![]() |
| Shrines of Imam Hussain and Hazrat Abbas Alamdar in Karbala - Bain ul Haramain |
وارثِ انبیاء اور معراجِ وفا
تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم کی چھاپ)
تاریخِ انسانی میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی ولادت محض ایک خاندان کی خوشی نہیں بلکہ کائنات کے مقدر کا فیصلہ ہوتی ہے۔ تین اور چار شعبان کے یہ مبارک ایام وہ سنگِ میل ہیں جہاں سے شاہراہِ حق کی تجدید ہوئی۔ 3 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ کی فضاؤں میں جب جبرائیلِ امیںؑ بارگاہِ رسالت ﷺ میں تہنیت و مبارک باد لے کر اترے، تو وہ محض ایک نواسے کی آمد نہیں تھی، بلکہ "سید الشہداء" اور "جنت کے نوجوانوں کے سردار" کا ظہور تھا۔
مولودِ مسعود اور رسولِ پاک ﷺ کی بشارت
مستند روایات گواہ ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے آپؑ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی۔ یہ کائنات کا وہ منفرد مولود تھا جس کی ولادت پر جہاں عالمِ بالا مسرور تھا، وہیں قدرت نے رسولِ خدا ﷺ پر یہ راز بھی عیاں کر دیا تھا کہ یہی وہ بچہ ہے جو کربلا کے تپتے صحرا میں دینِ الٰہی کی بقا کا ضامن بنے گا۔ امام حسینؑ کی شان یہ ہے کہ آپؑ صرف ایک امام نہیں بلکہ "وارثِ انبیاء" ہیں۔ آپؑ کی ولادت نے رہتی دنیا تک یہ اصول طے کر دیا کہ طاغوت چاہے کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو، حسینیؑ سوچ کا حامل شخص کبھی باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا۔
غازی عباسؑ: وفا کے نصاب کا پہلا باب
پھر 4 شعبان 26 ہجری کا وہ سعید دن آتا ہے جب شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے گھر اس بہادر فرزند کی آمد ہوئی جسے دنیا غازی عباسؑ کے نام سے پکارتی ہے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب مولا علیؑ نے مولودِ مسعود کے بازو چومے تو دراصل آپؑ دنیا کو "وفا کے نصاب" سے آگاہ کر رہے تھے۔ حضرت عباسؑ کی عظمت صرف ان کی شجاعت میں نہیں، بلکہ ان کی اس "بصیرتِ نافذہ" میں پوشیدہ ہے جس کا ذکر ائمہ اہل بیتؑ نے نہایت بلند الفاظ میں فرمایا ہے کہ عباسؑ گہری بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے۔
امان نامہ کی ٹھوکر اور بصیرتِ نافذہ
کربلا کی تپتی دوپہر میں جب یزیدی فوج نے انہیں "امان نامہ" پیش کر کے لالچ دینا چاہا، تو غازی عباسؑ نے اسے ٹھکرا کر یہ ثابت کر دیا کہ وفا کا تعلق خون کے رشتوں سے زیادہ "حق کی اطاعت" سے ہوتا ہے۔ آپؑ کی شان یہ ہے کہ آپؑ کو "باب الحوائج" کا منصب عطا ہوا، یعنی وہ در جہاں سے کوئی سائل تہی داماں نہیں لوٹتا۔ حضرت عباسؑ نے علم بلند کر کے کائنات کو بتایا کہ پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ غیرت، وفا اور جانثاری کا وہ استعارہ ہے جو کٹ تو سکتا ہے مگر سرنگوں نہیں ہو سکتا۔
آج کا دور اور حسینیؑ کردار کی ضرورت
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان مقدس ہستیوں کی زندگی سے صرف جذباتی تعلق نہ رکھیں بلکہ ان کے تاریخی اور انقلابی کردار کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ امام حسینؑ کی شجاعت ہمیں مصلحتوں کے بت توڑ کر ظالم کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتی ہے اور غازی عباسؑ کی وفا ہمیں بتاتی ہے کہ جب حق کا ساتھ دینے کا وقت آئے تو بازو قلم کرانا تو گوارا ہے مگر پرچمِ حق کو گرنے دینا گوارا نہیں۔ آج کے اس پرفتن دور میں، جہاں ضمیروں کی بولیاں لگ رہی ہیں، حسینؑ اور عباسؑ کی سیرت ہی وہ واحد مشعلِ راہ ہے جو ہمیں ذلت کی تاریکیوں سے نکال کر عزت اور خودداری کی شاہراہ پر لا سکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں