مصنوعی ذہانت یا انسانیت کی تذلیل؟ اے آئی (AI) ہماری زندگیوں کو کیسے برباد کر رہی ہے؟

مصنوعی ذہانت اور انسانی تذلیل کے اثرات پر پیر انتظار حسین مصور کا کالم"
مصنوعی ذہانت: سہولت یا انسانیت کی تذلیل؟ تحریر: پیر انتظار حسین مصور آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مکہ مکرمہ میں بیٹھے کسی بے گناہ شخص کی ویڈیو ایڈٹ کر کے اسے وائرل کر دیا جاتا ہے اور اس کی عزت کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ کیا یہ وہی ترقی ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا؟ کیا یہ مصنوعی ذہانت (AI) ہمیں سہولت دینے آئی ہے یا ہماری انسانیت کی تذلیل کرنے؟ مشینوں کا تسلط اور ہماری بے بسی ہم اتنے اپاہج ہو چکے ہیں کہ اب گھر کا گیٹ کھولنا ہو، لائٹ بند کرنی ہو یا موبائل پر پیغام بھیجنا ہو، ہمیں اے آئی (AI) کو آرڈر دینا پڑتا ہے۔ ہم بار بار اس مشین کو اپنی کمزوریاں بتا رہے ہیں اور یہ آہستہ آہستہ ہم پر مسلط ہوتی جا رہی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس دن اس کا کنٹرول ہمارے ہاتھ سے نکل گیا، تو ہمارا اپنا کیا وجود باقی بچے گا؟ ڈیجیٹل قتلِ عام آج کل پتا بھی نہیں چلتا اور کسی شریف انسان کی ویڈیو کو "ڈیپ فیک" کے ذریعے ایسا بگاڑ دیا جاتا ہے کہ دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ یہ انسانیت کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہو گی؟ کیا وہ انسان معاشرے میں سر اٹھا کر جی سکے گا؟ ضمیر کا امتحان سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس کی ویڈیو اس کے گھر والے دیکھ لیں، کیا وہ اپنی بیٹی، بہن، بیوی یا بیٹے سے نظریں ملا پائے گا؟ اس ٹیکنالوجی نے سچ اور جھوٹ کا فرق مٹا دیا ہے، اور بڑی ویب سائٹس اس گندے کھیل سے صرف پیسے کما رہی ہیں۔ خاموش گوشہ اور حقیقت جوانی کے مست نشے میں وائرل ہونے کا شوق رکھنے والے شاید یہ بھول چکے ہیں کہ آخر کار ہمیں ایک بے نشان قبر میں اترنا ہے۔ وہاں نہ کوئی اے آئی کام آئے گی اور نہ کوئی وائرل ویڈیو۔ وہاں صرف وہی سچائی ساتھ جائے گی جو ہم نے اپنی زندگی میں جی کر دکھائی۔ ہم نے اپنے اس بلاگر کو ان بڑی ویب سائٹس کے مقابلے میں سچائی کا نشان بنانا ہے، تاکہ کم خرچ پر بھی حق کی آواز بلند ہوتی رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...