سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد
ادنیٰ لکھیاری: پیر انتظار حسین مصور
![]() |
| کاروانِ حسینی کی کربلا آمد اور حق و صداقت کے لافانی سفر کا ایک منظر۔ |
تاریخِ اسلام کا یہ وہ خونی اور رقت آمیز باب ہے جسے پڑھتے اور لکھتے ہوئے ہر صاحبِ دل کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور روح کانپ اٹھتی ہے۔ جب نواسہ رسولؐ، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کی پاک دھرتی کو خیرباد کہا، تو آپ کے پیشِ نظر صرف اور صرف امت کی اصلاح، نانا کے دین کا تحفظ اور باطل کے سامنے حق کا علم بلند کرنا تھا۔ مکہ سے روانگی کے وقت آلِ محمدؐ کا یہ مقدس قافلہ جب حجاز کی تپتی ریت اور سنگلاخ پہاڑوں کو پار کرتا ہوا آگے بڑھا، تو صحرا کی ہوائیں بھی اس ستم پر نوحہ کناں تھیں کہ رسولؐ کا کنبہ بے وطنی کے دشت میں سفر کر رہا ہے۔ مگر اس سفر کا سب سے بڑا المیہ اور دردناک پہلو وہ غداری اور بے وفائی تھی جو کوفہ کے سیاسی حالات کی شکل میں آلِ رسولؐ کا انتظار کر رہی تھی۔
کوفہ، جہاں سے خطوط کے انبار لگا کر امامِ عالی مقامؑ کو پکارا گیا تھا، جہاں کے لوگوں نے قسمیں کھا کر آپ کو اپنا ہادی اور رہبر تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہاں ابنِ زیاد کی آمد نے حکومتِ وقت کے جبر، خوف اور لالچ کا ایسا بازار گرم کیا کہ فضا یکسر بدل گئی۔ لوگ اپنی بیعت اور وعدوں سے ایسے پھرے کہ انسانیت شرمساڑ ہو گئی۔ امامؑ کے مظلوم سفیر، حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام، جو کوفہ میں آپ کے نمائندے تھے، انہیں کوفہ کی اندھیری اور تپتی گلیوں میں اس طرح تنہا کر دیا گیا کہ رسولؐ کے اس سچے اور وفادار جاں نثار کے لیے کسی ایک گھر کا دروازہ نہ کھلا۔ پیاس کی شدت، اجنبی شہر کی تنہائی اور بیوفا لوگوں کے ہجوم میں، حضرت مسلم بن عقیلؑ نے انتہائی کسمپرسی اور مظلومانہ حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ رسولؐ کے اس سچے جاں نثار کا یہ مظلومانہ خون تاریخ کا وہ پہلا بڑا صدمہ تھا جس نے آنے والے ہولناک مصائب کا پتا دیا۔
امام عالی مقامؑ ابھی راستے میں ہی سفر طے کر رہے تھے کہ آپ کو اپنے پیارے بھائی حضرت مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کی یہ اندوہناک اور روح فرسا خبر ملی۔ اس خبر کا ملنا تھا کہ پورے قافلے میں رنج و غم کی ایک گہری لہر دوڑ گئی اور مخدراتِ عصمت سوگوار ہو گئیں۔ خانوادۂ رسالت میں صفِ ماتم بچھ گئی، مگر قربان جائیے اس صبرِ حسینی پر، جس نے اس عظیم اور کمر توڑ دینے والے صدمے پر بھی الٰہی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا، اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا اور حق و صداقت کے اس کٹھن سفر کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ حسینی قافلے مصائب سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹا کرتے۔
سفر کے مصائب ابھی کم نہ ہوئے تھے کہ مقامِ عذیب الہیجانات پر حر بن یزید ریاحی کے ایک ہزار سواروں کے لشکر نے امامؑ کا راستہ روک لیا۔ حر کا یہ لشکر شدید تپش اور پیاس سے نڈھال تھا۔ مولا حسین پاکؑ نے اپنی خاندانی سخاوت اور عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف حر اور اس کے پورے لشکر کو پانی پلایا، بلکہ ان کے گھوڑوں کو بھی سیراب کیا۔ اس کے بعد امامِ عالی مقامؑ اور حر کے درمیان ایک تاریخی مکالمہ ہوا۔ امامؑ نے حر اور اس کے لشکر سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اے لوگو! میں تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آیا جب تک تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس نہیں پہنچے۔ اگر تم اب بھی اپنے عہد پر قائم ہو تو میں تمہارے شہر چلنے کو تیار ہوں، اور اگر تم میری آمد کو ناپسند کرتے ہو تو میں وہیں واپس لوٹ جاتا ہوں جہاں سے آیا ہوں"۔
حر بن یزید ریاحی نے ادب سے سر جھکایا لیکن اپنی سرکاری مجبوری ظاہر کرتے ہوئے کہا: "اے فرزندِ رسولؐ! مجھے ان خطوط کا علم نہیں۔ مجھے عبیداللہ ابنِ زیاد کا سخت حکم ہے کہ میں آپ سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ آپ کو کوفہ میں اس کے سامنے پیش کر دوں"۔ اس پر امام عالی مقامؑ نے غیرتِ ہاشمی کے ساتھ فرمایا: "خدا کی قسم! یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ موت تمہارے اس ارادے سے زیادہ میرے قریب ہے"۔ جنگ کی تلخی سے بچنے کے لیے حر نے ایک درمیانی راستہ تجویز کیا کہ آپ ایسا راستہ اختیار کیجیے جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ ہی مدینہ واپس لوٹتا ہو، تاکہ میں ابنِ زیاد کو جواب دے سکوں۔ حر نے کہا: "میں نہیں چاہتا کہ آپ کے معاملے میں کوئی ایسی آزمائش آئے جس سے میرے ہاتھ آلِ رسولؐ کے خون سے رنگے جائیں"۔
اسی فیصلے کے تحت کاروانِ حسینی آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ 2 محرم الحرام 61 ہجری کو یہ مقدس قافلہ کربلا کی تپتی ہوئی مٹی پر پہنچا۔ معتبر روایات میں آتا ہے کہ جب امامؑ کا گھوڑا وہاں پہنچ کر رک گیا اور تمام تر کوششوں کے باوجود آگے نہ بڑھا، تو آپؑ نے وہاں کی مٹی کو ہاتھ میں لے کر سونگھا اور درد بھری آواز میں فرمایا: "یہ کرب اور بلا کی زمین ہے، یہی ہمارے خیمے لگیں گے، یہی ہمارے جانثاروں کے خون بہیں گے اور یہی ہماری شہادت گاہ ہے"۔
کربلا کی زمین پر خیمے لگتے ہی آلِ رسولؐ پر امتحانات کا وہ ہولناک دور شروع ہوا جس کا تصور ہی دل کو دہلا دیتا ہے۔ تپتا ہوا صحرا، گرم ہوائیں اور خیموں میں معصوم بچوں کی پیاس نے آلِ عبا کا امتحان لینا شروع کر دیا۔ حر بن یزید ریاحی جو اب تک یزیدی لشکر کا ایک کمانڈر تھا، جب اس نے دیکھا کہ حق کے اس قافلے پر پانی بند کر دیا گیا ہے اور نواسہ رسولؐ کو سر تسلیم خم نہ کرنے پر شہید کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، تو اس کے ضمیر نے جھنجھوڑا۔ حر نے محسوس کر لیا کہ ایک طرف دنیا کا مال و عہدہ ہے اور دوسری طرف جہنم کی آگ۔ بالآخر 10 محرم کی صبح، حر نے اقتدار اور لالچ کی زنجیروں کو توڑ پھینکا اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے حسینی خیموں کی طرف آ گیا۔ حر نے روتے ہوئے مولا حسین پاکؑ کے قدموں میں سر رکھ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ کریم امامؑ نے نہ صرف اسے معاف کیا، بلکہ اسے گلے سے لگا کر 'حر' (آزاد) کا خطاب دیا۔ حر حسینی قافلے میں شامل ہو کر حق کی طرف سے لڑے اور سب سے پہلے شہیدوں میں اپنا نام لکھوا کر ابدی سرخروئی حاصل کر گئے۔
مولا حسین پاک کی یہ عظیم قربانی اور حر کا حسینی کاروان میں شامل ہونا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جب دینِ اسلام پر وقت آ جائے، جب اصولوں اور سچائی کا سودا ہونے لگے، تو اقتدار اور کثرت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہی اصل بندگی ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی نے ثابت کر دیا کہ زندگی صرف سانسیں لینے کا نام نہیں بلکہ حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے۔ باطل نے سمجھا تھا کہ وہ نواسہ رسولؐ کو شہید کر کے حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دے گا، لیکن تاریخ نے دیکھا کہ فتح کس کی ہوئی۔
مٹ گئے حسینؑ کو مٹانے والے، حسینؑ آج بھی زندہ ہے، حسینؑ کل بھی زندہ تھا اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ یزید اور اس کا ظلم تاریخ کے کوڑے دان میں سڑ گئے، لیکن مولا حسینؑ کا نام, ان کا ذکر اور ان کا اسوہ کائنات کے ہر حریت پسند کے دل میں روشنی بن کر چمک رہا ہے۔
حوالہ جات (References):
- الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم والملوک (تاریخ الطبری)، ذکرِ حوادثِ سنہ 60 اور 61 ہجری، (مکالمہ امام حسینؑ و حر بن یزید ریاحی)۔
- ابنِ اثیر، عز الدین علی، الکامل فی التاریخ، جلد نمبر 4، مطبوعہ دار الکتاب العربی، بیروت۔ (تفصیلِ احوالِ کوفہ و شہادتِ حضرت مسلم بن عقیلؑ)۔
- ابنِ کثیر، عماد الدین اسماعیل، البدایہ والنہایہ، جلد نمبر 8، (آمدِ کاروانِ حسینی بمقامِ کربلا)۔
- بلاذری، احمد بن یحییٰ، انساب الاشراف، جلد نمبر 3، مطبوعہ دار الفکر، بیروت۔ (تفصیلِ تذکرہ حر بن یزید ریاحی و استقامتِ حسینی)۔





















