وہ رات، وہ دوست اور "دیوانہ حسینؑ دا"



استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب: بانی و سرپرستِ اعلیٰ "سخن سنجاپ ادبی تنظیم"


 وہ رات، وہ دوست اور "دیوانہ حسینؑ دا"

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

کچھ بچھڑنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کی یادیں وقت کے ساتھ دھندلی نہیں ہوتیں، بلکہ دل کے زخموں کی طرح ہری رہتی ہیں۔ جب بھی ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو ایک عجیب سا سکوت اور کسک روح تک کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ میرے دو بے حد پیارے، مخلص اور باوفا ساتھی—دیوان پیر شاہزیب اور محمد بشیر اکاش—ہم سے اتنی دور جا چکے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ شاہزیب، جو نعت خوانی اور نقیبِ محفل کی حیثیت سے آقا کریم ﷺ کی مدح سرائی کرتا اور محفلوں میں روح پھونک دیتا تھا، اور بشیر اکاش، جس کی محبت اور میزبانی میں اک عجیب سی سادگی اور گرمجوشی تھی۔

وہ بھی کیا دن تھے! استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب ہمارے ہاں تشریف فرما تھے، اور ہم سب اپنے استاد بھائی محمد بشیر اکاش کے ہوٹل پر جمع ہوئے۔ شام کا کھانا سامنے تھا، مگر کھانے سے زیادہ بھوک شعر و سخن اور فکر و عقیدت کی تھی۔ بات چیت کا سلسلہ چلا تو شام سے رات اور رات سے سحر کا سفر یوں طے ہوا جیسے وقت نے اپنے قدم روک لیے ہوں۔

ایک ہوٹل کی سادگی میں، استاد کی شفقت کا سایہ تھا اور شاگردوں کے سینوں میں محبتِ اہل بیتؑ کا ابال۔ اسی وجدانی کیفیت میں شاہزیب مرحوم کے لب کھلے اور ان کے دل کی تڑپ ایک مصرع بن کر فضا میں تیرنے لگی:

لجپالاں دا لجپال ہے گھرانہ حسینؑ دا

اس مصرعے میں وہ اثر تھا کہ دل بے اختیار ہو گیا اور فوراً زبان سے نکلے:

صدقہ پیا اے کھاوندا زمانہ حسینؑ دا

پھر کیا تھا! ذکرِ حسینیؑ کا ایسا خمار چڑھا کہ رات کا سناٹا بھی جیسے ذکر کرنے لگا۔ ہم قصیدے کے ایک ایک لفظ پر نظرِ ثانی کرتے رہے، شعر بنتے رہے، اور محبت کے چراغ جلتے رہے۔ یہاں تک کہ فضا میں فجر کی معطر اذانیں گونجنے لگیں۔ پو پھٹ رہی تھی، روشنی پھیل رہی تھی، اور اسی مبارک گھڑی میں شاہزیب نے وجد میں آ کر وہ مقطع پڑھا جو آج بھی میرے کانوں میں نعرہ بن کر گونجتا ہے:

شاہزیب دل اچ خوف نہیں محشر میدان دا

دل ہو گیا اے دوستو دیوانہ حسینؑ دا

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہوٹل کا وہ کونہ اب ویران ہے، بشیر اکاش کی وہ پرخلوص مسکراہٹ اب یادوں کے دھندلکے میں ہے، اور شاہزیب کا وہ لحن، وہ تڑپ، وہ عقیدت خاک تلے سو گئی ہے۔ استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب کی حیات کا سایہ تو سر پر قائم ہے، مگر وہ جو محفل کی رونق تھے، رخصت ہو گئے۔

خدا ان دونوں دوستوں کی قبروں کو نورِ حسینیؑ سے منور فرمائے! آمین۔

"سخن سنجاپ ادبی تنظیم" اور استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب کی خدمات

پنجابی ادب، زبان اور ماں بولی سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اس کی ترویج کے لیے دن رات کوشاں رہنے والے ہمارے استادِ محترم محمد یعقوب ثانی صاحب نے باضابطہ طور پر "سخن سنجاپ ادبی تنظیم" کی بنیاد رکھی ہے اور وہی اس بزم کے بانی اور روحِ رواں ہیں۔

استادِ محترم ایک انتہائی محنتی، باصلاحیت اور دردمند انسان ہیں جو اپنی لازوال شاعری، بے لوث محنت اور سچی محبت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ماں بولی کی اہمیت اور شعور اجاگر کر رہے ہیں۔

ان کی بانی کی حیثیت سے قائم کردہ یہ بزم ایک بلا معاوضہ، بے لوث اور خالص ادبی پلیٹ فارم ہے جس کا واحد مقصد اپنی ماں بولی کی خدمت کرنا اور نئے لکھنے والوں کی تربیت کرنا ہے۔ استادِ محترم کے اس عظیم مشن کی نئی پہچان کے طور پر بزم کی نئی علامت (لوگو) تمام احباب کے ساتھ سانجھی کی جا رہی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استادِ محترم کی اس علمی و ادبی کاوش کو بلندی اور کامیابی عطا فرمائے!

کوئی تبصرے نہیں:

گزٹ کا جادو، تاریخی تحریف اور ہاشمی وراثت کی حقیقت!

آستانہ عالیہ برصغیر کے عظیم تابعی و ہاشمی بزرگ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ گزٹ کا جادو، تاریخی تحریف اور ہا...