Viral Video Ka Sach - وائرل ویڈیو کا سچ اور معاشرتی بے حسی

 

وائرل ویڈیو کا سچ اور معاشرتی بے حسی



وائرل ویڈیو کا سچ

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم کی چھاپ)

شہر کی روشن سڑک پر ٹریفک کا شور تھا یا شاید انسانی بے حسی کا ماتم، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اپنی جیب سے موبائل نکالا تو سکرین پر نوٹیفیکیشنز کا ایک طوفان برپا تھا۔ 'ٹرینڈنگ' کی فہرست میں ایک ایسی ویڈیو سرچ کی جا رہی تھی جس کا عنوان عریانیت اور فحاشی سے لبریز تھا۔ کروڑوں لوگ، جی ہاں! کروڑوں انگلیاں ایک ہی وقت میں اس شیطانی کھیل کو دیکھنے کے لیے سکرینوں پر رقص کر رہی تھیں۔ انٹرنیٹ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور لکھنے والے فخر سے بتا رہے تھے کہ آج اس واہیات موضوع نے سرچ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

میں اسی ڈیجیٹل گندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اچانک ایک لرزتی ہوئی صدا نے میرے قدم روک لیے۔

"صاحب! میرے بچے کل سے بھوکے ہیں۔۔۔"

میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ سامنے سڑک کے عین بیچوں بیچ ایک عورت کھڑی تھی۔ اس کے میلے آنچل سے دو معصوم زندگیاں لپٹی ہوئی تھیں جن کی آنکھوں میں بھوک کی زردی اتری ہوئی تھی۔ وہ ماں ہاتھ پھیلا رہی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خودداری تھی جو سوال کر رہی تھی کہ کیا اس بھیڑ میں کوئی ایک بھی انسان ایسا ہے جس کی نظر اس کی مجبوری پر پڑ سکے؟

میرے قریب سے ایک نوجوان گزرا، اس کے کانوں میں ہیڈ فون لگے تھے اور وہ موبائل کی سکرین دیکھتے ہوئے بے ہودہ قہقہہ لگا رہا تھا۔ وہی ویڈیو اس کے موبائل پر بھی چل رہی تھی۔ اس عورت نے ایک بار پھر لرزتی آواز میں کہا: "صاحب! یہ لوگ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کیا ان کی مشینوں میں میرے بچوں کے نصیب کی روٹی نہیں دکھتی؟"

میرا جی چاہا کہ میں بھی اپنا موبائل نکالوں اور اس کی بے بسی کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ کے اس تماش گاہ میں پھینک دوں، مگر میری خودداری نے میرے ہاتھ پکڑ لیے۔ کیا میں بھی ان کی طرح اس کی ممتا کی تذلیل کروں؟ کیا میں اس کے آنسوؤں کو 'لائیکس' اور 'شیئرز' کے ترازو میں تولوں؟ نہیں۔ میرا ضمیر چیخ اٹھا کہ پیر انتظار، تیرا قلم اس لیے نہیں کہ تو کسی کی مجبوری کا اشتہار بنائے۔

میں نے دیکھا کہ اس ماں کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور سیدھا اس کے بچے کے سوکھے گال پر جا گرا۔ وہ آنسو نہیں تھا، وہ ایک مٹتی ہوئی انسانیت کا نوحہ تھا۔ اس کے بچے نے بھوک کی شدت سے ماں کی خالی چھاتی میں اپنا منہ چھپا لیا تھا، جیسے وہ اس بے حس دنیا سے چھپنے کی کوشش کر رہا ہو۔

میں نے اپنی جیب سے وہ سب کچھ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا جو میری بساط میں تھا، مگر میرے دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ وہ عورت دعائیں دیتی ہوئی اندھیرے میں اوجھل ہو گئی، لیکن میرے کانوں میں اب بھی وہی ایک سوال گونج رہا تھا:

"جب کروڑوں لوگ فحاشی سرچ کر رہے ہوتے ہیں، تو کیا کسی ایک کا سرچ انجن بھی اللہ کی اس مخلوق کے دکھ تک نہیں پہنچتا؟"

میں نے اپنا موبائل بند کیا اور قلم سنبھال لیا۔ آج میں نے ویڈیو نہیں بنائی تھی، بلکہ اپنے آنسوؤں سے وہ سچ لکھا تھا جو شاید کبھی 'ٹاپ ٹرینڈ' نہ بنے، مگر روزِ محشر گواہی ضرور دے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...