معاشرتی مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معاشرتی مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل: مظلوم شوہروں کی داستان! | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

"قانون کی گرفت سے پہلے، بیگم کے آرڈر کی گرفت: اتوار کی 'بمشقت قید' کا ایک منظر۔"



 کالم کا عنوان: دھمکی پہ جیل اور سرف ایکسل کا کھیل!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

آج کل ٹی وی چینلز کے ٹکرز ہوں یا سوشل میڈیا کی دیواریں، ہر طرف ایک ہی نوید سنائی دے رہی ہے کہ "عورتوں کے تحفظ کا نیا اور کڑا قانون آ گیا"۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کسی مرد نے بیگم کو طلاق کی دھمکی دی، اسے ہراساں کیا یا کسی بھی قسم کا ذہنی دباؤ ڈالا، تو تین سال کے لیے جیل کا مفت ہاسٹل اس کا منتظر ہوگا۔ صاحب، خواتین کے حقوق اور قانون سر آنکھوں پر! لیکن ذرا اس "سنڈے" والے اس مظلوم کا بھی تو سوچیں جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے ہی گھر میں 'بمشقت قیدِ تنہائی' کاٹ رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مرد کے لیے تو قانون کی سو دفعات موجود ہیں، لیکن اس "رن مرید" طبقے کا کیا ہوگا جس کی صبح بیگم کی ڈانٹ سے اور رات برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ سے ہوتی ہے؟ وہ بیچارہ شوہر جو شادی سے پہلے دفتر کا "ٹائیگر" ہوا کرتا تھا اور جس کی ایک آواز پر چپراسی تھر تھر کانپتے تھے، اب اتوار کے دن ہاتھ میں وائپر اور سرف کی بالٹی پکڑے کسی "ہوم میڈ" سے کم نظر نہیں آتا۔ جس مرد کی اپنی قمیض کا بٹن ٹوٹ جائے تو وہ پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتا تھا، اب وہی مرد بیگم کے دوپٹوں کو 'نیل' لگا کر صحن میں پھیلاتا ہوا پایا جاتا ہے۔

ستم ظریفی کی حد تو دیکھیے، اب تو "پیکا ایکٹ" (PECA) کی تلوار بھی شوہروں کے سر پر لٹک رہی ہے۔ اگر بیچارے شوہر نے غلطی سے فیس بک پر اپنی مظلومیت کا رونا رو دیا یا بیگم کو واٹس ایپ پر یہ لکھ دیا کہ "آج سالن میں نمک زیادہ ہے"، تو فوراً سائبر ہراسمنٹ اور ذہنی تشدد کی دفعات حرکت میں آ جاتی ہیں۔ اب تو موبائل فون شوہر کے لیے رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک "ڈیجیٹل ہتھکڑی" بن چکا ہے، جہاں ہر میسج بھیجنے سے پہلے اسے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ جملہ اسے تین سال کے لیے "سسرال" (جیل) نہ پہنچا دے۔

وہ بیگم جو شادی کے دوسرے ہفتے ہی شوہر کے کان میں 'الگ گھر' کا منتر پھونکتی ہے اور اسے اس کے بوڑھے ماں باپ سے ایسے الگ کرتی ہے جیسے دودھ سے مکھی، اس کے لیے کوئی "پیکا" یا "ویمن ایکٹ" کیوں نہیں؟ ماں باپ سے جدائی کا یہ "سلو پوائزن" کسی جرم کے زمرے میں کیوں نہیں آتا؟ وہ بوڑھے والدین جنہوں نے تپتی دھوپ میں خون پسینہ ایک کر کے بیٹے کو جوان کیا، انہیں ایک "دھمکی" کے بغیر ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، مگر اس پر کوئی انسانی حقوق والا شور نہیں مچاتا۔

آج کے دور کا شوہر وہ قیدی ہے جو اتوار کے دن اپنی مرضی سے سو بھی نہیں سکتا۔ صبح نو بجے ہی بیگم کا ایک 'آرڈر' آتا ہے اور صاحبِ بہادر روبوٹ کی طرح کچن اور واشنگ مشین کے درمیان شٹل کاک بن جاتے ہیں۔ محلے بھر کے مردوں کی غیرت کا جنازہ اس وقت نکلتا ہے جب گلی سے گزرتے ہوئے ہر دوسرے گھر سے "رگڑائی اور دھلائی" کی آوازیں آتی ہیں—اور یقین جانیے، یہ آوازیں کپڑوں کی نہیں، شوہروں کی دبی ہوئی چیخوں کی ہوتی ہے۔

حکومتِ وقت سے دست بستہ گزارش ہے کہ جہاں اتنی دفعات بنائی ہیں، وہاں ایک "رن مرید پروٹیکشن بل" بھی لایا جائے۔ جس میں یہ شقیں لازمی شامل ہوں کہ اتوار کے دن شوہر سے زبردستی کپڑے دھلوانا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا جائے اور شوہر کو اس کے سگے ماں باپ سے دور رہنے پر مجبور کرنے والی بیگم کو بھی قانونی کٹہرے میں لایا جائے۔

صاحبو! اگر طلاق کی دھمکی پر تین سال قید ہے، تو بیگم کی طرف سے ملنے والی اس "روزانہ کی مشقت" پر بھی کچھ تو جرمانہ ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ملک کے سارے شادی شدہ مرد تھانے کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہوں گے اور ڈیوٹی آفیسر سے التجا کریں گے: "حوالدار صاحب! خدا کے لیے ہمیں کسی بھی جھوٹے کیس میں اندر کر دیں، کم از کم جیل میں اتوار کو بیگم کے لان کے دوپٹے تو نہیں دھونے پڑیں گے!"

خصوصی نوٹ (Disclaimer):

"یہ تحریر خالصتاً طنز و مزاح کے پیرائے میں لکھی گئی ہے جس کا مقصد معاشرتی رویوں اور حالیہ قانونی تبدیلیوں پر ایک شگفتہ تبصرہ کرنا ہے۔ اس کالم کے ذریعے کسی مخصوص فرد، خاندان یا ادارے کی دل آزاری یا تضحیک مقصود نہیں ہے۔ تحریر میں بیان کردہ خیالات مصنف کی اپنی مشاہداتی اور ادبی رائے پر مبنی ہیں، جنہیں سنجیدہ قانونی بحث کے بجائے محض ایک سماجی آئینے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔"


باپ کے خفیہ آنسو اور راکھ بنی کتاب: قلم کی پہلی دہشت گردی






 تحریر: پیر انتظار حسین مصور

دنیا میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتے ہیں مگر ان کے نشان کبھی نہیں مٹتے۔ میری زندگی کا وہ زخم "راکھ" کی صورت میں میرے سامنے تھا، جس میں میری برسوں کی محنت اور میری پہلی کتاب جلی پڑی تھی۔

واقعہ کچھ یوں تھا...

سنہ 2002 کا دور تھا، میرے ہاتھ میں نیا نیا قلم آیا تھا اور خون میں جوانی کی گرمی تھی۔ میں نے گاؤں کے بااثر لوگوں کے خلاف ایک ایسی کاٹ دار نظم لکھی کہ پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان لوگوں کی انا پر چلنے والی آری تھی۔

معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب وہ لوگ بپھرے ہوئے شیروں کی طرح ہمارے گھر آپہنچے۔ میرے والد صاحب، جو ایک نہایت درویش صفت اور صلح جو انسان تھے، ان کے سامنے ان لوگوں نے دہائی دی:

"اپنے بیٹے کو لگام دو! اس نے ہماری پگڑیاں اچھالی ہیں۔ تمہارا بیٹا بہت اونچی اڑان بھر رہا ہے، یاد رکھنا ہمارے جوانوں کا خون بھی ابال مارتا ہے، کہیں یہ اونچی اڑان خون خرابے پر ختم نہ ہو!"

وہ ایک کھلی دھمکی تھی۔ میرے والد صاحب غریب ضرور تھے مگر غیرت مند تھے۔ وہ بھانپ گئے تھے کہ یہ قلم میرے بیٹے کی جان لے لے گی۔ انہوں نے اسی وقت ایک کٹھن فیصلہ کیا۔ انہوں نے میری وہ کتاب، جو میرے خوابوں کا مجموعہ تھی، اسے اٹھایا اور آگ کی نذر کر دیا۔

مجھ پر وہ غصہ ہوئے، گرجے اور کہا: "تم شاعری میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہو؟ تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا!" میں اس وقت سمجھا کہ شاید میرے والد میرے فن کے دشمن ہیں۔ میں دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

مگر کہانی کا اصل درد تو بعد میں کھلا۔ مجھے کسی نے بتایا کہ جب میں وہاں سے چلا گیا اور گھر میں خاموشی چھا گئی، تو وہی سخت گیر باپ، وہی درویش صفت انسان اس راکھ کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر چھپ چھپ کر رو رہا تھا۔ وہ آنسو مجھ سے نفرت کے نہیں تھے، وہ تو اس مجبوری کے تھے کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اس کے خوابوں کا گلا گھونٹنا پڑا۔ وہ سامنے تو غصہ دکھا رہے تھے تاکہ دشمن ٹھنڈے ہو جائیں، مگر اندر سے وہ خود بھی راکھ ہو چکے تھے۔

آج جب میں قلم اٹھاتا ہوں، تو مجھے وہ شعلے نہیں بلکہ اپنے والد کے وہ خفیہ آنسو یاد آتے ہیں۔ ان آنسوؤں نے میرے قلم کو وہ وقار بخشا کہ آج میں کسی کی پگڑی اچھالنے کے لیے نہیں، بلکہ حق کی سربلندی کے لیے لکھتا ہوں۔

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد ادنیٰ لکھیاری...