مکمل کالم: سچ کی قید اور جھوٹ کا بازار
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
میں نے پچھلے دنوں ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک بوڑھا شخص بازار میں کھڑا "سچ" مفت بانٹ رہا تھا، مگر لوگ دامن بچا کر گزر رہے تھے۔ ذرا آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک خوش لباس شخص خوبصورت پیکنگ میں "جھوٹ" بیچ رہا تھا، اور وہاں خریداروں کا ہجوم تھا، لوگ بولیاں لگا رہے تھے۔
یہ آج کے دور کا المیہ ہے۔ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنے والے کو "پاگل" اور جھوٹ کو فنکاری کا نام دے کر "دانشور" سمجھا جاتا ہے۔
میرا قصور کیا ہے؟
میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں آپ کو وہ نہیں بتاتا جو آپ سننا چاہتے ہیں، بلکہ وہ لکھتا ہوں جو حقیقت ہے۔ فیس بک کی اس دنیا میں جہاں لائکس (Likes) کی دوڑ لگی ہے، وہاں میں نے قلم اٹھایا ہے حق کے لیے۔ لوگ کہتے ہیں "مصور صاحب، کچھ ایسا لکھیں جس سے واہ واہ ہو، کچھ تیکھا، کچھ مرچ مصالحے والا۔"
مگر میرا جواب سادہ ہے:
میرا قلم کسی کی خوشنودی کا غلام نہیں۔ میں لفظوں کا سوداگر نہیں، میں احساس کا ترجمان ہوں۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ میری پوسٹ پر کتنے کمنٹس ہیں یا کتنے لوگوں نے اسے شیئر کیا۔ میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر میری ایک سطر سے بھی کسی ایک انسان کی سوچ بدل گئی، تو سمجھوں گا میرا حق ادا ہو گیا۔
سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ وہ دوا ہے جو معاشرے کے ناسوروں کو جڑ سے ختم کرتی ہے۔ جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت دیکھنے میں تو شاندار لگتی ہے، مگر یاد رکھیے، ریت کے گھروندے پہلی بارش کی مار نہیں سہہ سکتے۔
یاد رکھیے!
تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو وقت کی دھارے کے خلاف چلے۔ جنہوں نے مصلحت کی چادر نہیں اوڑھی، بلکہ حق کا علم بلند کیا۔ میں جانتا ہوں کہ آج سچ لکھنے والوں کے لیے راستے تنگ ہیں، لوگ ہمیں قصوروار ٹھہراتے ہیں، ہمیں نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن کیا سورج اس ڈر سے چمکنا چھوڑ دے کہ اندھیرے کو اس کی روشنی سے تکلیف ہو رہی ہے؟
ہرگز نہیں!
میرا سفر جاری رہے گا۔ میری عاجزی میرا غرور ہے اور میرا سچ میرا اثاثہ۔ آپ مجھے لائک کریں یا نہ کریں، مجھے فالو کریں یا نہ کریں، لیکن میرے الفاظ آپ کے ضمیر پر دستک دیتے رہیں گے۔
کیونکہ لفظ مرتے نہیں، وہ زندہ رہتے ہیں۔ اور سچا لفظ تو وہ بیج ہے جو مٹی میں دب کر بھی ایک دن تناور درخت بن کر ابھرتا ہے۔
فیصلہ اب آپ کا ہے: آپ کو چمکتا ہوا جھوٹ چاہیے، یا کڑوا مگر زندگی بخش سچ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں