پیر قلم کی چھاپ: انسان اور اس کا وقار—کردار اور خودداری کی اہمیت

"ایک عاجز مسافر، جو قلم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کا خواہاں ہے۔"
پیر قلم کی چھاپ: انسان اور اس کا وقار تحریر: پیر انتظار حسین مصور کائنات کی تمام مخلوقات میں انسان کو جو فضیلت عطا کی گئی ہے، اس کی اصل بنیاد "وقار" ہے۔ وقار وہ پوشیدہ ردا ہے جو انسان کو ہجوم میں بھی ممتاز رکھتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے مادی دور میں ہم نے وقار کا معیار بدل دیا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ شاید مہنگی گاڑی، برانڈڈ لباس اور بڑے عہدے وقار کی علامت ہیں، حالانکہ وقار تو اس خاموش استقامت کا نام ہے جو انسان کے کردار سے جھلکتی ہے۔ میں ایک عاجز سا انسان ہوں اور اپنے گرد و پیش کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہی پاتا ہوں کہ وقار دکھاوے میں نہیں بلکہ سادگی اور سچائی میں چھپا ہوتا ہے۔ وقار اور خودداری کا رشتہ انسان کا وقار اس کی خودداری سے جڑا ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ سر جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا، وہی اصل وقار والا ہے۔ جب انسان اپنی ضرورتوں کے لیے اپنا ضمیر بیچنا شروع کر دیتا ہے یا چند سکوں کے عوض دوسروں کی خوشامد کو اپنا وطیرہ بنا لیتا ہے، تو وہ اپنے انسانی وقار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ وقار کا مطلب اکڑنا نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی حدود کا وہ تحفظ ہے جہاں کوئی آپ کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہ پہنچا سکے۔ ایک غریب انسان بھی اگر خوددار ہے، تو وہ کائنات کا سب سے زیادہ باوقار شخص ہے۔ عہدے فانی، وقار لازوال تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے جاہ و جلال والے لوگ آئے اور مٹی میں مل گئے، مگر وقار آج بھی ان کا زندہ ہے جنہوں نے کڑے حالات میں بھی سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وقار اس کاریگر کا بھی ہے جو محنت کی حلال کمائی کھاتا ہے اور وقار اس سفید پوش کا بھی ہے جو فاقے تو کاٹ لیتا ہے مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ وقار دراصل آپ کے "نہیں" کہنے کی طاقت میں چھپا ہے— جب دنیا آپ کو غلط کام پر اکسا رہی ہو اور آپ اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں۔ یہ وہ دولت ہے جسے کوئی چور چرا نہیں سکتا اور کوئی بادشاہ چھین نہیں سکتا۔ معاشرتی رویے اور انسانی حرمت آج ہمارے معاشرے میں وقار کی پامالی عام ہو چکی ہے۔ ہم دوسروں کی تذلیل کر کے خود کو بڑا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے! جو دوسروں کے وقار کا خیال نہیں رکھتا، وہ کبھی خود صاحبِ وقار نہیں بن سکتا۔ جب ہم کسی کی مجبوری کا مذاق اڑاتے ہیں یا کسی کے عیبوں کو اچھالتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی انسانیت کے وقار کو داغدار کر رہے ہوتے ہیں۔ انسانی حرمت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے پردہ پوش بنیں، نہ کہ تماشائی۔ ایک عاجز انسان ہونے کے ناطے میں یہی کہوں گا کہ دوسروں کو عزت دینا ہی اصل میں اپنی عزت کروانا ہے۔ وقار کی بحالی کا راستہ انسان کو اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ: عزت عہدوں سے مانگی نہیں جاتی، بلکہ کردار سے کمائی جاتی ہے۔ وقار خاموشی اور متانت میں ہے، لایعنی بحث اور شور و غل میں نہیں۔ اصل وقار دوسروں کی خدمت اور ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ حاصلِ کلام انسان کا جسم مٹی کا ہے اور مٹی میں ہی مل جائے گا، مگر اس کا وقار اور اس کے اعلیٰ اخلاق کی خوشبو زمانوں تک باقی رہتی ہے۔ اپنے قد کو اونچا کرنے کے بجائے اپنے کردار کو اونچا کیجیے، کیونکہ جب کردار بلند ہوتا ہے تو وقار خود بخود قدم چومتا ہے۔ سکون اور وقار دونوں ہی رب کی وہ نعمتیں ہیں جو صرف اسے ملتی ہیں جو عاجزی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا پاس رکھتا ہے۔ تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور سماجی کارکن

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...