ہاشمی خاندان کے دو روشن ستارے

Roman Title: Hashmi Virasat ke Ameen: Diwan Peer Tariq Owais Hashmi aur Diwan Peer Attaullah Hashmi

ہاشمی وراثت کے امین: دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی ایک نشست کے دوران

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام اور روحانی اقدار کی ترویج میں ساداتِ کرام اور ہاشمی خانوادوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی کہکشاں کے دو روشن ستارے دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی ہیں، جو نہ صرف ایک عظیم روحانی وراثت کے پاسبان ہیں بلکہ اپنی علمی و سماجی خدمات کی بدولت عوامی حلقوں میں بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

ان شخصیات کا تعلق اس معزز ہاشمی خاندان سے ہے جس کی جڑیں حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے جا ملتی ہیں۔ یہ وہ خانوادۂ پاک ہے جس نے ہر دور میں حق و صداقت کا علم بلند رکھا۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ جیسے جلیل القدر بزرگوں کی نسبت ان کے ناموں کے ساتھ ایک خاص تقدس اور ذمہ داری کا اضافہ کرتی ہے۔

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی کی شخصیت میں وہ وقار اور متانت نظر آتی ہے جو صرف خاندانی شرافت اور علم کے نور سے ہی ممکن ہے۔ ان کی مجالس میں جہاں ذکرِ الہیٰ اور سیرتِ طیبہ کی خوشبو آتی ہے، وہیں مریدین اور عقیدت مندوں کی اخلاقی تربیت پر بھی خاص زور دیا جاتا ہے۔

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اپنی فکر انگیز گفتگو اور دور اندیشی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ہاشمی وراثت کے حقائق کو اجاگر کرنے اور نئی نسل کو اپنے اسلاف سے جوڑنے میں ان کا کردار نہایت فعال ہے۔ دوسری جانب دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی کی شخصیت میں عاجزی اور علم دوستی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ شجرہ نسب کی حفاظت اور خانقاہی نظام کی اصلاح کے حوالے سے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔

یہ دونوں شخصیات صرف خانقاہ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ معاشرے میں امن، بھائی چارے اور اتحاد کی علامت بن کر ابھری ہیں۔ ان کا ڈیرہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا ہے، جہاں مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جوڑنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کے آستانہ عالیہ سے جڑی روایات کو زندہ رکھنا اور زائرین کی رہنمائی کرنا ان کی زندگی کا ایک اہم نصب العین ہے۔

ہاشمی وراثت کے قانونی اور تاریخی دفاع کے حوالے سے بھی ان کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔ اویسیہ ہاشمی خاندان کے حقوق کی پاسداری اور تاریخی حقائق کو مسخ ہونے سے بچانے کے لیے ان کی جدوجہد اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ نفوسِ قدسیہ اپنے اسلاف کی امانت کے سچے پہرے دار ہیں۔

خلاصہِ کلام:

دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیوان پیر عطا اللہ ہاشمی جیسے مخلص رہنما آج کے پرآشوب دور میں غنیمت ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت اور دینِ متین کی سربلندی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ سلامت رکھے اور انہیں اسی جذبے کے ساتھ دین و ملت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد

سفرِ کربلا (قسطِ دوم): کوفہ کے بدلتے حالات، حر کا مکالمہ اور کاروانِ حسینی کی کربلا آمد ادنیٰ لکھیاری...