تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم چھاپ)
حال ہی میں میرے روحانی استادِ محترم، حاجی بشیر احمد مغل صاحب کے ساتھ ایک نہایت پُر مغز نشست ہوئی جس کا محور "زراعت" اور خاص طور پر گندم کی فصل کی بہتری تھا۔ استادِ محترم نے مٹی کی محبت اور کسان کی محنت کو مصلحتوں سے پاک کر کے ایسی راہ دکھائی جو آج کے مہنگائی کے دور میں کسی نعمت سے کم نہیں۔
اگیتی کاشت اور قد کی حکمت:
کاشتکاری محض بیج ڈالنے کا نام نہیں بلکہ یہ مٹی اور وقت کے مزاج کو سمجھنے کا فن ہے۔ استادِ محترم نے فرمایا کہ اگر گندم کی کاشت اگیتی کی جائے، تو یہ فصل کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ جب گندم کا قد 1 فٹ 6 انچ تک پہنچ جاتا ہے، تو یہ زمین کو اپنے سائے میں لے لیتی ہے جس سے جڑی بوٹیاں نیچے ہی دب جاتی ہیں اور دھوپ نہ ملنے کی وجہ سے وہیں دم توڑ دیتی ہیں۔
آرگینک کھاد اور زمین کی صحت:
کیمیکل کھادوں کے بے دریغ استعمال نے زمین کے قدرتی پن کو ختم کر دیا ہے۔ اس نشست میں استادِ محترم نے آرگینک کھادوں (Organic Fertilizers) کے استعمال پر زور دیا۔ دیسی کھاد اور حیاتیاتی مادوں کا استعمال نہ صرف فصل کی غذائیت بڑھاتا ہے بلکہ زمین کو بنجر ہونے سے بھی بچاتا ہے۔ یہ "کم خرچ اور بالا نشین" فارمولے کی اصل بنیاد ہے۔
تیلہ اور دیگر بیماریاں—نیم کے تیل کا جادو:
آگے آنے والے موسم میں کسانوں کو تیلہ (Aphids) جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بازار میں موجود مہنگے زہروں کے بجائے نیم کے تیل کا سپرے ایک بہترین اور سستا آرگینک علاج ہے۔ نیم کا تیل نہ صرف تیلے کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ فصل کو دیگر مضرِ صحت کیڑوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، اور اس کا کوئی منفی اثر (Side Effect) بھی نہیں ہوتا۔
پانی کی بچت اور معاشی فائدہ:
اگیتی کاشت اور زمین پر فصل کا مکمل سایہ ہونے کی وجہ سے مٹی کی نمی دیر تک برقرار رہتی ہے، جس سے پانی کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس طریقے سے کسان کا سپرے اور پانی کا خرچہ بچ جاتا ہے اور فصل بھی خالص ہوتی ہے۔
پیر قلم کی چھاپ:
یہ پیر قلم کی چھاپ ہے کہ ہم مصلحتوں کو چھوڑ کر مٹی کی اصل خوشبو اور اپنے بزرگوں کی حکمت کو عام کریں۔ حاجی بشیر احمد مغل صاحب کی یہ باتیں کسان کو قرضوں کی دلدل سے نکال کر خودداری کی زندگی دے سکتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں