قلم کی دہشت گردی
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
دنیا میں کچھ لوگ خالی جیب ہوتے ہوئے بھی کسی شہنشاہ سے کم نہیں ہوتے۔ کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو سارا دن بھٹے کی آگ میں اینٹیں پکا کر چند روپے کماتا ہو، لیکن جب وہ چوک میں بیٹھے تو پورا گاؤں اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھے؟
میں نے دیکھا ہے!
یہ اس دور کی بات ہے جب انٹرنیٹ نام کی بلا ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے گاؤں میں ایک شخص تھا، رفیق پٹھان۔ وہ ایک عام مزدور تھا، ایک گمنام انسان۔ لیکن اس کے پاس ایک پرانا ریڈیو تھا جو اسے پوری دنیا سے جوڑ دیتا تھا۔ جب ریڈیو پر اس کا نام پکارا جاتا، تو وہ کسی ملک کا وزیراعظم محسوس ہوتا تھا۔ لوگ اسے داد دیتے، اس کا احترام کرتے۔ وہ دور سادگی کا تھا، جہاں ریڈیو پر نام آنا ہی سب سے بڑی عزت تھی۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج ہمارے پاس موبائل تو ہیں مگر وہ سکون اور سچی خوشی کہیں کھو گئی ہے۔
مگر وقت کا پہیہ گھوما اور سنہ 2002 آگیا۔ میرے ہاتھ میں نئی نئی قلم لگی تھی اور سینے میں شاعری کا جنون۔ میں نے اس وقت اپنی پہلی کتاب مکمل کی تھی (جو بعد میں ایک حادثے میں آگ کی نذر ہو گئی)۔ ان دنوں شاعری کرنا اور مشاعرے پڑھنا ہی سب سے بڑا مشغلہ ہوتا تھا۔ بچپنا بھی تھا اور کچھ کر دکھانے کی تڑپ بھی۔
اسی دوران سکول کے کچھ لڑکوں کا کرکٹ میچ تھا۔ فائنل کا دن تھا اور جوش و خروش عروج پر۔ لڑکوں نے مجھ سے فرمائش کی: "انتظار صاحب! آج ہمارا فائنل ہے، آپ ہمارے ساتھ چلیں اور سٹیج پر کچھ اشعار سنائیں"۔ میں نے "شاہین سٹار" کے نام ایک شاندار آزاد نظم لکھی۔ خوش قسمتی سے ہم میچ جیت گئے، انعام مل گیا، بوتلیں اور بریانی منگوائی گئی۔ سب نے جشن منایا، مگر مجھے ایسے نظر انداز کیا گیا جیسے میں وہاں موجود ہی نہ تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جس نے میرے اندر کے شاعر کو باغی بنا دیا۔
ہاری ہوئی ٹیم کے ایک لڑکے نے تیلی لگائی: "دیکھو انتظار صاحب! ان کے قصیدے لکھنے کا کیا فائدہ؟ انہوں نے تو پوچھا تک نہیں"۔ وہ بات دل پر لگی۔ میرے پاس قلم تو تھا مگر کاغذ نہیں تھا۔ میں نے چھوٹے چھوٹے کاغذ کے ٹکڑے جمع کیے اور ان پر ایک ایسی "جوابی نظم" لکھی کہ جس کے الفاظ نہیں، شعلے تھے۔
ہم نے آٹے کی لئی (لیوی) بنائی اور رات کے اندھیرے میں وہ کاغذ کے ٹکڑے گاؤں کے ہر گھر کے دروازے پر چسپاں کر دیے۔ صبح ہوئی تو پورے گاؤں میں ایک ہی شور تھا۔ وہ میری زندگی کی پہلی "قلمی دہشت گردی" تھی۔ الفاظ کی کاٹ اتنی گہری تھی کہ گاؤں کے بڑوں نے حکم دیا: "اسے کچھ نہ کہنا، کہیں یہ کسی اور معاشرے میں یہ نظم نہ پڑھ دے۔ اس سے معافی مانگو اور معاملہ رفع دفع کرو!"
جب بڑے مجھ سے معافی مانگنے آئے، تب مجھے احساس ہوا کہ قلم کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ اس دن میں نے توبہ کی کہ اب یہ قلم کسی کی دل آزاری کے لیے نہیں، بلکہ صرف مظلوموں کے حق کے لیے اٹھے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں