پیر قلم کی چھاپ

پیر انتظار حسین مصور — آفیشل بلاگ و کالمز

حق اور سچ کی فتح: جب تحقیق نے تاریخ کا چہرہ روشن کر دیا | تحریر: رانا شہباز

حق اور سچ کی فتح: جب تحقیق نے تاریخ کا چہرہ روشن کر دیا

تحریر: رانا شہباز

تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کی مقروض رہتی ہے جو بغیر کسی ذاتی مفاد اور مادی وسائل کے، صرف اپنے قلم کی حرمت اور سچائی کی خاطر علمی جنگ لڑتے ہیں۔ سچ کے پاس نہ تو کسی بڑے میڈیا ہاؤس کی پشت پناہی ہوتی ہے اور نہ ہی سرمائے کی طاقت، لیکن اس کے پاس ایک ایسی علمی شمع ہوتی ہے جو اندھیروں کی گرد کو چھانٹ کر حقیقت کو عیاں کر دیتی ہے۔

برصغیر کی قدیم ترین صوفیانہ تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور مقدس باب، یعنی حضرت بابا حاجی شیر دیوانؒ کے مزارِ اقدس کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی علمی المیہ پیش آیا تھا۔ سال 2006ء میں ایک بااثر انگریزی اخبار میں بغیر کسی تحقیق و تصدیق کے ایک من گھڑت اور افسانوی کہانی شائع کی گئی۔ وقت کے ساتھ اس غیر تحقیقی رپورٹ کو بنیاد بنا کر دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا "ویکیپیڈیا" نے بھی اس تاریخی مغالطے کو اپنے صفحے پر جگہ دے دی۔ اس طرح ایک عظیم تابعی اور صوفی باصفا کی تاریخ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

لیکن تاریخ کے اس موڑ پر ہمارے فاضل دوست اور معروف محقق و کالم نگار پیر انتظار حسین مصور نے اپنے قلم سے سچائی کا پرچم بلند کیا۔ انہوں نے کسی مادی مفاد اور نام ونمود سے ہٹ کر، خالص علمی و تاریخی بنیادوں پر اس مغالطے کا رد کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

ویکیپیڈیا پر تاریخی سچائی کا یہ اعتراف کیسے ممکن ہوا؟ اس کے چند اہم علمی نکات قابلِ ذکر ہیں:

  1. لوک کہانیوں کا علمی و عقلی رد:
    پیر انتظار حسین مصور نے اپنی مدلل تحقیق سے ثابت کیا کہ 131 ہجری (اموی دور) کے مزارِ اقدس اور بعد کے ادوار کی راجہ مہیپال والی فرضی کہانی کے مابین شدید تاریخی تضاد ہے۔ یہ ایک ایسی فاش غلطی تھی جسے کوئی بھی سنجیدہ مورخ قبول نہیں کر سکتا تھا۔
  2. شجرہ نسب اور تاریخی کتبے کی گواہی:
    انہوں نے آستانہ عالیہ کے پاس محفوظ قدیم شجرہ نسب اور دربارِ عالیہ پر موجود 131 ہجری کے تاریخی کتبے کے ٹھوس شواہد پیش کیے۔ انہوں نے اپنے تحقیقی مقالوں، بلاگز اور صحافتی کالموں کے ذریعے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کی کہ بابا حاجی شیر دیوانؒ ایک ہاشمی تابعی تھے، جن کا نسب مبارک حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے جا ملتا ہے۔
  3. ویکیپیڈیا کا اعتراف اور ترمیم:
    جب یہ بین الاقوامی معیار کے ثبوت اور تحقیقی دلائل سامنے آئے، تو ویکیپیڈیا کے ایڈیٹرز اور عالمی محققین کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا۔ ویکیپیڈیا نے اس من گھڑت افسانوی روایت کو مرکزی تاریخ سے خارج کر کے محض ایک بعد میں گھڑی گئی لوک کہانی کے طور پر ایک طرف کر دیا، جبکہ اصل ہاشمی نسب اور تاریخی حقائق کو بنیادی متن کے طور پر شامل کیا۔
  4. عالمی سطح پر اندراج:
    آج اگر دنیا بھر سے کوئی بھی شخص انگریزی ویکیپیڈیا پر حضرت بابا حاجی شیر دیوانؒ کی تاریخ تلاش کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے ہاشمی نسب کا سچ پڑھنے کو ملتا ہے، اور نیچے بطورِ مرجع و محقق پیر انتظار حسین مصور کا نام اور ان کی تحقیق چمکتی دکھائی دیتی ہے۔

پیر انتظار حسین مصور نے ثابت کر دیا ہے کہ سچی تحقیق اور علمی دیانت داری کبھی سرمائے کی محتاج نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے ادارے عارضی سرخیاں تو خرید سکتے ہیں، لیکن تاریخ کے اوراق میں معتبر اور سچا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔

پیر انتظار حسین مصور کی یہ تاریخی خدمت نہ صرف ان کا علمی قد کاٹھ نمایاں کرتی ہے، بلکہ آنے والے مورخین اور محققین کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ ہے۔ ہم ان کی اس بے لوث علمی کاوش کو سلام پیش کرتے ہیں!

بشکریہ: روزنامہ سچ بات (اشاعت: 17 ستمبر 2026ء، جلد 3، شمارہ 348)