شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا | پیر قلم کی چھاپ



جب قلم کی پکار ایوانوں تک پہنچی: شکریہ مریم نواز! اب کسی بیوہ کا شجرہ نہیں کٹے گا

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (ایک ادنیٰ لکھاری)

(ڈیجیٹل پنجاب: وژن سے عملی اقدام تک)

کچھ عرصہ قبل، میں نے بطور ایک ادنیٰ لکھاری اسی بلاگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسی تحریر رقم کی تھی جس نے بہت سے دلوں کو تڑپا دیا تھا۔ اس کالم کا عنوان تھا "آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ"۔ وہ محض ایک کالم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی بیوہ کا نوحہ تھا جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، مگر نظام کی بے حسی نے اسے جیتے جی مار دیا تھا۔

میں نے بیان کیا تھا کہ کیسے ایک کرپٹ پٹواری نے دیوروں سے مل کر 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "قلم کی ایک جنبش" سے اس بیوہ کا رشتہ ہی ختم کر دیا اور اسے اپنی ہی وراثت میں "لاوارث" بنا دیا گیا۔ میں نے ایک ادنیٰ لکھاری کی حیثیت سے دو ٹوک الفاظ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر ریاست واقعی عوام کی ہمدرد ہے، تو اسے محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے ان بوسیدہ رجسٹروں کو بند الماریوں سے نکال کر ڈیجیٹلائز کرنا ہوگا۔

آج مجھے یہ لکھتے ہوئے دلی مسرت اور اطمینان ہو رہا ہے کہ اس ادنیٰ لکھاری کی آواز صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوئی۔ حکومتِ پنجاب نے اس سنگین مسئلے کی حساسیت کو سمجھا اور حال ہی میں شجرہ نسب اور وراثت کے ریکارڈ کی آن لائن فراہمی کا ایک تاریخی نظام متعارف کروا دیا ہے۔

اس تمام تر انتظامی تبدیلی کے پیچھے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت اور ان کا 'ڈیجیٹل پنجاب' کا وژن کارفرما ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف فائلوں پر دستخط نہیں کرتیں، بلکہ ان کے پاس معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لیے ایک حساس دل بھی ہے۔ ان کے اس ایک فیصلے نے ہزاروں "شناخت کے ڈاکوؤں" کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں۔

یہ کامیابی میرے قلم کی وہ "پیر قلم کی چھاپ" ہے جس پر مجھے ناز ہے۔ میں مریم نواز شریف صاحبہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک ادنیٰ صحافی کی آواز کو اہمیت دی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ اب پنجاب کے ہر غریب کا شجرہ محفوظ ہے اور اس کی پہچان پر پہرا دینے والا ڈیجیٹل نظام آ چکا ہے۔

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تعارف: ایک ادنیٰ لکھاری جو "ہم سب" اور اپنے بلاگ پر عوامی مسائل اور حقائق کو زبان دیتا ہے۔

رابطہ: 03006488317


سلسلہ: پیر قلم کی چھاپ | بلاگ: intizar-column.blogspot.com

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...