظ ہے، کیونکہ ان الفاظ کو خونِ جگر سے لکھا گیا تھا، نہ کہ سستی شہرت کی طلب میں۔ سچا لفظ وہی ہے جو اپنے اندر وہ تپش رکھے جو صدیوں بعد بھی پڑھنے والے کے دل میں بیداری کی جوت جگا سکے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو تحریر محض وقتی موضوعات یا سطحی جذبات کا احاطہ کرتی ہے، وہ صبح کے اخبار کی طرح شام کو پرانی ہو جاتی ہے۔ لیکن جو کالم کسی عہد کے اجتماعی درد، انسان کی آزادی، اور حریتِ فکر کا ترجمان بن جائے، وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ تاریخ بننے والے کالم صرف پڑھے نہیں جاتے، وہ وقت کی دیوار پر رقم ہو جاتے ہیں۔ وہ حاکموں کو آئینہ دکھاتے ہیں اور مظلوموں کے لیے بے زبانی کا مرہم بنتے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا لکھا ہوا لفظ وقت کی بے رحم موجوں میں بہہ نہ جائے، تو ہمیں اپنے قلم کو ہر قسم کے تعصب، لالچ اور خوف سے پاک کرنا ہوگا۔ ہمیں لفظوں کو روح دینی ہوگی، انہیں حق کی آواز بنانا ہوگا۔

یہ کالم صرف ایک تحریر نہیں، بلکہ آنے والے زمانوں کے نام ایک پیغام ہے کہ جب سچ بولنا سب سے مشکل کام بنا دیا گیا تھا، تب بھی کچھ قلم ایسے تھے جو بکنے اور جھکنے سے انکاری تھے۔ یہ بلاگ ایک گواہی ہے—ایک ایسی گواہی جو میرے بعد بھی زندہ رہے گی اور آنے والی نسلوں کو بتائے گی کہ سچ کی قیمت چاہے کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، قلم کی حرمت سے بڑا کوئی سودا نہیں ہو سکتا۔

جملہ حقوق محفوظ ہیں © پیر انتظار حسین مصور

سچائی کی فتح: صحرا کے مجاہدوں سے معرکہٴ چھمب اور ۱۹۷۱ء کی سچی تاریخ

چھمب معرکے (۱۹۷۱ء) کے دوران قید کیے گئے بھارتی سپاہی








سچ کی فتح: صحرائیس مجاہدوں سے چھمب کے معرکے تک
مصنف: پیر انتظار حسین مصور

تاریخ جب فاتحین کے قلم سے لکھی جاتی ہے تو سچائی کے کئی سنہرے اوراق سیاسی مفادات اور نصابی تغافل کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب اور قومی بیانیے کی سب سے بڑی غفلت یہ رہی کہ ہم نے اپنے بچوں کو دشمن کے پھیلائے ہوئے یکطرفہ پروپیگنڈے کا شکار ہونے دیا، لیکن اپنی دھرتی کے ان سورماؤں کی داستانیں کبھی کھول کر نہیں بتائیں جنہوں نے میدانِ جنگ میں دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔ میدانِ جنگ میں بہنے والا خون اور تاریخ کے اوراق پر لکھی جانے والی روشنائي جب ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں، تو حقائق پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر) کی جنگ کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا گیا جیسے یہ صرف ایک فریق کی مطلق فتح اور دوسرے کی مکمل عزیمت تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قوم کو وہ پوری سچائی بتائی گئی جو سرحد کے اس پار میدانِ جنگ میں رقم ہوئی؟

ہمیں یہ تو بار بار بتایا گیا کہ مشرقی پاکستان میں حالات کے جبر کے تحت کیا ہوا، لیکن یہ کبھی نہیں بتایا گیا کہ وہ فیصلہ کن عسکری وجوہات کیا تھیں؟ ہزاروں میل دور، دشمن کے جغرافیائی گھیرے، مقامی باغی تنظیموں کی گوریلا کارروائیوں اور ناکہ بندی کے باوجود ہماری فوج نے جس جرات سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ سب سے بڑھ کر، ہمارے عوام سے یہ حقیقت چھپائی گئی کہ ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر) کی جنگ کے دوران مغربی محاذ پر پاک فوج نے دشمن کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا، کون کون سے عسکری ہیڈکوارٹر تباہ کیے اور وہ کون سا عظیم سٹریٹیجک رقبہ ہے جو ہمارے غازیوں نے فتح کیا اور وہ آج بھی پاکستان کے دائمی کنٹرول میں موجود ہے۔

ستمبر ۱۹۶۵ء (انیس سو پینسٹھ): صحرائے تھر کا آتش فشاں

حقیقت کی شروعات ستمبر ۱۹۶۵ء (انیس سو پینسٹھ) کی جنگ سے ہوتی ہے۔ تصور کیجیے! ستمبر کی کڑکتی دھوپ میں سندھ اور راجستھان کا تپتا ہوا صحرا، جہاں ریت کا ایک ایک ذرہ تانبے کی طرح دھک رہا ہے۔ ایسے میں جب سانگھڑ کا ایک غیور، نو عمر حُر نوجوان کیپٹن اربیلو فقیر غازی پانچ سو مجاہدین کے لشکر کے ساتھ پاک فوج کے کمانڈنٹ کے سامنے آتا ہے، تو اس کا دبلا پتلا جسم دیکھ کر کمانڈنٹ بھرتی سے انکار کر دیتا ہے۔

تب صحرا کی فضا میں وہ تاریخی الفاظ گونجے جو آج بھی غیرتِ قومی کا استعارہ ہیں:

"کمانڈر صاحب! بت نہیں لڑتے، غیرت لڑتی ہے! میں جو کارروائیاں کروں گا ان کی خبریں آپ کو انڈین ریڈیو سے ملیں گی!"

پیر صاحب پگارا سید مردان شاہ ثانی کی ہدایت پر حُر مجاہدین نے وہ تاریخی گوریلا جنگ لڑی جس نے ہندوستانی فوج کو حواس باختہ کر دیا۔ پانچ پانچ مجاہدین کی ٹولیاں صحرائی ٹیلاں کی اوٹ سے اس طرح اچانک حملہ آور ہوتیں کہ دشمن سمجھتا سامنے پوری فوج موجود ہے۔ مونا باؤ ریلوے اسٹیشن سے لے کر کشن گڑھ کے قلعے تک، اور روپسی، نواب ٹیلہ، سکندر کا تالاب جیسی دفاعی چوکیوں پر قبضہ کرتے ہوئے حُر مجاہدین نے دشمن کی بائیس سو مربع میل زمین فتح کر لی۔ ہندوستانی ریڈیو ’آکاشوانی‘ کو باقاعدہ نشر کرنا پڑا کہ پاکستانی حُروں نے انڈین آرمی کی بٹالینز کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

دسمبر ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر): معرکہٴ چھمب اور افتخار آباد کی تسخیر

اگرچہ ۱۹۶۵ء (انیس سو پینسٹھ) کا وہ فتح شدہ صحرائی علاقہ معاہدہ تاشقند کے تحت واپس ہوا، لیکن ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر) میں ’آپریشن چھمب‘ کے دوران پاک فوج نے شجاعت کی وہ داستان رقم کی جس نے جغرافیہ ہی بدل دیا۔

ذرا دسمبر کی یخ بستہ رات کا احساس کیجیے! آزاد کشمیر کا سرحدی خطہ، منّاور تلاوی ندی کا سنگلاخ محاذ اور سامنے بھارتی فوج کے اکیاون نمبر بریگیڈ کا مضبوط ترین عسکری حصار۔ انڈین آرمی کا دعویٰ تھا کہ چھمب کے اس قدرتی قلعے کو تسخیر کرنا ناممکن ہے۔ لیکن تئیس ڈویژن کے کمانڈر، میجر جنرل افتخار خان جنجوعہ شہید کا عزم کچھ اور ہی تھا۔ ان کا تاریخی فلسفہ تھا: "کمانڈر کو پیچھے ہیڈکوارٹر میں نہیں، اگلی لائنوں پر ہونا چاہیے!"

جب پاک فوج کے ٹینک منّاور ندی کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور مشین گنوں کی تیکھی تڑتڑاہٹ کے ساتھ نعرہٴ تکبیر کی صدا گونجی، تو دشمن کا غرور تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ بھارتی فوج اپنا کینٹ، بریگیڈ ہیڈکوارٹر، بھاری توپ خانہ اور ذخائر چھوڑ کر اخنور کی طرف بھاگ کھڑی ہوئی۔ پاک فوج نے منّاور ندی کے مغرب کا پورا علاقہ، جو تقریباً ایک سو بیس مربع میل پر محیط تھا، مکمل طور پر فتح کر لیا اور ۱۹۱ انڈین انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ و برباد کر دیا۔

وہ فتح شدہ علاقے جو آج بھی پاکستان کا حصہ ہیں

ہندوستان نے دنیا کے سامنے اپنی نام نہاد فتح کا ڈھنڈورا تو پیٹا، لیکن اپنے نصاب سے چھمب کی تاریخی شکست کو مکمل طور پر غائب کر دیا۔ ۱۹۷۲ء (انیس سو بہتر) میں جب **شملہ معاہدہ** ہوا، تو یہ قانونی اصول طے پایا کہ کشمیر میں جو فوج جس مقام پر قابض ہے، وہی نئی لائن آف کنٹرول مان لی جائے گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کو رسمی طور پر تسلیم کرنا پڑا کہ پاک فوج کا فتح کردہ علاقہ پاکستان کے پاس ہی رہے گا۔

آج بھی جو علاقے پاکستان کے دائمی نقشے اور کنٹرول میں شامل ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

✦ افتخار آباد (چھمب سیکٹر): ضلع بھمبر، تحصیل برنالہ (آزاد کشمیر) کا حصہ۔ فاتح جنرل افتخار خان جنجوعہ شہید کے نام پر قائم کردہ علاقہ، جہاں دشمن کا سابق ۱۹۱ انڈین انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر موجود تھا۔

✦ منّاور ندی کا مغربی علاقہ: برنالہ اور چھمب کا درمیانی میدانی و پہاڑی خطہ، جہاں ہندوستانی فوج کی متروکہ چھاؤنی، پکے دفاعی مورچے اور القدیم تاریخی مندر موجود ہیں۔

✦ کرگل و دراس کی پیشانی: شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان کے بالمقابل) گلگت اسکاؤٹس اور شمالی کمان کی فتح کردہ وہ سٹریٹیجک چوٹیاں جو آج بھی ہماری سرحدوں کی نگہبانی کر رہی ہیں۔

✦ کوٹلی و نیلم کی سرحدی چوٹیاں: نیلم ویلی اور کوٹلی سیکٹر میں دشمن سے چھینی گئی وہ دفاعی چوکیاں جنہوں نے آزاد کشمیر کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

آج جب آپ ضلع بھمبر کی تحصیل برنالہ کے علاقے 'افتخار آباد' میں قدم رکھتے ہیں، تو وہاں موجود انڈین آرمی کی متروکہ عمارات، بنکرز اور قدیمی مذہبی یادگاریں پکار پکار کر اس سچائی کی گواہی دیتی ہیں کہ ہمارے شیر جوانوں نے دشمن کو کس طرح ناکوں چنے چبوائے تھے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے قلم سے تاریخ پر جمی غفلت کی دھول کو صاف کریں۔ اپنے بچوں کو صرف محرومیوں کا سبق نہ پڑھائیں، بلکہ یہ بتائیں کہ ہمارے غازیوں نے دھرتی کی حرمت پر خون بہا کر جو زمینیں فتح کی تھیں، وہ آج بھی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تلے اپنی شجاعت کی داستان سنا رہی ہیں!

گزٹ کا جادو، تاریخی تحریف اور ہاشمی وراثت کی حقیقت!

آستانہ عالیہ برصغیر کے عظیم تابعی و ہاشمی بزرگ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ




گزٹ کا جادو، تاریخی تحریف اور ہاشمی وراثت کی حقیقت!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


تاریخ کسی پٹواری کے دفتری کاغذات کا نام ہے نہ انگریز حاکموں کے مرتب کردہ سطحی دفتری رسالوں کی تحریر! لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پچھلی کچھ دہائیوں میں برصغیر کی علمی، روحانی اور خاندانی تاریخ کے ساتھ جس طرح زبانی کہانیوں کی بنیاد پر کھلواڑ کیا گیا، وہ اہلِ دانش اور صاحبِ بصیرت لوگوں کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔

ابھی حال ہی میں نیٹ پر ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک صاحب بڑے گھمنڈ اور نا سمجھی کے انداز میں ایک عظیم تابعی رسول اور جلیل القدر ہاشمی بزرگ کے بارے میں یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ (معاذ اللہ) ان کے والدین غیر مسلم تھے، اور ساتھ ہی بڑے فخریہ انداز میں یہ اقرار بھی کر رہے تھے کہ "ہاں! وہ ہمارے آباؤ اجداد تھے"۔ اس جاہلانہ، بلاسند اور نرا جھوٹ پر مبنی سوچ پر عقل حیران رہ جاتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ کیسی فکری گمراہی اور ایمانی زوال ہے؟ ہم بحیثیتِ مسلمان اپنے دینِ اسلام، توحیدِ باری تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امتی ہونے پر فخر کرنے کے بجائے، غیر مسلم آباؤ اجداد اور ہندو ماضی کے ساتھ زبردستی رشتے جوڑ کر اور ان پر فخر جتا کر آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

جب اللہ کریم نے ہمیں اسلام کا نور اور مصطفوی غلامی کی دولت سے نوازا ہے تو ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑی کوئی عزت اور نسبتی شرف نہیں ہو سکتا۔ کسی جلیل القدر تابعی اور ہاشمی شخصیت کو محض اپنے قبائلی تعصب اور جھوٹ کی خاطر غیر مسلم آباؤ اجداد سے جوڑنا علم، تاریخ اور عقل تینوں کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

جن مقامی یا بااثر دعویداروں کے پاس نصف صدی پہلے نہ کوئی پرانا قلمی نسخہ تھا، نہ کوئی چھپا ہوا شجرہ اور نہ ہی قدماء کی کسی کتاب میں ان کا کوئی ذکر تھا—انہوں نے انگریزی دور کے مالیاقی ریکارڈ اور دفتری یادداشتوں کی سطروں کو ڈھال بنا کر سادات و ہاشمی خاندانوں کی تاریخی حیثیت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چند دہائیوں کی زبانی باتیں، جھوٹے دعوے اور پٹواری کے قلم کی روشنائی، صدیوں پر محیط مسلمہ ہاشمی نسب، پکے شواہد اور علمی سندوں کو مٹا سکتی ہے؟

۱. حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا مسلمہ ہاشمی نسب

تاریخی و نسلی شواہد کی روشنی میں حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ کا نسبی تعلق خلافتِ عباسیہ کے ذریعے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (عمِ رسول ﷺ) سے ملتا ہے۔ آپ برصغیر پاک و ہند کے ان ابتدائی ہاشمی و عباسی مشائخ میں سے ہیں جن کا وجود اور جن کی روحانی عظمت اس خطے میں اسلام کی پہلی کرنوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ آپ کی شہادت ۲۷ رمضان المبارک کو ہوئی، اور آپ کے آستانہ عالیہ پر سید مروند لال شہباز قلندرؒ اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ جیسے اکابرینِ امت نے حاضری دی۔ یہ مسلمہ ہاشمی وراثت کسی بھی ساختہ پیوند کاری کی محتاج نہیں۔

۲. قدیم تاریخ کی گواہی: چچ نامہ اور دیگر تواریخ

سندھ اور ملتان کے خطے کی سب سے قدیم اور بنیادی تاریخ "چچ نامہ" (مؤلف: علی بن حامد کوفی) ہے۔ اس عظیم الشان کتاب میں عرب فاتحین، ابتدائی ہاشمی شخصیات کی آمد اور خطے کے واقعی حالات درج ہیں۔ چچ نامہ سے لے کر "طبقاتِ ناصری" (مؤلف: منہاج سراج) اور "تاریخِ فرشتہ" (مؤلف: محمد قاسم فرشتہ) تک، برصغیر کے بنیادی مؤرخین نے نسب کے معاملے میں صرف اور صرف قدماء کی اسناد اور ہاشمی و سادات نسب کو تسلیم کیا۔ ان قدیم کتب میں بعد میں گھڑے گئے غیر ہاشمی یا مقامی دعوؤں کا دور دور تک کوئی وجود نہیں ملتا۔

۳. علمی اصول اور عدالتی تسلیمات

علمِ انساب کا معروف قانون ہے جو علامہ غلام علی آزاد بلگرامی نے "مآثر الکرام" اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے "اخبار الاخبار" میں واضح کیا کہ نسب صرف قدیم کتابوں اور متصل اسناد سے ثابت ہوتے ہیں۔ پچاس یا سٹھ سال پرانی دفتری تحریروں کے چند جملے اور زبانی دعوے علمِ انساب میں تاریخ نہیں بلکہ پیوند کاری کہلاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ملکی قانون اور اعلیٰ عدالتی تحریریں بھی اویسیہ ہاشمی خاندان کے قانونی و نسلی حقوق اور سجادگی و جانشینی کی سچائی کو تسلیم کر چکی ہیں۔ قانونی و شرعی اعتبار سے بھی دفتری بیانات اور ذاتی گھمنڈ کبھی بھی مسلسل نسلی ریکارڈ اور عدالتی فیصلہ جات پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔

۴. گزٹ کا المیہ: استعماری سیاست اور جھوٹے دعوے

عیسوی سال ۱۸۵۰ء کے بعد جب برطانوی حکومت نے اضلاع کی انتظامی رپورٹیں مرتب کیں، تو ان کا مقصد تاریخ لکھنا نہیں بلکہ ٹیکس اکٹھا کرنا اور مقامی اثر و رسوخ رکھنے والوں کو اپنے ساتھ ملانا تھا۔ غیر ملکی افسران نے مقامی اہلکاروں کے کہنے پر زمینداروں کے زبانی بیانات درج کیے، جنہیں بعد میں نام نہاد تاریخ بنا کر پیش کیا گیا۔

یہ المیہ صرف ایک جگہ نہیں ہوا؛ پاکپتن شریف میں بابا فریدؒ کے آستانے کے گرد، سخی سرور میں حضرت احمد سلطان کے سادات نسب کے خلاف، اور سیہون شریف میں بھی مقامی دھڑوں نے انہی دفتری رپورٹوں کا سہارا لے کر سچائی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششیں کیں۔

فیصلہ کن حقیقت

اگر انتظامی رپورٹیں، زبانی جاہلانہ دعوے اور غیر مسلم آباؤ اجداد کا جھوٹا فخر ہی تاریخ کا آخری معیار ہوتیں تو پھر دنیا کی مستند کتابوں، عدالتی فیصلہ جات اور قدماء کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی۔ الحمد للہ! ہم امتِ محمدیہ کے فرد ہیں اور ہمارا فخر اسلام اور رسولِ کریم ﷺ کی غلامی ہے، کسی باطل نسبی دعوے یا جاہلی فخر کی محتاجی نہیں۔ حقائق، شرعی اسناد، قدیم تواریخ اور قانونی احکامات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ انتظامی کاغذات، جھوٹے شجروں اور جاہلانہ ویڈیوز کی آڑ میں تاریخ کا سچا چہرہ نہیں بدلا جا سکتا۔ سچائی وہی ہے جو قدماء کے قلم سے رقم ہوئی اور اعلیٰ ایوانوں سے تسلیم کی گئی، باقی سب محض سیاسی، معاشی اور قبائلی تعصب کا ایک عارضی کھیل ہے!

وہ رات، وہ دوست اور "دیوانہ حسینؑ دا"



استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب: بانی و سرپرستِ اعلیٰ "سخن سنجاپ ادبی تنظیم"


 وہ رات، وہ دوست اور "دیوانہ حسینؑ دا"

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

کچھ بچھڑنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کی یادیں وقت کے ساتھ دھندلی نہیں ہوتیں، بلکہ دل کے زخموں کی طرح ہری رہتی ہیں۔ جب بھی ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو ایک عجیب سا سکوت اور کسک روح تک کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ میرے دو بے حد پیارے، مخلص اور باوفا ساتھی—دیوان پیر شاہزیب اور محمد بشیر اکاش—ہم سے اتنی دور جا چکے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ شاہزیب، جو نعت خوانی اور نقیبِ محفل کی حیثیت سے آقا کریم ﷺ کی مدح سرائی کرتا اور محفلوں میں روح پھونک دیتا تھا، اور بشیر اکاش، جس کی محبت اور میزبانی میں اک عجیب سی سادگی اور گرمجوشی تھی۔

وہ بھی کیا دن تھے! استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب ہمارے ہاں تشریف فرما تھے، اور ہم سب اپنے استاد بھائی محمد بشیر اکاش کے ہوٹل پر جمع ہوئے۔ شام کا کھانا سامنے تھا، مگر کھانے سے زیادہ بھوک شعر و سخن اور فکر و عقیدت کی تھی۔ بات چیت کا سلسلہ چلا تو شام سے رات اور رات سے سحر کا سفر یوں طے ہوا جیسے وقت نے اپنے قدم روک لیے ہوں۔

ایک ہوٹل کی سادگی میں، استاد کی شفقت کا سایہ تھا اور شاگردوں کے سینوں میں محبتِ اہل بیتؑ کا ابال۔ اسی وجدانی کیفیت میں شاہزیب مرحوم کے لب کھلے اور ان کے دل کی تڑپ ایک مصرع بن کر فضا میں تیرنے لگی:

لجپالاں دا لجپال ہے گھرانہ حسینؑ دا

اس مصرعے میں وہ اثر تھا کہ دل بے اختیار ہو گیا اور فوراً زبان سے نکلے:

صدقہ پیا اے کھاوندا زمانہ حسینؑ دا

پھر کیا تھا! ذکرِ حسینیؑ کا ایسا خمار چڑھا کہ رات کا سناٹا بھی جیسے ذکر کرنے لگا۔ ہم قصیدے کے ایک ایک لفظ پر نظرِ ثانی کرتے رہے، شعر بنتے رہے، اور محبت کے چراغ جلتے رہے۔ یہاں تک کہ فضا میں فجر کی معطر اذانیں گونجنے لگیں۔ پو پھٹ رہی تھی، روشنی پھیل رہی تھی، اور اسی مبارک گھڑی میں شاہزیب نے وجد میں آ کر وہ مقطع پڑھا جو آج بھی میرے کانوں میں نعرہ بن کر گونجتا ہے:

شاہزیب دل اچ خوف نہیں محشر میدان دا

دل ہو گیا اے دوستو دیوانہ حسینؑ دا

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہوٹل کا وہ کونہ اب ویران ہے، بشیر اکاش کی وہ پرخلوص مسکراہٹ اب یادوں کے دھندلکے میں ہے، اور شاہزیب کا وہ لحن، وہ تڑپ، وہ عقیدت خاک تلے سو گئی ہے۔ استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب کی حیات کا سایہ تو سر پر قائم ہے، مگر وہ جو محفل کی رونق تھے، رخصت ہو گئے۔

خدا ان دونوں دوستوں کی قبروں کو نورِ حسینیؑ سے منور فرمائے! آمین۔

"سخن سنجاپ ادبی تنظیم" اور استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب کی خدمات

پنجابی ادب، زبان اور ماں بولی سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اس کی ترویج کے لیے دن رات کوشاں رہنے والے ہمارے استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب نے باضابطہ طور پر "سخن سنجاپ ادبی تنظیم" کی بنیاد رکھی ہے اور وہی اس بزم کے بانی اور روحِ رواں ہیں۔

استادِ محترم ایک انتہائی محنتی، باصلاحیت اور دردمند انسان ہیں جو اپنی لازوال شاعری، بے لوث محنت اور سچی محبت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ماں بولی کی اہمیت اور شعور اجاگر کر رہے ہیں۔

ان کی بانی کی حیثیت سے قائم کردہ یہ بزم ایک بلا معاوضہ، بے لوث اور خالص ادبی پلیٹ فارم ہے جس کا واحد مقصد اپنی ماں بولی کی خدمت کرنا اور نئے لکھنے والوں کی تربیت کرنا ہے۔ استادِ محترم کے اس عظیم مشن کی نئی پہچان کے طور پر بزم کی نئی علامت (لوگو) تمام احباب کے ساتھ سانجھی کی جا رہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استادِ محترم کی اس علمی و ادبی کاوش کو بلندی اور کامیابی عطا فرمائے!

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

ادنیٰ لکھیاری: پیر انتظار حسین مصور

کاروانِ حسینی کی کربلا آمد اور حق و صداقت کے لافانی سفر کا ایک منظر۔



تاریخِ اسلام کا یہ وہ خونی اور رقت آمیز باب ہے جسے پڑھتے اور لکھتے ہوئے ہر صاحبِ دل کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور روح کانپ اٹھتی ہے۔ جب نواسہ رسولؐ، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کی پاک دھرتی کو خیرباد کہا، تو آپ کے پیشِ نظر صرف اور صرف امت کی اصلاح، نانا کے دین کا تحفظ اور باطل کے سامنے حق کا علم بلند کرنا تھا۔ مکہ سے روانگی کے وقت آلِ محمدؐ کا یہ مقدس قافلہ جب حجاز کی تپتی ریت اور سنگلاخ پہاڑوں کو پار کرتا ہوا آگے بڑھا، تو صحرا کی ہوائیں بھی اس ستم پر نوحہ کناں تھیں کہ رسولؐ کا کنبہ بے وطنی کے دشت میں سفر کر رہا ہے۔ مگر اس سفر کا سب سے بڑا المیہ اور دردناک پہلو وہ غداری اور بے وفائی تھی جو کوفہ کے سیاسی حالات کی شکل میں آلِ رسولؐ کا انتظار کر رہی تھی۔

کوفہ، جہاں سے خطوط کے انبار لگا کر امامِ عالی مقامؑ کو پکارا گیا تھا، جہاں کے لوگوں نے قسمیں کھا کر آپ کو اپنا ہادی اور رہبر تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہاں ابنِ زیاد کی آمد نے حکومتِ وقت کے جبر، خوف اور لالچ کا ایسا بازار گرم کیا کہ فضا یکسر بدل گئی۔ لوگ اپنی بیعت اور وعدوں سے ایسے پھرے کہ انسانیت شرمساڑ ہو گئی۔ امامؑ کے مظلوم سفیر، حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام، جو کوفہ میں آپ کے نمائندے تھے، انہیں کوفہ کی اندھیری اور تپتی گلیوں میں اس طرح تنہا کر دیا گیا کہ رسولؐ کے اس سچے اور وفادار جاں نثار کے لیے کسی ایک گھر کا دروازہ نہ کھلا۔ پیاس کی شدت، اجنبی شہر کی تنہائی اور بیوفا لوگوں کے ہجوم میں، حضرت مسلم بن عقیلؑ نے انتہائی کسمپرسی اور مظلومانہ حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ رسولؐ کے اس سچے جاں نثار کا یہ مظلومانہ خون تاریخ کا وہ پہلا بڑا صدمہ تھا جس نے آنے والے ہولناک مصائب کا پتا دیا۔

امام عالی مقامؑ ابھی راستے میں ہی سفر طے کر رہے تھے کہ آپ کو اپنے پیارے بھائی حضرت مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کی یہ اندوہناک اور روح فرسا خبر ملی۔ اس خبر کا ملنا تھا کہ پورے قافلے میں رنج و غم کی ایک گہری لہر دوڑ گئی اور مخدراتِ عصمت سوگوار ہو گئیں۔ خانوادۂ رسالت میں صفِ ماتم بچھ گئی، مگر قربان جائیے اس صبرِ حسینی پر، جس نے اس عظیم اور کمر توڑ دینے والے صدمے پر بھی الٰہی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا، اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا اور حق و صداقت کے اس کٹھن سفر کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ حسینی قافلے مصائب سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹا کرتے۔

سفر کے مصائب ابھی کم نہ ہوئے تھے کہ مقامِ عذیب الہیجانات پر حر بن یزید ریاحی کے ایک ہزار سواروں کے لشکر نے امامؑ کا راستہ روک لیا۔ حر کا یہ لشکر شدید تپش اور پیاس سے نڈھال تھا۔ مولا حسین پاکؑ نے اپنی خاندانی سخاوت اور عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف حر اور اس کے پورے لشکر کو پانی پلایا، بلکہ ان کے گھوڑوں کو بھی سیراب کیا۔ اس کے بعد امامِ عالی مقامؑ اور حر کے درمیان ایک تاریخی مکالمہ ہوا۔ امامؑ نے حر اور اس کے لشکر سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اے لوگو! میں تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آیا جب تک تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس نہیں پہنچے۔ اگر تم اب بھی اپنے عہد پر قائم ہو تو میں تمہارے شہر چلنے کو تیار ہوں، اور اگر تم میری آمد کو ناپسند کرتے ہو تو میں وہیں واپس لوٹ جاتا ہوں جہاں سے آیا ہوں"۔

