![]() |
ضروری نوٹ: "اس کہانی کے تمام مقامات، کردار اور واقعات محض خیالی اور میری اپنی سوچ کی تخلیق ہیں۔ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی خاص شخصیت کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔ کوئی بھی قاری اسے اپنی زندگی کے ساتھ منسوب نہ کرے، اور اگر کسی کو اس سے دلی تکلیف پہنچتی ہے تو مصنف کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ادبی کاوش ہے جس کا مقصد معاشرتی شعور بیدار کرنا ہے۔"
بستی میں ایک طاقتور شخص کا خوف بسا تھا جو غریبوں کی زمینوں پر قابض تھا اور اسے یقین تھا کہ اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، مگر باغی نے فیصلہ کیا کہ اب خاموش رہنا گناہ ہے اور اپنے بلاگ پر "فرعون کی بستی اور موسیٰ کا قلم" کے عنوان سے ایک تفصیلی کالم لکھا جس میں اس کے تمام مظالم کے ثبوت سامنے رکھ دیے۔ اس نے لکھا کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے؛ تم نے لوگوں کی زبانیں تو بند کر دیں مگر اس سچ کو کیسے دباؤ گے جو ہواؤں میں گونج رہا ہے؟ جب اس ظالم شخص کو اس کے انجام تک پہنچایا گیا تو بستی والے تحائف اور پیسے لے کر باغی کے پاس آئے، مگر اس نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا اور کہا کہ میری مزدوری میرے رب کے پاس ہے، اگر میں نے اپنے لفظوں کی قیمت وصول کر لی تو میری خودداری کا جنازہ نکل جائے گا۔ اس فتح نے اسے سچائی کا استعارہ بنا دیا اور وہ اپنے 110 صفحات کے ہدف کی طرف بڑھنے لگا۔
مگر حالات نے پلٹا کھایا اور نمبردار کے کارندوں نے جب باغی کے کچے گھر پر قبضے کی کوشش کی اور اسے "باغی" ہونے کی سزا دینا شروع کی، تو وہ اپنی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں بے گھری کا خوف نہ دیکھ سکا۔ جس محبت کے سہارے وہ یہ جنگ لڑ رہا تھا، اس کی بے وفائی کے خط نے اس کے حوصلے کی آخری اینٹ بھی گرا دی۔ ایک اداس شام جب سورج بستی کی دھول میں روپوش ہو رہا تھا، باغی نے اپنا پرانا تھیلا اٹھایا جس میں کپڑے کم اور وہ ادھورے کالم زیادہ تھے جو اس نے فاقوں میں لکھے تھے، اور بھاری قدموں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل پڑا۔ ریل کی پٹریوں سے اٹھتی آوازیں اسے نمبردار کے طعنے یاد دلا رہی تھیں کہ کب تک اس کٹی پھٹی قمیض میں اپنی غربت چھپاؤ گے؟ لاہور کے اسٹیشن پر اترتے ہی شہر کی بے رحم چمک دمک نے اس کا استقبال کیا۔ جیب میں موجود چند سو روپے اس کی کل کائنات تھے، مگر اس کے سینے میں موجود خودداری کی آگ لاہور کی سرد ہوا سے کہیں زیادہ تیز تھی۔
اسٹیشن کے باہر فٹ پاتھ پر گزری وہ پہلی رات باغی کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ ہر طرف روشنیاں تھیں مگر اس کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ تھا، اس نے ٹھنڈی زمین پر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھا اور عہد کیا کہ اگر آج میں ایک خالی جیب مسافر بن کر اس شہر میں داخل ہوا ہوں، تو ایک دن یہ شہر 'باغ علی باغی' کے کالموں کے انتظار میں جاگے گا۔ کئی دن وہ لاہور کی سڑکوں پر بھوک مار کر کام ڈھونڈتا رہا۔ ایک جگہ اسے چوکیداری کی پیشکش ہوئی مگر بددیانتی دیکھ کر اس نے ٹھکرا دی اور نلکے کا پانی پی کر پیٹ کی آگ بجھائی مگر اپنے ضمیر پر داغ نہ آنے دیا۔ آخر کار اسے ایک چھوٹی سی کمپنی میں نوکری مل گئی جہاں اس کی ملاقات وقار سے ہوئی۔ وقار نے دیکھا کہ یہ عجیب شخص ہے جو اپنے حصے کی آدھی روٹی فقیر کو دے کر خود پانی پی کر شکر ادا کرتا ہے۔ وقار اس کے بلند ظرف کا اسیر ہو گیا اور ان کے درمیان ایک لازوال دوستی کی بنیاد پڑی۔ باغی نے وقار سے کہا کہ یار وقار، یہ شہر بڑا بے رحم ہے، یہاں لوگ چہرے نہیں جیبیں دیکھتے ہیں، لیکن ہم جیسے لوگ بکتے نہیں، بس کٹ جاتے ہیں۔
اسی دوران طالیہ کا وہ میسج کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھا کہ شازیہ کی عزت داؤ پر ہے۔ باغی نے فوراً ملک عمر کا نمبر ملایا، یہ وہی سیاستدان تھا جس کی بیٹی کو باغی نے اپنا خون دے کر بچایا تھا۔ باغی نے کہا کہ ملک صاحب، آج ایک بہن کی چادر بچانی ہے، مجھے آپ کی مدد نہیں اختیار چاہیے تاکہ میں اس درندے کو منطقی انجام تک پہنچا سکوں۔ باغی نے ایک ماہر شکاری کی طرح بلیک میلر کو جال میں پھنسایا اور ایک ویران گودام میں اس کی جوتی کی نوک سے اس کا جبڑا اٹھا کر کہا کہ معافی وہ مانگتے ہیں جن سے غلطی ہو، تو نے تو گناہ کیا ہے۔ اس نے تمام غلیظ مواد جلا کر راکھ کر دیا اور ثابت کر دیا کہ 'پیرِ قلم چھاپ' صرف لکھنا نہیں جانتا، بلکہ مٹانا بھی جانتا ہے۔ دشمن کو مٹانے کے بعد جب شازیہ نے شکر گزاری کے لیے فون کیا تو باغی نے سخت لہجے میں کہا کہ بی بی شکریہ کی ضرورت نہیں، اس دنیا میں احسان کے پیچھے مطلب چھپے ہوتے ہیں اور میں کسی مطلب کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
مگر شازیہ اس کے سخت لہجے کے پیچھے چھپے درد کی دیوانی ہو چکی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ باغی، میں نے آپ کے نام کا کلمہ پڑھا ہے، میرا ہر سانس آپ کا ہے۔ باغی نے اپنی غربت اور فاقوں کا حوالہ دیا مگر شازیہ نے تڑپ کر جواب دیا کہ میں آپ کی غربت سے نہیں آپ کی اس باغیانہ روح سے محبت کرتی ہوں۔ ان کے درمیان وعدوں اور قسموں کا سلسلہ شروع ہوا اور انہوں نے مستقبل کے خواب بننا شروع کیے۔ شازیہ نے کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کا نام 'باغی' رکھیں گے تاکہ وہ بھی حق کے لیے لڑنا سیکھے۔ اسی دوران طالیہ، جو میڈیکل کی طالبہ تھی، وہ بھی باغی کو اپنا مرشد مانتی تھی کیونکہ باغی نے اسے غنڈوں سے بچایا تھا۔ باغی نے طالیہ کو نصیحت کی کہ یہ دنیا جذبوں کی تجارت کرتی ہے، اپنی عزت کی حفاظت ایمان کی طرح کرنا۔ طالیہ اس کی عقیدت میں ایسی مگن تھی کہ اس کا کلاس فیلو احد اس کی سادگی پر مر مٹتا تھا، مگر طالیہ کے گرد باغی کی نصیحتوں کا وہ حصار تھا جسے کوئی توڑ نہیں سکتا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں