تحریر: پیر انتظار حسین مصور
موسمِ سرما صرف کیلنڈر کی تاریخیں بدلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی مزاج اور کیفیات میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ جب ہواؤں میں خنکی بڑھتی ہے اور سورج کی تپش مدہم پڑنے لگتی ہے، تو انسان کے اندر کا موسم بھی بدلنے لگتا ہے۔
سردی کا نفسیاتی اثر: سردیاں ہمیں اپنے کمرے، اپنی رضائی اور اپنے خیالات کے حصار میں واپس لے آتی ہیں۔ یہ موسم "خود شناسی" کا ہے۔ لمبی راتیں ہمیں موقع دیتی ہیں کہ ہم گزشتہ سال کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لیں۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنی روح کے اندر جھانک کر حقیقی سکون پاتے ہیں۔
صحت اور روایت: اس بار کی سردی میں دھند کے ساتھ "سموگ" بھی شامل ہے۔ ایسے میں ماسک اور نیم گرم پانی کا استعمال ہماری بقا کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی روایتی غذاؤں یعنی گڑ، تل اور دیسی قہووں کی طرف واپس لوٹنا ہوگا جو ہماری قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں۔
سماجی ذمہ داری: کالم نگار کے طور پر میری نظر ان خالی ہاتھوں پر بھی ہے جو کسی تھڑے پر بیٹھے سورج کی پہلی کرن کا انتظار کرتے ہیں۔ ہماری چھوٹی سی کوشش، یعنی کوئی پرانی جرسی یا کمبل کسی ضرورت مند تک پہنچانا، کسی کی سرد رات کو گرمائش دے سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں