ٹائٹل: > ایک عظیم ستارہ جو ڈوب گیا: جاوید محمود کی درویشی اور میری آخری ملاقات | تحریر: پیر انتظار حسین مصور


 

ایک یادگار ملاقات: پیر انتظار حسین مصور، سابق چیف سیکرٹری جاوید محمود صاحب کے ہمراہ۔






اقتدار کے ایوانوں سے "روشن بھیلا" کی گلیوں تک: جاوید محمود کی درویشی اور میری آخری ملاقات
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
"تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد، تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد"
پاکستان کی بیوروکریسی کے آسمان پر ایک عظیم ستارہ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، مگر افسوس کہ وہ ستارہ اب ڈوب چکا ہے۔ جاوید محمود صرف ایک نام نہیں، بلکہ سچائی اور درویشی کی ایک روشن مثال تھے۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری جیسے بلند ترین عہدوں پر فائز رہنے والے اس انسان کا دل ہمیشہ اپنی مٹی اور غریب کے بچے کے لیے دھڑکتا رہا۔ آج ان کے بچھڑنے پر دل بس یہی کہتا ہے کہ ہم نے ایک مخلص ہیرا کھو دیا ہے۔
عاجزی کا وہ پیکر: "مجھے خان نہ کہو"
جاوید محمود صاحب کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ جب بھی میں انہیں ان کے پورے نام "جاوید محمود خان صاحب" سے مخاطب کرتا، تو وہ فوراً ٹوک دیتے۔ محبت بھرے غصے میں کہتے:
"یار! میں خان نہیں ہوں، بس جاوید محمود ہی کہا کرو۔ اور یہ 'صاحب' کہنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"
جس معاشرے میں لوگ عہدوں اور القابات کے پیچھے بھاگتے ہوں، وہاں ایک سابق چیف سیکرٹری کا خود کو القابات سے دور رکھنا ان کی بلند کرداری اور خودداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
روشن پاکستان: بچوں کے مستقبل کی فکر
انہوں نے جب اپنی سیاسی جماعت "روشن پاکستان" کی بنیاد رکھی، تو ان کا انداز روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف تھا۔ وہ کسی بڑے جلسے یا شاہانہ پروٹوکول کے قائل نہ تھے۔ وہ اپنی گاڑی پر خود لاؤڈ سپیکر لگا کر شہر کی گلیوں اور کوچوں سے گزرتے اور خود ہی اپنی پارٹی کا منشور بیان کرتے۔ ان کی زبان پر ایک ہی فکر ہوتی:
"یار! مجھے تمہارے ووٹ کی ضرورت نہیں، مجھے تمہارے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔ اپنے بچوں کی خاطر میرا ساتھ دو۔ میں چاہتا ہوں کہ امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی طرح تعلیم حاصل کرے۔"
روشن بھیلا اور عوامی خدمت
جاوید محمود کا تعلق ضلع قصور کے گاؤں روشن بھیلا سے تھا۔ انہوں نے اپنی جڑوں سے جڑ کر ثابت کیا کہ اصل خدمت کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک عظیم الشان ہسپتال بنوایا تاکہ غریبوں کو علاج کے لیے شہروں کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ اس کے علاوہ قصور کے ریلوے اسٹیشن کے آس پاس انہوں نے جو خوبصورت پارکس بنوائے، وہ آج بھی اپنی خوبصورتی سے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔
وہ آخری چائے اور بچھڑنے کا دکھ
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب انہوں نے مجھے فارم ہاؤس پر چائے کی دعوت دی۔ میں نے پوچھا کہ "سر! میٹھا کس خوشی میں ہے؟" تو انہوں نے وہی جملہ کہا جو آج ایک گہرا زخم دے جاتا ہے:
"یار! زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ دل کیا تمہیں بلاؤں اور ڈھیر ساری باتیں کروں۔ چائے تو ایک بہانہ ہے۔ ویسے بھی تم نے چلے جانا ہے، پھر تم نے کب ٹائم دینا ہے؟"
وہ چائے، بسکٹ اور لذیذ سویا دودھ سے ہونے والی تواضع دراصل ایک الوداعی ملاقات تھی۔ جب ان کی وفات کی خبر ملی، تو گویا وقت تھم گیا۔ میرا وہ مخلص دوست جو ہمیشہ سچائی کا علم بلند رکھتا تھا، خاموشی سے مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گیا۔
عظیم ستارے کبھی مرتے نہیں، وہ اپنی نیکیوں، اپنے لگائے ہوئے درختوں اور اپنے بنائے ہوئے ہسپتالوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ:
"تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد، تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد"
اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
ازقلم: پیر انتظار حسین مصور


کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...