: "تاریخ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمدؒ اور شجرہِ دیوان کی حقیقت | تحریر پیر انتظار حسین مصور شاہ"

 

"تاریخ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمد اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی"

ساداتِ ہاشمیہ کا علمی ورثہ اور 'شجرۂ دیوان' کی تاریخی حقیقت

تحریر: پیر انتظار حسین مصور شاہ

شعبان المعظم کا مہینہ اپنی تمام تر روحانی تجلیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہے، جو اہل ایمان کو رمضان المبارک کے عظیم الشان استقبال کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کی نسبت آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہے، اور اسی نسبت سے یہ وقت اپنے اسلاف کی تاریخ، علمی ورثے کی حفاظت اور نسبِ مطہر کی معرفت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

گزشتہ روز اسی حوالے سے میری ایک طویل علمی و روحانی نشست اپنے عزیز کزن صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی صاحب کے ساتھ ہوئی، جو ساداتِ ہاشمیہ کے اس درخشاں سلسلے کے چشم و چراغ ہیں جس کی جڑیں براہِ راست خاندانِ رسالت ﷺ سے پیوست ہیں۔

اس نشست کا بنیادی محور صاحبزادہ صاحب کی زیرِ تکمیل تصنیف "شجرۂ دیوان" تھا۔ یہ کتاب محض ایک تالیف نہیں بلکہ علم و عرفان اور سیادت کی اس میراث کی ایک جامع تاریخی دستاویز ہے جو صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ان تاریخی حقائق کو روشن کرتی ہے جو گردِ ایام کی وجہ سے اوجھل ہو چکے تھے، اور ان عناصر کے لیے ایک مدلل علمی جواب ہے جو خود کو ناحق اس عظیم روحانی آستانے (دربارِ عالیہ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمدؒ) سے منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی صاحب نے اپنی تحقیق کے ذریعے ان لوگوں کی علمی گرفت کی ہے جو تاریخ کو مسخ کر کے خود کو دربارِ عالیہ کا حصہ بتاتے ہیں۔ "شجرۂ دیوان" میں خاص طور پر ان تاریخی مغالطوں کی تصحیح کی گئی ہے جو قوم ڈھڈی، ویسر، کمبوہ اور تجوانہ کے حوالے سے معاشرے میں پھیلائے گئے۔ یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ نسب میں تحریف کرنا علمی و اخلاقی خیانت ہے، اور حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

اس شجرۂ مطہرہ کی عظمت کا اندازہ صاحبزادہ صاحب کے نسب نامہ پدری سے لگایا جا سکتا ہے، جو بابا حاجی شیر دیوان شہیدؒ سے ہوتا ہوا سیدنا ابوالفضل عباس بن عبدالمطلب اور ہاشم بن عبد مناف تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح آپ کا نسب نامہ والده ماجدہ (اُمّ فاطمہ) اور اہلیہ محترمہ (اُمّ صفیہ) کی جانب سے بھی ساداتِ ہاشمیہ اور قریشی خاندانوں کے معتبر سلسلوں سے جڑا ہوا ہے، جو آپ کی جلالتِ قدر کا بین ثبوت ہے۔

بحیثیتِ خاندان کے ایک فرد، میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ موجودہ دور میں سجادہ نشین دیوان پیر غلام اویس مصطفیٰ صاحب کی سرپرستی اور صاحبزادہ پیر طارق اویس کی علمی مساعی سے یہ خاندان نہ صرف روحانی فیض بانٹ رہا ہے، بلکہ اپنے اسلاف کے نظریات کی بھی بھرپور حفاظت کر رہا ہے۔ صاحبزادہ صاحب کی شخصیت اسلافِ کرام کی زندہ تصویر ہے، جن کی علمی و روحانی رہبری آنے والی نسلوں کے لیے نورِ ہدایت کا کام کرے گی۔

دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس علمی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ساداتِ ہاشمیہ کا یہ سایۂ عاطفت ہم پر ہمیشہ قائم رہے۔ آمین یا ربَّ العالمین!

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...