
نیا سال 2026: خوابوں کی تعبیر یا وہی پرانی لکیر؟
تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیرِ قلم کی چھاپ)
وقت کی گردش نے ایک اور دائرہ مکمل کیا اور آج ہم 2026 کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ ایک لکھاری کی نظر سے جب میں زندگی کے کینوس پر نظر ڈالتا ہوں، تو مجھے بہت سے ادھورے خاکے اور کچھ گہرے زخم نظر آتے ہیں۔ نئے سال کا جشن منانا برا نہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ کیا ہم بطور قوم اپنی سمت درست کر پائے ہیں؟ پیرِ قلم کی چھاپ تبھی گہری ہوتی ہے جب وہ سچائی کا ساتھ دے اور گزرے ہوئے لمحات کا ایمانداری سے تجزیہ کرے۔
تاریخ کا ایک تازیانہ
نئے عزم کرنے سے پہلے ہمیں اپنی تاریخ کے ان تلخ صفحات کو پلٹنا ہوگا جو ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جس نے اپنے محسنوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو شاید ہی کوئی اور قوم کرتی ہو۔ ہمیں یاد کرنا ہوگا وہ لرزہ خیز منظر جب اس ملک کے بانی، بابا قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ایمبولینس کا ایندھن (Fuel) ختم ہو گیا تھا اور وہ سڑک کنارے بے بسی کی حالت میں کھڑے تماشائے اہلِ کرم دیکھ رہے تھے۔ جس شخص نے ہمیں ایک آزاد ملک کا تحفہ دیا، اسے ہم ایک سلامت گاڑی اور ایندھن تک فراہم نہ کر سکے کہ وہ سکون سے اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں گزار پاتے۔
محسن کشی کی انتہا
ظلم کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ہم نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کیا کیا؟ وہ خاتون جو تحریکِ پاکستان کا ستون تھیں اور جنہوں نے قائد کا سایہ بن کر جدوجہد کی، انہیں اسی قوم کے سامنے "غداری" کے القابات سے نوازا گیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ جس عظیم ہستی نے اپنا سب کچھ اس مٹی پر قربان کر دیا، آخری وقت میں یہ قوم انہیں ایک جہاز تک میسر نہ کر سکی کہ وہ بروقت ہسپتال پہنچ کر اپنا علاج کروا سکتیں۔ یہ وہ سیاہ رنگ ہیں جو ہمارے قومی کردار کے کینوس پر آج بھی دھبے کی طرح موجود ہیں۔ جب میں ان حقائق پر غور کرتا ہوں تو میرے سوچ سمندر میں تلاطم پیدا ہوتا ہے اور میرا قلم خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔
تبدیلی کا راستہ: اب نہیں تو کب؟
ایک مصور تب تک شاہکار تخلیق نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے کینوس کی خرابیوں کو دور نہ کر دے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ نیا سال واقعی ہمارے لیے مبارک ہو، تو ہمیں چند بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی:
* محسنوں کی قدر: ہمیں اپنے ہیروز کی تذلیل کی روایت کو دفن کرنا ہوگا۔
* سچائی کی تلاش: جھوٹے بیانیوں اور سیاسی مفاد کے لیے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے بجائے حق کا ساتھ دینا ہوگا۔
* عملی جدوجہد: محض نعروں اور چراغاں کے بجائے ملک کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔
حرفِ آخر
آئیں اس نئے سال میں دعا کریں کہ باری تعالیٰ ہمیں ایک ایسی قوم بنائے جو قدر دان ہو، جو اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی لاج رکھ سکے اور جو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا پاکستان دے سکے جس کا خواب قائد اور اقبال نے دیکھا تھا۔ یاد رکھیں، جب تک ہم اپنا رویہ اور اپنی سوچ نہیں بدلیں گے، محض کیلنڈر بدلنے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلا کرتی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں