Asasoo Ki Hawas Aur Doobti Riyasat: Ek Charge Sheet | تحریر: پیر انتظار حسین مسور

 

Asasoo Ki Hawas Aur Doobti Riyasat - Peer Qalam Chhap

کالم: اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست: ایک چارج شیٹ

تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم چھاپ)

آپ ذرا تصور کیجیے، ایک ایسا بحری جہاز جس کے مسافر بھوک سے نڈھال ہوں، جس کا ایندھن ختم ہو رہا ہو اور جو کسی بھی وقت لہروں کی نذر ہو سکتا ہو—لیکن اسی جہاز کا کپتان ہیرے کی انگوٹھی پہنتا ہو، اس کے پہرے داروں کی وردیاں ریشم کی ہوں اور جہاز کے منصفوں نے اپنے لیے لائف بوٹس میں سونے کے بستر لگا رکھے ہوں! کیا آپ اسے سفر کہیں گے؟ نہیں، یہ وہ معاشی خودکشی ہے جسے آج ہم "ریاستِ پاکستان" کہتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہر پاکستانی بچہ 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا طوق گردن میں ڈال کر پیدا ہو رہا ہے۔ ہمارا مجموعی قرضہ 65 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ لیکن ٹھہریے! کیا یہ ملک واقعی غریب ہے؟ الیکشن کمیشن اور نیب کے دستاویزی حقائق کی فائلیں کھولیں تو آپ کا کلیجہ منہ کو آ جائے گا۔ مریم نواز کے 84 کروڑ اور مریدکے و لاہور میں 1500 کنال اراضی کا سچ ہو یا شہباز شریف کا شوگر ملز ایمپائر—یہ سب کیا ہے؟ زرداری اور بلاول کے سندھ میں پھیلے لاکھوں ایکڑ اور دبئی کے پرتعیش ولاز کس کی کمائی سے بنے؟ عمران خان کا 458 کنال کا القادر ٹرسٹ اور بنی گالہ کا محل کس "ریاستِ مدینہ" کا ماڈل ہے؟

اور تماشا تو دیکھیے! اس ریاست کے چوکیداروں اور منصفوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ 'فیکٹ فوکس' کی رپورٹ کے مطابق جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خاندان کے اثاثوں میں 12.7 ارب کا مبینہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے امریکہ میں 133 پیزا آؤٹ لیٹس نکل آتے ہیں۔ عدلیہ کے ایوانوں سے جسٹس (ر) مظاہر علی اکبر نقوی کے بے نامی پلاٹوں کی داستانیں باہر آتی ہیں۔ جب ملک ریاض جیسا بزنس ٹائیکون 460 ارب روپے کا جرمانہ بھرنے پر تیار ہو جائے اور میاں منشا کے 400 ارب کے اثاثے فوربس کی زینت بنیں، تو سمجھ لیں کہ یہاں قانون صرف اس کے لیے ہے جس کی جیب خالی ہے۔

صاحبو! تضاد کی اس سے بڑی اور گھناؤنی مثال اور کیا ہوگی کہ ایک طرف آج کے یہ "فرعون" ہیں اور دوسری طرف تاریخ کا وہ درویش صفت گورنر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ! تاریخ گواہ ہے کہ جب آپؓ مدائن کے گورنر مقرر ہوئے تو آپ کے پاس کل کائنات ایک خچر، ایک تلوار اور ایک چادر تھی۔ آپؓ نے برسرِ عام اعلان فرمایا تھا:

> "لوگو! میں تمہارا حاکم بن کر آ رہا ہوں، یاد رکھنا! اگر جاتے وقت میرے پاس اس ایک گھوڑے اور چادر کے علاوہ ایک درہم بھی زیادہ نکلا تو سمجھ لینا کہ تمہارے حکمران نے خیانت کی ہے؛ تم مجھے گرفتار کر لینا اور میرا گریبان پکڑ لینا!"


آج پاکستان کا ہر شہری سسک رہا ہے کیونکہ یہاں "سلمان فارسیؓ" کے دعویداروں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ریاست کا سودا کر لیا ہے۔ ہم غریب نہیں ہیں، ہمیں غریب رکھا گیا ہے۔ ہماری خودداری کو ان اثاثوں کی ہوس نے نیلام کر دیا ہے۔

حرفِ آخر: جب تک اس ملک میں "احتسابِ سلمان فارسیؓ" کی تڑپ پیدا نہیں ہوگی، جب تک ان محلوں سے ایک ایک پائی کا حساب نہیں مانگا جائے گا، یہ کشکول نہیں ٹوٹے گا۔ پیر قلم چھاپ آج یہ چارج شیٹ آپ کے سامنے رکھ رہا ہے؛ اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ان لٹیروں کے سامنے سر جھکانا ہے یا اس عدل کو آواز دینی ہے جہاں حکمران اپنی قمیض کے کپڑے تک کا جوابدہ ہوتا تھا۔ یاد رکھیے! خاموشی اب مصلحت نہیں، اس معاشی قتلِ عام میں برابر کی شرکت ہے!

 intizar-column.blogspot.com


کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...