![]() |
| چھمب معرکے (۱۹۷۱ء) کے دوران قید کیے گئے بھارتی سپاہی |
تاریخ جب فاتحین کے قلم سے لکھی جاتی ہے تو سچائی کے کئی سنہرے اوراق سیاسی مفادات اور نصابی تغافل کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب اور قومی بیانیے کی سب سے بڑی غفلت یہ رہی کہ ہم نے اپنے بچوں کو دشمن کے پھیلائے ہوئے یکطرفہ پروپیگنڈے کا شکار ہونے دیا، لیکن اپنی دھرتی کے ان سورماؤں کی داستانیں کبھی کھول کر نہیں بتائیں جنہوں نے میدانِ جنگ میں دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔ میدانِ جنگ میں بہنے والا خون اور تاریخ کے اوراق پر لکھی جانے والی روشنائي جب ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں، تو حقائق پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر) کی جنگ کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا گیا جیسے یہ صرف ایک فریق کی مطلق فتح اور دوسرے کی مکمل عزیمت تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قوم کو وہ پوری سچائی بتائی گئی جو سرحد کے اس پار میدانِ جنگ میں رقم ہوئی؟
ہمیں یہ تو بار بار بتایا گیا کہ مشرقی پاکستان میں حالات کے جبر کے تحت کیا ہوا، لیکن یہ کبھی نہیں بتایا گیا کہ وہ فیصلہ کن عسکری وجوہات کیا تھیں؟ ہزاروں میل دور، دشمن کے جغرافیائی گھیرے، مقامی باغی تنظیموں کی گوریلا کارروائیوں اور ناکہ بندی کے باوجود ہماری فوج نے جس جرات سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ سب سے بڑھ کر، ہمارے عوام سے یہ حقیقت چھپائی گئی کہ ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر) کی جنگ کے دوران مغربی محاذ پر پاک فوج نے دشمن کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا، کون کون سے عسکری ہیڈکوارٹر تباہ کیے اور وہ کون سا عظیم سٹریٹیجک رقبہ ہے جو ہمارے غازیوں نے فتح کیا اور وہ آج بھی پاکستان کے دائمی کنٹرول میں موجود ہے۔
ستمبر ۱۹۶۵ء (انیس سو پینسٹھ): صحرائے تھر کا آتش فشاں
حقیقت کی شروعات ستمبر ۱۹۶۵ء (انیس سو پینسٹھ) کی جنگ سے ہوتی ہے۔ تصور کیجیے! ستمبر کی کڑکتی دھوپ میں سندھ اور راجستھان کا تپتا ہوا صحرا، جہاں ریت کا ایک ایک ذرہ تانبے کی طرح دھک رہا ہے۔ ایسے میں جب سانگھڑ کا ایک غیور، نو عمر حُر نوجوان کیپٹن اربیلو فقیر غازی پانچ سو مجاہدین کے لشکر کے ساتھ پاک فوج کے کمانڈنٹ کے سامنے آتا ہے، تو اس کا دبلا پتلا جسم دیکھ کر کمانڈنٹ بھرتی سے انکار کر دیتا ہے۔
تب صحرا کی فضا میں وہ تاریخی الفاظ گونجے جو آج بھی غیرتِ قومی کا استعارہ ہیں:
پیر صاحب پگارا سید مردان شاہ ثانی کی ہدایت پر حُر مجاہدین نے وہ تاریخی گوریلا جنگ لڑی جس نے ہندوستانی فوج کو حواس باختہ کر دیا۔ پانچ پانچ مجاہدین کی ٹولیاں صحرائی ٹیلاں کی اوٹ سے اس طرح اچانک حملہ آور ہوتیں کہ دشمن سمجھتا سامنے پوری فوج موجود ہے۔ مونا باؤ ریلوے اسٹیشن سے لے کر کشن گڑھ کے قلعے تک، اور روپسی، نواب ٹیلہ، سکندر کا تالاب جیسی دفاعی چوکیوں پر قبضہ کرتے ہوئے حُر مجاہدین نے دشمن کی بائیس سو مربع میل زمین فتح کر لی۔ ہندوستانی ریڈیو ’آکاشوانی‘ کو باقاعدہ نشر کرنا پڑا کہ پاکستانی حُروں نے انڈین آرمی کی بٹالینز کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
دسمبر ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر): معرکہٴ چھمب اور افتخار آباد کی تسخیر
اگرچہ ۱۹۶۵ء (انیس سو پینسٹھ) کا وہ فتح شدہ صحرائی علاقہ معاہدہ تاشقند کے تحت واپس ہوا، لیکن ۱۹۷۱ء (انیس سو اکہتر) میں ’آپریشن چھمب‘ کے دوران پاک فوج نے شجاعت کی وہ داستان رقم کی جس نے جغرافیہ ہی بدل دیا۔
ذرا دسمبر کی یخ بستہ رات کا احساس کیجیے! آزاد کشمیر کا سرحدی خطہ، منّاور تلاوی ندی کا سنگلاخ محاذ اور سامنے بھارتی فوج کے اکیاون نمبر بریگیڈ کا مضبوط ترین عسکری حصار۔ انڈین آرمی کا دعویٰ تھا کہ چھمب کے اس قدرتی قلعے کو تسخیر کرنا ناممکن ہے۔ لیکن تئیس ڈویژن کے کمانڈر، میجر جنرل افتخار خان جنجوعہ شہید کا عزم کچھ اور ہی تھا۔ ان کا تاریخی فلسفہ تھا: "کمانڈر کو پیچھے ہیڈکوارٹر میں نہیں، اگلی لائنوں پر ہونا چاہیے!"
جب پاک فوج کے ٹینک منّاور ندی کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور مشین گنوں کی تیکھی تڑتڑاہٹ کے ساتھ نعرہٴ تکبیر کی صدا گونجی، تو دشمن کا غرور تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ بھارتی فوج اپنا کینٹ، بریگیڈ ہیڈکوارٹر، بھاری توپ خانہ اور ذخائر چھوڑ کر اخنور کی طرف بھاگ کھڑی ہوئی۔ پاک فوج نے منّاور ندی کے مغرب کا پورا علاقہ، جو تقریباً ایک سو بیس مربع میل پر محیط تھا، مکمل طور پر فتح کر لیا اور ۱۹۱ انڈین انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ و برباد کر دیا۔
وہ فتح شدہ علاقے جو آج بھی پاکستان کا حصہ ہیں
ہندوستان نے دنیا کے سامنے اپنی نام نہاد فتح کا ڈھنڈورا تو پیٹا، لیکن اپنے نصاب سے چھمب کی تاریخی شکست کو مکمل طور پر غائب کر دیا۔ ۱۹۷۲ء (انیس سو بہتر) میں جب **شملہ معاہدہ** ہوا، تو یہ قانونی اصول طے پایا کہ کشمیر میں جو فوج جس مقام پر قابض ہے، وہی نئی لائن آف کنٹرول مان لی جائے گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کو رسمی طور پر تسلیم کرنا پڑا کہ پاک فوج کا فتح کردہ علاقہ پاکستان کے پاس ہی رہے گا۔
آج بھی جو علاقے پاکستان کے دائمی نقشے اور کنٹرول میں شامل ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
✦ افتخار آباد (چھمب سیکٹر): ضلع بھمبر، تحصیل برنالہ (آزاد کشمیر) کا حصہ۔ فاتح جنرل افتخار خان جنجوعہ شہید کے نام پر قائم کردہ علاقہ، جہاں دشمن کا سابق ۱۹۱ انڈین انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر موجود تھا۔
✦ منّاور ندی کا مغربی علاقہ: برنالہ اور چھمب کا درمیانی میدانی و پہاڑی خطہ، جہاں ہندوستانی فوج کی متروکہ چھاؤنی، پکے دفاعی مورچے اور القدیم تاریخی مندر موجود ہیں۔
✦ کرگل و دراس کی پیشانی: شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان کے بالمقابل) گلگت اسکاؤٹس اور شمالی کمان کی فتح کردہ وہ سٹریٹیجک چوٹیاں جو آج بھی ہماری سرحدوں کی نگہبانی کر رہی ہیں۔
✦ کوٹلی و نیلم کی سرحدی چوٹیاں: نیلم ویلی اور کوٹلی سیکٹر میں دشمن سے چھینی گئی وہ دفاعی چوکیاں جنہوں نے آزاد کشمیر کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
آج جب آپ ضلع بھمبر کی تحصیل برنالہ کے علاقے 'افتخار آباد' میں قدم رکھتے ہیں، تو وہاں موجود انڈین آرمی کی متروکہ عمارات، بنکرز اور قدیمی مذہبی یادگاریں پکار پکار کر اس سچائی کی گواہی دیتی ہیں کہ ہمارے شیر جوانوں نے دشمن کو کس طرح ناکوں چنے چبوائے تھے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے قلم سے تاریخ پر جمی غفلت کی دھول کو صاف کریں۔ اپنے بچوں کو صرف محرومیوں کا سبق نہ پڑھائیں، بلکہ یہ بتائیں کہ ہمارے غازیوں نے دھرتی کی حرمت پر خون بہا کر جو زمینیں فتح کی تھیں، وہ آج بھی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تلے اپنی شجاعت کی داستان سنا رہی ہیں!
