غریبوں کی مدد کیسے کریں؟ ایک قلمکار کا انوکھا مشن اور انسانیت کی پکار



غریبوں کی مدد کیسے کریں؟ کیا آپ کے دسترخوان پر کسی کی سسکیاں تو نہیں؟

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

غریبوں کی مدد کیسے کریں؟ یہ وہ سوال ہے جو معاشرے کے ہر اس فرد کے ضمیر پر دستک دیتا ہے جو دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہو۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے میرے قلم کو وہ حرمت عطا کی کہ ملک کے معتبر اخبارات میں میرے کالم شائع ہوتے رہے اور آپ جیسے قدر دانوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ لکھنے کا جو مقصد تھا، وہ رب کے فضل سے پورا ہو رہا تھا، لیکن زندگی کی تلخ حقیقتوں نے میرے اندر ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔

مجھے محسوس ہوا کہ میرے لفظوں کو اب صرف اخبار کی سرخیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں ایک ایسی چھت بننا چاہیے جس کے سائے میں کوئی بے سہارا پناہ لے سکے۔ اسی لیے میں نے اپنے اس بلاگر کا آغاز کیا ہے، تاکہ میں اپنے خیالات کو براہِ راست آپ تک پہنچا سکوں اور میرے اس قلمی سفر کا ثمر ان لوگوں تک پہنچے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ہمارا زیاں اور ان کی حسرت

آج ہم جب کسی مہنگے ہوٹل میں بیٹھ کر مرغ مسالے کا ایک ایک نوالہ شوق سے توڑتے ہیں، تو کیا ہمیں کبھی اس بچے کا خیال آتا ہے جو سڑک کی دوسری طرف کسی کچرے کے ڈھیر میں اپنی بھوک تلاش کر رہا ہوتا ہے؟ ہم شادیوں میں جتنا کھانا ضائع کر دیتے ہیں، کیا ہم جانتے ہیں کہ اتنے ہی کھانے سے کتنے ہی گھروں کا ہفتوں کا راشن آ سکتا ہے؟ ہماری گلیوں میں ایسی سفید پوش بیٹیاں بھی ہیں جن کے بال صرف اس لیے سفید ہو رہے ہیں کہ ان کے بوڑھے باپ کے پاس انہیں رخصت کرنے کے وسائل نہیں۔

میرا قلم: ایک نئی سمت

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میرا قلم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں رہے گا، بلکہ یہ ایک وسیلہ بنے گا۔ اس بلاگر پر میری تحریروں کو پڑھنے کا عمل دراصل ایک ایسے مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد ان بیواؤں کی دہلیز پر خوشیاں لانا ہے جو راتوں کو اپنے بچوں کے سرہانے روتی ہیں۔ یہ ان باپوں کا سہارا بنے گا جو ہسپتال کی دیواروں سے لگ کر اس لیے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ان کی جیب میں دوا خریدنے کی سکت نہیں۔

آپ کی شرکت: ایک خاموش ساتھ

دوستو! مجھے آپ سے کوئی مالی مطالبہ نہیں کرنا۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس بلاگر پر تشریف لائیں، ان تحریروں کو پڑھیں اور اس ادبی دنیا کا حصہ بنیں۔ جب آپ یہاں آ کر ان لفظوں سے جڑتے ہیں، تو آپ کی یہ موجودگی ہی اس ویب سائٹ کو وہ توانائی فراہم کرتی ہے جو بالآخر کسی مستحق کی دوا، کسی یتیم کی تعلیم یا کسی غریب بچی کی شادی کا ذریعہ بنے گی۔

یہ سفر اب صرف میرا نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کا ہے جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں۔ آئیے! میرے اس بلاگر پر میرا ساتھ دیں تاکہ ہم مل کر ان مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لا سکیں جن کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...