![]() |
| آستانہ عالیہ برصغیر کے عظیم تابعی و ہاشمی بزرگ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ |
گزٹ کا جادو، تاریخی تحریف اور ہاشمی وراثت کی حقیقت!
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
تاریخ کسی پٹواری کے دفتری کاغذات کا نام ہے نہ انگریز حاکموں کے مرتب کردہ سطحی دفتری رسالوں کی تحریر! لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پچھلی کچھ دہائیوں میں برصغیر کی علمی، روحانی اور خاندانی تاریخ کے ساتھ جس طرح زبانی کہانیوں کی بنیاد پر کھلواڑ کیا گیا، وہ اہلِ دانش اور صاحبِ بصیرت لوگوں کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔
ابھی حال ہی میں نیٹ پر ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک صاحب بڑے گھمنڈ اور نا سمجھی کے انداز میں ایک عظیم تابعی رسول اور جلیل القدر ہاشمی بزرگ کے بارے میں یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ (معاذ اللہ) ان کے والدین غیر مسلم تھے، اور ساتھ ہی بڑے فخریہ انداز میں یہ اقرار بھی کر رہے تھے کہ "ہاں! وہ ہمارے آباؤ اجداد تھے"۔ اس جاہلانہ، بلاسند اور نرا جھوٹ پر مبنی سوچ پر عقل حیران رہ جاتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ کیسی فکری گمراہی اور ایمانی زوال ہے؟ ہم بحیثیتِ مسلمان اپنے دینِ اسلام، توحیدِ باری تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امتی ہونے پر فخر کرنے کے بجائے، غیر مسلم آباؤ اجداد اور ہندو ماضی کے ساتھ زبردستی رشتے جوڑ کر اور ان پر فخر جتا کر آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
جب اللہ کریم نے ہمیں اسلام کا نور اور مصطفوی غلامی کی دولت سے نوازا ہے تو ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑی کوئی عزت اور نسبتی شرف نہیں ہو سکتا۔ کسی جلیل القدر تابعی اور ہاشمی شخصیت کو محض اپنے قبائلی تعصب اور جھوٹ کی خاطر غیر مسلم آباؤ اجداد سے جوڑنا علم، تاریخ اور عقل تینوں کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔
جن مقامی یا بااثر دعویداروں کے پاس نصف صدی پہلے نہ کوئی پرانا قلمی نسخہ تھا، نہ کوئی چھپا ہوا شجرہ اور نہ ہی قدماء کی کسی کتاب میں ان کا کوئی ذکر تھا—انہوں نے انگریزی دور کے مالیاقی ریکارڈ اور دفتری یادداشتوں کی سطروں کو ڈھال بنا کر سادات و ہاشمی خاندانوں کی تاریخی حیثیت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چند دہائیوں کی زبانی باتیں، جھوٹے دعوے اور پٹواری کے قلم کی روشنائی، صدیوں پر محیط مسلمہ ہاشمی نسب، پکے شواہد اور علمی سندوں کو مٹا سکتی ہے؟
۱. حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا مسلمہ ہاشمی نسب
تاریخی و نسلی شواہد کی روشنی میں حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ کا نسبی تعلق خلافتِ عباسیہ کے ذریعے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (عمِ رسول ﷺ) سے ملتا ہے۔ آپ برصغیر پاک و ہند کے ان ابتدائی ہاشمی و عباسی مشائخ میں سے ہیں جن کا وجود اور جن کی روحانی عظمت اس خطے میں اسلام کی پہلی کرنوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ آپ کی شہادت ۲۷ رمضان المبارک کو ہوئی، اور آپ کے آستانہ عالیہ پر سید مروند لال شہباز قلندرؒ اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ جیسے اکابرینِ امت نے حاضری دی۔ یہ مسلمہ ہاشمی وراثت کسی بھی ساختہ پیوند کاری کی محتاج نہیں۔
۲. قدیم تاریخ کی گواہی: چچ نامہ اور دیگر تواریخ
سندھ اور ملتان کے خطے کی سب سے قدیم اور بنیادی تاریخ "چچ نامہ" (مؤلف: علی بن حامد کوفی) ہے۔ اس عظیم الشان کتاب میں عرب فاتحین، ابتدائی ہاشمی شخصیات کی آمد اور خطے کے واقعی حالات درج ہیں۔ چچ نامہ سے لے کر "طبقاتِ ناصری" (مؤلف: منہاج سراج) اور "تاریخِ فرشتہ" (مؤلف: محمد قاسم فرشتہ) تک، برصغیر کے بنیادی مؤرخین نے نسب کے معاملے میں صرف اور صرف قدماء کی اسناد اور ہاشمی و سادات نسب کو تسلیم کیا۔ ان قدیم کتب میں بعد میں گھڑے گئے غیر ہاشمی یا مقامی دعوؤں کا دور دور تک کوئی وجود نہیں ملتا۔
۳. علمی اصول اور عدالتی تسلیمات
علمِ انساب کا معروف قانون ہے جو علامہ غلام علی آزاد بلگرامی نے "مآثر الکرام" اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے "اخبار الاخبار" میں واضح کیا کہ نسب صرف قدیم کتابوں اور متصل اسناد سے ثابت ہوتے ہیں۔ پچاس یا سٹھ سال پرانی دفتری تحریروں کے چند جملے اور زبانی دعوے علمِ انساب میں تاریخ نہیں بلکہ پیوند کاری کہلاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ملکی قانون اور اعلیٰ عدالتی تحریریں بھی اویسیہ ہاشمی خاندان کے قانونی و نسلی حقوق اور سجادگی و جانشینی کی سچائی کو تسلیم کر چکی ہیں۔ قانونی و شرعی اعتبار سے بھی دفتری بیانات اور ذاتی گھمنڈ کبھی بھی مسلسل نسلی ریکارڈ اور عدالتی فیصلہ جات پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔
۴. گزٹ کا المیہ: استعماری سیاست اور جھوٹے دعوے
عیسوی سال ۱۸۵۰ء کے بعد جب برطانوی حکومت نے اضلاع کی انتظامی رپورٹیں مرتب کیں، تو ان کا مقصد تاریخ لکھنا نہیں بلکہ ٹیکس اکٹھا کرنا اور مقامی اثر و رسوخ رکھنے والوں کو اپنے ساتھ ملانا تھا۔ غیر ملکی افسران نے مقامی اہلکاروں کے کہنے پر زمینداروں کے زبانی بیانات درج کیے، جنہیں بعد میں نام نہاد تاریخ بنا کر پیش کیا گیا۔
یہ المیہ صرف ایک جگہ نہیں ہوا؛ پاکپتن شریف میں بابا فریدؒ کے آستانے کے گرد، سخی سرور میں حضرت احمد سلطان کے سادات نسب کے خلاف، اور سیہون شریف میں بھی مقامی دھڑوں نے انہی دفتری رپورٹوں کا سہارا لے کر سچائی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششیں کیں۔
فیصلہ کن حقیقت
اگر انتظامی رپورٹیں، زبانی جاہلانہ دعوے اور غیر مسلم آباؤ اجداد کا جھوٹا فخر ہی تاریخ کا آخری معیار ہوتیں تو پھر دنیا کی مستند کتابوں، عدالتی فیصلہ جات اور قدماء کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی۔ الحمد للہ! ہم امتِ محمدیہ کے فرد ہیں اور ہمارا فخر اسلام اور رسولِ کریم ﷺ کی غلامی ہے، کسی باطل نسبی دعوے یا جاہلی فخر کی محتاجی نہیں۔ حقائق، شرعی اسناد، قدیم تواریخ اور قانونی احکامات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ انتظامی کاغذات، جھوٹے شجروں اور جاہلانہ ویڈیوز کی آڑ میں تاریخ کا سچا چہرہ نہیں بدلا جا سکتا۔ سچائی وہی ہے جو قدماء کے قلم سے رقم ہوئی اور اعلیٰ ایوانوں سے تسلیم کی گئی، باقی سب محض سیاسی، معاشی اور قبائلی تعصب کا ایک عارضی کھیل ہے!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں