رمضان کی آمد اور ضمیروں کا قحط
تحریر: پیر انتظار حسین مصور
برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ فضاؤں میں تسبیح و مناجات کی گونج ہوگی، مساجد آباد ہوں گی اور نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جائے گا۔ روایات کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سرکش شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنے معاشرے کے معاشی حقائق اور بازاروں کی بے حسی کو دیکھتا ہوں، تو ایک سوال دل میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے کہ "اگر بڑا شیطان قید ہو گیا ہے، تو اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے یہ انسانی روپ میں چیلے چپاٹے کب قید ہوں گے؟"
قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
"تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔" (سورۃ المطففین: ۱)
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم روزہ تو رکھتے ہیں لیکن جھوٹ، ہیرا پھیری اور دوسروں کا حق مارنا نہیں چھوڑتے۔ کیا ہم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ صرف بھوکا پیاسا رہنے سے رب راضی ہو جائے گا؟ حقوق العباد اور دوسروں کے مال پر ناحق قبضے کے حوالے سے ربِ کائنات کا حکم واضح ہے:
"اور تم ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔" (سورۃ البقرہ: ۱۸۸)
ہمیں اس تلخ حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ عبادت صرف ظاہری رسومات کا نام نہیں ہے۔ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، ناپ تول میں ڈنڈی مارتے ہیں اور جھوٹ بول کر مال بیچتے ہیں، تو ایسی عبادات کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
"جس نے (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔" (صحیح بخاری: ۱۹۰۳)
رہی بات ایسی عبادات کی جو قبول نہیں ہوتیں، تو حدیثِ نبوی ﷺ کے مفہوم کے مطابق وہ شخص "مفلس" ہے جو قیامت کے دن نمازیں اور روزے تو لائے گا مگر کسی کا حق مارا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کی نیکیاں حق داروں کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کے پاس کچھ نہ بچے گا۔ مفسرین کے مطابق ایسی ریاکارانہ اور ظالمانہ زندگی کے ساتھ کی گئی عبادات کا انجام رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔
افسوس صد افسوس کہ جیسے ہی ہلالِ رمضان نظر آتا ہے، اس ملک کے "مسلمان تاجر" کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ جو پھل اور اشیائے ضرورت کل تک سستی تھیں، وہ اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ جس مہینے میں دسترخوان وسیع ہونے چاہیے تھے، وہاں سفید پوش طبقے کے لیے افطار کا سامان کرنا ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔
حکمران ہوں یا تاجر، سب کو سوچنا ہوگا کہ یہ مہینہ خود کو بدلنے کا ہے، قیمتیں بدلنے کا نہیں۔ کاش ہم صرف رمضان کے روزے ہی نہ رکھیں، بلکہ اپنے ضمیروں کو بھی بیدار کریں تاکہ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے اور کوئی باپ مہنگائی کے ہاتھوں اپنی غیرت کا جنازہ نہ نکالے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں