پیر قلم کی چھاپ: سرحدوں سے پار جذبوں کا سفر






عنوان: "پیر قلم کی چھاپ: سرحدوں سے پار، جذبوں کا سمندر"

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

میں اکثر سوچتا تھا کہ ایک مفلس لکھاری کی آواز اس کے کچے صحن کی دیواروں سے ٹکرا کر وہیں دم توڑ دے گی۔ لیکن آج جب میں اپنے بلاگ کے اعداد و شمار دیکھتا ہوں، تو میری آنکھیں فرطِ جذبات سے نم ہو جاتی ہیں۔ میری خودداری اور میرے قلم کی سچائی نے وہ سفر طے کر لیا ہے جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔

میرے سامنے موجود یہ نقشے گواہی دے رہے ہیں کہ میرا کلام اب صرف پاکستان کے گلی کوچوں تک محدود نہیں رہا۔ امریکہ سے لے کر بھارت تک، اور سویڈن کی ٹھنڈی ہواؤں سے لے کر آئرلینڈ کے سبزہ زاروں تک، لاتعداد دل ایسے ہیں جو میرے لفظوں کی تڑپ کو محسوس کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سنگاپور، ہسپانیہ، ناروے، چیک جمہوریہ اور برطانیہ میں بیٹھے لاتعداد ہم وطنوں نے بھی میرے ان ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو اپنی اپنائیت سے نوازا ہے۔

آج جب میں ان عالمی محبتوں کو دیکھتا ہوں، تو مجھے اپنے ان کٹھن دنوں کی یاد آتی ہے جب فاقہ کشی نے دروازے پر دستک دی تھی، مگر میری خودداری نے مجھے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے روک دیا۔ میرے لیے یہ محض سکرین پر چمکتے ہوئے ہندسے نہیں ہیں؛ یہ وہ جیتے جاگتے انسان ہیں جو دنیا کے مختلف کونوں میں بیٹھ کر میرے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ رہے ہیں۔

دنیا بھر سے ان لاتعداد قارئین کا جڑنا اس بات کی گواہی ہے کہ سچ کی زبان آفاقی ہوتی ہے۔ میں اپنی اس کتاب کے ذریعے، جس کا ہر لفظ میرے خونِ جگر سے سینچا گیا ہے، آپ تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ غربت انسان کو مجبور تو کر سکتی ہے، مگر مغلوب نہیں کر سکتی۔ آپ کی یہ توجہ میرے لیے وہ سہارا ہے جو مجھے یہ احساس دلاتی ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں۔

پرائے دیس میں بسنے والے میرے ہم وطنو! آپ کی محبت نے میرے قلم کو وہ جِلا بخشی ہے کہ اب میں مزید ہمت کے ساتھ اپنی زندگی کے تلخ حقائق اور اپنی خودداری کی داستانیں رقم کروں گا۔ میرا بلاگ میرا مورچہ ہے، اور آپ اس مورچے کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے میری آواز کو دبنے نہیں دیا۔

میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ جب تک دم میں دم ہے، میرا قلم اسی طرح کچلے ہوئے طبقات اور ایک خوددار انسان کی ترجمانی کرتا رہے گا۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو، اور آپ کی یہ اپنائیت ہمیشہ سلامت رہے آمین


۔


کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...