آئس نشہ اور تعلیمی ادارے: نسلِ نو کو نگلتی "سفید ناگن" | تحریر: پیر انتظار حسین مصور




خالقِ کائنات نے انسان کو "اشرف المخلوقات" بنایا اور اسے عقل و شعور کی دولت سے نوازا، لیکن آج مادیت پرستی کے اس دور میں انسان اپنی ہی نسل کے لہو سے ہولی کھیل رہا ہے۔ سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں 71 کلو گرام منشیات سمیت پاکستانیوں کی گرفتاری کی خبر نے جہاں دل بوجھل کر دیا، وہیں اس سوچ نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کس اندھی کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔

جس بلا کو آج ہم "آئس" یا "کرسٹل میتھ" کے نام سے جانتے ہیں، اس کا سفر تو 1893 میں جاپان کی ایک لیبارٹری سے بطور دوا شروع ہوا تھا، لیکن دوسری جنگِ عظیم میں یہ فوجیوں کو درندہ بنانے کے لیے استعمال ہونے لگی۔ آج وہی کیمیائی ہتھیار ہمارے گھروں، گلیوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے تعلیمی اداروں تک آن پہنچا ہے۔

انتہائی دکھ کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز سے لے کر ایوانِ اقتدار کے قریبی حلقوں تک، یہ زہر سرائیت کر چکا ہے۔ ہمارے پھول جیسے بچے اور بچیاں، جنہیں قوم کا معمار بننا تھا، وہ اس "سفید ناگن" کے ڈسے ہوئے بن چکے ہیں۔ یہ نشہ انسان کے ہوش و حواس اس طرح چھین لیتا ہے کہ اسے اپنے رشتے، اپنی عزت اور حیا کی پہچان تک نہیں رہتی۔ سننے میں آتا ہے کہ معاشرے کے وہ ستون جن پر انصاف اور قانون کی ذمہ داری تھی—چاہے وہ ججز ہوں، وکیل ہوں، سیاستدان ہوں یا جرنیل—ان میں سے بھی کئی اس دلدل کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب محافظ ہی نشے کی دھند میں کھو جائیں، تو قوم کی کشتی کا اللہ ہی حافظ ہے۔

یہ "آئس" صرف ایک پاؤڈر نہیں بلکہ تیزاب، بیٹری سیل اور گٹر صاف کرنے والے کیمیکلز کا ایک ایسا مہلک آمیزہ ہے جو انسان کے دماغ کو اندر سے پگھلا دیتا ہے۔ اس کا عادی شخص ذہنی طور پر مفلوج، جسمانی طور پر ڈھانچہ اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ وہ چند لمحوں کے مصنوعی سکون کی خاطر اپنے ایمان اور غیرت کا سودا کر بیٹھتا ہے۔

ریاست اور اداروں کے نام میری دردمندانہ اپیل:

میں اس تحریر کے توسط سے ریاستِ پاکستان، اعلیٰ عدلیہ، مقتدر حلقوں اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ اب مصلحتوں کو چھوڑ کر عملی قدم اٹھایا جائے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ان "موت کے سوداگروں" سے پاک کیا جائے اور ہاسٹلز میں منشیات کی فراہمی میں ملوث کالی بھیڑوں کا کڑا احتساب کیا جائے۔ منشیات کے بڑے سمگلروں اور اسے تیار کرنے والے ان "انسانیت کے دشمنوں" کے لیے وہی سزائیں مقرر کی جائیں جو سعودی عرب جیسے ممالک میں رائج ہیں، تاکہ کسی کو ہماری نسلوں سے کھیلنے کی ہمت نہ ہو۔ سرکاری عہدوں اور حساس اداروں میں تعینات افراد کا باقاعدگی سے "ڈرگ ٹیسٹ" لازمی قرار دیا جائے تاکہ نظامِ مملکت نشے کے عادی افراد کے ہاتھ میں نہ رہے۔

میں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں کہ وہ لوگ جو یہ موت بانٹ رہے ہیں، کیا وہ انسان کہلانے کے حقدار ہیں؟ میری نظر میں تو یہ پوری انسانیت کے دشمن اور ناسور ہیں۔ ہم کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ کیا ہم تب جاگیں گے جب یہ آگ ہمارے اپنے صحن تک پہنچ جائے گی؟

میری اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ دشمن کے بچوں کو بھی اس موذی مرض اور شیطانی نشے سے محفوظ رکھے۔ لیکن دعا کے ساتھ ساتھ ہمیں پہرے داری کی بھی ضرورت ہے۔ والدین اپنے بچوں کے دوست بنیں، اساتذہ ان کی سیرت کی حفاظت کریں اور ریاست ان سوداگروں کو عبرت کا نشان بنائے۔ اگر آج ہم نے اس فتنے کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

خدا ہمارا اور ہماری نسلوں کا حامی و ناصر ہو۔

تحریر ۔ پیر انتظار حسین مصور




کوئی تبصرے نہیں:

گندم کی کٹائی: میلوں کی رونق سے کسان کی بے بسی تک

Roman Title: Gandum Ki Katayi: Melaon Se Viraniyon Tak Ka Safar Column by Pir Intizar Hussain Musawar on Wheat Cris...