بلاگ پر خوش آمدید۔ یہاں آپ میرے کالم 'پیرِ قلم کی چھاپ' ملاحظہ کر سکتے ہیں، جو 'ہم سب' اور دیگر قومی اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ میرا قلم کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتا۔ موضوعات: کسانوں کے مسائل، انسانی حقوق، اور سماجی تضادات۔"
عنوان ۔قائد اعظم! ہمیں معاف کر دینا۔۔۔تحریر پیر انتظار حسین مصور
عنوان: قائد اعظم! ہمیں معاف کر دینا... تحریر: پیر انتظار حسین مصور آج 25 دسمبر ہے، سرکاری عم
ارتوں پر روشنیاں جگمگا رہی ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں قائد کے فرمودات کی گردان ہو رہی ہے۔ مگر اس مصنوعی چکا چوند کے پیچھے ایک تلخ سچائی چھپی ہے جس سے ہم سب نظریں چرا رہے ہیں۔ آج ضمیر کا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اسی پاکستان کے لیے جناح کی زندگی کی آخری سانسیں وقف کروائی تھیں؟ کیا یہ وہی قوم ہے جس کے لیے ایک نحیف و نزار وجود نے برصغیر کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی؟ قائد اعظم! اگر آج آپ ایک لمحے کے لیے اپنی لحد سے اٹھ کر اس پاکستان کا نظارہ کریں تو یقیناً آپ کا دل خون کے آنسو روئے گا۔ آپ نے ہمیں "اتحاد" کا سبق دیا تھا، ہم نے اسے فرقوں اور نفرتوں کے بازار میں بیچ دیا۔ آپ نے "ایمان" کی شمع روشن کی تھی، ہم نے اسے مصلحتوں اور بدعنوانی کی نذر کر دیا۔ آپ نے "نظم و ضبط" کا درس دیا تھا، اور آج ہمارے گلی کوچوں سے لے کر ایوانوں تک صرف افراتفری اور لاقانونیت کا راج ہے۔ کاش قائد آج دیکھ لیتے کہ جس قوم کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ، اپنی دولت، اپنی صحت اور اپنا آرام قربان کر دیا، وہ قوم آج کہاں کھڑی ہے؟ آج ہم غیروں کے سامنے کشکول لیے کھڑے ہیں اور اپنے ہی بھائی کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ وہ جناح جو ایک ایک پائی کا حساب رکھتے تھے، اگر آج ہمارے حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور عوام کی بے حسی دیکھ لیں، تو شاید وہ دوبارہ خاموشی سے اپنی آنکھیں موند لیں۔ ہم نے آپ کی تصویریں تو نوٹوں پر چھاپ دیں، مگر آپ کے اصولوں کو خاک میں ملا دیا۔ ہم نے آپ کے نام پر چھٹیاں تو منائیں، مگر آپ کے افکار کو دفن کر دیا۔ آج ہم آپ کی سالگرہ نہیں، بلکہ اپنی اخلاقی موت کا سوگ منانے کے لائق ہیں۔ قائد اعظم! ہم آپ کے مجرم ہیں۔ ہم نے اس امانت میں خیانت کی ہے جو آپ نے اپنے خونِ جگر سے سینچ کر ہمیں سونپی تھی۔ آج 25 دسمبر کو جب ہم رسمی تقریریں کر رہے ہیں، تو حقیقت میں ہم آپ کے شرمندہ ہیں۔ کیا واقعی ہم وہی قوم ہیں جس کے لیے آپ نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا؟ اس سوال کا جواب ہماری خاموشی میں چھپا ہے، اور یہی خاموشی آج کی سب سے بڑی سچائی ہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک
Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...
-
"پاکستان کا قدیم پچاس روپے کا نوٹ جس پر اردو اور بنگالی تحریر درج ہے" پچاس کا نوٹ، ٹوٹتا ہوا خواب اور بکھرتی معیشت ایک تصویر اور...
-
"تاریخ حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمد اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی" ساداتِ ہاشمیہ کا علمی ورثہ اور 'شجرۂ دیوان...
-
وائرل ویڈیو کا سچ اور معاشرتی بے حسی وائرل ویڈیو کا سچ تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم کی چھاپ) شہر کی روشن سڑک پر ٹریفک کا شور تھا ی...

1 تبصرہ:
MASHALLAH KMAAL
ایک تبصرہ شائع کریں