تحریر: پیر انتظار حسین مصور
دنیا میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتے ہیں مگر ان کے نشان کبھی نہیں مٹتے۔ میری زندگی کا وہ زخم "راکھ" کی صورت میں میرے سامنے تھا، جس میں میری برسوں کی محنت اور میری پہلی کتاب جلی پڑی تھی۔
واقعہ کچھ یوں تھا...
سنہ 2002 کا دور تھا، میرے ہاتھ میں نیا نیا قلم آیا تھا اور خون میں جوانی کی گرمی تھی۔ میں نے گاؤں کے بااثر لوگوں کے خلاف ایک ایسی کاٹ دار نظم لکھی کہ پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان لوگوں کی انا پر چلنے والی آری تھی۔
معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب وہ لوگ بپھرے ہوئے شیروں کی طرح ہمارے گھر آپہنچے۔ میرے والد صاحب، جو ایک نہایت درویش صفت اور صلح جو انسان تھے، ان کے سامنے ان لوگوں نے دہائی دی:
"اپنے بیٹے کو لگام دو! اس نے ہماری پگڑیاں اچھالی ہیں۔ تمہارا بیٹا بہت اونچی اڑان بھر رہا ہے، یاد رکھنا ہمارے جوانوں کا خون بھی ابال مارتا ہے، کہیں یہ اونچی اڑان خون خرابے پر ختم نہ ہو!"
وہ ایک کھلی دھمکی تھی۔ میرے والد صاحب غریب ضرور تھے مگر غیرت مند تھے۔ وہ بھانپ گئے تھے کہ یہ قلم میرے بیٹے کی جان لے لے گی۔ انہوں نے اسی وقت ایک کٹھن فیصلہ کیا۔ انہوں نے میری وہ کتاب، جو میرے خوابوں کا مجموعہ تھی، اسے اٹھایا اور آگ کی نذر کر دیا۔
مجھ پر وہ غصہ ہوئے، گرجے اور کہا: "تم شاعری میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہو؟ تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا!" میں اس وقت سمجھا کہ شاید میرے والد میرے فن کے دشمن ہیں۔ میں دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔
مگر کہانی کا اصل درد تو بعد میں کھلا۔ مجھے کسی نے بتایا کہ جب میں وہاں سے چلا گیا اور گھر میں خاموشی چھا گئی، تو وہی سخت گیر باپ، وہی درویش صفت انسان اس راکھ کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر چھپ چھپ کر رو رہا تھا۔ وہ آنسو مجھ سے نفرت کے نہیں تھے، وہ تو اس مجبوری کے تھے کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اس کے خوابوں کا گلا گھونٹنا پڑا۔ وہ سامنے تو غصہ دکھا رہے تھے تاکہ دشمن ٹھنڈے ہو جائیں، مگر اندر سے وہ خود بھی راکھ ہو چکے تھے۔
آج جب میں قلم اٹھاتا ہوں، تو مجھے وہ شعلے نہیں بلکہ اپنے والد کے وہ خفیہ آنسو یاد آتے ہیں۔ ان آنسوؤں نے میرے قلم کو وہ وقار بخشا کہ آج میں کسی کی پگڑی اچھالنے کے لیے نہیں، بلکہ حق کی سربلندی کے لیے لکھتا ہوں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں