پیر انتظار حسین مصور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پیر انتظار حسین مصور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سفرِ کربلا (قسطِ اول): حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی

Safar-e-Karbala: Haq o Batil Ki Pehli Lakeer (Qist 1)

سفرِ کربلا: حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی (قسطِ اول)

حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی۔ تحریر: ادنیٰ لکھیاری پیر انتظار حسین مصور





تحریر: ادنیٰ لکھیاری پیر انتظار حسین مصور

یہ سنہ 60 ہجری کا آخری مہینہ، ذوالحجہ تھا، اور مکہ مکرمہ کی فضا دنیا بھر سے آئے ہوئے حاجیوں کے لبیک کے ترانوں سے گونج رہی تھی۔ کائنات کا سب سے مقدس ترین گھر، بیت اللہ، اپنے زائرین کو دامن میں سمیٹ رہا تھا۔ ہر مسلمان کی یہ تمنا تھی کہ وہ مکہ کی ان گھڑیوں میں رہ کر حج کے مناسک ادا کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔ لیکن اسی مکہ میں نواسہِ رسول، جگر گوشہِ فاطمہ، حضرت امام حسین علیہ السلام کے دل کا کرب الگ تھا۔ آپؑ دیکھ رہے تھے کہ نانا کا دین کس طرح ملوکیت اور جبر کے سائے میں جکڑا جا رہا ہے اور امت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

امام ابن جریر طبری اپنی معتبر کتاب "تاریخ الرسل والملوک" (جلد 5، حوادثِ سنہ 60 ہجری) میں اس دور کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یزید نے مکہ کے گورنر عمرو بن سعید بن العاص کو سخت تاکید کے ساتھ مکہ بھیجا تھا کہ حسین بن علیؑ جہاں بھی ملیں، ان سے بیعت لی جائے یا انہیں قتل کر دیا جائے۔ یزیدی کارندوں اور خفیہ سپاہیوں نے اپنے احرام کے نیچے تیز دھار تلواریں اور خنجر چھپا رکھے تھے تاکہ جیسے ہی موقع ملے، وہ حرم پاک کی مٹی کو آلِ رسول کے خون سے رنگ دیں۔ وہ بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے کے لیے بھی تیار تھے تاکہ غاصب حکومت کے سامنے اپنی وفاداری ثابت کر سکیں۔

امام عالی مقامؑ، جن کے نانا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتحِ مکہ کے موقع پر بھی یہ واضح فرما دیا تھا کہ مکہ کی حدود میں خون بہانا ابدی طور پر حرام ہے، یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ان کی ذات کی وجہ سے کعبے کے صحن میں خون کا ایک قطرہ بھی گرے؟ آپؑ جانتے تھے کہ اگر یزیدیوں نے حرم کے اندر حملہ کیا، تو کعبے کی وہ حرمت جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے، ہمیشہ کے لیے داغدار ہو جائے گی۔ آپؑ نے اپنی جان بچانے کے لیے نہیں، بلکہ کعبے کی دیواروں کا تقدس بچانے کے لیے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

چنانچہ، 8 ذوالحجہ (یومِ ترویہ) کو جب دنیا منٰی کی طرف جانے کی تیاریاں کر رہی تھی اور لوگ حج کے ظاہری مناسک میں مگن تھے، امام حسین علیہ السلام نے کائنات کی سب سے بڑی فکری قربانی کی بنیاد رکھی۔ آپؑ نے اپنے خانوادے کے تحفظ، اسلام کے اصولوں اور کعبے کی حرمت بچانے کے لیے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کر دیا۔ آپؑ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ طوافِ کعبہ کیا، سعی کی، اور احرام کھول کر مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے تاریخی سفر کا آغاز کر دیا۔

علامہ ابن الاثیر نے اپنی تصنیف "الکامل فی التاریخ" (جلد 4، ذکرِ mخرج الحسین الی الکوفہ) میں اس منظر کو قلمبند کیا ہے کہ جب امام عالی مقام مکہ کی حدود سے باہر نکل رہے تھے، تو مکہ کے پہاڑ اور راستے آلِ رسول کی اس رخصت پر اداس تھے، لیکن امت کی اندھی بے حسی دیکھیے! لاکھوں کا وہ مجمع جو حج کے لیے وہاں دنیا بھر سے اکٹھا ہوا تھا، وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا کہ رسول کا پیارا نواسہ، جوانِ رعنا علی اکبر اور معصوم علی اصغر جیسے پھولوں کو ساتھ لیے مکہ چھوڑ کر جا رہا ہے، مگر اس پورے مجمعے میں سے کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر یزیدیوں کا راستہ روکنے یا امام کے کاروان کا ہمسفر بننے کی ہمت نہ کی۔ سب اپنی اپنی عبادات اور حج کے روایتی مناسک میں مصروف رہے، جبکہ دین کا اصل روحِ رواں ان کے سامنے سے رخصت ہو رہا تھا۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ امت نے ظاہری اسلام کو تو سنبھال لیا تھا، لیکن اسلام کی روح کو ملوکیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔

سفر کی شروعات ہی میں مکہ کی حدود سے باہر نکلتے وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور دیگر شخصیات نے آپؑ کا راستہ روکا۔ انہوں نے امام عالی مقامؑ کو کوفہ والوں کی پرانی بے وفائیوں اور ان کے غدارانہ ماضی کا واسطہ دیا اور التجا کی کہ آپؑ اس پرخطر سفر پر نہ جائیں۔ لیکن امام عالی مقامؑ کا جواب تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ "اگر میں مکہ کی حدود میں رہا، تو یہ ظالم یہاں بھی میرا خون بہانے سے باز نہیں آئیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس گھر کی حرمت پامال ہو۔" آپؑ جانتے تھے کہ اب بات صرف اقتدار یا حکومت کی نہیں، بلکہ نانا کے سچے دین کو یزیدیت کے چنگل سے آزاد کرانے اور حق کو باطل سے الگ کرنے کی ہے۔

امامؑ نے تمام مصلحتوں کو ٹھکرا کر اپنا سفر جاری رکھا۔ مکہ کے تپتے ہوئے صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے آپؑ کا یہ قافلہ اب اس کوفہ کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں کی بے وفا امت نے پہلے ہی اپنے رنگ بدلنا شروع کر دیے تھے اور ابنِ زیاد کے خوف سے اپنے ضمیر بیچ چکی تھی۔ یہ امت کی اس اندھی بے حسی، bزدلی اور منافقت کی پہلی جھلک تھی، جس نے مکہ کی گلیوں سے لے کر کربلا کی تپتی ریت تک ایک ایسا خونی منظر نامہ تیار کیا جس کی مثال پوری کائنات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مکہ کی اس خاموشی نے یزیدی لشکر کے حوصلے اتنے بلند کر دیے کہ انہوں نے آگے چل کر نواسہِ رسول کے جگر گوشوں پر پانی بند کرنے اور ان کے سر قلم کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی۔

(جاری ہے...)

مخلص رشتے اور گہری دوستی: دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں

 Mukhlis Rishtay aur Gehri Dosti: Diwan Peer Fatah Sher, Syed Naseem Shah aur Main

مخلص رشتے اور گہری دوستی: دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں

تحریر: پیر انتظار حسین مصور



ایک یادگار نشست: پیر انتظار حسین مصور، دیوان پیر فتح شیر اور سید نسیم شاہ


دنیا میں رشتے تو بہت ہوتے ہیں لیکن کچھ رشتے خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر مخلص اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں انسان کو بہت سے مسافر ملتے ہیں، مگر کچھ ایسے ہم سفر میسر آ جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے دکھ سکھ کے ساتھی بنتے ہیں بلکہ آپ کی زندگی کا فخر بن جاتے ہیں۔ میرے لیے ایسی ہی دو ہستیاں دیوان پیر فتح شیر اور سید نسیم شاہ ہیں، جن کے ساتھ میری وابستگی محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک قلبی جوڑ ہے۔

دیوان پیر فتح شیر کی شخصیت میرے لیے دوہرے اعزاز کی حامل ہے۔ وہ جہاں میرے قریبی اور عزیز رشتہ دار ہیں، وہیں صحافت کے میدان میں بھی ان کا ایک خاص مقام اور وقار ہے۔ ایک نڈر صحافی کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی گفتگو میں جہاں خاندانی شرافت جھلکتی ہے، وہیں ان کا قلم معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ دیوان پیر فتح شیر جیسے باکردار اور سلجھے ہوئے انسان میرے عزیز بھی ہیں اور میرے بہترین دوست بھی۔

اس مثلث کا تیسرا اور نہایت اہم ستون سید نسیم شاہ ہیں۔ سید صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں دیکھ کر شرافت اور نیکی کی یاد آتی ہے۔ وہ ہمارے بہت ہی پیارے، نہایت نیک سیرت دوست اور بھائیوں کی طرح ہیں۔ ان کا وجود ہماری محفلوں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ ان کی طبیعت میں موجود حلیمی، عاجزی اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ انہیں ہم سب کی نظر میں ممتاز کرتا ہے۔ ایک سچے دوست اور مخلص بھائی کی تمام خوبیاں ان کی ذات میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

ہم تینوں—دیوان پیر فتح شیر، سید نسیم شاہ اور میں (پیر انتظار حسین مصور)—صرف دوست ہی نہیں بلکہ ایک ایسی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جہاں خلوص، احترام اور بھائی چارے کا راج ہے۔ ہماری محفلیں علم، ادب، صحافت اور روحانیت کے تذکروں سے آباد رہتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔

آج کے اس دور میں جہاں مطلبی رشتوں کی بھرمار ہے، وہاں دیوان پیر فتح شیر کی فہم و فراست اور سید نسیم شاہ کی نیکی و مخلصی میرے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری یہ مثالی دوستی اور بھائی چارے کا یہ سفر یونہی قائم و دائم رہے اور ہم ایک دوسرے کے لیے خیر اور برکت کا باعث بنتے رہیں۔ آمین۔

© 2026 Peer Intzar Hussain Musawar | All Rights Reserved

شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا | پیر قلم کی چھاپ



جب قلم کی پکار ایوانوں تک پہنچی: شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (ایک ادنیٰ لکھاری)

(ڈیجیٹل پنجاب: وژن سے عملی اقدام تک)

کچھ عرصہ قبل، میں نے بطور ایک ادنیٰ لکھاری اسی بلاگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسی تحریر رقم کی تھی جس نے بہت سے دلوں کو تڑپا دیا تھا۔ اس کالم کا عنوان تھا "آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ"۔ وہ محض ایک کالم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی بیوہ کا نوحہ تھا جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، مگر نظام کی بے حسی نے اسے جیتے جی مار دیا تھا۔

میں نے بیان کیا تھا کہ کیسے ایک کرپٹ پٹواری نے دیوروں سے مل کر 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "قلم کی ایک جنبش" سے اس بیوہ کا رشتہ ہی ختم کر دیا اور اسے اپنی ہی وراثت میں "لاوارث" بنا دیا گیا۔ میں نے ایک ادنیٰ لکھاری کی حیثیت سے دو ٹوک الفاظ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر ریاست واقعی عوام کی ہمدرد ہے، تو اسے محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے ان بوسیدہ رجسٹروں کو بند الماریوں سے نکال کر ڈیجیٹلائز کرنا ہوگا۔

آج مجھے یہ لکھتے ہوئے دلی مسرت اور اطمینان ہو رہا ہے کہ اس ادنیٰ لکھاری کی آواز صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوئی۔ حکومتِ پنجاب نے اس سنگین مسئلے کی حساسیت کو سمجھا اور حال ہی میں شجرہ نسب اور وراثت کے ریکارڈ کی آن لائن فراہمی کا ایک تاریخی نظام متعارف کروا دیا ہے۔

اس تمام تر انتظامی تبدیلی کے پیچھے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت اور ان کا 'ڈیجیٹل پنجاب' کا وژن کارفرما ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف فائلوں پر دستخط نہیں کرتیں، بلکہ ان کے پاس معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لیے ایک حساس دل بھی ہے۔ ان کے اس ایک فیصلے نے ہزاروں "شناخت کے ڈاکوؤں" کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں۔

یہ کامیابی میرے قلم کی وہ "پیر قلم کی چھاپ" ہے جس پر مجھے ناز ہے۔ میں مریم نواز شریف صاحبہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ادنیٰ صحافی کی آواز کو اہمیت دی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ اب پنجاب کے ہر غریب کا شجرہ محفوظ ہے اور اس کی پہچان پر پہرا دینے والا ڈیجیٹل نظام آ چکا ہے۔

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تعارف: ایک ادنیٰ لکھاری جو "ہم سب" اور اپنے بلاگ پر عوامی مسائل اور حقائق کو زبان دیتا ہے۔

رابطہ: 03006488317


سلسلہ: پیر قلم کی چھاپ | بلاگ: intizar-column.blogspot.com

رمضان المبارک: توبہ، تقویٰ اور فیضانِ ہاشمی | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور اور صاحبزادہ پیر طارق اویس ہاشمی، دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کے سامنے





رمضان المبارک: توبہ، تقویٰ اور فیضانِ ہاشمی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں زمین پر انوار و تجلیات کی بارش ہوتی ہے اور مومن کا دل اللہ کی یاد سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اس مبارک مہینے کی آمد پر جب ہم اپنے اردگرد روحانی ماحول کا جائزہ لیتے ہیں، تو خانقاہی نظام اور اہل اللہ کی صحبت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

اس حوالے سے جب میں اپنے محترم کزن اور علمی و روحانی شخصیت صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی (برادرِ خورد سجادہ نشین دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ) کی گفتگو سنتا ہوں، تو دل معرفتِ الٰہی سے سرشار ہو جاتا ہے۔ دربارِ عالیہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کی نسبتوں کا تذکرہ ہو اور خانوادہِ اہل بیتؑ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔

سلسلہِ نسب اور نسبتِ حَسنی

حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا تعلق اس پاکباز لڑی سے ہے جو روحانی طور پر براہِ راست امامِ عالی مقام سیدنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دستِ بیعت اور نقشِ قدم پر ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں ان بزرگوں کی اولاد میں پیدا فرمایا جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ ہمارے بزرگوں کی یہ نسبت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین صرف رسومات کا نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا نام ہے۔

فرمانِ مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام:
"بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے عبادت گزار ایسے ہیں جنہیں عبادت سے سوائے بیداری اور تھکن کے کچھ نہیں ملتا۔"

اس قول کی روشنی میں پیر طارق اویس ہاشمی صاحب اکثر یہ فرماتے ہیں کہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ روح کا ہونا چاہیے۔ غیبت، حسد اور کینہ سے پاک دل ہی دراصل رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا ہے۔

کریمِ اہل بیتؑ کی سخاوت کا درس

رمضان سخاوت کا مہینہ ہے اور ہمارے جدِ امجد حضرت امام حسن علیہ السلام "کریمِ اہل بیت" کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپؑ کا فرمان ہے:
"بہترین نیکی یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کی ضرورت کو اس

دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل: مظلوم شوہروں کی داستان! | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

"قانون کی گرفت سے پہلے، بیگم کے آرڈر کی گرفت: اتوار کی 'بمشقت قید' کا ایک منظر۔"



 کالم کا عنوان: دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

آج کل ٹی وی چینلز کے ٹکرز ہوں یا سوشل میڈیا کی دیواریں، ہر طرف ایک ہی نوید سنائی دے رہی ہے کہ "عورتوں کے تحفظ کا نیا اور کڑا قانون آ گیا"۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کسی مرد نے بیگم کو طلاق کی دھمکی دی، اسے ہراساں کیا یا کسی بھی قسم کا ذہنی دباؤ ڈالا، تو تین سال کے لیے جیل کا مفت ہاسٹل اس کا منتظر ہوگا۔ صاحب، خواتین کے حقوق اور قانون سر آنکھوں پر! لیکن ذرا اس "سنڈے" والے اس مظلوم کا بھی تو سوچیں جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ہی گھر میں 'بمشقت قیدِ تنہائی' کاٹ رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مرد کے لیے تو قانون کی سو دفعات موجود ہیں، لیکن اس "رن مرید" طبقے کا کیا ہوگا جس کی صبح بیگم کی ڈانٹ سے اور رات برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ سے ہوتی ہے؟ وہ بیچارہ شوہر جو شادی سے پہلے دفتر کا "ٹائیگر" ہوا کرتا تھا اور جس کی ایک آواز پر چپراسی تھر تھر کانپتے تھے، اب اتوار کے دن ہاتھ میں وائپر اور سرف کی بالٹی پکڑے کسی "ہوم میڈ" سے کم نظر نہیں آتا۔ جس مرد کی اپنی قمیض کا بٹن ٹوٹ جائے تو وہ پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتا تھا، اب وہی مرد بیگم کے دوپٹوں کو 'نیل' لگا کر صحن میں پھیلاتا ہوا پایا جاتا ہے۔

ستم ظریفی کی حد تو دیکھیے، اب تو "پیکا ایکٹ" (PECA) کی تلوار بھی شوہروں کے سر پر لٹک رہی ہے۔ اگر بیچارے شوہر نے غلطی سے فیس بک پر اپنی مظلومیت کا رونا رو دیا یا بیگم کو واٹس ایپ پر یہ لکھ دیا کہ "آج سالن میں نمک زیادہ ہے"، تو فوراً سائبر ہراسمنٹ اور ذہنی تشدد کی دفعات حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اب تو موبائل فون شوہر کے لیے رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک "ڈیجیٹل ہتھکڑی" بن چکا ہے، جہاں ہر میسج بھیجنے سے پہلے اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ جملہ اسے تین سال کے لیے "سسرال" (جیل) نہ پہنچا دے۔

وہ بیگم جو شادی کے دوسرے ہفتے ہی شوہر کے کان میں 'الگ گھر' کا منتر پھونکتی ہے اور اسے اس کے بوڑھے ماں باپ سے ایسے الگ کرتی ہے جیسے دودھ سے مکھی، اس کے لیے کوئی "پیکا" یا "ویمن ایکٹ" کیوں نہیں؟ ماں باپ سے جدائی کا یہ "سلو پوائزن" کسی جرم کے زمرے میں کیوں نہیں آتا؟ وہ بوڑھے والدین جنہوں نے تپتی دھوپ میں خون پسینہ ایک کر کے بیٹے کو جوان کیا، انہیں ایک "دھمکی" کے بغیر ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، مگر اس پر کوئی انسانی حقوق والا شور نہیں مچاتا۔

آج کے دور کا شوہر وہ قیدی ہے جو اتوار کے دن اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتا۔ صبح نو بجے ہی بیگم کا ایک 'آرڈر' آتا ہے اور صاحبِ بہادر روبوٹ کی طرح کچن اور واشنگ مشین کے درمیان شٹل کاک بن جاتے ہیں۔ محلے بھر کے مردوں کی غیرت کا جنازہ اس وقت نکلتا ہے جب گلی سے گزرتے ہوئے ہر دوسرے گھر سے "رگڑائی اور دھلائی" کی آوازیں آتی ہیں—اور یقین جانیے، یہ آوازیں کپڑوں کی نہیں، شوہروں کی دبی ہوئی چیخوں کی ہوتی ہے۔

حکومتِ وقت سے دست بستہ گزارش ہے کہ جہاں اتنی دفعات بنائی ہیں، وہاں ایک "رن مرید پروٹیکشن بل" بھی لایا جائے۔ جس میں یہ شقیں لازمی شامل ہوں کہ اتوار کے دن شوہر سے زبردستی کپڑے دھلوانا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا جائے اور شوہر کو اس کے سگے ماں باپ سے دور رہنے پر مجبور کرنے والی بیگم کو بھی قانونی کٹہرے میں لایا جائے۔

صاحبو! اگر طلاق کی دھمکی پر تین سال قید ہے، تو بیگم کی طرف سے ملنے والی اس "روزانہ کی مشقت" پر بھی کچھ تو جرمانہ ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ملک کے سارے شادی شدہ مرد تھانے کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہوں گے اور ڈیوٹی آفیسر سے التجا کریں گے: "حوالدار صاحب! خدا کے لیے ہمیں کسی بھی جھوٹے کیس میں اندر کر دیں، کم از کم جیل میں اتوار کو بیگم کے لان کے دوپٹے تو نہیں دھونے پڑیں گے!"

خصوصی نوٹ (Disclaimer):

"یہ تحریر خالصتاً طنز و مزاح کے پیرائے میں لکھی گئی ہے جس کا مقصد معاشرتی رویوں اور حالیہ قانونی تبدیلیوں پر ایک شگفتہ تبصرہ کرنا ہے۔ اس کالم کے ذریعے کسی مخصوص فرد، خاندان یا ادارے کی دل آزاری یا تضحیک مقصود نہیں ہے۔ تحریر میں بیان کردہ خیالات مصنف کی اپنی مشاہداتی اور ادبی رائے پر مبنی ہیں، جنہیں سنجیدہ قانونی بحث کے بجائے محض ایک سماجی آئینے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔"


پیر قلم کی چھاپ: انسان اور اس کا وقار—کردار اور خودداری کی اہمیت

"ایک عاجز مسافر، جو قلم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کا خواہاں ہے۔"
پیر قلم کی چھاپ: انسان اور اس کا وقار تحریر: پیر انتظار حسین مصور کائنات کی تمام مخلوقات میں انسان کو جو فضیلت عطا کی گئی ہے، اس کی اصل بنیاد "وقار" ہے۔ وقار وہ پوشیدہ ردا ہے جو انسان کو ہجوم میں بھی ممتاز رکھتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے مادی دور میں ہم نے وقار کا معیار بدل دیا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ شاید مہنگی گاڑی، برانڈڈ لباس اور بڑے عہدے وقار کی علامت ہیں، حالانکہ وقار تو اس خاموش استقامت کا نام ہے جو انسان کے کردار سے جھلکتی ہے۔ میں ایک عاجز سا انسان ہوں اور اپنے گرد و پیش کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہی پاتا ہوں کہ وقار دکھاوے میں نہیں بلکہ سادگی اور سچائی میں چھپا ہوتا ہے۔ وقار اور خودداری کا رشتہ انسان کا وقار اس کی خودداری سے جڑا ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ سر جو اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا، وہی اصل وقار والا ہے۔ جب انسان اپنی ضرورتوں کے لیے اپنا ضمیر بیچنا شروع کر دیتا ہے یا چند سکوں کے عوض دوسروں کی خوشامد کو اپنا وطیرہ بنا لیتا ہے، تو وہ اپنے انسانی وقار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ وقار کا مطلب اکڑنا نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی حدود کا وہ تحفظ ہے جہاں کوئی آپ کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہ پہنچا سکے۔ ایک غریب انسان بھی اگر خوددار ہے، تو وہ کائنات کا سب سے زیادہ باوقار شخص ہے۔ عہدے فانی، وقار لازوال تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے جاہ و جلال والے لوگ آئے اور مٹی میں مل گئے، مگر وقار آج بھی ان کا زندہ ہے جنہوں نے کڑے حالات میں بھی سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وقار اس کاریگر کا بھی ہے جو محنت کی حلال کمائی کھاتا ہے اور وقار اس سفید پوش کا بھی ہے جو فاقے تو کاٹ لیتا ہے مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ وقار دراصل آپ کے "نہیں" کہنے کی طاقت میں چھپا ہے— جب دنیا آپ کو غلط کام پر اکسا رہی ہو اور آپ اپنے اصولوں پر ڈٹ جائیں۔ یہ وہ دولت ہے جسے کوئی چور چرا نہیں سکتا اور کوئی بادشاہ چھین نہیں سکتا۔ معاشرتی رویے اور انسانی حرمت آج ہمارے معاشرے میں وقار کی پامالی عام ہو چکی ہے۔ ہم دوسروں کی تذلیل کر کے خود کو بڑا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے! جو دوسروں کے وقار کا خیال نہیں رکھتا، وہ کبھی خود صاحبِ وقار نہیں بن سکتا۔ جب ہم کسی کی مجبوری کا مذاق اڑاتے ہیں یا کسی کے عیبوں کو اچھالتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی انسانیت کے وقار کو داغدار کر رہے ہوتے ہیں۔ انسانی حرمت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے پردہ پوش بنیں، نہ کہ تماشائی۔ ایک عاجز انسان ہونے کے ناطے میں یہی کہوں گا کہ دوسروں کو عزت دینا ہی اصل میں اپنی عزت کروانا ہے۔ وقار کی بحالی کا راستہ انسان کو اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ: عزت عہدوں سے مانگی نہیں جاتی، بلکہ کردار سے کمائی جاتی ہے۔ وقار خاموشی اور متانت میں ہے، لایعنی بحث اور شور و غل میں نہیں۔ اصل وقار دوسروں کی خدمت اور ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ حاصلِ کلام انسان کا جسم مٹی کا ہے اور مٹی میں ہی مل جائے گا، مگر اس کا وقار اور اس کے اعلیٰ اخلاق کی خوشبو زمانوں تک باقی رہتی ہے۔ اپنے قد کو اونچا کرنے کے بجائے اپنے کردار کو اونچا کیجیے، کیونکہ جب کردار بلند ہوتا ہے تو وقار خود بخود قدم چومتا ہے۔ سکون اور وقار دونوں ہی رب کی وہ نعمتیں ہیں جو صرف اسے ملتی ہیں جو عاجزی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا پاس رکھتا ہے۔ تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور سماجی کارکن

آن لائن شجرہ نسب کی فراہمی اور بیوہ کی زمین پر ڈاکا: ہم سب کی آواز

 

آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ

شجرہ نسب کی آن لائن فراہمی: "ہم سب" کی تڑپ اور کٹی ہوئی جڑوں کا درد!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور و صحافی برادری

"ہم سب" کے قارئین اور اہل قلم! آج میرا قلم لہو رو رہا ہے۔ آج میں کسی خشک اعداد و شمار پر بات نہیں کروں گا بلکہ ان آنسوؤں کا ذکر کروں گا جو ہر اس شخص کی آنکھ سے بہتے ہیں جس کی جڑیں کاٹ دی جاتی ہیں، جس کی پہچان پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ گوگل کی ایک سرچ پر "آن لائن شجرہ" لکھنے والوں کو کیا معلوم کہ اس کے پیچھے کتنی دردناک کہانیاں چھپی ہیں؟

وہ سچی کہانی جو دل کاٹتی ہے: ایک بیوہ کی چیخ

یہ چند سال پہلے کی بات ہے، ایک غریب بستی کی ایک سیدھی سادی بیوہ، جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، اس کی زندگی یک دم اجڑ گئی۔ اس کے لالچی دیوروں نے پٹواری کے ساتھ مل کر ایک ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جس نے اس عورت کو زندہ درگور کر دیا۔ انہوں نے محافظ خانے کے دھول بھرے ریکارڈ میں 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "خانہ پری" کر دی۔ صرف اس لیے کہ دیور کا نام مرحوم شوہر سے ملتا جلتا تھا، جعلی گواہیاں کروائیں اور ایک فرضی رشتہ جوڑ کر بیوہ کو اس کے خاندان کی وراثت سے ہی خارج کر دیا۔

وہ بیوہ، جس کے ہاتھ غربت کی وجہ سے پہلے ہی خالی تھے، اب اس کے پاس اپنے وجود کا ثبوت بھی نہیں رہا تھا۔ اس کی چیخیں کچہری کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتیں۔ وہ کہتی تھی، "میرا شوہر ان کا بھائی تھا، میری ساس ان کی ماں تھی، میرا شجرہ کیوں بدل دیا؟" لیکن پٹواری کے رجسٹر میں قلم کی ایک لکیر نے اسے "لاوارث" بنا دیا تھا۔ اس عورت نے سالوں دربدر ٹھوکریں کھائیں، اپنے بچوں کے لیے روتی رہی، مگر کوئی اس کا درد سمجھنے کو تیار نہ تھا۔ یہ کہانی صرف ایک بیوہ کی نہیں، ایسے ہزاروں خاندان ہیں جن کی جڑیں کاٹ کر انہیں بے نشان کر دیا جاتا ہے۔

کٹی ہوئی جڑوں کا درد اور نسلوں کا نقصان

جب کسی انسان کا شجرہ نسب بدل دیا جاتا ہے تو اسے صرف زمین سے محروم نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کی تاریخ، اس کی قوم، اس کے اجداد کا احترام، سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔ وہ نسلیں جو اپنے آباؤ اجداد کے نام پر فخر کر سکتی تھیں، انہیں ایک جھوٹے کاغذ کے ٹکڑے کی وجہ سے اپنا ماضی دھندلا نظر آتا ہے۔ یہ کٹی ہوئی جڑوں کا درد نسلوں تک سرایت کرتا ہے۔ کیا ہم اس بے حسی کو مزید برداشت کرتے رہیں گے؟

ہم سب کا مطالبہ، ہم سب کی تڑپ

ہم تمام قلمکار، صحافی، اور "ہم سب" کے پلیٹ فارم سے یہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

فوری ڈیجیٹلائزیشن: محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے شجرہ نسب کو فی الفور مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے۔ یہ ریکارڈ عوام کا ہے، اسے بند الماریوں سے نکالو!

پہچان کا تحفظ: ہر شہری کو آن لائن یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کا مصدقہ شجرہ نسب کسی بھی وقت دیکھ سکے، تاکہ کوئی اس کی پہچان چھین نہ سکے۔

شفافیت اور احتساب: ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے پٹواری کلچر میں پائی جانے والی بدعنوانی اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کیا جائے، اور کسی کی جڑیں کاٹنے والے کو سخت ترین سزا دی جائے۔

میں، پیر انتظار حسین مصور، اپنی صحافی برادری کے ساتھ مل کر یہ عہد کرتا ہوں کہ ہم اس وقت تک اپنی قلم کی کاٹ جاری رکھیں گے جب تک اس ملک کا ہر یتیم، ہر بیوہ، اور ہر مظلوم اپنی جڑوں اور اپنی پہچان کو محفوظ نہیں کر لیتا۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایک قوم کی تڑپ اور ہر اس انسان کا درد ہے جس کی پہچان چھینی گئی۔

رابطہ: پیر انتظار حسین مصور

فون نمبر: 03006488317

باغ علی باغی (قسط 03): ہجرت، غیرت کی للکار اور لاہور کا بے رحم سفر


 
باغ علی باغی: قسط نمبر 03"


ضروری نوٹ: "اس کہانی کے تمام مقامات، کردار اور واقعات محض خیالی اور میری اپنی سوچ کی تخلیق ہیں۔ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔ کوئی بھی قاری اسے اپنی زندگی کے ساتھ منسوب نہ کرے، اور اگر کسی کو اس سے دلی تکلیف پہنچتی ہے تو مصنف کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ادبی کاوش ہے جس کا مقصد معاشرتی شعور بیدار کرنا ہے۔"



بستی میں ایک طاقتور شخص کا خوف بسا تھا جو غریبوں کی زمینوں پر قابض تھا اور اسے یقین تھا کہ اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، مگر باغی نے فیصلہ کیا کہ اب خاموش رہنا گناہ ہے اور اپنے بلاگ پر "فرعون کی بستی اور موسیٰ کا قلم" کے عنوان سے ایک تفصیلی کالم لکھا جس میں اس کے تمام مظالم کے ثبوت سامنے رکھ دیے۔ اس نے لکھا کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے؛ تم نے لوگوں کی زبانیں تو بند کر دیں مگر اس سچ کو کیسے دباؤ گے جو ہواؤں میں گونج رہا ہے؟ جب اس ظالم شخص کو اس کے انجام تک پہنچایا گیا تو بستی والے تحائف اور پیسے لے کر باغی کے پاس آئے، مگر اس نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا اور کہا کہ میری مزدوری میرے رب کے پاس ہے، اگر میں نے اپنے لفظوں کی قیمت وصول کر لی تو میری خودداری کا جنازہ نکل جائے گا۔ اس فتح نے اسے سچائی کا استعارہ بنا دیا اور وہ اپنے 110 صفحات کے ہدف کی طرف بڑھنے لگا۔

