حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ: برصغیر کے عظیم تابعی اور دربارِ عالیہ کے حقیقی دستاویزی حقائق | تحقیق: پیر انتظار حسین

 

مزارِ اقدس پر موجود تاریخی کتبہ جس پر تاریخِ شہادت 131 ہجری درج ہے"




برصغیر کے عظیم تابعی: حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ اور تاریخی حقائق

تحقیق و تحریر: پیر انتظار حسین مصور

تاریخ کے اوراق جب حقائق کی روشنی میں پلٹے جاتے ہیں تو وہ سچائیاں سامنے آتی ہیں جو وقت کی گرد میں چھپ گئی تھیں۔ برصغیر کی روحانی تاریخ کا سب سے قدیم اور معتبر نام حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ (اسمِ گرامی: اسد محمد ابوالفضل) ہے، جنہیں "دیوان چاولی مشائخ" کے لقب سے شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ آپ محض ایک مبلغ نہیں بلکہ اس دھرتی کے وہ عظیم "تابعی رسول" ہیں جن کا روحانی تعلق براہِ راست خلافتِ راشدہ کے مرکز سے جڑا ہوا ہے۔

وارثینِ دربار اور درویشانہ اخلاق

کسی بھی روحانی آستانے کی پہچان اس کے اصل وارثین سے ہوتی ہے۔ دربارِ عالیہ کا نظام اور اس کی سجادہ نشینی صدیوں سے ان کے اصل وارثین اور مسند نشین دیوان پیر غلام مصطفیٰ اویس اور دیوان پیر طارق اویس کے مبارک ہاتھوں میں ہے۔ یہ وہ درویش منش لوگ ہیں جنہیں کسی دنیاوی جاہ و جلال یا گروہ بندی سے کوئی سروکار نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خاندان نے ہمیشہ مخالفت کے جواب میں بھی دعا ہی دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز دور سے لے کر آج تک، جس نے بھی ان کے خلاف سازش کی، وہ خود ہی رسوا ہوا جبکہ یہ آستانہ آج بھی فیض کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تاریخی و دستاویزی حقائق

قدیم قلمی بیاض اور خاندانی ریکارڈ کے مطابق بابا صاحب کی ولادت 30 ہجری میں ہوئی۔ آپ نے محض 6 سال کی عمر میں حضرت امام حسنؓ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی، جو آپ کے "تابعی" ہونے کی مستند ترین دلیل ہے۔ جہاں تک آپ کی شہادت (131ھ) کا تعلق ہے، تو بعض جگہوں پر مہی پال راجاؤں سے اس کا انتساب ملتا ہے، مگر تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ راجہ مہی پال اول بابا صاحب کی شہادت کے 334 سال بعد تخت نشین ہوا۔ یہ ایک علمی نکتہ ہے جو بابا صاحب کی قدامت اور ان کے تابعی مقام کو واضح کرتا ہے۔

عصا مبارک: زمین میں پیوست ایک معجزاتی حقیقت

اس آستانے کی روحانی عظمت کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت وہ عصا مبارک ہے جو حضرت اویس قرنیؒ کی جانب سے بابا صاحب کو عطا ہوا۔ ایک عینی شاہد اور محقق کے طور پر میں نے بچپن سے اب تک اس مقدس عصا کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین میں پیوست ہے اور جس کی ظاہری ہیئت ایک مصلے کی مانند ہے۔ اس پر چڑھی چاندی کی پوشاک زائرین کی اس لامتناہی عقیدت کا اظہار ہے جو صدیوں سے اس خاندان اور آستانے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

1858ء کا عدالتی فیصلہ: وراثتی مہر

قانونی نقطہ نظر سے 14 جولائی 1858ء کا عدالتی فیصلہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اس دربار کی تولیت اور سجادہ نشینی کا حق صرف موجودہ وارثین (اویسیہ خاندان) کے پاس ہے۔ یہ فیصلہ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تمام دعووں کو علمی طور پر رد کرتا ہے جن کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا آستانہ برصغیر کی روحانی تاریخ کا وہ معتبر باب ہے جس کا فیض آج بھی ان کے اصل وارثین کے زیرِ سایہ جاری و ساری ہے۔ سچ وہی ہے جو قدیم بیاض اور تاریخی فائلوں میں محفوظ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...