![]() |
| پیر انتظار حسین مصور |
- Naye Subay Ya Nizam Ki Bunyadi Surgery? - نئے صوبے یا نظام کی بنیادی سرجری؟
پیر انتظار حسین مصور
جب بھی ملک میں معاشی بحران شدید تر ہوتا ہے، عوام کا رنج و غصہ حد سے بڑھنے لگتا ہے یا حکمران طبقات اپنی ناکامیوں اور نااہلی پر پردہ ڈالنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو ایوانوں کے بند کمروں سے اچانک "نئے صوبوں" کی تشکیل، جغرافیائی تقسیم اور آئینی ریفرنڈم کے شوشے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ سیاسی افق پر ایک ایسا مصنوعی شور برپا کیا جاتا ہے گو یا نئے اضلاع یا صوبوں کی سرحدیں کھینچتے ہی عوام کے تمام دُکھ، محرومیاں اور معاشی مسائل جادو کی چھڑی سے ختم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر باریک بینی سے تاریخ اور موجودہ سیاسی ساخت کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال خود بخود ابھرتا ہے کہ کیا اصل مسئلہ جغرافیائی حدود کی وسعت کا ہے یا اس گلے سڑے انتظامی نظام کا جس نے عام شہری کو اپنے ہی ملک میں بے بس اور غلام بنا رکھا ہے؟
ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ دلفریب بیانیہ بیچا جاتا رہا ہے کہ انتظامی اکائیاں چھوٹی ہوں گی تو اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچیں گے اور مسائل لمحوں میں حل ہو جائیں گے۔ یہ منطق سننے میں تو بہت دلکش اور خواب ناک لگتی ہے، لیکن پاکستان کی تلخ اور عملی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا ضلع، ڈویژن یا انتظامی ڈھانچا قائم کیا گیا، اس سے کسی دہاڑی دار مزدور کی قسمت بدلی اور نہ ہی کسی کسان کی محرومی کا مداوا ہوا۔ اس مشق کے نتیجے میں صرف افسرشاہی کی نئی فوج ظفر موج تیار ہوئی اور سیاسی اشرافیہ کے لیے نئی سیٹوں اور مراعات کا انتظام ہوا۔ نئے کمشنر، نئے ڈی سی، نئی پرتعیش گاڑیاں، اربوں روپے کے نئے سرکاری دفاتر اور وزراء کی نئی فوج کے تو بجٹ فوراً منظور ہو جاتے ہیں، لیکن اسی نئے صوبے یا ضلعے کی تحصیلوں میں قائم سرکاری ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین ملتی ہے نہ سکولوں میں بچوں کے لیے پینے کا صاف پانی میسر ہوتا ہے۔
اصل المیہ جغرافیائی سرحدوں کا چھوٹا یا بڑا ہونا نہیں، بلکہ اختیارات کا مرکزیت پر مبنی اور موروثی ہونا ہے۔ جب تک اختیارات، مالیاتی بجٹ اور فیصلے حقیقی معنوں میں لوکل گورنمنٹ، مقامی پنچائیت اور یونین کونسل کی سطح پر منتقل نہیں ہوتے، تب تک چاہے آپ چار صوبوں کے چالیس صوبے بنا دیں، عام آدمی کے حالات زندگی میں ایک انچ کا فرق بھی نہیں آئے گا۔ اگر لاہور، ملتان، کراچی یا پشاور کے ایوانوں میں بیٹھا حکمران اپنے علاقے کے کسان اور مزدور کی درد مندانہ آواز سننے کو تیار نہیں، تو نیا صوبائی دارالحکومت بننے کے بعد وہاں کے نئے چمکتے ہوئے ایوان میں بیٹھنے والا شاہی طبقہ بھی وہی پرانا جابرانہ رویہ دہرائے گا۔
ہمارے پالیسی ساز عوام کو انتظامی سرجری کے نام پر محض ایک نیا سیاسی دھوکا دیتے ہیں۔ ایک طرف کسان اپنی فصل کا مناسب دام نہ ملنے پر خون کے آنسو رو رہا ہے، مزدور کی دیہاڑی مہنگائی کے تناسب سے آدھی رہ گئی ہے، اور عام شہری قانون کی نام نہاد مساوات کے نیچے پستا جا رہا ہے؛ تو دوسری طرف انہیں نئے صوبے کے نقشے اور صوبائیت کے نام پر باہم دست و گریباں کرنے کی نفرت انگیز سیاست کی جا رہی ہے۔ یہ وہی قدیم طریقہ کار ہے جس میں اصل اور بنیاد سوالوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انہیں مصنوعی اور فروعی بحثوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔
جنوب یا شمال کے دیہی علاقوں پر نظر ڈالی جائے تو غریب انسان کا بنیادی مسئلہ صوبائی دارالحکومت کی مسافت نہیں، بلکہ تھانے کی سطح پر بکنے والا انصاف اور کچہری کا وہ فرسودہ نظام ہے جو غریب کی ہڈیاں تک نچوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اگر ضلع کی سطح پر بیٹھا بیوروکریٹ یا قاضی عام شہری کی فریاد سننے کو تیار نہیں تو سیکرٹریٹ چند سو کلومیٹر قریب لانے سے انصاف سستا یا آسان نہیں ہو جائے گا۔ جب تک بیوروکریسی کے فرعونانہ رویے اور بدعنوان نچلے انتظامی ڈھانچے کی سرجری نہیں ہوتی، عام شہری کے لیے نیا صوبہ محض نئے افسروں کی شاہانہ تنخواہوں اور مراعات کا اضافی بوجھ ثابت ہوگا۔
اس کے علاوہ نئے صوبوں کی تشکیل پر اٹھنے والے اربوں کھربوں روپے کے اخراجات کا حساب کون دے گا؟ وہ ملک جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی قسطیں چکانے کے لیے عام آدمی کے روٹی کپڑے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا رہا ہو، وہاں نئے ایوانوں، نئی اسمبلیوں، گورنر ہاؤسز اور بیوروکریٹک بلاکس کی تعمیر قومی وسائل پر ایک بڑا ڈاکہ ہے۔ یہ رقم اگر ہسپتالوں میں ادویات، زرعی اصلاحات، ٹیوب ویلوں کے لیے سستی بجلی اور کسان کو کھاد و بیج پر سبسیڈی دینے کے لیے استعمال کی جائے تو عوام کو فوری، حقیقی اور پائیدار ریلیف مل سکتا ہے۔
ہمارے نظام کی اصلاح تب تک ممکن نہیں جب تک ہم پیداواری طبقے یعنی کسان اور مزدور کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتے۔ نئے جغرافیائی نقشے بنا کر اقتدار کی بانٹ تو کی جا سکتی ہے، لیکن اس سے منڈی کے آڑھیتی کا ظلم ختم ہوگا نہ ہی اسکولوں اور ہسپتالوں کا خستہ حال ڈھانچہ بدلے گا۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامی ڈھانچے کو اوپر سے نیچے منتقل کیا جائے نہ کہ اوپر ایک اور شاہی پرت چڑھا دی جائے۔
ملک کو اس وقت سرحدوں کی نئی پیوند کاری کی نہیں، بلکہ اس ظالمانہ اور طبقاتی نظام کی بنیادی سرجری کی اشد ضرورت ہے جو غریب کا خون نچوڑ کر اشرافیہ کی مراعات کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر نیت واقعی عوام کو سکھ پہنچانے کی ہو تو نئے صوبوں کے عربوں روپے کے اخراجات اٹھانے کے بجائے موجودہ بلدیاتی نظام کو آئینی اور مالیاتی طور پر بااختیار بنایا جائے، تھانہ اور کچہری کلچر کو جدید اصلاحات کے ذریعے پاک کیا جائے، اور قومی بجٹ کا رخ سرکاری پروٹوکولز کے بجائے عام آدمی کی صحت، تعلیم اور زراعت کی طرف موڑا جائے۔
اگر ہم نے نظام کی بنیادی اصلاح کے بغیر صرف نئے جغرافیائی نقشے بناتے رہنے پر اکتفا کیا، تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کسی کینسر کے مریض کا علاج زخم پر صرف پٹی بدل کر کیا جا رہا ہو۔ سرحدیں بدلنے سے تاریخ بدلتی ہے نہ عوام کی تقدیر؛ تقدیر تب بدلتی ہے جب انصاف اور قومی وسائل پر غریب کا مساوی اور بلا شرکت غیرے حق تسلیم کیا جائے۔