مگر حالات نے پلٹا کھایا اور نمبردار کے کارندوں نے جب باغی کے کچے گھر پر قبضے کی کوشش کی اور اسے "باغی" ہونے کی سزا دینا شروع کی، تو وہ اپنی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں بے گھری کا خوف نہ دیکھ سکا۔ جس محبت کے سہارے وہ یہ جنگ لڑ رہا تھا، اس کی بے وفائی کے خط نے اس کے حوصلے کی آخری اینٹ بھی گرا دی۔ ایک اداس شام جب سورج بستی کی دھول میں روپوش ہو رہا تھا، باغی نے اپنا پرانا تھیلا اٹھایا جس میں کپڑے کم اور وہ ادھورے کالم زیادہ تھے جو اس نے فاقوں میں لکھے تھے، اور بھاری قدموں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل پڑا۔ ریل کی پٹریوں سے اٹھتی آوازیں اسے نمبردار کے طعنے یاد دلا رہی تھیں کہ کب تک اس کٹی پھٹی قمیض میں اپنی غربت چھپاؤ گے؟ لاہور کے اسٹیشن پر اترتے ہی شہر کی بے رحم چمک دمک نے اس کا استقبال کیا۔ جیب میں موجود چند سو روپے اس کی کل کائنات تھے، مگر اس کے سینے میں موجود خودداری کی آگ لاہور کی سرد ہوا سے کہیں زیادہ تیز تھی۔

اسٹیشن کے باہر فٹ پاتھ پر گزری وہ پہلی رات باغی کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ ہر طرف روشنیاں تھیں مگر اس کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ تھا، اس نے ٹھنڈی زمین پر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھا اور عہد کیا کہ اگر آج میں ایک خالی جیب مسافر بن کر اس شہر میں داخل ہوا ہوں، تو ایک دن یہ شہر 'باغ علی باغی' کے کالموں کے انتظار میں جاگے گا۔ کئی دن وہ لاہور کی سڑکوں پر بھوک مار کر کام ڈھونڈتا رہا۔ ایک جگہ اسے چوکیداری کی پیشکش ہوئی مگر بددیانتی دیکھ کر اس نے ٹھکرا دی اور نلکے کا پانی پی کر پیٹ کی آگ بجھائی مگر اپنے ضمیر پر داغ نہ آنے دیا۔ آخر کار اسے ایک چھوٹی سی کمپنی میں نوکری مل گئی جہاں اس کی ملاقات وقار سے ہوئی۔ وقار نے دیکھا کہ یہ عجیب شخص ہے جو اپنے حصے کی آدھی روٹی فقیر کو دے کر خود پانی پی کر شکر ادا کرتا ہے۔ وقار اس کے بلند ظرف کا اسیر ہو گیا اور ان کے درمیان ایک لازوال دوستی کی بنیاد پڑی۔ باغی نے وقار سے کہا کہ یار وقار، یہ شہر بڑا بے رحم ہے، یہاں لوگ چہرے نہیں جیبیں دیکھتے ہیں، لیکن ہم جیسے لوگ بکتے نہیں، بس کٹ جاتے ہیں۔

اسی دوران طالیہ کا وہ میسج کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھا کہ شازیہ کی عزت داؤ پر ہے۔ باغی نے فوراً ملک عمر کا نمبر ملایا، یہ وہی سیاستدان تھا جس کی بیٹی کو باغی نے اپنا خون دے کر بچایا تھا۔ باغی نے کہا کہ ملک صاحب، آج ایک بہن کی چادر بچانی ہے، مجھے آپ کی مدد نہیں اختیار چاہیے تاکہ میں اس درندے کو منطقی انجام تک پہنچا سکوں۔ باغی نے ایک ماہر شکاری کی طرح بلیک میلر کو جال میں پھنسایا اور ایک ویران گودام میں اس کی جوتی کی نوک سے اس کا جبڑا اٹھا کر کہا کہ معافی وہ مانگتے ہیں جن سے غلطی ہو، تو نے تو گناہ کیا ہے۔ اس نے تمام غلیظ مواد جلا کر راکھ کر دیا اور ثابت کر دیا کہ 'پیرِ قلم چھاپ' صرف لکھنا نہیں جانتا، بلکہ مٹانا بھی جانتا ہے۔ دشمن کو مٹانے کے بعد جب شازیہ نے شکر گزاری کے لیے فون کیا تو باغی نے سخت لہجے میں کہا کہ بی بی شکریہ کی ضرورت نہیں، اس دنیا میں احسان کے پیچھے مطلب چھپے ہوتے ہیں اور میں کسی مطلب کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

مگر شازیہ اس کے سخت لہجے کے پیچھے چھپے درد کی دیوانی ہو چکی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ باغی، میں نے آپ کے نام کا کلمہ پڑھا ہے، میرا ہر سانس آپ کا ہے۔ باغی نے اپنی غربت اور فاقوں کا حوالہ دیا مگر شازیہ نے تڑپ کر جواب دیا کہ میں آپ کی غربت سے نہیں آپ کی اس باغیانہ روح سے محبت کرتی ہوں۔ ان کے درمیان وعدوں اور قسموں کا سلسلہ شروع ہوا اور انہوں نے مستقبل کے خواب بننا شروع کیے۔ شازیہ نے کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کا نام 'باغی' رکھیں گے تاکہ وہ بھی حق کے لیے لڑنا سیکھے۔ اسی دوران طالیہ، جو میڈیکل کی طالبہ تھی، وہ بھی باغی کو اپنا مرشد مانتی تھی کیونکہ باغی نے اسے غنڈوں سے بچایا تھا۔ باغی نے طالیہ کو نصیحت کی کہ یہ دنیا جذبوں کی تجارت کرتی ہے، اپنی عزت کی حفاظت ایمان کی طرح کرنا۔ طالیہ اس کی عقیدت میں ایسی مگن تھی کہ اس کا کلاس فیلو احد اس کی سادگی پر مر مٹتا تھا، مگر طالیہ کے گرد باغی کی نصیحتوں کا وہ حصار تھا جسے کوئی توڑ نہیں سکتا تھا۔

نشستِ خاص: حاجی بشیر احمد مغل کے ساتھ (زراعت، حکمت اور خودداری)

روحانی نشست: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم چھاپ) معروف کسان دوست شخصیت حاجی بشیر احمد مغل صاحب سے زراعت کے گر سیکھتے ہوئے۔



Pir Intizar Hussain Musawwir with Haji Bashir Ahmed Mughal discussing organic farming and wheat cultivation.


تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم چھاپ)

حال ہی میں میرے روحانی استادِ محترم، حاجی بشیر احمد مغل صاحب کے ساتھ ایک نہایت پُر مغز نشست ہوئی جس کا محور "زراعت" اور خاص طور پر گندم کی فصل کی بہتری تھا۔ استادِ محترم نے مٹی کی محبت اور کسان کی محنت کو مصلحتوں سے پاک کر کے ایسی راہ دکھائی جو آج کے مہنگائی کے دور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔

اگیتی کاشت اور قد کی حکمت:

کاشتکاری محض بیج ڈالنے کا نام نہیں بلکہ یہ مٹی اور وقت کے مزاج کو سمجھنے کا فن ہے۔ استادِ محترم نے فرمایا کہ اگر گندم کی کاشت اگیتی کی جائے، تو یہ فصل کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ جب گندم کا قد 1 فٹ 6 انچ تک پہنچ جاتا ہے، تو یہ زمین کو اپنے سائے میں لے لیتی ہے جس سے جڑی بوٹیاں نیچے ہی دب جاتی ہیں اور دھوپ نہ ملنے کی وجہ سے وہیں دم توڑ دیتی ہیں۔

آرگینک کھاد اور زمین کی صحت:

کیمیکل کھادوں کے بے دریغ استعمال نے زمین کے قدرتی پن کو ختم کر دیا ہے۔ اس نشست میں استادِ محترم نے آرگینک کھادوں (Organic Fertilizers) کے استعمال پر زور دیا۔ دیسی کھاد اور حیاتیاتی مادوں کا استعمال نہ صرف فصل کی غذائیت بڑھاتا ہے بلکہ زمین کو بنجر ہونے سے بھی بچاتا ہے۔ یہ "کم خرچ اور بالا نشین" فارمولے کی اصل بنیاد ہے۔

تیلہ اور دیگر بیماریاں—نیم کے تیل کا جادو:

آگے آنے والے موسم میں کسانوں کو تیلہ (Aphids) جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بازار میں موجود مہنگے زہروں کے بجائے نیم کے تیل کا سپرے ایک بہترین اور سستا آرگینک علاج ہے۔ نیم کا تیل نہ صرف تیلے کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ فصل کو دیگر مضرِ صحت کیڑوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، اور اس کا کوئی منفی اثر (Side Effect) بھی نہیں ہوتا۔

پانی کی بچت اور معاشی فائدہ:

اگیتی کاشت اور زمین پر فصل کا مکمل سایہ ہونے کی وجہ سے مٹی کی نمی دیر تک برقرار رہتی ہے، جس سے پانی کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس طریقے سے کسان کا سپرے اور پانی کا خرچہ بچ جاتا ہے اور فصل بھی خالص ہوتی ہے۔

پیر قلم کی چھاپ:

یہ پیر قلم کی چھاپ ہے کہ ہم مصلحتوں کو چھوڑ کر مٹی کی اصل خوشبو اور اپنے بزرگوں کی حکمت کو عام کریں۔ حاجی بشیر احمد مغل صاحب کی یہ باتیں کسان کو قرضوں کی دلدل سے نکال کر خودداری کی زندگی دے سکتی ہیں۔
 

باپ کے خفیہ آنسو اور راکھ بنی کتاب: قلم کی پہلی دہشت گردی






 تحریر: پیر انتظار حسین مصور

دنیا میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتے ہیں مگر ان کے نشان کبھی نہیں مٹتے۔ میری زندگی کا وہ زخم "راکھ" کی صورت میں میرے سامنے تھا، جس میں میری برسوں کی محنت اور میری پہلی کتاب جلی پڑی تھی۔

واقعہ کچھ یوں تھا...

سنہ 2002 کا دور تھا، میرے ہاتھ میں نیا نیا قلم آیا تھا اور خون میں جوانی کی گرمی تھی۔ میں نے گاؤں کے بااثر لوگوں کے خلاف ایک ایسی کاٹ دار نظم لکھی کہ پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان لوگوں کی انا پر چلنے والی آری تھی۔

معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب وہ لوگ بپھرے ہوئے شیروں کی طرح ہمارے گھر آپہنچے۔ میرے والد صاحب، جو ایک نہایت درویش صفت اور صلح جو انسان تھے، ان کے سامنے ان لوگوں نے دہائی دی:

"اپنے بیٹے کو لگام دو! اس نے ہماری پگڑیاں اچھالی ہیں۔ تمہارا بیٹا بہت اونچی اڑان بھر رہا ہے، یاد رکھنا ہمارے جوانوں کا خون بھی ابال مارتا ہے، کہیں یہ اونچی اڑان خون خرابے پر ختم نہ ہو!"

وہ ایک کھلی دھمکی تھی۔ میرے والد صاحب غریب ضرور تھے مگر غیرت مند تھے۔ وہ بھانپ گئے تھے کہ یہ قلم میرے بیٹے کی جان لے لے گی۔ انہوں نے اسی وقت ایک کٹھن فیصلہ کیا۔ انہوں نے میری وہ کتاب، جو میرے خوابوں کا مجموعہ تھی، اسے اٹھایا اور آگ کی نذر کر دیا۔

مجھ پر وہ غصہ ہوئے، گرجے اور کہا: "تم شاعری میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہو؟ تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا!" میں اس وقت سمجھا کہ شاید میرے والد میرے فن کے دشمن ہیں۔ میں دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

مگر کہانی کا اصل درد تو بعد میں کھلا۔ مجھے کسی نے بتایا کہ جب میں وہاں سے چلا گیا اور گھر میں خاموشی چھا گئی، تو وہی سخت گیر باپ، وہی درویش صفت انسان اس راکھ کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر چھپ چھپ کر رو رہا تھا۔ وہ آنسو مجھ سے نفرت کے نہیں تھے، وہ تو اس مجبوری کے تھے کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اس کے خوابوں کا گلا گھونٹنا پڑا۔ وہ سامنے تو غصہ دکھا رہے تھے تاکہ دشمن ٹھنڈے ہو جائیں، مگر اندر سے وہ خود بھی راکھ ہو چکے تھے۔

آج جب میں قلم اٹھاتا ہوں، تو مجھے وہ شعلے نہیں بلکہ اپنے والد کے وہ خفیہ آنسو یاد آتے ہیں۔ ان آنسوؤں نے میرے قلم کو وہ وقار بخشا کہ آج میں کسی کی پگڑی اچھالنے کے لیے نہیں، بلکہ حق کی سربلندی کے لیے لکھتا ہوں۔

غریبوں کی مدد کیسے کریں؟ ایک قلمکار کا انوکھا مشن اور انسانیت کی پکار



غریبوں کی مدد کیسے کریں؟ کیا آپ کے دسترخوان پر کسی کی سسکیاں تو نہیں؟

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

غریبوں کی مدد کیسے کریں؟ یہ وہ سوال ہے جو معاشرے کے ہر اس فرد کے ضمیر پر دستک دیتا ہے جو دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہو۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے میرے قلم کو وہ حرمت عطا کی کہ ملک کے معتبر اخبارات میں میرے کالم شائع ہوتے رہے اور آپ جیسے قدر دانوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ لکھنے کا جو مقصد تھا، وہ رب کے فضل سے پورا ہو رہا تھا، لیکن زندگی کی تلخ حقیقتوں نے میرے اندر ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔

مجھے محسوس ہوا کہ میرے لفظوں کو اب صرف اخبار کی سرخیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں ایک ایسی چھت بننا چاہیے جس کے سائے میں کوئی بے سہارا پناہ لے سکے۔ اسی لیے میں نے اپنے اس بلاگر کا آغاز کیا ہے، تاکہ میں اپنے خیالات کو براہِ راست آپ تک پہنچا سکوں اور میرے اس قلمی سفر کا ثمر ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ہمارا زیاں اور ان کی حسرت

آج ہم جب کسی مہنگے ہوٹل میں بیٹھ کر مرغ مسالے کا ایک ایک نوالہ شوق سے توڑتے ہیں، تو کیا ہمیں کبھی اس بچے کا خیال آتا ہے جو سڑک کی دوسری طرف کسی کچرے کے ڈھیر میں اپنی بھوک تلاش کر رہا ہوتا ہے؟ ہم شادیوں میں جتنا کھانا ضائع کر دیتے ہیں، کیا ہم جانتے ہیں کہ اتنے ہی کھانے سے کتنے ہی گھروں کا ہفتوں کا راشن آ سکتا ہے؟ ہماری گلیوں میں ایسی سفید پوش بیٹیاں بھی ہیں جن کے بال صرف اس لیے سفید ہو رہے ہیں کہ ان کے بوڑھے باپ کے پاس انہیں رخصت کرنے کے وسائل نہیں۔

میرا قلم: ایک نئی سمت

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میرا قلم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں رہے گا، بلکہ یہ ایک وسیلہ بنے گا۔ اس بلاگر پر میری تحریروں کو پڑھنے کا عمل دراصل ایک ایسے مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد ان بیواؤں کی دہلیز پر خوشیاں لانا ہے جو راتوں کو اپنے بچوں کے سرہانے روتی ہیں۔ یہ ان باپوں کا سہارا بنے گا جو ہسپتال کی دیواروں سے لگ کر اس لیے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ان کی جیب میں دوا خریدنے کی سکت نہیں۔

آپ کی شرکت: ایک خاموش ساتھ

دوستو! مجھے آپ سے کوئی مالی مطالبہ نہیں کرنا۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس بلاگر پر تشریف لائیں، ان تحریروں کو پڑھیں اور اس ادبی دنیا کا حصہ بنیں۔ جب آپ یہاں آ کر ان لفظوں سے جڑتے ہیں، تو آپ کی یہ موجودگی ہی اس ویب سائٹ کو وہ توانائی فراہم کرتی ہے جو بالآخر کسی مستحق کی دوا، کسی یتیم کی تعلیم یا کسی غریب بچی کی شادی کا ذریعہ بنے گی۔

یہ سفر اب صرف میرا نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کا ہے جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں۔ آئیے! میرے اس بلاگر پر میرا ساتھ دیں تاکہ ہم مل کر ان مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لا سکیں جن کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔

مصنوعی ذہانت کا انقلاب اور روزگار کے نئے مواقع"

 مصنوعی ذہانت کا انقلاب: کیا ہم تیار ہیں؟

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

وقت کی رفتار کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ ایک دور تھا جب ہم کہتے تھے کہ "علم بڑی دولت ہے"، مگر آج کے ڈیجیٹل دور میں علم کے ساتھ ساتھ "جدید مہارت" اصل دولت بن چکی ہے۔ دنیا ایک ایسی تبدیلی کی دہلیز پر کھڑی ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) یعنی مصنوعی ذہانت زندگی کے ہر شعبے میں اپنے پنجے گاڑھ رہی ہے۔ بہت سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی، لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ مشینیں کبھی انسان کا متبادل نہیں ہو سکتیں، البتہ وہ انسان جو ٹیکنالوجی جانتا ہے، وہ اس انسان کو پیچھے چھوڑ دے گا جو قدیم طریقوں پر بضد ہے۔

بطور ایک کالم نگار اور سماجی کارکن، میں نے ہمیشہ حقائق کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ آج میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ٹیکنالوجی صرف تفریح کے لیے نہیں، بلکہ معاشی خودکفالی کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ اگر ہم ان جدید آلات کو سیکھ لیں، تو ہمارے نوجوان گھر بیٹھے عزت دار طریقے سے رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔

ہمیں کیا سیکھنا ہے؟

بہت سے دوست پوچھتے ہیں کہ "پیر صاحب! ہم تو ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں، ہم کیسے سیکھیں؟" میرا جواب سادہ ہے: اگر آپ اسمارٹ فون استعمال کر سکتے ہیں اور واٹس ایپ پر پیغام بھیج سکتے ہیں، تو آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں آپ کو کوڈنگ سیکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ آپ کو یہ سیکھنا ہے کہ ان ٹولز سے اپنا کام کیسے کروانا ہے۔

آپ درج ذیل شعبوں میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں:

 * ڈیجیٹل تحریر اور تحقیق: چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) جیسے ٹولز کی مدد سے آپ اپنے خیالات کو بہتر ترتیب دے سکتے ہیں۔

 * آن لائن تدریس اور رہنمائی: جو کچھ آپ جانتے ہیں، اسے دنیا تک پہنچا کر آپ اپنا نام اور مقام بنا سکتے ہیں۔

 * مواد کی تیاری (Content Creation): اپنے بلاگ یا سوشل میڈیا کے لیے تصاویر اور ویڈیوز بنانا اب بہت آسان ہو گیا ہے۔

میری پیشکش: آئیے مل کر سیکھتے ہیں

میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے قارئین تک حقائق اور علمی مواد پہنچاؤں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ ہم اس علمی سفر کو معاشی سفر میں بدلیں۔ میں اپنے اس بلاگ "پیر انتظار حسین مصور" کے ذریعے آپ کو مرحلہ وار یہ سکھاؤں گا کہ ان جدید آلات کا استعمال کیسے کرنا ہے۔

آپ اس سفر میں میرے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کالم کے آخر میں کمنٹ کر کے بتائیں کہ آپ کس شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاکہ میں اگلی تحریر آپ کی ضرورت کے مطابق لکھ سکوں۔

حاصلِ کلام

وقت بدل رہا ہے، اور بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہی دانشمندی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوسی کی دلدل سے نکال کر امید اور ہنر کی روشنی دکھانی ہے۔ یاد رکھیں، ہمت اور جستجو ہو تو کوئی بھی

منزل دور نہیں

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد ادنیٰ لکھیاری...