پیر قلم کی چھاپ

پیر انتظار حسین مصور — آفیشل بلاگ و کالمز

الفاظ کا مقبرہ اور سچ کا قلم: تاریخ کے موڑ پر ضمیر کی گواہی

"پیر قلم کی چھاپ — حرفِ حق اور ضمیر کی گواہی"

 



الفاظ کا مقبرہ، سچ کا قلم اور ضمیر کی گواہی

تحریر: پیر انتظار حسین مصور

معاشرے جب زوال کی آخری حدوں کو چھونے لگتے ہیں، تو سب سے پہلے الفاظ اپنے معنی کھو دیتے ہیں۔ حرفِ صداقت کو نفع اور نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگتا ہے اور قلم کی حرمت کا سودا بازارِ مصلحت میں چند ٹکے کے مفاد کی خاطر کر دیا جاتا ہے۔ ایسے عہدِ تاریک میں، جہاں چاروں طرف خاموشی کا خوف یا جھوٹ کا شور ہو، ایک سچا لفظ لکھ دینا صرف تحریر نہیں رہتا، بلکہ تاریخ کے راستے پر رکھا گیا وہ چراغ بن جاتا ہے جس کی روشنی آنے والی نسلوں کو راہ دکھاتی ہے۔

تاريخ کبھی ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلے کیے، نہ ہی ان کے نام سنہرے حروف میں لکھے جاتے ہیں جنہوں نے وقتی شہرت یا فائدے کے لیے سچ پر پردہ ڈالا۔ تاریخ ہمیشہ ان سرکشوں، فکر پروروں اور قلم کے پاسبانوں کی شاہد رہی ہے جنہوں نے حالات کے جبر کے سامنے گردن جھکانے سے انکار کر دیا۔ ان کا ہتھیار کوئی تلوار یا نیزہ نہیں تھا، بلکہ ایک سادہ سا قلم اور کاغذ کا ٹکڑا تھا، مگر اس کاغذ پر لکھے گئے الفاظ نے زمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

"جب تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہاری تحریر پر کتنے لوگوں نے داد دی، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ جب پورا شہر خاموش تھا، تب تم نے کیا لکھا؟"

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، یہاں ہر شخص بول رہا ہے مگر بات کوئی نہیں سنتا۔ ہر طرف لفظوں کی نمائش ہے، لیکن روح غائب ہے۔ لوگوں نے لکھنا سیکھ لیا ہے، لیکن سچ کو محسوس کرنا بھول گئے ہیں۔ ایسے میں ایک بلاگر یا کاتب کی ذمہ داری محض چند خبروں کا تجزیہ کرنا یا کچھ دلفریب جملے بننا نہیں ہے، بلکہ اپنا حسابِ ضمیر پیش کرنا ہے۔

قلم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ عظیم سلطنتیں مٹ گئیں، بڑے بڑے جابر حکمران خاک میں مل گئے اور ان کے تاج و تختر تاریکی میں غائب ہو گئے، مگر صدیوں پہلے لکھی گئی چند سطور آج بھی ویسی ہی تابندہ ہیں۔ ان کا ایک ایک حرف وقت کی گرد سے محفوظ ہے، کیونکہ ان الفاظ کو خونِ جگر سے لکھا گیا تھا، نہ کہ سستی شہرت کی طلب میں۔ سچا لفظ وہی ہے جو اپنے اندر وہ تپش رکھے جو صدیوں بعد بھی پڑھنے والے کے دل میں بیداری کی جوت جگا سکے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو تحریر محض وقتی موضوعات یا سطحی جذبات کا احاطہ کرتی ہے، وہ صبح کے اخبار کی طرح شام کو پرانی ہو جاتی ہے۔ لیکن جو کالم کسی عہد کے اجتماعی درد، انسان کی آزادی، اور حریتِ فکر کا ترجمان بن جائے، وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ تاریخ بننے والے کالم صرف پڑھے نہیں جاتے، وہ وقت کی دیوار پر رقم ہو جاتے ہیں۔ وہ حاکموں کو آئینہ دکھاتے ہیں اور مظلوموں کے لیے بے زبانی کا مرہم بنتے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا لکھا ہوا لفظ وقت کی بے رحم موجوں میں بہہ نہ جائے، تو ہمیں اپنے قلم کو ہر قسم کے تعصب، لالچ اور خوف سے پاک کرنا ہوگا۔ ہمیں لفظوں کو روح دینی ہوگی، انہیں حق کی آواز بنانا ہوگا۔

یہ کالم صرف ایک تحریر نہیں، بلکہ آنے والے زمانوں کے نام ایک پیغام ہے کہ جب سچ بولنا سب سے مشکل کام بنا دیا گیا تھا، تب بھی کچھ قلم ایسے تھے جو بکنے اور جھکنے سے انکاری تھے۔ یہ بلاگ ایک گواہی ہے—ایک ایسی گواہی جو میرے بعد بھی زندہ رہے گی اور آنے والی نسلوں کو بتائے گی کہ سچ کی قیمت چاہے کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، قلم کی حرمت سے بڑا کوئی سودا نہیں ہو سکتا۔

جملہ حقوق محفوظ ہیں © پیر انتظار حسین مصور