حر بن یزید ریاحی نے ادب سے سر جھکایا لیکن اپنی سرکاری مجبوری ظاہر کرتے ہوئے کہا: "اے فرزندِ رسولؐ! مجھے ان خطوط کا علم نہیں۔ مجھے عبیداللہ ابنِ زیاد کا سخت حکم ہے کہ میں آپ سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ آپ کو کوفہ میں اس کے سامنے پیش کر دوں"۔ اس پر امام عالی مقامؑ نے غیرتِ ہاشمی کے ساتھ فرمایا: "خدا کی قسم! یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ موت تمہارے اس ارادے سے زیادہ میرے قریب ہے"۔ جنگ کی تلخی سے بچنے کے لیے حر نے ایک درمیانی راستہ تجویز کیا کہ آپ ایسا راستہ اختیار کیجیے جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ ہی مدینہ واپس لوٹتا ہو، تاکہ میں ابنِ زیاد کو جواب دے سکوں۔ حر نے کہا: "میں نہیں چاہتا کہ آپ کے معاملے میں کوئی ایسی آزمائش آئے جس سے میرے ہاتھ آلِ رسولؐ کے خون سے رنگے جائیں"۔

اسی فیصلے کے تحت کاروانِ حسینی آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ 2 محرم الحرام 61 ہجری کو یہ مقدس قافلہ کربلا کی تپتی ہوئی مٹی پر پہنچا۔ معتبر روایات میں آتا ہے کہ جب امامؑ کا گھوڑا وہاں پہنچ کر رک گیا اور تمام تر کوششوں کے باوجود آگے نہ بڑھا، تو آپؑ نے وہاں کی مٹی کو ہاتھ میں لے کر سونگھا اور درد بھری آواز میں فرمایا: "یہ کرب اور بلا کی زمین ہے، یہی ہمارے خیمے لگیں گے، یہی ہمارے جانثاروں کے خون بہیں گے اور یہی ہماری شہادت گاہ ہے"۔

کربلا کی زمین پر خیمے لگتے ہی آلِ رسولؐ پر امتحانات کا وہ ہولناک دور شروع ہوا جس کا تصور ہی دل کو دہلا دیتا ہے۔ تپتا ہوا صحرا، گرم ہوائیں اور خیموں میں معصوم بچوں کی پیاس نے آلِ عبا کا امتحان لینا شروع کر دیا۔ حر بن یزید ریاحی جو اب تک یزیدی لشکر کا ایک کمانڈر تھا، جب اس نے دیکھا کہ حق کے اس قافلے پر پانی بند کر دیا گیا ہے اور نواسہ رسولؐ کو سر تسلیم خم نہ کرنے پر شہید کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، تو اس کے ضمیر نے جھنجھوڑا۔ حر نے محسوس کر لیا کہ ایک طرف دنیا کا مال و عہدہ ہے اور دوسری طرف جہنم کی آگ۔ بالآخر 10 محرم کی صبح، حر نے اقتدار اور لالچ کی زنجیروں کو توڑ پھینکا اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے حسینی خیموں کی طرف آ گیا۔ حر نے روتے ہوئے مولا حسین پاکؑ کے قدموں میں سر رکھ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ کریم امامؑ نے نہ صرف اسے معاف کیا، بلکہ اسے گلے سے لگا کر 'حر' (آزاد) کا خطاب دیا۔ حر حسینی قافلے میں شامل ہو کر حق کی طرف سے لڑے اور سب سے پہلے شہیدوں میں اپنا نام لکھوا کر ابدی سرخروئی حاصل کر گئے۔

مولا حسین پاک کی یہ عظیم قربانی اور حر کا حسینی کاروان میں شامل ہونا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جب دینِ اسلام پر وقت آ جائے، جب اصولوں اور سچائی کا سودا ہونے لگے، تو اقتدار اور کثرت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہی اصل بندگی ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی نے ثابت کر دیا کہ زندگی صرف سانسیں لینے کا نام نہیں بلکہ حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے۔ باطل نے سمجھا تھا کہ وہ نواسہ رسولؐ کو شہید کر کے حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دے گا، لیکن تاریخ نے دیکھا کہ فتح کس کی ہوئی۔

مٹ گئے حسینؑ کو مٹانے والے، حسینؑ آج بھی زندہ ہے، حسینؑ کل بھی زندہ تھا اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ یزید اور اس کا ظلم تاریخ کے کوڑے دان میں سڑ گئے، لیکن مولا حسینؑ کا نام, ان کا ذکر اور ان کا اسوہ کائنات کے ہر حریت پسند کے دل میں روشنی بن کر چمک رہا ہے۔


حوالہ جات (References):

  1. الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم والملوک (تاریخ الطبری)، ذکرِ حوادثِ سنہ 60 اور 61 ہجری، (مکالمہ امام حسینؑ و حر بن یزید ریاحی)۔
  2. ابنِ اثیر، عز الدین علی، الکامل فی التاریخ، جلد نمبر 4، مطبوعہ دار الکتاب العربی، بیروت۔ (تفصیلِ احوالِ کوفہ و شہادتِ حضرت مسلم بن عقیلؑ)۔
  3. ابنِ کثیر، عماد الدین اسماعیل، البدایہ والنہایہ، جلد نمبر 8، (آمدِ کاروانِ حسینی بمقامِ کربلا)۔
  4. بلاذری، احمد بن یحییٰ، انساب الاشراف، جلد نمبر 3، مطبوعہ دار الفکر، بیروت۔ (تفصیلِ تذکرہ حر بن یزید ریاحی و استقامتِ حسینی)۔

سفرِ کربلا (قسطِ اول): حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی

Safar-e-Karbala: Haq o Batil Ki Pehli Lakeer (Qist 1)

سفرِ کربلا: حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی (قسطِ اول)

حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی۔ تحریر: ادنیٰ لکھیاری پیر انتظار حسین مصور





تحریر: ادنیٰ لکھیاری پیر انتظار حسین مصور

یہ سنہ 60 ہجری کا آخری مہینہ، ذوالحجہ تھا، اور مکہ مکرمہ کی فضا دنیا بھر سے آئے ہوئے حاجیوں کے لبیک کے ترانوں سے گونج رہی تھی۔ کائنات کا سب سے مقدس ترین گھر، بیت اللہ، اپنے زائرین کو دامن میں سمیٹ رہا تھا۔ ہر مسلمان کی یہ تمنا تھی کہ وہ مکہ کی ان گھڑیوں میں رہ کر حج کے مناسک ادا کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔ لیکن اسی مکہ میں نواسہِ رسول، جگر گوشہِ فاطمہ، حضرت امام حسین علیہ السلام کے دل کا کرب الگ تھا۔ آپؑ دیکھ رہے تھے کہ نانا کا دین کس طرح ملوکیت اور جبر کے سائے میں جکڑا جا رہا ہے اور امت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

امام ابن جریر طبری اپنی معتبر کتاب "تاریخ الرسل والملوک" (جلد 5، حوادثِ سنہ 60 ہجری) میں اس دور کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یزید نے مکہ کے گورنر عمرو بن سعید بن العاص کو سخت تاکید کے ساتھ مکہ بھیجا تھا کہ حسین بن علیؑ جہاں بھی ملیں، ان سے بیعت لی جائے یا انہیں قتل کر دیا جائے۔ یزیدی کارندوں اور خفیہ سپاہیوں نے اپنے احرام کے نیچے تیز دھار تلواریں اور خنجر چھپا رکھے تھے تاکہ جیسے ہی موقع ملے، وہ حرم پاک کی مٹی کو آلِ رسول کے خون سے رنگ دیں۔ وہ بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے کے لیے بھی تیار تھے تاکہ غاصب حکومت کے سامنے اپنی وفاداری ثابت کر سکیں۔

امام عالی مقامؑ، جن کے نانا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتحِ مکہ کے موقع پر بھی یہ واضح فرما دیا تھا کہ مکہ کی حدود میں خون بہانا ابدی طور پر حرام ہے، یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ان کی ذات کی وجہ سے کعبے کے صحن میں خون کا ایک قطرہ بھی گرے؟ آپؑ جانتے تھے کہ اگر یزیدیوں نے حرم کے اندر حملہ کیا، تو کعبے کی وہ حرمت جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے، ہمیشہ کے لیے داغدار ہو جائے گی۔ آپؑ نے اپنی جان بچانے کے لیے نہیں، بلکہ کعبے کی دیواروں کا تقدس بچانے کے لیے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

چنانچہ، 8 ذوالحجہ (یومِ ترویہ) کو جب دنیا منٰی کی طرف جانے کی تیاریاں کر رہی تھی اور لوگ حج کے ظاہری مناسک میں مگن تھے، امام حسین علیہ السلام نے کائنات کی سب سے بڑی فکری قربانی کی بنیاد رکھی۔ آپؑ نے اپنے خانوادے کے تحفظ، اسلام کے اصولوں اور کعبے کی حرمت بچانے کے لیے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کر دیا۔ آپؑ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ طوافِ کعبہ کیا، سعی کی، اور احرام کھول کر مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے تاریخی سفر کا آغاز کر دیا۔

علامہ ابن الاثیر نے اپنی تصنیف "الکامل فی التاریخ" (جلد 4، ذکرِ mخرج الحسین الی الکوفہ) میں اس منظر کو قلمبند کیا ہے کہ جب امام عالی مقام مکہ کی حدود سے باہر نکل رہے تھے، تو مکہ کے پہاڑ اور راستے آلِ رسول کی اس رخصت پر اداس تھے، لیکن امت کی اندھی بے حسی دیکھیے! لاکھوں کا وہ مجمع جو حج کے لیے وہاں دنیا بھر سے اکٹھا ہوا تھا، وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا کہ رسول کا پیارا نواسہ، جوانِ رعنا علی اکبر اور معصوم علی اصغر جیسے پھولوں کو ساتھ لیے مکہ چھوڑ کر جا رہا ہے، مگر اس پورے مجمعے میں سے کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر یزیدیوں کا راستہ روکنے یا امام کے کاروان کا ہمسفر بننے کی ہمت نہ کی۔ سب اپنی اپنی عبادات اور حج کے روایتی مناسک میں مصروف رہے، جبکہ دین کا اصل روحِ رواں ان کے سامنے سے رخصت ہو رہا تھا۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ امت نے ظاہری اسلام کو تو سنبھال لیا تھا، لیکن اسلام کی روح کو ملوکیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔

سفر کی شروعات ہی میں مکہ کی حدود سے باہر نکلتے وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور دیگر شخصیات نے آپؑ کا راستہ روکا۔ انہوں نے امام عالی مقامؑ کو کوفہ والوں کی پرانی بے وفائیوں اور ان کے غدارانہ ماضی کا واسطہ دیا اور التجا کی کہ آپؑ اس پرخطر سفر پر نہ جائیں۔ لیکن امام عالی مقامؑ کا جواب تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ "اگر میں مکہ کی حدود میں رہا، تو یہ ظالم یہاں بھی میرا خون بہانے سے باز نہیں آئیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس گھر کی حرمت پامال ہو۔" آپؑ جانتے تھے کہ اب بات صرف اقتدار یا حکومت کی نہیں، بلکہ نانا کے سچے دین کو یزیدیت کے چنگل سے آزاد کرانے اور حق کو باطل سے الگ کرنے کی ہے۔

امامؑ نے تمام مصلحتوں کو ٹھکرا کر اپنا سفر جاری رکھا۔ مکہ کے تپتے ہوئے صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے آپؑ کا یہ قافلہ اب اس کوفہ کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں کی بے وفا امت نے پہلے ہی اپنے رنگ بدلنا شروع کر دیے تھے اور ابنِ زیاد کے خوف سے اپنے ضمیر بیچ چکی تھی۔ یہ امت کی اس اندھی بے حسی، bزدلی اور منافقت کی پہلی جھلک تھی، جس نے مکہ کی گلیوں سے لے کر کربلا کی تپتی ریت تک ایک ایسا خونی منظر نامہ تیار کیا جس کی مثال پوری کائنات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مکہ کی اس خاموشی نے یزیدی لشکر کے حوصلے اتنے بلند کر دیے کہ انہوں نے آگے چل کر نواسہِ رسول کے جگر گوشوں پر پانی بند کرنے اور ان کے سر قلم کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی۔

(جاری ہے...)

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar

Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Crisis




گندم کی کٹائی: میلوں سے ویرانیوں تک کا سفر

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


ماضی کی یادیں اور وہ سنہری بیساکھ

وہ بھی کیا دن تھے جب بیساکھ کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب کی دھرتی سونا اگلنے لگتی تھی۔ گندم کی سنہری بالیاں جب ہوا کے دوش پر لہراتیں تو کسان کے چہرے پر تھکن کے بجائے مسرت کی لہر دوڑ جاتی۔ کٹائی کا آغاز محض ایک زرعی مشغلہ نہیں بلکہ ایک جشن ہوتا تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے جاتے، درانتیوں کی سنہری چمک میں پسینے کی بوندیں موتیوں کی طرح چمکتیں اور ہر طرف ایک میلے کا سماں ہوتا۔ شام کو جب کسان ٹولیوں کی صورت میں گھروں کو لوٹتے تو فضا لوک گیتوں اور ہنسی مذاق سے معطر ہوتی۔ وہ خوشحالی کا دور تھا جب دھرتی ماں اپنے بیٹوں کو کبھی مایوس نہیں کرتی تھی اور کسان کا گھر اناج سے بھرتے ہی گاؤں بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہوتی تھیں۔

جدید دور اور اجڑے ہوئے میلے

مگر آج منظر بالکل بدل چکا ہے۔ وہی بیساکھ ہے، وہی سنہری گندم ہے، مگر کسان کے چہرے سے وہ پرانی رونق اور اطمینان غائب ہے۔ اب کٹائی کے موسم میں ڈھول کی تھاپ نہیں بلکہ باردانے کی فکر، منڈیوں کی بے رخی اور سرکاری نرخوں کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ وہ میلے جو خوشحالی کی علامت تھے، اب کسانوں کے احتجاجی کیمپوں میں بدل چکے ہیں۔ آج کا کسان فصل کاٹنے سے پہلے یہ سوچ کر لرز جاتا ہے کہ کیا اس کی لاگت بھی پوری ہو پائے گی یا نہیں؟ مشینری نے کام تو آسان کر دیا، مگر اس مشینی دور نے وہ انسانی اپنائیت اور وہ اجتماعی خوشی چھین لی ہے جو کبھی دیہاتوں کا خاصہ تھی۔

بجلی کے بل: کسان کا معاشی قتلِ عام

موجودہ صورتحال پر نظر دوڑائیں تو کسان کی کمر توڑنے میں بجلی کے بھاری بلوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب وہ دور لد گیا جب ڈیزل کی فکر ہوتی تھی، آج کا کسان بجلی کے میٹر کی گھومتی سوئی دیکھ کر ہلکان ہوتا ہے۔ ٹیوب ویل چلانا اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے؛ فصل کو پانی دینے کی قیمت ان بھاری بھرکم بلوں کی صورت میں چکانی پڑتی ہے جو کسان کی کل کمائی سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ فی یونٹ قیمت میں بے تحاشہ اضافہ اور اوپر سے نت نئے ٹیکسوں نے زراعت کو ایک گھاٹے کا سودا بنا دیا ہے۔ کسان رات بھر جاگ کر پانی لگاتا ہے، مگر مہینے کے آخر میں آنے والا بل اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ مہنگی کھاد اور بیج تو اپنی جگہ، مگر بجلی کے ان ظالمانہ بلوں نے کسان کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔

پالیسی سازوں کی بے حسی اور مافیا کا راج

حقیقت یہ ہے کہ جب صلہ ملنے کا وقت آتا ہے تو پالیسی سازوں کی بے حسی آڑے آ جاتی ہے۔ کبھی گندم کی درآمد کا بہانہ بنا کر مقامی کسان کا استحصال کیا جاتا ہے تو کبھی سرکاری خریداری مراکز پر باردانے کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا جاتا ہے۔ مڈل مین اور ذخیرہ اندوز مافیا کسان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوڑیوں کے دام فصل خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسان سارا سال محنت کرتا ہے، خون پسینہ ایک کرتا ہے، لیکن جب فصل منڈی پہنچتی ہے تو اسے لاگت سے بھی کم دام پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک فصل کا نقصان نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب اور معیشت کا زوال ہے۔

حل اور مستقبل کی راہ

پاکستان کی بقا زراعت میں ہے اور زراعت کی بقا کسان کی خوشحالی میں۔ اگر ہم نے ماضی کی ان رونقوں اور میلوں کو واپس لانا ہے، تو حکومت کو بجلی کے بلوں میں کسان کو خصوصی رعایت دینی ہوگی اور زرعی ٹیوب ویلز کے لیے فکسڈ ریٹ یا سولرائزیشن جیسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب تک کسان کو سستی بجلی اور فصل کا منصفانہ ریٹ نہیں ملے گا، یہ دھرتی سونا نہیں اگل سکے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کسان کی بے بسی کو خوشحالی میں بدلیں تاکہ وہ ایک بار پھر ڈھول کی تھاپ پر خوشی سے جھوم اٹھے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب تک کھیتوں میں میلے نہیں سجیں گے، ملک کی معیشت میں بھی بہار نہیں آئے گی۔

مخلص رشتے اور گہری دوستی: دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں

 Mukhlis Rishtay aur Gehri Dosti: Diwan Peer Fatah Sher, Syed Naseem Shah aur Main

مخلص رشتے اور گہری دوستی: دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں

تحریر: پیر انتظار حسین مصور



ایک یادگار نشست: پیر انتظار حسین مصور، دیوان پیر فتح شیر اور سید نسیم شاہ


دنیا میں رشتے تو بہت ہوتے ہیں لیکن کچھ رشتے خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر مخلص اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں انسان کو بہت سے مسافر ملتے ہیں، مگر کچھ ایسے ہم سفر میسر آ جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے دکھ سکھ کے ساتھی بنتے ہیں بلکہ آپ کی زندگی کا فخر بن جاتے ہیں۔ میرے لیے ایسی ہی دو ہستیاں دیوان پیر فتح شیر اور سید نسیم شاہ ہیں، جن کے ساتھ میری وابستگی محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک قلبی جوڑ ہے۔

دیوان پیر فتح شیر کی شخصیت میرے لیے دوہرے اعزاز کی حامل ہے۔ وہ جہاں میرے قریبی اور عزیز رشتہ دار ہیں، وہیں صحافت کے میدان میں بھی ان کا ایک خاص مقام اور وقار ہے۔ ایک نڈر صحافی کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی گفتگو میں جہاں خاندانی شرافت جھلکتی ہے، وہیں ان کا قلم معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ دیوان پیر فتح شیر جیسے باکردار اور سلجھے ہوئے انسان میرے عزیز بھی ہیں اور میرے بہترین دوست بھی۔

اس مثلث کا تیسرا اور نہایت اہم ستون سید نسیم شاہ ہیں۔ سید صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں دیکھ کر شرافت اور نیکی کی یاد آتی ہے۔ وہ ہمارے بہت ہی پیارے، نہایت نیک سیرت دوست اور بھائیوں کی طرح ہیں۔ ان کا وجود ہماری محفلوں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ ان کی طبیعت میں موجود حلیمی، عاجزی اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ انہیں ہم سب کی نظر میں ممتاز کرتا ہے۔ ایک سچے دوست اور مخلص بھائی کی تمام خوبیاں ان کی ذات میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

ہم تینوں—دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں (پیر انتظار حسین مصور)—صرف دوست ہی نہیں بلکہ ایک ایسی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جہاں خلوص، احترام اور بھائی چارے کا راج ہے۔ ہماری محفلیں علم، ادب، صحافت اور روحانیت کے تذکروں سے آباد رہتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔

آج کے اس دور میں جہاں مطلبی رشتوں کی بھرمار ہے، وہاں دیوان پیر فتح شیر کی فہم و فراست اور سید نسیم شاہ کی نیکی و مخلصی میرے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری یہ مثالی دوستی اور بھائی چارے کا یہ سفر یونہی قائم و دائم رہے اور ہم ایک دوسرے کے لیے خیر اور برکت کا باعث بنتے رہیں۔ آمین۔

© 2026 Peer Intzar Hussain Musawar | All Rights Reserved

ہاشمی خاندان کے دو روشن ستارے

Roman Title: Hashmi Virasat ke Ameen: Diwan Peer Tariq Owais Hashmi aur Diwan Peer Attaullah Hashmi

ہاشمی وراثت کے امین: دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی ایک نشست کے دوران

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام اور روحانی اقدار کی ترویج میں ساداتِ کرام اور ہاشمی خانوادوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی کہکشاں کے دو روشن ستارے دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی ہیں، جو نہ صرف ایک عظیم روحانی وراثت کے پاسبان ہیں بلکہ اپنی علمی و سماجی خدمات کی بدولت عوامی حلقوں میں بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

ان شخصیات کا تعلق اس معزز ہاشمی خاندان سے ہے جس کی جڑیں حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے جا ملتی ہیں۔ یہ وہ خانوادۂ پاک ہے جس نے ہر دور میں حق و صداقت کا علم بلند رکھا۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ جیسے جلیل القدر بزرگوں کی نسبت ان کے ناموں کے ساتھ ایک خاص تقدس اور ذمہ داری کا اضافہ کرتی ہے۔

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی کی شخصیت میں وہ وقار اور متانت نظر آتی ہے جو صرف خاندانی شرافت اور علم کے نور سے ہی ممکن ہے۔ ان کی مجالس میں جہاں ذکرِ الہیٰ اور سیرتِ طیبہ کی خوشبو آتی ہے، وہیں مریدین اور عقیدت مندوں کی اخلاقی تربیت پر بھی خاص زور دیا جاتا ہے۔

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اپنی فکر انگیز گفتگو اور دور اندیشی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ہاشمی وراثت کے حقائق کو اجاگر کرنے اور نئی نسل کو اپنے اسلاف سے جوڑنے میں ان کا کردار نہایت فعال ہے۔ دوسری جانب دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی کی شخصیت میں عاجزی اور علم دوستی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ شجرہ نسب کی حفاظت اور خانقاہی نظام کی اصلاح کے حوالے سے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔

یہ دونوں شخصیات صرف خانقاہ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ معاشرے میں امن، بھائی چارے اور اتحاد کی علامت بن کر ابھری ہیں۔ ان کا ڈیرہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا ہے، جہاں مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جوڑنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کے آستانہ عالیہ سے جڑی روایات کو زندہ رکھنا اور زائرین کی رہنمائی کرنا ان کی زندگی کا ایک اہم نصب العین ہے۔

ہاشمی وراثت کے قانونی اور تاریخی دفاع کے حوالے سے بھی ان کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔ اویسیہ ہاشمی خاندان کے حقوق کی پاسداری اور تاریخی حقائق کو مسخ ہونے سے بچانے کے لیے ان کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ نفوسِ قدسیہ اپنے اسلاف کی امانت کے سچے پہرے دار ہیں۔

خلاصہِ کلام:

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی جیسے مخلص رہنما آج کے پرآشوب دور میں غنیمت ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت اور دینِ متین کی سربلندی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ سلامت رکھے اور انہیں اسی جذبے کے ساتھ دین و ملت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

پیر انتظار حسین مصور: کالمز اور ادبی کاوشوں کا مجموعہ

تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور 


میں ایک ادنیٰ سا لکھاری ہوں جو تاریخی، روحانی اور ادبی موضوعات پر قلم اٹھاتا ہوں۔ میرے قلم کا سفر محض حروف کی ترتیب نہیں، بلکہ تحقیق و بصیرت کا ایک تسلسل ہے۔

1. ہم سب (Hum Sub):
https://humsub.com.pk/n/author/peer-intizar-hussein-muswar/

2. سلام اردو (Salam Urdu):
https://salamurdu.com/author/peer-intizar-hussain/

3. ڈیلی اردو کالمز (Daily Urdu Columns):
https://dailyurducolumns.com/peer-intizar-hussain-musawir/1

4. ذاتی بلاگ (Blog):
https://intizar-column.blogspot.com/?m=1

حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ: برصغیر کے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کا تاریخی سفر

​



حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ: برصغیر کے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کا تاریخی سفر

​

عرب کی وہ مقدس سرزمین، جہاں سے ہدایت کے آفتاب طلوع ہوئے اور جہاں کی مٹی میں ہاشمی وراثت کی خوشبو بسی ہے۔ اسی سرزمینِ پاک کے ایک عظیم گھرانے میں، جہاں نبوی فیضان کا تسلسل جاری تھا، حضرت عونؓ جیسی برگزیدہ شخصیت کے گھر ایک ایسا فرزندِ ارجمند پیدا ہوا جن کا نام ابوالفضل رکھا گیا۔ یہ بچہ اپنی ولادت سے قبل ہی ہدایت کا ایک مینار بن چکا تھا، جس کے کانوں میں ماں کے بطن ہی سے تلاوتِ کلامِ پاک کی مترنم آوازیں گونجتی رہیں۔

​

بیعتِ امام حسنؓ اور پینجے کا فیضان

ابھی آپ کی عمر صرف چھ برس تھی کہ وقت کے امام، حضرت امام حسن علیہ السلام کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ایک ایسی روحانی منتقلی تھی جس نے آپ کے سینے کو علومِ لدنی کا گنجینہ بنا دیا۔ آج بھی دربارِ شریف کے مزارِ اقدس پر نصب وہ "پینجہ"، جو غازی عباس علمدارؓ کی وفا کی علامت ہے، آپ کے تابعیِ رسولﷺ ہونے کی خاموش مگر طاقتور گواہی دیتا ہے۔

​

دیدارِ نبویﷺ، اسہِ مبارک اور اویسیہ سلسلے کا آغاز

آپ کی زندگی کا سب سے پراسرار باب تب کھلا جب آپ نے حضرت اویس قرنیؓ کے مزار پر طویل چلہ کشی کی۔ وہیں آپ کی روحانی ریاضت پر حضرت اویس قرنیؓ کی جانب سے آپ کو ایک "مصلے" کی صورت میں سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا "اسہِ مبارک" (عصائے مبارک) عطا ہوا۔ یہ مصلہ اور اسہِ مبارک وہ عظیم روحانی سند تھے جہاں سے "سلسلہ اویسیہ" کا آغاز ہوا۔ اسی چلہ کشی کے دوران آپ کو خود سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ کو ہند میں تبلیغِ اسلام کا حکم ملا۔

​

شہادت اور مائی گنگن برس کی لازوال وفا

نمازِ فجر کا وقت تھا، کائنات ابھی جاگ ہی رہی تھی کہ ظالموں نے آپ کو شہید کر دیا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب آپ کی ہمشیرہ، امّ فاطمہ عرف مائی ہانی (جنہیں تاریخ میں 'مائی گنگن برس' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے)، اپنے بھائی کے عشق میں اس قدر سرشار تھیں کہ بھائی کی شہادت کے صدمے اور محبت کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی لمحے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ آج آپ کا مزار بھی اپنے بھائی کے قدموں میں دربار کے اندر ہی موجود ہے۔

​

روحانی تسلسل اور ہمارا ورثہ

آج اس روحانی ورثے کی نگرانی سجادہ نشین دیوان پیر میاں غلام اویس مصطفیٰ اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی کر رہے ہیں۔ ان کے زیرِ نگرانی قائم مدرسہ، جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے، میرے لیے علم کا اصل مرکز رہا ہے۔ میں کسی یونیورسٹی کا ڈگری ہولڈر نہیں، بلکہ اسی مدرسے کا ادنیٰ طالبِ علم ہوں، جہاں میں نے جو کچھ سیکھا، آج میری وہی پہچان ہے۔

​
​

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

  • س: حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا سلسلہ نسب کیا ہے؟ ج: آپ کا سلسلہ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ تک جاتا ہے۔
  • س: دیوان چاولی مشائخ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟ ج: آپ برصغیر کے عظیم تابعی بزرگ ہیں جن سے سلسلہ اویسیہ کا آغاز ہوا۔
  • س: مائی گنگن برس کون تھیں؟ ج: آپ شہیدِ ملت کی ہمشیرہ تھیں جو اپنی بھائی سے محبت کی وجہ سے شہادت کے وقت ہی وفات پا گئی تھیں۔

شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا | پیر قلم کی چھاپ



جب قلم کی پکار ایوانوں تک پہنچی: شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (ایک ادنیٰ لکھاری)

(ڈیجیٹل پنجاب: وژن سے عملی اقدام تک)

کچھ عرصہ قبل، میں نے بطور ایک ادنیٰ لکھاری اسی بلاگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسی تحریر رقم کی تھی جس نے بہت سے دلوں کو تڑپا دیا تھا۔ اس کالم کا عنوان تھا "آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ"۔ وہ محض ایک کالم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی بیوہ کا نوحہ تھا جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، مگر نظام کی بے حسی نے اسے جیتے جی مار دیا تھا۔

میں نے بیان کیا تھا کہ کیسے ایک کرپٹ پٹواری نے دیوروں سے مل کر 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "قلم کی ایک جنبش" سے اس بیوہ کا رشتہ ہی ختم کر دیا اور اسے اپنی ہی وراثت میں "لاوارث" بنا دیا گیا۔ میں نے ایک ادنیٰ لکھاری کی حیثیت سے دو ٹوک الفاظ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر ریاست واقعی عوام کی ہمدرد ہے، تو اسے محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے ان بوسیدہ رجسٹروں کو بند الماریوں سے نکال کر ڈیجیٹلائز کرنا ہوگا۔

آج مجھے یہ لکھتے ہوئے دلی مسرت اور اطمینان ہو رہا ہے کہ اس ادنیٰ لکھاری کی آواز صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوئی۔ حکومتِ پنجاب نے اس سنگین مسئلے کی حساسیت کو سمجھا اور حال ہی میں شجرہ نسب اور وراثت کے ریکارڈ کی آن لائن فراہمی کا ایک تاریخی نظام متعارف کروا دیا ہے۔

