سفرِ کربلا (قسطِ اول): حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی

Safar-e-Karbala: Haq o Batil Ki Pehli Lakeer (Qist 1)

سفرِ کربلا: حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی (قسطِ اول)

حج کا عمرے میں بدلنا اور امت کی پہلی بے حسی۔ تحریر: ادنیٰ لکھیاری پیر انتظار حسین مصور





تحریر: ادنیٰ لکھیاری پیر انتظار حسین مصور

یہ سنہ 60 ہجری کا آخری مہینہ، ذوالحجہ تھا، اور مکہ مکرمہ کی فضا دنیا بھر سے آئے ہوئے حاجیوں کے لبیک کے ترانوں سے گونج رہی تھی۔ کائنات کا سب سے مقدس ترین گھر، بیت اللہ، اپنے زائرین کو دامن میں سمیٹ رہا تھا۔ ہر مسلمان کی یہ تمنا تھی کہ وہ مکہ کی ان گھڑیوں میں رہ کر حج کے مناسک ادا کرے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔ لیکن اسی مکہ میں نواسہِ رسول، جگر گوشہِ فاطمہ، حضرت امام حسین علیہ السلام کے دل کا کرب الگ تھا۔ آپؑ دیکھ رہے تھے کہ نانا کا دین کس طرح ملوکیت اور جبر کے سائے میں جکڑا جا رہا ہے اور امت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

امام ابن جریر طبری اپنی معتبر کتاب "تاریخ الرسل والملوک" (جلد 5، حوادثِ سنہ 60 ہجری) میں اس دور کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یزید نے مکہ کے گورنر عمرو بن سعید بن العاص کو سخت تاکید کے ساتھ مکہ بھیجا تھا کہ حسین بن علیؑ جہاں بھی ملیں، ان سے بیعت لی جائے یا انہیں قتل کر دیا جائے۔ یزیدی کارندوں اور خفیہ سپاہیوں نے اپنے احرام کے نیچے تیز دھار تلواریں اور خنجر چھپا رکھے تھے تاکہ جیسے ہی موقع ملے، وہ حرم پاک کی مٹی کو آلِ رسول کے خون سے رنگ دیں۔ وہ بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے کے لیے بھی تیار تھے تاکہ غاصب حکومت کے سامنے اپنی وفاداری ثابت کر سکیں۔

امام عالی مقامؑ، جن کے نانا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتحِ مکہ کے موقع پر بھی یہ واضح فرما دیا تھا کہ مکہ کی حدود میں خون بہانا ابدی طور پر حرام ہے، یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ان کی ذات کی وجہ سے کعبے کے صحن میں خون کا ایک قطرہ بھی گرے؟ آپؑ جانتے تھے کہ اگر یزیدیوں نے حرم کے اندر حملہ کیا، تو کعبے کی وہ حرمت جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے، ہمیشہ کے لیے داغدار ہو جائے گی۔ آپؑ نے اپنی جان بچانے کے لیے نہیں، بلکہ کعبے کی دیواروں کا تقدس بچانے کے لیے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

چنانچہ، 8 ذوالحجہ (یومِ ترویہ) کو جب دنیا منٰی کی طرف جانے کی تیاریاں کر رہی تھی اور لوگ حج کے ظاہری مناسک میں مگن تھے، امام حسین علیہ السلام نے کائنات کی سب سے بڑی فکری قربانی کی بنیاد رکھی۔ آپؑ نے اپنے خانوادے کے تحفظ، اسلام کے اصولوں اور کعبے کی حرمت بچانے کے لیے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کر دیا۔ آپؑ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ طوافِ کعبہ کیا، سعی کی، اور احرام کھول کر مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے تاریخی سفر کا آغاز کر دیا۔

علامہ ابن الاثیر نے اپنی تصنیف "الکامل فی التاریخ" (جلد 4، ذکرِ mخرج الحسین الی الکوفہ) میں اس منظر کو قلمبند کیا ہے کہ جب امام عالی مقام مکہ کی حدود سے باہر نکل رہے تھے، تو مکہ کے پہاڑ اور راستے آلِ رسول کی اس رخصت پر اداس تھے، لیکن امت کی اندھی بے حسی دیکھیے! لاکھوں کا وہ مجمع جو حج کے لیے وہاں دنیا بھر سے اکٹھا ہوا تھا، وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا کہ رسول کا پیارا نواسہ، جوانِ رعنا علی اکبر اور معصوم علی اصغر جیسے پھولوں کو ساتھ لیے مکہ چھوڑ کر جا رہا ہے، مگر اس پورے مجمعے میں سے کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر یزیدیوں کا راستہ روکنے یا امام کے کاروان کا ہمسفر بننے کی ہمت نہ کی۔ سب اپنی اپنی عبادات اور حج کے روایتی مناسک میں مصروف رہے، جبکہ دین کا اصل روحِ رواں ان کے سامنے سے رخصت ہو رہا تھا۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ امت نے ظاہری اسلام کو تو سنبھال لیا تھا، لیکن اسلام کی روح کو ملوکیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔

سفر کی شروعات ہی میں مکہ کی حدود سے باہر نکلتے وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور دیگر شخصیات نے آپؑ کا راستہ روکا۔ انہوں نے امام عالی مقامؑ کو کوفہ والوں کی پرانی بے وفائیوں اور ان کے غدارانہ ماضی کا واسطہ دیا اور التجا کی کہ آپؑ اس پرخطر سفر پر نہ جائیں۔ لیکن امام عالی مقامؑ کا جواب تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ "اگر میں مکہ کی حدود میں رہا، تو یہ ظالم یہاں بھی میرا خون بہانے سے باز نہیں آئیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس گھر کی حرمت پامال ہو۔" آپؑ جانتے تھے کہ اب بات صرف اقتدار یا حکومت کی نہیں، بلکہ نانا کے سچے دین کو یزیدیت کے چنگل سے آزاد کرانے اور حق کو باطل سے الگ کرنے کی ہے۔

امامؑ نے تمام مصلحتوں کو ٹھکرا کر اپنا سفر جاری رکھا۔ مکہ کے تپتے ہوئے صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے آپؑ کا یہ قافلہ اب اس کوفہ کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں کی بے وفا امت نے پہلے ہی اپنے رنگ بدلنا شروع کر دیے تھے اور ابنِ زیاد کے خوف سے اپنے ضمیر بیچ چکی تھی۔ یہ امت کی اس اندھی بے حسی، bزدلی اور منافقت کی پہلی جھلک تھی، جس نے مکہ کی گلیوں سے لے کر کربلا کی تپتی ریت تک ایک ایسا خونی منظر نامہ تیار کیا جس کی مثال پوری کائنات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مکہ کی اس خاموشی نے یزیدی لشکر کے حوصلے اتنے بلند کر دیے کہ انہوں نے آگے چل کر نواسہِ رسول کے جگر گوشوں پر پانی بند کرنے اور ان کے سر قلم کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی۔

(جاری ہے...)

کوئی تبصرے نہیں:

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد ادنیٰ لکھیاری...