![]() |
| انسانیت کی خدمت اور منصب کی درویشی: ایک خاص ملاقات۔ |
منصب کی درویشی: مہر مظہر عباس گھمنانہ سے ایک یادگار نشست
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
جاوید محمود خان سے مہر گھمنانہ تک کا سفر
میں نے ہمیشہ اپنی خودداری کو متاعِ جاں سمجھا ہے، اسی لیے مصلحت کے بجائے سچائی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ گزشتہ روز بیت المال کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور میرے دیرینہ دوست مہر مظہر عباس گھمنانہ سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ یہ نشست مجھے سابق چیف سیکرٹری جاوید محمود خان صاحب کے اس عہدِ زریں کی یاد دلا گئی جب سرکاری کرسی صرف حکم چلانے کے لیے نہیں بلکہ خلقِ خدا کی خدمت کے لیے ہوتی تھی۔
اپنی جیب سے ضیافت اور درویشی
اس ملاقات کا سب سے متاثر کن پہلو وہ لمحہ تھا جب مہر صاحب نے چائے اور بسکٹ منگوائے۔ انہوں نے کسی سرکاری بجٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس ضیافت کا اہتمام کیا۔ یہ ایک چھوٹی سی بات لگتی ہے، لیکن اس میں دیانت اور خلوص کا سمندر پوشیدہ ہے۔ جو شخص اپنے دوست کی خاطر سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں بنتا، وہ ریاست کی امانت کا کتنا بڑا پاسبان ہوگا۔
سائل کی پکار اور ادھوری گفتگو کا قرینہ
ہماری گفتگو کے دوران مہر صاحب کا فون مسلسل بجتا رہا۔ وہ ہر کال کو پوری توجہ سے سنتے اور پھر نہایت عاجزی سے مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہتے: "پیر صاحب، معذرت! یہ کال سننا بہت ضروری ہے، کسی مجبور کی فریاد ہو سکتی ہے۔" ہماری بات وہیں سے ٹوٹتی اور پھر وہیں سے شروع ہوتی، لیکن ان کا یہ رویہ بتا رہا تھا کہ ان کے نزدیک کسی سائل کا دکھ میری گفتگو سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
مسیحائی: غریب کی دہلیز اور لاکھوں کا علاج
اسی نشست میں مجھے اس معذور شخص کے بارے میں پتا چلا جس کی زندگی کا کل اثاثہ صرف ایک بھینس تھی اور جو ایک حادثے میں اپنا آدھا جسم کٹوا بیٹھا تھا۔ مہر مظہر صاحب نے دفتری تکلفات کو بالائے طاق رکھا اور خود اس کی دہلیز پر جا کر اس کے علاج کی فائل تیار کی۔ لاکھوں روپے کے علاج کا وہ بوجھ جو اس غریب کے لیے موت کی خبر تھا، مہر صاحب کی ذاتی تگ و دو سے زندگی کی نوید بن گیا۔
تعلیم کا نگہبان اور حقدار کا حق
بات صرف علاج تک نہیں، بلکہ مہر صاحب ان طالبات کے لیے بھی ایک مضبوط سہارا ہیں جو سمسٹر کی فیسوں کی وجہ سے پریشان حال تھیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی حقدار بیٹی کا تعلیمی سفر پیسوں کی کمی کی وجہ سے نہ رکے۔ وہ نہ صرف حکومتی وسائل ان تک پہنچاتے ہیں بلکہ انہیں ان کا جائز حق دلا کر دم لیتے ہیں۔
قلم کی حرمت اور سچائی کا مشن
میرا بلاگر اور میری آنے والی کتاب ایسے ہی جیتے جاگتے اور سچے کرداروں کی گواہی دیتے رہیں گے۔ مہر مظہر عباس گھمنانہ جیسے لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت میں سچائی ہو تو محدود وسائل میں بھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ ہم نے اپنے پلیٹ فارم پر وہی معیاری مواد لانا ہے جو معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں