حضرت بابا حاجی شیر محمد المعروف دیوان چاولی مشائخؒ: تاریخ، حقائق اور استعمار کے خلاف جدوجہد

 تحریر: پیر انتظار حسین مصور شاہ

آزادی کا انعام: تنگی اور محرومی!

کیا آزادی کا مطلب صرف جھنڈا لہرانا ہے؟ یا ان مجاہدین کے ورثاء کو انصاف دینا ہے جنہوں نے انگریز کی غلامی پر موت کو ترجیح دی؟ یہ کہانی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اصل ہیروز اور ان کے ورثاء کی حالتِ زار کا موازنہ ان لوگوں سے کریں جو آج طاقت کے ایوانوں پر مسلط ہیں۔

تاریخی پس منظر اور قربانیاں:

 * خاندان کی بنیاد: دیوان چاولی مشائخ فیملی کا تعلق حضرت بابا حاجی شیر محمدؒ کی روحانی وراثت سے ہے، جن کی وفات 131 ہجری (753 عیسوی) میں ہوئی۔

 * برطانوی استعمار کے خلاف بغاوت: حضرت پیر میاں غلام اویسؒ نے برطانوی سامراج کے خلاف اعلانِ جہاد کیا جس کی پاداش میں خاندان کی تمام وسیع زمینیں اور جاگیریں ضبط کر لی گئیں۔

 * چک نمبر 317 ای بی: یہ گاؤں اس عظیم خاندان کا تاریخی مرکز ہے جو آج بھی حکومتی ترجیحات سے محروم ہے۔

حقائق کی درستی:

تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ راجپال اول کی حکومتی مدت بابا حاجی شیر محمدؒ کی وفات کے 334 سال بعد شروع ہوئی، لہٰذا راجپال کو ان کا باپ بتانا تاریخی طور پر سراسر غلط اور من گھڑت ہے۔

نتیجہ:

یہ صرف جائیداد کی جنگ نہیں، بلکہ حق کی بقا، روحانی شناخت اور قومی غیرت کی جنگ ہے۔ عدلیہ اور پارلیمنٹ کو چاہیے کہ مجاہدینِ آزادی کے اصل ورثاء کو ان کا تاریخی حق وا


پس دلوائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...