قلم کی حرمت اور 'وقت' کا انتظار



 قلم کی حرمت اور 'وقت' کا انتظار

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

بچپن کی وہ دوپہریں جب ہاتھ میں تختی اور ذہن میں ہزاروں خواب ہوتے تھے، آج بھی میری آنکھوں کے سامنے روشن ہیں۔ اس تصویر میں نظر آنے والا وہ بچہ، جس نے قلم کو صرف ایک لکھاری کے طور پر نہیں بلکہ ایک عقیدت مند کے طور پر تھاما، آج یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ قلم کا سفر جتنا مقدس ہے، اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں اتنی ہی کٹھن ہیں۔

بچپن کی تختی سے آج کے کالم تک

اس تصویر کو دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ تب ہمارے پاس وسائل کم تھے لیکن قلم کی حرمت کا احساس بہت زیادہ تھا۔ تختی پر لکھے گئے وہ الفاظ صرف مشق نہیں تھے، بلکہ وہ اس بات کی تربیت تھی کہ جو بھی لکھنا ہے وہ مٹنا نہیں چاہیے—یعنی وہ سچ پر مبنی ہونا چاہیے۔ آج جب میں کالم لکھتا ہوں، تو مجھے وہی بچپن کی تختی یاد آتی ہے کہ قلم سے نکلا ہوا لفظ ایک امانت ہے۔

حسد: کامیابی کی پہلی دستک

جب انسان اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں آواز اٹھاتا ہے، تو ایک عجیب صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ میرے اپنے اور پرائے، بہت سے لوگ اس بات سے جیلس (Jealous) ہونے لگے ہیں کہ میں کالم کیوں لکھتا ہوں۔ حسد کی یہ آگ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ کا قلم اثر رکھ رہا ہے۔ قلم کار کا راستہ کبھی آسان نہیں رہا؛ جب آپ سچ کی سیاہی بکھیرتے ہیں، تو مصلحت پسندوں کے سینوں میں جلن ہونا ایک فطری عمل ہے۔

لیکن قلم کی حرمت کا تقاضا یہی ہے کہ حاسدوں کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا جائے۔ یاد رکھیں، قلم اللہ کی عطا ہے، اور جسے اللہ نواز دے، اسے بندوں کا حسد نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

وقت کا انتظار

آج جو لوگ آپ کے قلم پر معترض ہیں یا آپ کی کامیابی سے جلتے ہیں، انہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ یہاں 'وقت کا انتظار' ہی سب سے بڑا منصف ہے۔ وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو ہر کسی کو اس کا اصل چہرہ دکھا دیتا ہے۔ بچپن سے اب تک کا میرا یہ سفر سکھاتا ہے کہ صبر اور استقامت کے ساتھ لکھا گیا ہر لفظ ایک نہ ایک دن اپنی پہچان ضرور بناتا ہے۔

حاصلِ کلام

میری یہ بچپن کی تصویر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ میرا رشتہ قلم سے آج کا نہیں، برسوں پرانا ہے۔ حاسدین چاہے کتنا ہی زور لگا لیں، وہ اس قلم کو نہیں روک سکتے جس کی بنیاد بچپن کی اس معصوم تختی پر رکھی گئی ہو۔ میں لکھتا رہوں گا، کیونکہ یہ میرا عشق بھی ہے اور میری ذمہ داری بھی


قلم کی حرمت

پیر انتظار حسین مصور

بچپن کی یادیں

وقت کا انتظار۔

کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...