![]() |
| "پاکستان کا قدیم پچاس روپے کا نوٹ جس پر اردو اور بنگالی تحریر درج ہے" |
پچاس کا نوٹ، ٹوٹتا ہوا خواب اور بکھرتی معیشت
ایک تصویر اور یادوں کا ہجوم
آج جب فیس بک کی دیوار پر پچاس روپے کا وہ قدیم نوٹ دیکھا جس پر اردو کے ساتھ بنگالی حروف درج تھے، تو دل ایک عجیب سی کیفیت میں گھر گیا۔ یہ محض پرانی کرنسی کی تصویر نہیں ہے، بلکہ یہ اس دور کا نوحہ ہے جب ہم متحد تھے، جب ہمارا روپیہ دنیا میں اپنی پہچان رکھتا تھا اور جب مشرقی پاکستان (ہمارا بھائی ملک بنگلہ دیش) ہماری طاقت کا ایک بازو تھا۔ اس نوٹ کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے وہ سنہرا دور کیسے کھو دیا اور آج ہم کس دوراہے پر کھڑے ہیں؟
خوشحالی کا وہ سنہرا دور اور روپے کی طاقت
اس دور میں پاکستان کی معیشت ایشیا کے لیے ایک مثال تھی۔ امریکی ڈالر کی قیمت محض چند روپے تھی اور عام آدمی کی جیب میں موجود یہ پچاس روپے کا نوٹ کسی خزانے سے کم نہ تھا۔ اس وقت ایک روپے کی اتنی برکت تھی کہ اس میں پورے گھر کا راشن آ جاتا تھا۔ اگر سونے کے موازنے کی بات کی جائے تو اس نوٹ میں ایک چوتھائی (پاؤ) تولہ سونا خریدا جا سکتا تھا، جس کی قیمت آج ساٹھ ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ تب غربت تو تھی مگر خودداری زندہ تھی۔
تقسیم کی سازش اور معیشت پر وار
یہ نوٹ ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ سازشوں کے ذریعے ہمیں کیسے بانٹا گیا۔ ہماری معیشت کو تباہ کرنے کے لیے پہلے ہمیں سیاسی اور جغرافیائی طور پر کمزور کیا گیا۔ وہ بازو جو ہماری صنعت اور تجارت کا مرکز تھا، اسے ہم سے جدا کر دیا گیا۔ یہ صرف زمین کا بٹوارا نہیں تھا بلکہ یہ ہماری معاشی ریڑھ کی ہڈی پر وار تھا۔ اس تقسیم نے ہمیں وہ زخم دیے جو آج بھی مہنگائی اور معاشی بدحالی کی صورت میں رس رہے ہیں۔
تباہی کا سفر: سپر پاور سے قرضوں کے بوجھ تک
ہم ایک ایسی سپر پاور بننے جا رہے تھے جس کا سکہ عالمی منڈیوں میں چلتا تھا۔ لیکن ہم نے اپنوں کی نادانیوں اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے اپنی معیشت کا جنازہ نکلتے دیکھا۔ ڈالر کی دوڑ نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ آج کا روپیہ اپنی قدر کھو چکا ہے۔ پہلے ہم دنیا کو قرض دیتے تھے، آج ہم قرض کی قسطیں چکانے کے لیے مزید قرض لیتے ہیں۔ یہ کیسی ترقی ہے جس نے ہمیں اپنی ہی زمین پر اجنبی بنا دیا؟
حاصلِ کلام: کیا ہم اب بھی نہیں جاگیں گے؟
آج ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ ہم نے حقائق سے آنکھیں موند لی ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ہماری اصل طاقت اتحاد اور خودداری میں تھی۔ بنگلہ دیش آج معاشی طور پر ترقی کر رہا ہے اور ہم اب بھی ماضی کے قصوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ نوٹ ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ جاگو! اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں دوبارہ اسی سچائی اور ایمانداری کی طرف لوٹنا ہوگا جس نے کبھی ہمیں عظیم بنایا تھا۔
تحریر ۔پیر انتظار حسین مصور

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں