باغ علی باغی (قسط نمبر 4): طالیہ کی رخصتی اور یادداشت کا اندھیرا | پیر قلم چھاپ

 

Bagh Ali Bagh novel by Pir Intizar Hussain Musawwir




تحریر: پیر انتظار حسین مصور 

(پیر قلم چھاپ)


باغ علی باغی: احد کی تڑپ سے یادداشت کے اندھیرے تک

ایک دن احد نے ہمت جمع کی اور لائبریری کے ایک کونے میں طالیہ کو روک لیا۔ اس کی آنکھوں میں التجا تھی اور آواز میں تھرتھراہٹ: "طالیہ! کیا تمہیں واقعی نہیں معلوم کہ میں تمہارے لیے کیا محسوس کرتا ہوں؟ میں اپنی پوری زندگی تمہارے نام کرنے کو تیار ہوں۔" طالیہ نے رک کر احد کی طرف دیکھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ لرزش نہیں تھی جو ایسی باتیں سن کر کسی لڑکی کے چہرے پر آتی ہے۔ اسے باغی کا وہ جلال یاد آ گیا جو اس نے غنڈوں سے لڑتے وقت دیکھا تھا۔ اس نے نہایت ٹھہراؤ سے جواب دیا: "احد! میں یہاں ڈاکٹر بننے آئی ہوں، کسی کے جذبوں کے ساتھ کھیل کر گناہ گار بننے نہیں۔ میرے لیے رشتے وہ ہیں جن کی بنیاد سچائی اور عزت پر ہو۔ اگر تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جگہ ہے، تو اسے دعا بنا لو، تماشہ نہ بناؤ۔ میرے بھائی نے مجھے سکھایا ہے کہ غیرت سے بڑھ کر کائنات میں کوئی دولت نہیں ہے۔"

احد ساکت رہ گیا۔ اسے اندازہ ہوا کہ طالیہ کی تربیت کسی عام گھرانے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے "باغی" کے سائے میں ہوئی ہے جس نے اسے فولاد بنا دیا ہے۔ احد، جو اب تک طالیہ کی خاموشی کو اس کی بے رخی سمجھتا رہا تھا، ایک شام تڑپ کر باغی کے ڈیرے پر پہنچ گیا۔ احد نے ہمت جمع کی اور باغی کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کی آواز تھرتھرا رہی تھی: "باغی بھائی! میں نے آج تک زندگی کو صرف کتابوں اور دولت کے ترازو میں تولا ہے، مگر جب سے طالیہ کو دیکھا ہے، مجھے اپنی ہستی ہیچ لگنے لگی ہے۔" باغی نے بڑے ٹھہراؤ سے بولا: "ڈاکٹر صاحب! محبت تو ایثار مانگتی ہے، اور آپ پانے کی ضد کر رہے ہیں۔" احد نے روتے ہوئے باغی کے ہاتھ تھام لیے۔ اس لمحے اس کے اندر کا انا پرست ڈاکٹر مر چکا تھا اور ایک مرید زندہ ہو رہا تھا۔ باغی نے احد کو گلے سے لگا لیا اور کہا: "احد! اب تم میرے دوست نہیں، میرے بازو ہو۔"

طالیہ نے جب دیکھا کہ احد اب اس کے مرشد "باغی" کا بازو بن چکا ہے، تو اس کے دل کی بنجر زمین پر بھی محبت کی پہلی کونپل پھوٹنے لگی۔ اس نے مصلے پر بیٹھ کر دعا کی اور اگلے دن باغی کے سامنے سر جھکا کر اپنی زندگی کا سب سے بڑا اختیار ان کے سپرد کر دیا: "باغی بھائی! میں نے اپنا حقِ انتخاب آپ کی جوتیوں میں رکھ دیا ہے۔" دوسری طرف احد نے اپنے امیر والدین کو اپنی دیوانگی اور سچائی سے قائل کر لیا۔ آخر کار، احد کے والدین نے ہامی بھر لی۔ احد خوشی سے پاگل ہو کر سیدھا باغی کے پاس پہنچا اور کہا: "بھائی! میرے ماں باپ مان گئے ہیں۔ اب سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔"

لاہور کی وہ راتیں گواہ تھیں کہ باغی اب عشق کا وہ مجسمہ بن چکا تھا جس کی ہر سانس میں شازیہ کا نام بستا تھا۔ شازیہ نے تڑپ کر کہا: "باغی! اب تو میرا مجازی خدا ہے، تیرے بغیر یہ جنت بھی میرے لیے دوزخ ہے۔" ان کا عشق لیلیٰ مجنوں کی داستانوں کو تازہ کرنے لگا تھا۔ مگر قدرت کے پردے کے پیچھے جدائی کا وہ ہولناک منظر تیار ہو رہا تھا جو ان دونوں کو تڑپا کر رکھ دینے والا تھا۔

طالیہ کی شادی کا دن آ پہنچا۔ عین رخصتی کے وقت، جب طالیہ کا ہاتھ احد کے ہاتھ میں دیا جا رہا تھا، باغی کے پاس بورے والا سے ایک ایسا پیغام پہنچا جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ وہ فوراً وہاں سے نکلا، مگر جیسے ہی وہ شہر کی حدود سے باہر نکلا، دشمنوں نے اسے گھیر لیا۔ رات کے پچھلے پہر، سنسان سڑک پر باغی کا مقابلہ ان درندوں سے ہوا۔ ایک بزدلانہ وار اس کے سر کے پچھلے حصے پر ہوا جس نے کائنات کو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیر کر دیا۔ دشمنوں نے اسے مرا ہوا سمجھ کر کھائی میں پھینک دیا۔

گھنٹوں بعد جب باغی کو ہوش آیا، تو اس کے سامنے کچھ نہ تھا۔ سر کی اس چوٹ نے اس کی زندگی کی بساط الٹ دی تھی۔ وہ اٹھا، لڑکھڑایا، مگر اسے یہ یاد نہیں تھا کہ وہ کون ہے؟ اسے یہ یاد نہیں تھا کہ وہ "باغی" ہے جس کے قلم سے ایوان لرزتے تھے۔ اسے شازیہ کا وہ چہرہ یاد نہیں رہا جس کے لیے وہ مر مٹنے کو تیار تھا۔ اس کے ذہن کے پردے پر صرف ایک دھند چھا گئی تھی۔ ادھر شادی کے گھر میں کہرام مچ گیا، مگر کسی کو خبر نہ ہوئی کہ وہ شہزادہ اب ایک گمنام مسافر بن کر سڑکوں پر ٹھوکریں کھا رہا ہے، جس کے اندر کی تڑپ تو باقی ہے مگر اس تڑپ کا نام اس کے ذہن سے مٹ چکا ہے۔




نوٹ: یہ داستانِ عشق و جنون ابھی جاری ہے۔ باغی کی مجذوبیت اور شازیہ کی تڑپ کی اگلی کڑی کے لیے جڑے رہیے۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...