![]() |
| Safaid Khoon aur Sisakti Ghairat by Peer Intizar Hussain Musawar |
سفید خون اور سسکتی غیرت: معاشرتی بے حسی کا نوحہ
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
آج کا دور "نفسی نفسی" کا وہ عالم دکھا رہا ہے جہاں انسانی رشتے اپنی مٹھاس کھو چکے ہیں اور انسان، انسان کا دشمن بن چکا ہے۔ وہ بھائی جو کبھی ایک دوسرے کی ڈھال ہوا کرتے تھے، جن کے درمیان خون کا تقدس دیوار بن کر کھڑا رہتا تھا، آج وہی بھائی جائیداد کے چند ٹکڑوں اور انا کی جھوٹی بھینٹ چڑھ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ لیکن افسوس کہ بات صرف بھائی چارے کی دشمنی تک محدود نہیں رہی، اب تو گھروں کے تقدس اور رشتوں کی پاکیزگی بھی اس معاشرتی زوال کی زد میں آ چکی ہے۔
رشتوں کا زوال اور لرزہ خیز حقیقت
حالیہ دنوں میں رونما ہونے والا وہ لرزہ خیز واقعہ، جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک ماں، جس کے قدموں تلے رب نے جنت رکھی تھی، اس نے اپنے دیور کے ساتھ ناجائز تعلقات کی پردہ پوشی کے لیے اپنی ہی معصوم کلی جیسی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ثقافتی یلغار اور میڈیا کا کردار
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری اخلاقیات اس نہج پر کیسے پہنچیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ وہ "ثقافتی یلغار" ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام پر شب خون مارا ہے۔ سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال اور خاص طور پر انڈیا کی وہ ویب سیریز، جن کا واحد مقصد فحاشی اور بے حیائی کو "جدیدیت" کا نام دے کر عام کرنا ہے، ہمارے گھروں میں زہر گھول رہی ہیں۔
ان ویب سیریز میں رشتوں کی پامالی، ناجائز تعلقات کو گلیمرائز کرنا اور حیا سوز مناظر نے ہماری نئی نسل اور کمزور ایمان والے افراد کی سوچ کو مسخ کر دیا ہے۔ آج گھر گھر میں وہ "انڈین گند" نظر آ رہا ہے جسے ہم نے ترقی سمجھ کر سینے سے لگا لیا تھا، مگر اب وہی گند ہماری غیرت اور حیا کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔
وقت کی پکار
وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی سمت درست کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت، میڈیا کے استعمال پر نظرِ ثانی اور اسلامی اقدار کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی اور اس فحاشی و بے حسی کے خلاف بند نہ باندھا، تو یاد رکھیے کہ یہ "سفید ہوتا خون" ہماری پوری تہذیب کو بہا لے جائے گا اور پیچھے صرف پچھتاوے اور بے نشان قبریں ہی رہ جائیں گی۔
نام: پیر انتظار حسین مصور

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں