Pir Intizar Hussain Musawar لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pir Intizar Hussain Musawar لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar

Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Crisis




گندم کی کٹائی: میلوں سے ویرانیوں تک کا سفر

تحریر: پیر انتظار حسین مصور


ماضی کی یادیں اور وہ سنہری بیساکھ

وہ بھی کیا دن تھے جب بیساکھ کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب کی دھرتی سونا اگلنے لگتی تھی۔ گندم کی سنہری بالیاں جب ہوا کے دوش پر لہراتیں تو کسان کے چہرے پر تھکن کے بجائے مسرت کی لہر دوڑ جاتی۔ کٹائی کا آغاز محض ایک زرعی مشغلہ نہیں بلکہ ایک جشن ہوتا تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے جاتے، درانتیوں کی سنہری چمک میں پسینے کی بوندیں موتیوں کی طرح چمکتیں اور ہر طرف ایک میلے کا سماں ہوتا۔ شام کو جب کسان ٹولیوں کی صورت میں گھروں کو لوٹتے تو فضا لوک گیتوں اور ہنسی مذاق سے معطر ہوتی۔ وہ خوشحالی کا دور تھا جب دھرتی ماں اپنے بیٹوں کو کبھی مایوس نہیں کرتی تھی اور کسان کا گھر اناج سے بھرتے ہی گاؤں بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہوتی تھیں۔

جدید دور اور اجڑے ہوئے میلے

مگر آج منظر بالکل بدل چکا ہے۔ وہی بیساکھ ہے، وہی سنہری گندم ہے، مگر کسان کے چہرے سے وہ پرانی رونق اور اطمینان غائب ہے۔ اب کٹائی کے موسم میں ڈھول کی تھاپ نہیں بلکہ باردانے کی فکر، منڈیوں کی بے رخی اور سرکاری نرخوں کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ وہ میلے جو خوشحالی کی علامت تھے، اب کسانوں کے احتجاجی کیمپوں میں بدل چکے ہیں۔ آج کا کسان فصل کاٹنے سے پہلے یہ سوچ کر لرز جاتا ہے کہ کیا اس کی لاگت بھی پوری ہو پائے گی یا نہیں؟ مشینری نے کام تو آسان کر دیا، مگر اس مشینی دور نے وہ انسانی اپنائیت اور وہ اجتماعی خوشی چھین لی ہے جو کبھی دیہاتوں کا خاصہ تھی۔

بجلی کے بل: کسان کا معاشی قتلِ عام

موجودہ صورتحال پر نظر دوڑائیں تو کسان کی کمر توڑنے میں بجلی کے بھاری بلوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب وہ دور لد گیا جب ڈیزل کی فکر ہوتی تھی، آج کا کسان بجلی کے میٹر کی گھومتی سوئی دیکھ کر ہلکان ہوتا ہے۔ ٹیوب ویل چلانا اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے؛ فصل کو پانی دینے کی قیمت ان بھاری بھرکم بلوں کی صورت میں چکانی پڑتی ہے جو کسان کی کل کمائی سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ فی یونٹ قیمت میں بے تحاشہ اضافہ اور اوپر سے نت نئے ٹیکسوں نے زراعت کو ایک گھاٹے کا سودا بنا دیا ہے۔ کسان رات بھر جاگ کر پانی لگاتا ہے، مگر مہینے کے آخر میں آنے والا بل اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ مہنگی کھاد اور بیج تو اپنی جگہ، مگر بجلی کے ان ظالمانہ بلوں نے کسان کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔

پالیسی سازوں کی بے حسی اور مافیا کا راج

حقیقت یہ ہے کہ جب صلہ ملنے کا وقت آتا ہے تو پالیسی سازوں کی بے حسی آڑے آ جاتی ہے۔ کبھی گندم کی درآمد کا بہانہ بنا کر مقامی کسان کا استحصال کیا جاتا ہے تو کبھی سرکاری خریداری مراکز پر باردانے کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا جاتا ہے۔ مڈل مین اور ذخیرہ اندوز مافیا کسان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوڑیوں کے دام فصل خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسان سارا سال محنت کرتا ہے، خون پسینہ ایک کرتا ہے، لیکن جب فصل منڈی پہنچتی ہے تو اسے لاگت سے بھی کم دام پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک فصل کا نقصان نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب اور معیشت کا زوال ہے۔

حل اور مستقبل کی راہ

پاکستان کی بقا زراعت میں ہے اور زراعت کی بقا کسان کی خوشحالی میں۔ اگر ہم نے ماضی کی ان رونقوں اور میلوں کو واپس لانا ہے، تو حکومت کو بجلی کے بلوں میں کسان کو خصوصی رعایت دینی ہوگی اور زرعی ٹیوب ویلز کے لیے فکسڈ ریٹ یا سولرائزیشن جیسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب تک کسان کو سستی بجلی اور فصل کا منصفانہ ریٹ نہیں ملے گا، یہ دھرتی سونا نہیں اگل سکے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کسان کی بے بسی کو خوشحالی میں بدلیں تاکہ وہ ایک بار پھر ڈھول کی تھاپ پر خوشی سے جھوم اٹھے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب تک کھیتوں میں میلے نہیں سجیں گے، ملک کی معیشت میں بھی بہار نہیں آئے گی۔

اے آئی (AI) سے پیسے کیسے کمائیں؟ کالم نگاروں اور نوجوانوں کے لیے ایک گائیڈ

 مصنوعی ذہانت سے معاشی انقلاب: اب ہنر بکے گا (قسط دوم)

  1. تحریر: پیر انتظار حسین مصور

پچھلی تحریر میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی لہر ہماری دہلیز تک آ پہنچی ہے اور وقت کی پکار ہے کہ ہم اس جدید سیلاب کے آگے بند باندھنے کے بجائے اس کی موجوں پر سوار ہونا سیکھ لیں۔ آج کا سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کیا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ "یہ ٹیکنالوجی ہمارے کچن کا چولہا جلانے میں کیا مدد دے سکتی ہے؟"

بہت سے احباب یہ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا محض ایک سراب ہے یا یہ صرف ان لوگوں کا کام ہے جنہوں نے کمپیوٹر سائنس میں ڈگریاں لے رکھی ہیں۔ میں اجتہادِ وقت کے طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اب میدان بدل چکا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک اسمارٹ فون ہے اور آپ الفاظ کی حرمت و تاثیر سے واقف ہیں، تو رزقِ حلال کے نئے در وا ہو چکے ہیں۔

1. بلاگنگ اور گوگل ایڈسینس (Google AdSense):

جیسا کہ آپ میرا یہ کالم پڑھ رہے ہیں، یہ ایک "ڈیجیٹل ڈائری" یا بلاگ ہے۔ جب آپ اپنے خیالات، مشاہدات یا ہنر کو بلاگ کی شکل دیتے ہیں اور قارئین کی ایک معقول تعداد آپ سے جڑ جاتی ہے، تو دنیا کا سب سے بڑا اشتہاتی ادارہ "گوگل" آپ کے ساتھ شراکت داری کرتا ہے۔ آپ کے بلاگ پر چلنے والے اشتہارات آپ کی علمی محنت کا معاشی ثمر بن کر آپ کے بینک اکاؤنٹ تک پہنچتے ہیں۔

2. ڈیجیٹل قلم کاری (AI-Assisted Writing):

وہ قلم کار جو گھنٹوں ایک مضمون کی ترتیب میں صرف کرتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ٹولز (جیسے ChatGPT) کو اپنا معاونِ خصوصی بنا سکتے ہیں۔ یہ ٹولز آپ کی سوچ کو زبان دینے میں مدد کرتے ہیں۔ آپ دنیا بھر کی ویب سائٹس کے لیے مواد تیار کر سکتے ہیں۔ اب زبان کی رکاوٹ ختم ہو چکی ہے؛ آپ اردو میں سوچیں اور اے آئی اسے لمحوں میں انگریزی یا کسی بھی عالمی زبان میں بدل کر آپ کو بین الاقوامی مارکیٹ کا حصہ بنا دے گا۔

3. یوٹیوب اور بصری مواد (Content Creation):

اگر آپ تحریر کے ساتھ ساتھ آواز کا جادو جگانا جانتے ہیں، تو یوٹیوب ایک وسیع سمندر ہے۔ اب ایسے ٹولز دستیاب ہیں جو آپ کے لکھے ہوئے کالم کو خود بخود ایک خوبصورت ویڈیو میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ آپ کی تحقیق اور اے آئی کی رفتار مل کر ایک ایسا شاہکار تخلیق کر سکتی ہے جو لاکھوں لوگوں تک پہنچ کر آپ کی پہچان اور آمدنی دونوں کا ذریعہ بنے۔

4. فری لانسنگ: گھر بیٹھے عالمی منڈی:

فائیور (Fiverr) اور اپ ورک (Upwork) جیسی جگہوں پر دنیا بھر سے لوگ چھوٹے چھوٹے کام کروانے کے لیے آتے ہیں۔ کسی تصویر کی نوک پلک سنوارنا ہو یا کسی تحریر کا ترجمہ—یہ وہ کام ہیں جو اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے منٹوں میں ہو جاتے ہیں۔

حاصلِ کلام:

میرے معزز قارئین! یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور عقل و دانش کی دولت سے نوازا ہے۔ ٹیکنالوجی صرف ایک اوزار ہے، اصل کمال اس اوزار کو چلانے والے ہاتھ کا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگریاں تھمانے کے بجائے "ہنر مند" بنانا ہوگا۔

میں اپنے اگلے کالموں میں آپ کو ان ٹولز کے نام اور ان کے استعمال کا عملی طریقہ بھی سمجھاؤں گا۔ کیا آپ اس نئے سفر پر میرے ہم رکاب بننے کے لیے تیار


ہیں؟

اگلا قدم

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد ادنیٰ لکھیاری...