![]() |
| آن لائن شجرہ نسب اور بیوہ کی زمین کا ریکارڈ |
شجرہ نسب کی آن لائن فراہمی: "ہم سب" کی تڑپ اور کٹی ہوئی جڑوں کا درد!
تحریر: پیر انتظار حسین مصور و صحافی برادری
"ہم سب" کے قارئین اور اہل قلم! آج میرا قلم لہو رو رہا ہے۔ آج میں کسی خشک اعداد و شمار پر بات نہیں کروں گا بلکہ ان آنسوؤں کا ذکر کروں گا جو ہر اس شخص کی آنکھ سے بہتے ہیں جس کی جڑیں کاٹ دی جاتی ہیں، جس کی پہچان پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ گوگل کی ایک سرچ پر "آن لائن شجرہ" لکھنے والوں کو کیا معلوم کہ اس کے پیچھے کتنی دردناک کہانیاں چھپی ہیں؟
وہ سچی کہانی جو دل کاٹتی ہے: ایک بیوہ کی چیخ
یہ چند سال پہلے کی بات ہے، ایک غریب بستی کی ایک سیدھی سادی بیوہ، جس کا واحد سہارا اس کے مرحوم شوہر کی زمین تھی، اس کی زندگی یک دم اجڑ گئی۔ اس کے لالچی دیوروں نے پٹواری کے ساتھ مل کر ایک ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا جس نے اس عورت کو زندہ درگور کر دیا۔ انہوں نے محافظ خانے کے دھول بھرے ریکارڈ میں 1905ء کے قدیم شجرہ نسب میں "خانہ پری" کر دی۔ صرف اس لیے کہ دیور کا نام مرحوم شوہر سے ملتا جلتا تھا، جعلی گواہیاں کروائیں اور ایک فرضی رشتہ جوڑ کر بیوہ کو اس کے خاندان کی وراثت سے ہی خارج کر دیا۔
وہ بیوہ، جس کے ہاتھ غربت کی وجہ سے پہلے ہی خالی تھے، اب اس کے پاس اپنے وجود کا ثبوت بھی نہیں رہا تھا۔ اس کی چیخیں کچہری کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتیں۔ وہ کہتی تھی، "میرا شوہر ان کا بھائی تھا، میری ساس ان کی ماں تھی، میرا شجرہ کیوں بدل دیا؟" لیکن پٹواری کے رجسٹر میں قلم کی ایک لکیر نے اسے "لاوارث" بنا دیا تھا۔ اس عورت نے سالوں دربدر ٹھوکریں کھائیں، اپنے بچوں کے لیے روتی رہی، مگر کوئی اس کا درد سمجھنے کو تیار نہ تھا۔ یہ کہانی صرف ایک بیوہ کی نہیں، ایسے ہزاروں خاندان ہیں جن کی جڑیں کاٹ کر انہیں بے نشان کر دیا جاتا ہے۔
کٹی ہوئی جڑوں کا درد اور نسلوں کا نقصان
جب کسی انسان کا شجرہ نسب بدل دیا جاتا ہے تو اسے صرف زمین سے محروم نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کی تاریخ، اس کی قوم، اس کے اجداد کا احترام، سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔ وہ نسلیں جو اپنے آباؤ اجداد کے نام پر فخر کر سکتی تھیں، انہیں ایک جھوٹے کاغذ کے ٹکڑے کی وجہ سے اپنا ماضی دھندلا نظر آتا ہے۔ یہ کٹی ہوئی جڑوں کا درد نسلوں تک سرایت کرتا ہے۔ کیا ہم اس بے حسی کو مزید برداشت کرتے رہیں گے؟
ہم سب کا مطالبہ، ہم سب کی تڑپ
ہم تمام قلمکار، صحافی، اور "ہم سب" کے پلیٹ فارم سے یہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
فوری ڈیجیٹلائزیشن: محکمہ مال کے 1880ء اور 1905ء کے شجرہ نسب کو فی الفور مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے۔ یہ ریکارڈ عوام کا ہے، اسے بند الماریوں سے نکالو!
پہچان کا تحفظ: ہر شہری کو آن لائن یہ سہولت دی جائے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کا مصدقہ شجرہ نسب کسی بھی وقت دیکھ سکے، تاکہ کوئی اس کی پہچان چھین نہ سکے۔
شفافیت اور احتساب: ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے پٹواری کلچر میں پائی جانے والی بدعنوانی اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کیا جائے، اور کسی کی جڑیں کاٹنے والے کو سخت ترین سزا دی جائے۔
میں، پیر انتظار حسین مصور، اپنی صحافی برادری کے ساتھ مل کر یہ عہد کرتا ہوں کہ ہم اس وقت تک اپنی قلم کی کاٹ جاری رکھیں گے جب تک اس ملک کا ہر یتیم، ہر بیوہ، اور ہر مظلوم اپنی جڑوں اور اپنی پہچان کو محفوظ نہیں کر لیتا۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایک قوم کی تڑپ اور ہر اس انسان کا درد ہے جس کی پہچان چھینی گئی۔
رابطہ: پیر انتظار حسین مصور
فون نمبر: 03006488317

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں