قلم کی حرمت یا قصیدہ گوئی: افسر شاہی اور صحافت کا زوال | تحریر: پیر انتظار حسین مصور

 

qalam-ki-hurmat-vs-khushamad-column

 

qalam-ki-hurmat-vs-khushamad-column






۔

قلم کی حرمت یا قصیدہ گوئی: فیصلہ آپ کے ہاتھ میں!

تحریر: پیر انتظار حسین مصور 

(پیر قلم کی چھاپ)

آج کل صحافت کے ایوانوں میں ایک ایسی وبا چلی ہے جس نے قلم کی آبرو کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کچھ قلم کاروں نے عوامی مسائل کی ترجمانی کرنے کے بجائے افسر شاہی کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنا اپنی معراج سمجھ لی ہے۔ حال ہی میں کچھ ایسی تحریریں نظر سے گزریں جن میں سرکاری افسران کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے گئے۔ کسی بھی افسر کو محض اس کے عہدے یا برادری کی بنا پر "فخرِ قوم" یا "قیمتی اثاثہ" قرار دینا درحقیقت اس مقدس پیشے کی تذلیل اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔

عالمی شہرت یافتہ صحافی جارج آرول نے سچ کہا تھا کہ: "صحافت وہ ہے جو کوئی دوسرا (خاص طور پر طاقتور طبقہ) چھپوانا چاہتا ہو، باقی سب کچھ محض تعلقاتِ عامہ (PR) یا اشتہار بازی ہے۔" جب ایک صحافی کسی وردی پوش کی شان میں قصیدے لکھنا شروع کر دے، تو وہ عوام کا وکیل نہیں رہتا بلکہ اس افسر کا "سوشل میڈیا منیجر" بن جاتا ہے۔ سرکاری افسر اپنی ذمہ داری نبھانے کی تنخواہ اور مراعات وصول کرتا ہے، وہ عوام پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہوتا۔ تعجب تو ان قلم فروشوں پر ہے جن کی انگلیاں افسر کی تعریف میں تو بجلی کی طرح چلتی ہیں، لیکن مظلوم کا دکھ لکھتے ہوئے انہیں فالج مار جاتا ہے۔

کیا ان قصیدہ گو صحافیوں نے کبھی اس سفید پوش کی خودداری پر بھی اتنے ہی جذباتی کلمات لکھے ہیں جو اپنی تمام تر غربت کے باوجود تھانے کے گیٹ پر حق کے لیے ڈٹا رہتا ہے؟ مولانا ابوالکلام آزاد نے 'الہلال' کے ذریعے ہمیں سکھایا تھا کہ قلم کا کام ضمیر کی آواز بننا ہے، نہ کہ اقتدار کے ایوانوں میں گونجنے والا نقارہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ وقت کے حاکموں کی چاپلوسی کرنے والوں کا نام و نشان مٹ گیا، مگر حق لکھنے والے آج بھی زندہ ہیں۔ میرے نزدیک کسی افسر کی کارکردگی کا سرٹیفکیٹ اخبار کے رنگین کالم نہیں، بلکہ وہ عام آدمی ہے جسے بغیر کسی سفارش اور رشوت کے انصاف ملے۔

اگر ہم نے آج ان "موسمی صحافیوں" کے اس رویے پر کڑی تنقید نہ کی، تو قلم صرف طاقتور کی لونڈی بن کر رہ جائے گا۔ ہم نے اپنی کتاب "باغ علی باغی" کے کرداروں کی طرح سر اٹھا کر جینا سیکھا ہے، سر جھکا کر خوشامد کرنا نہیں۔ یاد رکھیں، قلم کی حرمت "جی حضوری" میں نہیں بلکہ اس "سچ" میں ہے جو حاکمِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا جائے۔

میرا ان تمام نوآموز اور مصلحت پسند قلم کاروں کو مشورہ ہے کہ اپنی خودداری کا سودا چند لمحاتی مفادات کے بدلے نہ کریں، ورنہ آنے والی نسلیں آپ کے قلم کو قلم نہیں، بلکہ خوشامد کا آلہ کار کہیں گی۔ 



کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...