ایک باپ اور ایک محبِ وطن کی پکار تحریر: پیر انتظار حسین مصور میرے عزیز ہم وطنو! آج میں آپ کے سامنے ایک ایسی تلخ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر شاید آپ کی روح کانپ جائے۔ وہ "سفید زہر" جسے ہم "آئس" کہتے ہیں، اب صرف ایک خبر نہیں رہا بلکہ ہمارے گھروں کی دہلیز تک آن پہنچا ہے۔ سعودی عرب میں حال ہی میں منشیات کی بھاری مقدار کے ساتھ پاکستانیوں کی گرفتاری نے میرا دل خون کے آنسو رلا دیا ہے۔ کیا ہم اپنی نسلوں کو اسی اندھی کھائی میں دھکیلنے کے لیے پیدا کیا تھا؟ یہ لعنت 1893 میں ایک جاپانی لیبارٹری سے بطور دوا نکلی تھی، لیکن آج یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو راکھ کر رہی ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز سے لے کر ایوانِ اقتدار کے بااثر طبقوں تک—خواہ وہ ججز ہوں، وکیل ہوں، سیاستدان ہوں یا جرنیل—یہ زہر ہر جگہ سرائیت کر رہا ہے۔ جب قوم کے محافظ ہی نشے کی دھند میں کھو جائیں، تو انصاف اور سلامتی کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ "آئس" انسان کی عقل، حیا اور غیرت کو پل بھر میں ختم کر دیتی ہے۔ جو شخص چند روپوں کے لیے یہ زہر بانٹ رہا ہے، وہ انسان نہیں بلکہ انسانیت کا بدترین دشمن ہے۔ میری ریاست، عدلیہ اور مقتدر حلقوں سے براہِ راست اپیل ہے: * ان "موت کے سوداگروں" کو وہی عبرتناک سزائیں دی جائیں جو سعودی عرب جیسے ممالک میں رائج ہیں۔ * تعلیمی اداروں اور حساس عہدوں پر بیٹھے ہر شخص کا "ڈرگ ٹیسٹ" لازمی قرار دیا جائے۔ * اب خاموشی کا وقت ختم ہو چکا، اب عمل کا وقت ہے۔ میری آپ سب سے التماس ہے: اس پیغام کو ایک قومی فریضہ سمجھ کر اتنا شیئر کریں کہ یہ آواز ایوانوں میں بیٹھے حکام کے کانوں تک پہنچ جائے۔ اللہ پاک دشمن کے بچوں کو بھی اس بلا سے محفوظ رکھےآمین
بلاگ پر خوش آمدید۔ یہاں آپ میرے کالم 'پیرِ قلم کی چھاپ' ملاحظہ کر سکتے ہیں، جو 'ہم سب' اور دیگر قومی اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ میرا قلم کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتا۔ موضوعات: کسانوں کے مسائل، انسانی حقوق، اور سماجی تضادات۔"
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک
Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں