![]() |
| پیر انتظار حسین مصور کا کالم: امریکہ میں تارکینِ وطن کا بحران |
ہیڈ لائن: پردیس کی نیلامی اور ڈالروں کی خیرات: امریکی ہجرت کا نیا اور دردناک موڑ
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
۱. خوابوں کی سرزمین یا جذبوں کا قبرستان؟
امریکہ، جسے کبھی خوابوں کی سرزمین کہا جاتا تھا، اب وہاں بسنے والے لاکھوں مسافروں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ پردیس کی مٹی میں ایسی کشش ہوتی ہے جو انسان کو اپنی جڑوں سے اکھاڑ کر سات سمندر پار تو لے جاتی ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان چمکتے ڈالروں کی قیمت وہاں بسنے والے مسافر اپنی روح بیچ کر چکا رہے ہیں۔
۲. ایک قاری کی داستانِ غم
حالیہ دنوں میں میرے بلاگ کو امریکہ سے بے پناہ پڑھا گیا، اور اسی دوران وہاں مقیم ایک قاری نے جب اپنی بپتا سنائی تو میرا قلم لرز اٹھا۔ اس نے بتایا کہ کیسے اس کی جوانی کی امنگیں وہاں کی برف باری میں منجمد ہو گئیں اور اب، جب جسم تھک چکا ہے اور بال سفید ہو رہے ہیں، تو وہاں کی حکومت ایک نیا 'انسانیت سوز ڈرامہ' رچا رہی ہے۔
۳. ڈالروں کا لالچ: زخموں پر نمک پاشی
سنا ہے اب وہاں تارکینِ وطن کو نکالنے کے لیے 'پیسوں کا بیوپار' شروع ہو چکا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے؟ برسوں جن ہاتھوں نے امریکہ کی عمارتیں تعمیر کیں، جنھوں نے ان کی سڑکوں کا کوڑا اٹھایا اور ان کی معیشت کو اپنے خون سے سینچا، آج انہی ہاتھوں میں چند ڈالروں کی 'خیرات' تھما کر کہا جا رہا ہے کہ "اپنا بوریا بستر گول کرو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ"۔
۴. کیا یہ ڈالروں کی پیشکش ہے یا جنازہ؟
یہ ڈالروں کی پیشکش نہیں، یہ ایک مزدور کی محنت کا جنازہ ہے، یہ ان جذبوں کی نیلامی ہے جو ایک پردیسی اپنے سینے میں دفن کر کے لایا تھا۔ کیا کوئی ڈالر اس تنہائی کا ازالہ کر سکتا ہے جو اس نے اجنبیوں کے شہر میں کاٹی؟ وہ جو ماں کی میت پر نہیں پہنچ سکا، وہ جو بیٹی کی رخصتی پر ویڈیو کال پر سسکیاں لیتا رہا، آج اسے کہا جا رہا ہے کہ تمہاری ان تمام قربانیوں کی قیمت چند ہزار ڈالر ہے؟
۵. حکمرانوں کی چال اور مسافر کی ہمت
یہ جو پیسے دے کر نکالنے کی پالیسی ہے، یہ دراصل ایک نفسیاتی جال ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسافر خود تھک ہار کر اپنی شکست تسلیم کر لے۔ لیکن یاد رکھو! پردیسی صرف پیسہ کمانے نہیں جاتا، وہ اپنے پیچھے پورے خاندان کی امیدیں لے کر جاتا ہے۔
اختتامیہ:
اے وطن سے دور بسنے والے مسافرو! تمہارا درد میرا درد ہے۔ تمہاری یہ ہمت ہی تمہاری پہچان ہے، ورنہ ڈالروں کی اس منڈی میں تو ضمیر بکتے ہیں، غیرت مند مسافروں کے جذبے نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں