سچ کا حصار: حاصل پور کا روحانی سفر اور درویشی کی اصل پہچان | پیر انتظار حسین مصور

میراثِ فقر: جہاں مادی جائیدادیں نہیں، بلکہ کردار کی خوشبو اور سچائی کی وراثت زندہ ہے۔"
۔ 📜 سچ کا حصار: حاصل پور کا وہ پراسرار سفر اور ابدی وراثت تحریر: پیر انتظار حسین مصور وہ شام مجھے کبھی نہیں بھولے گی جب ہیڈ اسلام کی لہروں کو پار کرتے ہوئے ہم حاصل پور کی حدود میں داخل ہوئے۔ ملک اسلام اپنی ہارویسٹر کے وزٹ کے لیے بہت پرجوش تھا، اس کے ذہن میں زمینداروں سے ملاقاتیں اور مشین کا کام تھا، مگر میرے لیے قدرت نے وہاں ایک الگ ہی سبق لکھ رکھا تھا۔ ہمارا وہاں جانا صرف ایک کاروباری دورہ تھا، لیکن وہ سفر میری زندگی کا سب سے بڑا روحانی موڑ بن گیا۔ 🕌 پہلا باب: ایک انجانا خوف اور وہ پراسرار بزرگ کھیتوں کے قریب گاڑی رکتے ہی ہم نیچے اترے۔ گرد و غبار میں اٹی ہارویسٹر دور کھڑی اپنا کام کر رہی تھی۔ اچانک پاس کے چند گھروں سے ایک ضعیف العمر بزرگ تیزی سے میری طرف بڑھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی تڑپ تھی، جیسے وہ کسی بچھڑے ہوئے کو ڈھونڈ رہے ہوں۔ انہوں نے میرا راستہ روکا اور بھاری آواز میں پوچھا: "تیرا نام کیا ہے؟" میں نے کہا: "پیر انتظار حسین مصور"۔ ان کے چہرے پر ایک لرزش آئی۔ انہوں نے اگلا سوال کیا: "اپنے باپ کا نام بتا؟" جیسے ہی میں نے اپنے والد محترم پیر محمد عارف شاہ کا نام لیا، وہ بزرگ وہیں دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ ملک اسلام کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی جگہ پر لوگ اس طرح رو رہے ہیں، تو اس نے فوراً گاڑی کا انجن سٹارٹ کیا اور میرے کان میں سرگوشی کی: "شاہ جی! یہاں سے نکلیں، مجھے لگتا ہے آپ کے بزرگوں کا یہاں کوئی پرانا دشمنی والا مسئلہ رہا ہے، آج ہمیں یہاں مار پڑے گی!" وہ خوفزدہ تھا کہ شاید ماضی کا کوئی حساب آج چکانا پڑے گا۔ ✨ دوسرا باب: عقیدت کا سیلاب لیکن اگلا لمحہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ وہ بزرگ روتے ہوئے اپنے گھر کی طرف بھاگے اور بلند آواز میں پکارا: "اوئے باہر آؤ سب! دیکھو کون آیا ہے! وہ شہزادہ آ گیا ہے!" ان کے گھر والے دوڑے آئے اور وہ عزت و احترام دیا جس کا میں نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ ہمیں اس قدیم پلنگ پر بٹھایا گیا جو میرے دادا حضور کا تھا۔ وہاں کوئی لمبی چوڑی جائیدادیں نہیں تھیں، بس میرے بزرگوں کے استعمال کی چند بڑی چارپائیاں، کچھ پرانے برتن اور وہ بسترے تھے جو اب ان کے لیے تبرک بن چکے تھے۔ ان بزرگ نے بتایا کہ آپ کے دادا حضرت میاں رحیم بخش شاہ نے اپنی زندگی اس مٹی میں قرآن پڑھاتے گزار دی۔ ان کی کل کائنات یہ چند برتن اور بسترے ہی تھے، مگر ان کی وصیت یہ تھی کہ: "میری قبر کچی رکھنا، میرا مزار نہ بنانا، بس میری قبر پر تلاوت ہوتی رہے"۔ ⚖️ تیسرا باب: فخر اور شرمندگی کا مقام وہاں دسترخوان سجا، دیسی مرغ، مکھن اور لسی پیش کی گئی۔ ملک اسلام جو اب تک گاڑی سٹارٹ کیے ڈر رہا تھا، اب خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اسے سمجھ آگیا تھا کہ اصل پیر مریدی کیا ہوتی ہے۔ اس وقت مجھے ایک ساتھ دو احساسات نے گھیرا: فخر: کہ میرا تعلق ان درویشوں سے ہے جن کے نام پر آج بھی لوگ آنکھیں بچھاتے ہیں۔ شرمندگی: کہ ہم لوگ کہاں بھٹک رہے ہیں۔ دنیا کے پیچھے بھاگنے والے ہم لوگ کیا جمع کر رہے ہیں؟ لوگ پلاٹ اور بینک بیلنس جمع کرتے ہیں، مگر میرے بزرگوں نے صرف سچائی اور آخرت جمع کی تھی۔ ان کی وراثت وہ زمینیں نہیں تھیں جن پر قبضے ہوتے ہیں، بلکہ ان کی وراثت وہ قرآن کی تلاوت تھی جو سامنے کچی قبر پر ایک گمنام شاگرد کر رہا تھا۔ 🎯 حاصلِ کلام مجھے محسوس ہوا کہ ہم کتنے چھوٹے ہیں اور وہ کتنے عظیم تھے۔ وہ مٹی کے نیچے ہو کر بھی دلوں پر راج کر رہے ہیں، اور ہم مٹی کے اوپر ہو کر بھی بے سکون ہیں۔ ملک اسلام نے اس دن ہارویسٹر کا کام تو دیکھ لیا، مگر اس نے سچائی کی وہ مشین بھی دیکھ لی جو انسانی روح سے میل صاف کر دیتی ہے۔ اس سفر نے مجھے میری اصل پہچان اور خودداری کا وہ سبق دیا جو کسی اسکول یا کالج میں نہیں مل سکتا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...