اس تمام تر انتظامی تبدیلی کے پیچھے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت اور ان کا 'ڈیجیٹل پنجاب' کا وژن کارفرما ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف فائلوں پر دستخط نہیں کرتیں، بلکہ ان کے پاس معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لیے ایک حساس دل بھی ہے۔ ان کے اس ایک فیصلے نے ہزاروں "شناخت کے ڈاکوؤں" کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں۔

یہ کامیابی میرے قلم کی وہ "پیر قلم کی چھاپ" ہے جس پر مجھے ناز ہے۔ میں مریم نواز شریف صاحبہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ادنیٰ صحافی کی آواز کو اہمیت دی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ اب پنجاب کے ہر غریب کا شجرہ محفوظ ہے اور اس کی پہچان پر پہرا دینے والا ڈیجیٹل نظام آ چکا ہے۔

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تعارف: ایک ادنیٰ لکھاری جو "ہم سب" اور اپنے بلاگ پر عوامی مسائل اور حقائق کو زبان دیتا ہے۔

رابطہ: 03006488317


سلسلہ: پیر قلم کی چھاپ | بلاگ: intizar-column.blogspot.com

رمضان المبارک: توبہ، تقویٰ اور فیضانِ ہاشمی | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور اور صاحبزادہ پیر طارق اویس ہاشمی، دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کے سامنے





رمضان المبارک: توبہ، تقویٰ اور فیضانِ ہاشمی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں زمین پر انوار و تجلیات کی بارش ہوتی ہے اور مومن کا دل اللہ کی یاد سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اس مبارک مہینے کی آمد پر جب ہم اپنے اردگرد روحانی ماحول کا جائزہ لیتے ہیں، تو خانقاہی نظام اور اہل اللہ کی صحبت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

اس حوالے سے جب میں اپنے محترم کزن اور علمی و روحانی شخصیت صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی (برادرِ خورد سجادہ نشین دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ) کی گفتگو سنتا ہوں، تو دل معرفتِ الٰہی سے سرشار ہو جاتا ہے۔ دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کی نسبتوں کا تذکرہ ہو اور خانوادہِ اہل بیتؑ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔

سلسلہِ نسب اور نسبتِ حَسنی

حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا تعلق اس پاکباز لڑی سے ہے جو روحانی طور پر براہِ راست امامِ عالی مقام سیدنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دستِ بیعت اور نقشِ قدم پر ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں ان بزرگوں کی اولاد میں پیدا فرمایا جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ ہمارے بزرگوں کی یہ نسبت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین صرف رسومات کا نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا نام ہے۔

فرمانِ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام:
"بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے عبادت گزار ایسے ہیں جنہیں عبادت سے سوائے بیداری اور تھکن کے کچھ نہیں ملتا۔"

اس قول کی روشنی میں پیر طارق اویس ہاشمی صاحب اکثر یہ فرماتے ہیں کہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ روح کا ہونا چاہیے۔ غیبت، حسد اور کینہ سے پاک دل ہی دراصل رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا ہے۔

کریمِ اہل بیتؑ کی سخاوت کا درس

رمضان سخاوت کا مہینہ ہے اور ہمارے جدِ امجد حضرت امام حسن علیہ السلام "کریمِ اہل بیت" کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپؑ کا فرمان ہے:
"بہترین نیکی یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کی ضرورت کو اس

سفید خون اور سسکتی غیرت: معاشرتی بے حسی کا نوحہ

Safaid Khoon aur Sisakti Ghairat by Peer Intizar Hussain Musawar


سفید خون اور سسکتی غیرت: معاشرتی بے حسی کا نوحہ

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


آج کا دور "نفسی نفسی" کا وہ عالم دکھا رہا ہے جہاں انسانی رشتے اپنی مٹھاس کھو چکے ہیں اور انسان، انسان کا دشمن بن چکا ہے۔ وہ بھائی جو کبھی ایک دوسرے کی ڈھال ہوا کرتے تھے، جن کے درمیان خون کا تقدس دیوار بن کر کھڑا رہتا تھا، آج وہی بھائی جائیداد کے چند ٹکڑوں اور انا کی جھوٹی بھینٹ چڑھ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ لیکن افسوس کہ بات صرف بھائی چارے کی دشمنی تک محدود نہیں رہی، اب تو گھروں کے تقدس اور رشتوں کی پاکیزگی بھی اس معاشرتی زوال کی زد میں آ چکی ہے۔

رشتوں کا زوال اور لرزہ خیز حقیقت

حالیہ دنوں میں رونما ہونے والا وہ لرزہ خیز واقعہ، جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک ماں، جس کے قدموں تلے رب نے جنت رکھی تھی، اس نے اپنے دیور کے ساتھ ناجائز تعلقات کی پردہ پوشی کے لیے اپنی ہی معصوم کلی جیسی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں ہے، بلکہ اس ممتا کا جنازہ ہے جو کبھی کائنات کی سب سے محفوظ پناہ گاہ مانی جاتی تھی۔ جب ہوس اور شیطانیت خون کے مقدس رشتوں پر غالب آ جائے، تو زمین پر ایسے ہی انسانیت سوز واقعات جنم لیتے ہیں۔

ثقافتی یلغار اور میڈیا کا کردار

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اخلاقیات اس نہج پر کیسے پہنچیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ وہ "ثقافتی یلغار" ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام پر شب خون مارا ہے۔ سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال اور خاص طور پر انڈیا کی وہ ویب سیریز، جن کا واحد مقصد فحاشی اور بے حیائی کو "جدیدیت" کا نام دے کر عام کرنا ہے، ہمارے گھروں میں زہر گھول رہی ہیں۔

ان ویب سیریز میں رشتوں کی پامالی، ناجائز تعلقات کو گلیمرائز کرنا اور حیا سوز مناظر نے ہماری نئی نسل اور کمزور ایمان والے افراد کی سوچ کو مسخ کر دیا ہے۔ آج گھر گھر میں وہ "انڈین گند" نظر آ رہا ہے جسے ہم نے ترقی سمجھ کر سینے سے لگا لیا تھا، مگر اب وہی گند ہماری غیرت اور حیا کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

وقت کی پکار

وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی سمت درست کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت، میڈیا کے استعمال پر نظرِ ثانی اور اسلامی اقدار کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی اور اس فحاشی و بے حسی کے خلاف بند نہ باندھا، تو یاد رکھیے کہ یہ "سفید ہوتا خون" ہماری پوری تہذیب کو بہا لے جائے گا اور پیچھے صرف پچھتاوے اور بے نشان قبریں ہی رہ جائیں گی۔


نام: پیر انتظار حسین مصور

حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ: برصغیر کے عظیم تابعی اور دربارِ عالیہ کے حقیقی دستاویزی حقائق | تحقیق: پیر انتظار حسین

 

مزارِ اقدس پر موجود تاریخی کتبہ جس پر تاریخِ شہادت 131 ہجری درج ہے"




برصغیر کے عظیم تابعی: حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ اور تاریخی حقائق

تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تاریخ کے اوراق جب حقائق کی روشنی میں پلٹے جاتے ہیں تو وہ سچائیاں سامنے آتی ہیں جو وقت کی گرد میں چھپ گئی تھیں۔ برصغیر کی روحانی تاریخ کا سب سے قدیم اور معتبر نام حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ (اسمِ گرامی: اسد محمد ابوالفضل) ہے، جنہیں "دیوان چاولی مشائخ" کے لقب سے شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ آپ محض ایک مبلغ نہیں بلکہ اس دھرتی کے وہ عظیم "تابعی رسول" ہیں جن کا روحانی تعلق براہِ راست خلافتِ راشدہ کے مرکز سے جڑا ہوا ہے۔

وارثینِ دربار اور درویشانہ اخلاق

کسی بھی روحانی آستانے کی پہچان اس کے اصل وارثین سے ہوتی ہے۔ دربارِ عالیہ کا نظام اور اس کی سجادہ نشینی صدیوں سے ان کے اصل وارثین اور مسند نشین دیوان پیر غلام مصطفیٰ اویس اور دیوان پیر طارق اویس کے مبارک ہاتھوں میں ہے۔ یہ وہ درویش منش لوگ ہیں جنہیں کسی دنیاوی جاہ و جلال یا گروہ بندی سے کوئی سروکار نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خاندان نے ہمیشہ مخالفت کے جواب میں بھی دعا ہی دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز دور سے لے کر آج تک، جس نے بھی ان کے خلاف سازش کی، وہ خود ہی رسوا ہوا جبکہ یہ آستانہ آج بھی فیض کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تاریخی و دستاویزی حقائق

قدیم قلمی بیاض اور خاندانی ریکارڈ کے مطابق بابا صاحب کی ولادت 30 ہجری میں ہوئی۔ آپ نے محض 6 سال کی عمر میں حضرت امام حسنؓ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی، جو آپ کے "تابعی" ہونے کی مستند ترین دلیل ہے۔ جہاں تک آپ کی شہادت (131ھ) کا تعلق ہے، تو بعض جگہوں پر مہی پال راجاؤں سے اس کا انتساب ملتا ہے، مگر تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ راجہ مہی پال اول بابا صاحب کی شہادت کے 334 سال بعد تخت نشین ہوا۔ یہ ایک علمی نکتہ ہے جو بابا صاحب کی قدامت اور ان کے تابعی مقام کو واضح کرتا ہے۔

عصا مبارک: زمین میں پیوست ایک معجزاتی حقیقت

اس آستانے کی روحانی عظمت کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت وہ عصا مبارک ہے جو حضرت اویس قرنیؒ کی جانب سے بابا صاحب کو عطا ہوا۔ ایک عینی شاہد اور محقق کے طور پر میں نے بچپن سے اب تک اس مقدس عصا کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین میں پیوست ہے اور جس کی ظاہری ہیئت ایک مصلے کی مانند ہے۔ اس پر چڑھی چاندی کی پوشاک زائرین کی اس لامتناہی عقیدت کا اظہار ہے جو صدیوں سے اس خاندان اور آستانے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

1858ء کا عدالتی فیصلہ: وراثتی مہر

قانونی نقطہ نظر سے 14 جولائی 1858ء کا عدالتی فیصلہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اس دربار کی تولیت اور سجادہ نشینی کا حق صرف موجودہ وارثین (اویسیہ خاندان) کے پاس ہے۔ یہ فیصلہ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تمام دعووں کو علمی طور پر رد کرتا ہے جن کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا آستانہ برصغیر کی روحانی تاریخ کا وہ معتبر باب ہے جس کا فیض آج بھی ان کے اصل وارثین کے زیرِ سایہ جاری و ساری ہے۔ سچ وہی ہے جو قدیم بیاض اور تاریخی فائلوں میں محفوظ ہے۔

"رمضان کی آمد اور ضمیروں کا قحط" لکھ دیں۔



رمضان کی آمد اور ضمیروں کا قحط

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ فضاؤں میں تسبیح و مناجات کی گونج ہوگی، مساجد آباد ہوں گی اور نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جائے گا۔ روایات کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سرکش شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنے معاشرے کے معاشی حقائق اور بازاروں کی بے حسی کو دیکھتا ہوں، تو ایک سوال دل میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے کہ "اگر بڑا شیطان قید ہو گیا ہے، تو اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے یہ انسانی روپ میں چیلے چپاٹے کب قید ہوں گے؟"

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

"تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔" (سورۃ المطففین: ۱)

آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم روزہ تو رکھتے ہیں لیکن جھوٹ، ہیرا پھیری اور دوسروں کا حق مارنا نہیں چھوڑتے۔ کیا ہم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ صرف بھوکا پیاسا رہنے سے رب راضی ہو جائے گا؟ حقوق العباد اور دوسروں کے مال پر ناحق قبضے کے حوالے سے ربِ کائنات کا حکم واضح ہے:

"اور تم ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔" (سورۃ البقرہ: ۱۸۸)

ہمیں اس تلخ حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ عبادت صرف ظاہری رسومات کا نام نہیں ہے۔ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، ناپ تول میں ڈنڈی مارتے ہیں اور جھوٹ بول کر مال بیچتے ہیں، تو ایسی عبادات کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

"جس نے (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔" (صحیح بخاری: ۱۹۰۳)

رہی بات ایسی عبادات کی جو قبول نہیں ہوتیں، تو حدیثِ نبوی ﷺ کے مفہوم کے مطابق وہ شخص "مفلس" ہے جو قیامت کے دن نمازیں اور روزے تو لائے گا مگر کسی کا حق مارا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کی نیکیاں حق داروں کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کے پاس کچھ نہ بچے گا۔ مفسرین کے مطابق ایسی ریاکارانہ اور ظالمانہ زندگی کے ساتھ کی گئی عبادات کا انجام رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔

افسوس صد افسوس کہ جیسے ہی ہلالِ رمضان نظر آتا ہے، اس ملک کے "مسلمان تاجر" کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ جو پھل اور اشیائے ضرورت کل تک سستی تھیں، وہ اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ جس مہینے میں دسترخوان وسیع ہونے چاہیے تھے، وہاں سفید پوش طبقے کے لیے افطار کا سامان کرنا ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔

حکمران ہوں یا تاجر، سب کو سوچنا ہوگا کہ یہ مہینہ خود کو بدلنے کا ہے، قیمتیں بدلنے کا نہیں۔ کاش ہم صرف رمضان کے روزے ہی نہ رکھیں، بلکہ اپنے ضمیروں کو بھی بیدار کریں تاکہ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے اور کوئی باپ مہنگائی کے ہاتھوں اپنی غیرت کا جنازہ نہ نکالے۔

دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل: مظلوم شوہروں کی داستان! | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

"قانون کی گرفت سے پہلے، بیگم کے آرڈر کی گرفت: اتوار کی 'بمشقت قید' کا ایک منظر۔"



 کالم کا عنوان: دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

آج کل ٹی وی چینلز کے ٹکرز ہوں یا سوشل میڈیا کی دیواریں، ہر طرف ایک ہی نوید سنائی دے رہی ہے کہ "عورتوں کے تحفظ کا نیا اور کڑا قانون آ گیا"۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کسی مرد نے بیگم کو طلاق کی دھمکی دی، اسے ہراساں کیا یا کسی بھی قسم کا ذہنی دباؤ ڈالا، تو تین سال کے لیے جیل کا مفت ہاسٹل اس کا منتظر ہوگا۔ صاحب، خواتین کے حقوق اور قانون سر آنکھوں پر! لیکن ذرا اس "سنڈے" والے اس مظلوم کا بھی تو سوچیں جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ہی گھر میں 'بمشقت قیدِ تنہائی' کاٹ رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مرد کے لیے تو قانون کی سو دفعات موجود ہیں، لیکن اس "رن مرید" طبقے کا کیا ہوگا جس کی صبح بیگم کی ڈانٹ سے اور رات برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ سے ہوتی ہے؟ وہ بیچارہ شوہر جو شادی سے پہلے دفتر کا "ٹائیگر" ہوا کرتا تھا اور جس کی ایک آواز پر چپراسی تھر تھر کانپتے تھے، اب اتوار کے دن ہاتھ میں وائپر اور سرف کی بالٹی پکڑے کسی "ہوم میڈ" سے کم نظر نہیں آتا۔ جس مرد کی اپنی قمیض کا بٹن ٹوٹ جائے تو وہ پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتا تھا، اب وہی مرد بیگم کے دوپٹوں کو 'نیل' لگا کر صحن میں پھیلاتا ہوا پایا جاتا ہے۔

ستم ظریفی کی حد تو دیکھیے، اب تو "پیکا ایکٹ" (PECA) کی تلوار بھی شوہروں کے سر پر لٹک رہی ہے۔ اگر بیچارے شوہر نے غلطی سے فیس بک پر اپنی مظلومیت کا رونا رو دیا یا بیگم کو واٹس ایپ پر یہ لکھ دیا کہ "آج سالن میں نمک زیادہ ہے"، تو فوراً سائبر ہراسمنٹ اور ذہنی تشدد کی دفعات حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اب تو موبائل فون شوہر کے لیے رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک "ڈیجیٹل ہتھکڑی" بن چکا ہے، جہاں ہر میسج بھیجنے سے پہلے اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ جملہ اسے تین سال کے لیے "سسرال" (جیل) نہ پہنچا دے۔

وہ بیگم جو شادی کے دوسرے ہفتے ہی شوہر کے کان میں 'الگ گھر' کا منتر پھونکتی ہے اور اسے اس کے بوڑھے ماں باپ سے ایسے الگ کرتی ہے جیسے دودھ سے مکھی، اس کے لیے کوئی "پیکا" یا "ویمن ایکٹ" کیوں نہیں؟ ماں باپ سے جدائی کا یہ "سلو پوائزن" کسی جرم کے زمرے میں کیوں نہیں آتا؟ وہ بوڑھے والدین جنہوں نے تپتی دھوپ میں خون پسینہ ایک کر کے بیٹے کو جوان کیا، انہیں ایک "دھمکی" کے بغیر ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، مگر اس پر کوئی انسانی حقوق والا شور نہیں مچاتا۔

آج کے دور کا شوہر وہ قیدی ہے جو اتوار کے دن اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتا۔ صبح نو بجے ہی بیگم کا ایک 'آرڈر' آتا ہے اور صاحبِ بہادر روبوٹ کی طرح کچن اور واشنگ مشین کے درمیان شٹل کاک بن جاتے ہیں۔ محلے بھر کے مردوں کی غیرت کا جنازہ اس وقت نکلتا ہے جب گلی سے گزرتے ہوئے ہر دوسرے گھر سے "رگڑائی اور دھلائی" کی آوازیں آتی ہیں—اور یقین جانیے، یہ آوازیں کپڑوں کی نہیں، شوہروں کی دبی ہوئی چیخوں کی ہوتی ہے۔

حکومتِ وقت سے دست بستہ گزارش ہے کہ جہاں اتنی دفعات بنائی ہیں، وہاں ایک "رن مرید پروٹیکشن بل" بھی لایا جائے۔ جس میں یہ شقیں لازمی شامل ہوں کہ اتوار کے دن شوہر سے زبردستی کپڑے دھلوانا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا جائے اور شوہر کو اس کے سگے ماں باپ سے دور رہنے پر مجبور کرنے والی بیگم کو بھی قانونی کٹہرے میں لایا جائے۔

صاحبو! اگر طلاق کی دھمکی پر تین سال قید ہے، تو بیگم کی طرف سے ملنے والی اس "روزانہ کی مشقت" پر بھی کچھ تو جرمانہ ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ملک کے سارے شادی شدہ مرد تھانے کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہوں گے اور ڈیوٹی آفیسر سے التجا کریں گے: "حوالدار صاحب! خدا کے لیے ہمیں کسی بھی جھوٹے کیس میں اندر کر دیں، کم از کم جیل میں اتوار کو بیگم کے لان کے دوپٹے تو نہیں دھونے پڑیں گے!"

خصوصی نوٹ (Disclaimer):

"یہ تحریر خالصتاً طنز و مزاح کے پیرائے میں لکھی گئی ہے جس کا مقصد معاشرتی رویوں اور حالیہ قانونی تبدیلیوں پر ایک شگفتہ تبصرہ کرنا ہے۔ اس کالم کے ذریعے کسی مخصوص فرد، خاندان یا ادارے کی دل آزاری یا تضحیک مقصود نہیں ہے۔ تحریر میں بیان کردہ خیالات مصنف کی اپنی مشاہداتی اور ادبی رائے پر مبنی ہیں، جنہیں سنجیدہ قانونی بحث کے بجائے محض ایک سماجی آئینے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔"