حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ: برصغیر کے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کا تاریخی سفر




حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ: برصغیر کے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کا تاریخی سفر

عرب کی وہ مقدس سرزمین، جہاں سے ہدایت کے آفتاب طلوع ہوئے اور جہاں کی مٹی میں ہاشمی وراثت کی خوشبو بسی ہے۔ اسی سرزمینِ پاک کے ایک عظیم گھرانے میں، جہاں نبوی فیضان کا تسلسل جاری تھا، حضرت عونؓ جیسی برگزیدہ شخصیت کے گھر ایک ایسا فرزندِ ارجمند پیدا ہوا جن کا نام ابوالفضل رکھا گیا۔ یہ بچہ اپنی ولادت سے قبل ہی ہدایت کا ایک مینار بن چکا تھا، جس کے کانوں میں ماں کے بطن ہی سے تلاوتِ کلامِ پاک کی مترنم آوازیں گونجتی رہیں۔

بیعتِ امام حسنؓ اور پینجے کا فیضان

ابھی آپ کی عمر صرف چھ برس تھی کہ وقت کے امام، حضرت امام حسن علیہ السلام کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ایک ایسی روحانی منتقلی تھی جس نے آپ کے سینے کو علومِ لدنی کا گنجینہ بنا دیا۔ آج بھی دربارِ شریف کے مزارِ اقدس پر نصب وہ "پینجہ"، جو غازی عباس علمدارؓ کی وفا کی علامت ہے، آپ کے تابعیِ رسولﷺ ہونے کی خاموش مگر طاقتور گواہی دیتا ہے۔

دیدارِ نبویﷺ، اسہِ مبارک اور اویسیہ سلسلے کا آغاز

آپ کی زندگی کا سب سے پراسرار باب تب کھلا جب آپ نے حضرت اویس قرنیؓ کے مزار پر طویل چلہ کشی کی۔ وہیں آپ کی روحانی ریاضت پر حضرت اویس قرنیؓ کی جانب سے آپ کو ایک "مصلے" کی صورت میں سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا "اسہِ مبارک" (عصائے مبارک) عطا ہوا۔ یہ مصلہ اور اسہِ مبارک وہ عظیم روحانی سند تھے جہاں سے "سلسلہ اویسیہ" کا آغاز ہوا۔ اسی چلہ کشی کے دوران آپ کو خود سرورِ کونینﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ کو ہند میں تبلیغِ اسلام کا حکم ملا۔

شہادت اور مائی گنگن برس کی لازوال وفا

نمازِ فجر کا وقت تھا، کائنات ابھی جاگ ہی رہی تھی کہ ظالموں نے آپ کو شہید کر دیا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب آپ کی ہمشیرہ، امّ فاطمہ عرف مائی ہانی (جنہیں تاریخ میں 'مائی گنگن برس' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے)، اپنے بھائی کے عشق میں اس قدر سرشار تھیں کہ بھائی کی شہادت کے صدمے اور محبت کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی لمحے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ آج آپ کا مزار بھی اپنے بھائی کے قدموں میں دربار کے اندر ہی موجود ہے۔

روحانی تسلسل اور ہمارا ورثہ

آج اس روحانی ورثے کی نگرانی سجادہ نشین دیوان پیر میاں غلام اویس مصطفیٰ اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی کر رہے ہیں۔ ان کے زیرِ نگرانی قائم مدرسہ، جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے، میرے لیے علم کا اصل مرکز رہا ہے۔ میں کسی یونیورسٹی کا ڈگری ہولڈر نہیں، بلکہ اسی مدرسے کا ادنیٰ طالبِ علم ہوں، جہاں میں نے جو کچھ سیکھا، آج میری وہی پہچان ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

  • س: حضرت ابوالفضل بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا سلسلہ نسب کیا ہے؟ ج: آپ کا سلسلہ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ تک جاتا ہے۔
  • س: دیوان چاولی مشائخ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟ ج: آپ برصغیر کے عظیم تابعی بزرگ ہیں جن سے سلسلہ اویسیہ کا آغاز ہوا۔
  • س: مائی گنگن برس کون تھیں؟ ج: آپ شہیدِ ملت کی ہمشیرہ تھیں جو اپنی بھائی سے محبت کی وجہ سے شہادت کے وقت ہی وفات پا گئی تھیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...