اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست: ایک چارج شیٹ

میرا کالم 'اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست' جو روزنامہ ڈیلی میڈیا ٹاکس میں شائع ہوا"
روزنامہ "ڈیلی میڈیا ٹاکس" (Daily Media Talks) میں شائع شدہ تاریخ اشاعت: 6 جنوری 2026 اثاثوں کی ہوس اور ڈوبتی ریاست: ایک چارج شیٹ تحریر: پیر انتظار حسین مصور (پیر قلم چھاپ) آپ ذرا تصور کیجیے، ایک ایسا بحری جہاز جس کے مسافر بھوک سے نڈھال ہوں، جس کا ایندھن ختم ہو رہا ہو اور جو کسی بھی وقت لہروں کی نذر ہو سکتا ہو—لیکن اسی جہاز کا کپتان ہیرے کی انگوٹھی پہنتا ہو، اس کے پہرے داروں کی وردیاں ریشم کی ہوں اور جہاز کے منصفوں نے اپنے لیے لائف بوٹس میں سونے کے بستر لگا رکھے ہوں! کیا آپ اسے سفر کہیں گے؟ نہیں، یہ وہ معاشی خودکشی ہے جسے آج ہم "ریاستِ پاکستان" کہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہر پاکستانی بچہ 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا طوق گردن میں ڈال کر پیدا ہو رہا ہے۔ ہمارا مجموعی قرضہ 65 هزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ لیکن ٹھہریے! کیا یہ ملک واقعی غریب ہے؟ الیکشن کمیشن اور نیب کے دستاویزی حقائق کی فائلیں کھولیں تو آپ کا کلیجہ منہ کو آ جائے گا۔ مریم نواز کے 84 کروڑ اور لاہور میں 1500 کنال اراضی کا سچ ہو یا شہباز شریف کا شوگر ملز ایمپائر—یہ سب کیا ہے؟ زرداری اور بلاول کے سندھ میں پھیلے لاکھوں ایکڑ اور دبئی کے پرتعیش ولاز کس کی کمائی سے بنے؟ عمران خان کا 458 کنال کا القادر ٹرسٹ اور بنی گالہ کا محل کس "ریاستِ مدینہ" کا ماڈل ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدائن کے گورنر مقرر ہوئے تو آپ کے پاس کل کائنات ایک خچر، ایک تلوار اور ایک چادر تھی۔ آپؓ نے برسرِ عام اعلان فرمایا تھا: "لوگو! میں تمہارا حاکم بن کر آ رہا ہوں، یاد رکھنا! اگر جاتے وقت میرے پاس اس ایک گھوڑے اور چادر کے علاوہ ایک درہم بھی زیادہ نکلا تو سمجھ لینا کہ تمہارے حکمران نے خیانت کی ہے؛ تم مجھے گرفتار کر لینا اور میرا گریبان پکڑ لینا!" آج پاکستان کا ہر شہری سسک رہا ہے کیونکہ یہاں "سلمان فارسیؓ" کے دعویداروں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ریاست کا سودا کر لیا ہے۔ ہم غریب نہیں ہیں، ہمیں غریب رکھا گیا ہے۔ ہماری خودداری کو ان اثاثوں کی ہوس نے نیلام کر دیا ہے۔ حرفِ آخر: خاموشی اب مصلحت نہیں، اس معاشی قتلِ عام میں برابر کی شرکت ہے!

1 تبصرہ:

گمنام کہا...

,💕💕💕💕💕💕💕

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...