بجلی کا بل، چینی کا بحران اور سسکتا ہوا غریب: بکھرتی معیشت کے تلخ حقائق

بڑھتی مہنگائی، بجلی کے بھاری بل اور آٹے چینی کے بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر - تحریر پیر انتظار حسین مصور"



 بجلی کا بل، چینی کا بحران اور سسکتا ہوا غریب: بکھرتی معیشت کے تلخ حقائق

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پچھلے دنوں جب میں نے "پچاس کا نوٹ، ٹوٹتا ہوا خواب اور بکھرتی معیشت" کے عنوان سے اپنے دل کی بھڑاس نکالی، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ دکھ اس مٹی کے ہر باسی کا ہے۔ اس تحریر کو ملنے والی بے پناہ پذیرائی اور لوگوں کی دلچسپی نے یہ ثابت کر دیا کہ آج کا عام آدمی لفظوں کی جادوگری کا پیاسا نہیں، بلکہ وہ اپنے دکھوں کی سچی زبان تلاش کر رہا ہے۔

بجلی کا بل: ایک ہیبت ناک سایہ

سچ تو یہ ہے کہ اب غریب کے گھر میں چراغ نہیں جلتے، بلکہ "بجلی کے بل" کی صورت میں ایک ہیبت ناک سایہ ہر ماہ اس کی دہلیز پر دستک دیتا ہے۔ وہ بجلی جو کبھی زندگی کی علامت تھی، اب ایک عذاب بن کر غریب کی جیب پر شب خون مار رہی ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں، "مصور صاحب! آپ تو لفظوں سے گلدستے بناتے ہیں، اس مہنگائی کی آگ کو کوئی ٹھنڈا سا عنوان کیوں نہیں دیتے؟" مگر میں سوچتا ہوں کہ جب چولہے ٹھنڈے ہو جائیں اور بچوں کی آنکھوں میں حسرتیں رقص کرنے لگیں، تو لفظوں کی خوشبو کس کا پیٹ بھرے گی؟

آٹا اور چینی: مل مالکان کی من مانی

ستم بالائے ستم یہ کہ ابھی ہم بجلی کے بلوں کے صدمے سے سنبھلے نہ تھے کہ آٹے اور چینی کی قلت نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ عجیب تماشہ ہے، جیسے ہی مل مالکان نے ریٹ بڑھانے کا اشارہ دیا، دیکھتے ہی دیکھتے فی کلو چینی پر 10 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ آٹا جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اب وہ بھی غریب کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان اور سونے کی چمک تو بڑے لوگوں کے قصے ہیں، یہاں تو دو وقت کی روٹی اور چینی کے چند دانوں کے لیے غریب کا دم نکل رہا ہے۔ اب غریب جائے تو کہاں جائے؟ کیا وہ بجلی کا بل بھرے یا اپنے بچوں کے لیے آٹا اور چینی خریدے؟

سولر پینل: ایک مجبور خواب

آج کے دور میں معیشت کا گورکھ دھندا سمجھنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی۔ لوگ اب مایوسی کے عالم میں انٹرنیٹ پر سولر پینلز کی قیمتیں تلاش کر رہے ہیں تاکہ سورج کی تپش کو اپنے بچوں کے سکون میں بدل سکیں۔ لیکن اس دیہاڑی دار کا کیا ہوگا جس کی کل کائنات وہ "پچاس کا نوٹ" ہے جس کی اوقات اب کاغذ کے ایک ردی ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہی؟ معیشت کے اس بگڑتے رنگ نے ہمارے معاشرے سے نرمی اور لہجوں سے مٹھاس چھین لی ہے۔

درویشانہ مشورہ اور اختتام

میں کوئی بہت بڑا ادیب یا دانشور نہیں، بس ایک عام سا طالب علم ہوں جو معاشرے کی تپش کو اپنے لفظوں میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں سیکھ رہا ہوں کہ کیسے ان بکھرتے خوابوں کو مالا میں پونا ہے اور کیسے اس سخت ہوتی دنیا میں اپنی درویشی کو بچا کر رکھنا ہے۔

حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ جب عوام کو "روٹی" اور "بجلی کے بل" میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ جائے، تو وہاں سے معاشرتی بگاڑ شروع ہوتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں وہ دن دکھائے جب غریب کی تھالی میں سکون کی روٹی لوٹا دی جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...