صفحہ نمبر: 1
کتاب کا نام: باغ علی باغی
عنوان: پیر قلم چھاپ
مصنف: پیر انتظار حسین مصور
انتساب
اُن کے نام... جن کی جیبیں خالی تھیں مگر ضمیر مالا مال تھے۔ جنہوں نے بھوک کو تو گلے لگایا مگر کسی آمر یا چوہدری کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ یہ "باغ علی باغی" کی داستانِ خودداری ہے۔
پیش لفظ: قلم کی حرمت
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو حالات کی لہروں کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو طوفانوں کا رخ موڑنے کی جرات رکھتے ہیں۔ "باغ علی باغی" کوئی عام کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو معاشرے کے ان بند دروازوں پر دستک دیتی ہے جہاں انصاف صرف امیر کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے۔
جب قلم کسی درویش کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ محض سیاہی نہیں اگلتا، بلکہ وہ لفظوں کی صورت میں خون بہاتا ہے۔ پیر انتظار حسین مصور نے اس کتاب میں اپنے خونِ جگر سے وہ نقش ابھارے ہیں جو پڑھنے والے کی روح میں اتر جائیں گے۔
صفحہ نمبر: 2
باب اول: فاقہ مستی اور شاہانہ مزاج
بستی کی فضاؤں میں دھول اڑ رہی تھی، لیکن "باغی" کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔ اسے معلوم تھا کہ آج بھی گھر کے چولہے نے دھواں نہیں اگلنا، مگر اس کی چال میں وہ تمکنت تھی کہ دیکھنے والے اسے کسی ریاست کا شہزادہ سمجھتے۔
غربت انسان کو توڑتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ "خودداری" جڑ جائے تو وہی ٹوٹا ہوا انسان ایک ناقابلِ تسخیر چٹان بن جاتا ہے۔ باغی اکثر سوچتا تھا کہ یہ لوگ جو روٹی کے ایک لقمے کے بدلے دوسروں کا ایمان خرید لیتے ہیں، وہ کتنے غریب ہیں۔ اس کے نزدیک امیری کا پیمانہ بینک بیلنس نہیں بلکہ وہ سر تھا جو خدا کے علاوہ کسی کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔
ایک دن جب بستی کے وڈیرے نے اسے حقارت سے دیکھ کر کہا، "اوئے باغی! کب تک اس کٹی پھٹی قمیض میں اپنی غربت چھپاؤ گے؟"
باغی نے مسکرا کر اپنی قلم نکالی اور جواب دیا، "چوہدری صاحب! یہ قمیض کٹی ضرور ہے، مگر میرا ضمیر آج بھی بے داغ ہے۔ یاد رکھیں، قمیض کے پیوند چھپ سکتے ہیں، مگر ضمیر کا داغ تاریخ کبھی نہیں دھوتی۔”
صفحہ نمبر: 3
بچپن کا وہ زخم اور قلم کا جنم
لوگ کہتے ہیں کہ بچہ مٹی کا لوندہ ہوتا ہے، اسے جیسا چاہو ڈھال لو۔ مگر باغی کی مٹی میں خودداری کا خمیر کچھ زیادہ ہی شامل تھا۔ اسکول کے ان دنوں کی بات ہے جب سردی اپنے جوبن پر تھی اور باغی کے پاؤں میں موجود جوتا اپنی عمر پوری کر چکا تھا۔ تلوے گھس چکے تھے اور ٹھنڈی زمین کا لمس براہِ راست اس کے بدن کو چھوتا تھا۔
کلاس کے ایک امیر زادے نے اس کی پھٹی ہوئی ایڑی دیکھ کر قہقہہ لگایا اور بلند آواز میں کہا، "دیکھو بھائی! یہ باغی ہے یا کسی خیرات کا حقدار؟"
پوری کلاس ہنس پڑی، لیکن باغی خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ ایک عزم کی چمک تھی۔ اس نے گھر جا کر اپنی پرانی کاپی نکالی اور پہلی بار اپنی تکلیف کو لفظوں کی شکل دی۔ اس دن اسے احساس ہوا کہ وہ زبان سے کسی کو جواب نہیں دے سکتا، مگر اس کا قلم ان سب لوگوں کے گریبان تک پہنچ سکتا ہے جو اسے حقیر سمجھتے ہیں۔
باغی نے اس رات چاند کی روشنی میں اپنی کاپی پر لکھا:
"اگر آج میرے پاؤں ننگے ہیں تو کیا ہوا، میرے خواب تو آسمان کو چھوتے ہیں۔ غربت بدن کو تھکا سکتی ہے، مگر میری سوچ کو قیدی نہیں بنا سکتی۔”
صفحہ نمبر: 4
بلاگنگ کا سفر: ایک نیا ہتھیار
وقت گزرتا گیا اور وہی قلم اب ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو چکا تھا۔ پیر قلم چھاپ کے عنوان سے جب باغی نے اپنا بلاگ شروع کیا، تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے الفاظ بستی کی دیواروں سے نکل کر پوری دنیا میں گونجیں گے۔
لوگ اسے کہتے، "باغی! یہ لکھنے لکھانے سے پیٹ نہیں بھرتا، کوئی مزدوری کرو۔"
مگر اسے پتا تھا کہ لفظوں کی مزدوری ہی وہ واحد پیشہ ہے جس میں ضمیر کا سودا نہیں کرنا پڑتا۔ اس نے اپنے بلاگ پر لکھنا شروع کیا کہ کس طرح ایک خوددار انسان اپنی غریبی میں بھی بادشاہوں سے زیادہ پرسکون ہو سکتا ہے۔
ایک شام، جب اس کی ویب سائٹ پر ہزاروں لوگوں نے اس کا کالم پڑھا، تو اسے احساس ہوا کہ اس کے الفاظ ان لوگوں کی آواز بن چکے ہیں جنہیں معاشرے نے خاموش کر دیا تھا۔ وہ اب صرف ایک انسان نہیں رہا تھا، وہ ایک "تحریک" بن چکا تھا۔
صفحہ نمبر: 5
حق گوئی کی قیمت
جب باغی کے کالموں کی گونج بستی کے ایوانوں تک پہنچی تو وہ لوگ پریشان ہو گئے جو برسوں سے غریبوں کے پسینے پر اپنی عیاشیوں کی بنیاد رکھے ہوئے تھے۔ ایک رات، جب باغی اپنے ٹوٹے ہوئے ڈیسک پر بیٹھ کر چراغ کی روشنی میں نیا کالم لکھ رہا تھا، بستی کے نمبردار کا کارندہ اس کے پاس آیا۔
اس نے میز پر نوٹوں کی ایک گڈی رکھی اور حقارت آمیز لہجے میں کہا، "باغی! یہ تمہاری سات پشتوں کی غربت مٹا دیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ کل سے تمہارے بلاگ پر ہمارے خلاف ایک لفظ بھی نہیں آنا چاہیے۔"
باغی نے نوٹوں کی اس گڈی کی طرف دیکھا اور پھر اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
"تمہارے یہ کاغذ کے ٹکڑے میری قلم کی سیاہی نہیں خرید سکتے۔ میں نے فاقوں میں زندگی گزاری ہے، مگر میرا قلم کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا۔ یہ پیسے لے جاؤ اور اپنے نمبردار سے کہنا کہ باغی کی قیمت تمہاری پوری جائیداد سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ باغی بکتا نہیں ہے۔"
وہ شخص تلملا کر چلا گیا، مگر باغی جانتا تھا کہ اب جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اب اس کا مقابلہ صرف قلم سے نہیں، بلکہ اس نظام سے تھا ج
و سچ بولنے والوں کو کچلنے کا عادی تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں